Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 3)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
“””ماضی ۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ دیکھو کتنا خون نکل رہا ہے ۔۔۔
بس کرو ڈرامے باز کدھر خون ا رہا ہے بلاوجہ شور مچا کر چاچو کو بھی تنگ کر رہی ہو ۔۔۔۔
شائستہ جنید کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ رکھتی نقلی آنسو بہاے بولی تھی ۔۔۔
جب وہ اس کے ہاتھ کو گھور سے دیکھتا سکون سے بولا تھا جہاں خلیل خان پریشان سے بیٹھے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
تمہارے خون نکلے تو پتہ چلے دفع ہو جاؤ تم مر بھی گی تمہیں فرق نہیں پڑے ا۔۔۔۔
لو یار فرق پڑے گا تمہاری جیسی چوزی کزن سے جان چھوٹ جانی اچھا مرنے سے پہلے بریانی کے ساتھ رائتے کا اریج کرنا مزہ اے گا ۔۔۔۔
دکھ بعد میں منا لو گا ۔۔۔۔
وہ اس کے سینے پر مکہ مارتی بول رہی تھی جب وہ شرراتی انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔
شائستہ اگر شیرنی تھی تو وہ سوا شیر تھا وہ چار ہاتھ اس سے آگے گا ۔۔۔۔
کوئ ایسی بات نہیں تھی جو شائستہ کی کسی بات کا وہ جواب نہ دے سکے ۔۔۔۔
باببببببباااااا اب تو واقعی مر جانا میں نے چھوڑ بس مجھے میں جان دینے والی ہو ۔۔۔
وہ غصے سے صوفے پر کھڑی ہوتی برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔
نہ ایسے مت کرنا ہم تمہارے بنا کیسے رہے گے پلیز ہم پر رحم کرو اتنی آسان کون مرتا ہے تھوڑا درد بھی ہونا چاہے ۔۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔۔
وہ گردن اکڑے کھڑی تھی جب پاس بیٹھا جنید نے اس کا پاؤں پکڑتے رونے کا ڈرامہ کیا اچانک اسے دھکا دیتے گرایا تھا ۔۔۔۔
وہ جو خوش ہو رہی تھی اب قالین پر گری اسے ہی گھورتی چیخ رہی تھی ۔۔۔
اچھا بس کرو جلدی تیار ہو جاؤ یونی میں جانا تمہارا فرسٹ ڈن ہے تبھی لینے آیا ہو ۔۔۔۔
اسے روٹھی بچی کی طرح منہ بناے دیکھ وہ اس کے قریب بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔۔
میں نہیں جا رہی دیکھو ناخن سے کیسے خون ن۔۔۔۔
پھر ٹھیک ہے آج کے بعد میں اس گھر آؤ گا ہی نہیں ۔۔۔۔
وہ رونی شکل بناے بول رہی تھی جب وہ سکون سے بولا تھا۔ ۔۔۔
دفع ہو جاؤ مر جاو تم ۔۔۔
اسے لات مارتی اب وہ منہ بناے اپنے روم کی طرف گی تھی ۔۔۔۔
بیٹا ایسے نہ کیا کرو وہ بگڑ رہی ہے اس کی کون سی ماں ہے جو اسے بتاے گی کس سے کیسے بات کرنی بھابھی جان ویسے ہی ناراض رہتی اس سے ۔۔۔۔
یہ صرف تمہارے لاڈ پیار سے بگڑ ر۔۔۔
ارے چاچو بچی ہے ابھی اس عمر میں ایسی ہی ہوتی ہے میری اکلوتی کزن ہے اتنا پیار تو بنتا ہے ۔۔۔۔
خلیل خان اسے دیکھ بول رہے تھے جب وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
وہ اکثر اس کی شرارتوں پر پریشان رہتے تھے جو وہ جنید کے ساتھ مل کر کرتی تھی ۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔۔
وہ اب چپ ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔
“””حال ۔۔۔۔
سر یہ پیمنٹ اس فارم پر درج ہے آپ پہلے وہ کرواے ہم پھر آپریشن کرے گے ۔۔۔۔
وہ پریشان سا کوڈیڈرو میں کھڑا اپنا ماضی سوچ رہا تھا جب پاس آتی نرس نے اسے ایک فارم دیتے کہا تھا ۔۔۔
میں سارے پیسے بھرنے کو تیار ہو بس اسے کچھ نہیں ہونا چاہے ۔۔
جی ہم پوری کوشش کر رہے ہے ۔۔۔
وہ فارم لیتا پریشان سا بولا تھا جب وہ کہتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔
وہ دل میں سوچ رہا تھا جو لڑکی ایک ناخن ٹوٹنے پر پورے گھر میں شور مچا لیتی تھی آج وہ کیسے اپنا درد خاموشی سے سہہ رہی تھی ۔۔۔۔
کس نے لگای تھی وہ فلم ۔۔۔
وہ ہال میں اپنی کرسی پر بیٹھا سامنے کھڑی نوکروں کی فوج کو دیکھ غرایا تھا ۔۔۔
سب کی سانس روک چکی تھی ۔۔۔۔
دو ماہ سے وہ سب احد کا نرم لہجہ دیکھ رہے وہ بھی صرف شفا کی وجہ سے ۔۔۔
آج اسے دوبارہ اپنے روپ میں آتے دیکھ سب ہی ڈرے تھے آج تو شفا بھی ہال میں نہیں آئ تھی ۔۔۔
و۔وہ س۔سر سوری م۔م۔۔۔۔
فلم لگای کیوں تھی اور کس نے یہ پوچھا ۔۔۔۔
ایک ملازم سر جھکاے بولنے کی کوشش کر رہا تھا جب وہ دوبارہ غرایا تھا ۔۔۔
میں نے سر وہ میں ہی دیکھ رہا تھا جب شفا میم وہاں ا۔۔۔۔
باقی سب جاؤ یہاں سے ۔۔۔
وہ ڈرتا بول رہا تھا جب وہ ہاتھ سے اشارہ کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
باقی ملازم ایسے بھاگے تھے جیسے گدھے کے سر پر سینگ۔۔۔
س۔سر مجھے معاف کر دے غ۔غلطی ہو۔گی ۔۔۔
م۔مجھ پر رحم کرے م۔میرے چھوٹے بچے ہے ۔۔۔
وہ روتا گڑگڑاتا ہوا اس کے قدموں میں بیٹھ کر روتا بولا تھا ۔۔۔
جو شان بے نیازی سے کرسی پر اپنی بھرپور وجہہ پرسنلٹی لیے سرخ گرے آنکھوں میں غصہ لاے وہ اس کی سن رہا تھا ۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا اسے جان سے مار دے وہ ۔۔۔۔
تو یہ کام سوچنے سے پہلے کرنا چاہے تھا کیا جانتے نہیں تھے میں نے سختی سے منع کیا تھا ایسی کیسی فلم یا کوئ چیز سے تمہیں اب سزا مل۔۔۔۔۔
یہ کیا کر رہے آپ ۔۔۔۔
وہ اسے گردن سے دبوچتے ہوے غراہٹ لیے بولا تھا جب شفا کی آواز گونجی تھی ۔۔۔۔
جاؤ یہاں سے تم ۔۔۔
اسے چھوڑتے وہ حکم دیتا ہوا غرایا تھا جب وہ شفا کے آنے کا شکر مناتا جان بچاے وہاں سے بھاگا تھا ۔۔۔
تم کب جاگی ہو ۔۔۔۔
اپنے چہرے پر سے وحشت ناک تاثرات چھپاے وہ وہاں نقلی مسکراہٹ لاے اسے دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
جو نائٹ بروان ڈریس میں بکھرے بال لیے چلتی ہوی اسی کی طرف ا رہی تھی ۔۔۔
جب آپ مجھے چھوڑ کر آگے ویسے بتاے یہ کیا ہو رہا تھا ۔۔۔۔
وہ پاس آتی اس کے قریب کھڑی ہوتی اپنی کمر پر ہاتھ رکھتے لڑاکا عورتوں کی طرح بولی تھی ۔۔۔۔
وہ اس کی مدد کی تھی تو شکریہ کہہ رہا تھا بس ۔۔۔۔
اسے کمر سے پکڑتے اپنی ٹانگوں پر بیٹھاے وہ صفای سے جھوٹ بول چکا تھا ۔۔۔۔
ہاے کتنے سویٹ آپ ہے ہمیں ایسی ہی مدد کرنی چاہے ۔۔۔۔
وہ اپنی بائیں اس کی گردن میں حائل کیے مسکراتی ہوئ بولی تھی وہ خوش تھی اس کا شوہر اچھا انسان ہے ۔۔۔۔
ہاں اگر تم جان جاؤ میں کتنا بڑا درندہ ہو تو سویٹ لفظ بھی کم پڑے گا میرے آگے ۔۔۔۔
کیا بول رہے آپ اونچا بول لے ۔۔۔
وہ اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے آہنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھتے بڑبراہٹ کرنے میں بزی تھا جب وہ منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔
میں کہہ رہا تھا ناشتہ کر لو پھر میڈیسن بھی کھانی
وہ اس کا سفید چہرہ ہاتھوں میں لیے اس کا گال سہلاتے سکون سے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
میں ناشتہ کر لو گی لیکن میں سوچ رہی آج چھٹی ہو میڈیسن سے پلیز۔۔۔۔۔
وہ بچوں جیسی شکل بناے اسے دیکھ بولی تھی ۔۔۔
میڈیسن کیوں نہیں کھانی تم نے جانتی ہو ضروری ہے ا۔۔۔۔۔
میرے منہ کا ذائقہ بلکل خراب ہو چکا ہے کچھ بھی کھاؤ تو ٹیسٹ نہیں آتا آج نہیں کھانی گندی یککککک۔۔۔۔
وہ ایک بار اس کی گال سہلاے بول رہا تھا جب وہ اپنی زبان اسے دیکھاے بولی تھی ۔۔۔
یکککک کہتے اس نے عیجب سا منہ بنایا تھا جب احد کو اس پر بے حد پیار آیا تھا وہ تو پہلے ہی اس کے پاگل تھا اپنی ان حرکتوں سے وہ اسے اپنا جنونی بنا رہی تھی ۔۔۔
اچھا زبان کچھ فیل نہیں کرتی چلو کچھ فیل کرواتے ہے ۔۔۔۔
وہ جو اپنی جان چھڑوانے کے لیے بہانہ بناے معصوم سی بنی تھی جب وہ فل مدہوش ہوتا اسے گردن سے پکڑتے اپنے چہرے کے قریب کرتا اس کے ہونٹ سہلاتے وہ بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں ک۔کچھ۔۔۔۔
اس کے ارادے جانتی وہ جلدی سے پیچھے ہوتی بولنے والی تھی جب وہ بنا ٹائم دیے اس کے لبوں کو قید کرتا اسے فیل کروا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ اس کے جال میں پھنستی ہوئ اب پچھتا رہی تھی ۔۔۔
کچھ فیل ہوا میں سوچ رہا اور زیادہ فیل کرواؤ کیا خیال ہے لٹل بے بی ڈول۔۔۔
اسے چھوڑتے وہ اس کے سرخ بھیگے لبوں پر اپنا انگوٹھا رکھتے بہکے ہوے بولا تھا جو وہ آنکھیں بند کیے گہرے سانس لیتی سب سن رہی تھی ۔۔۔
ک۔کوئ ضر۔ضرورت نہیں ہے ک۔کتنے خطرناک ہے آپ ا۔اس سے اچھا میڈیسن کھا لیتی میں ۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھتی نظریں جھکاے شرم سے لال ہوتے چہرے سے وہ اٹکتی سانسوں سے بولی تھی ۔۔۔
خودی کہہ رہی تھی میڈیسن نہیں کھاؤ گی مجھ ہی باتی۔۔۔۔
میں آج ساری میڈیسن کھا لو گی خبردار اگر کچھ ایسا کیا اب تو ۔۔۔۔
وہ جلدی سے اپنی جان بچاے کہتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔
جب وہ بیٹھا مسکرایا تھا ۔۔۔
اچھا سنو تو ۔۔۔
وہ اسے تنگ کرتا اس کے پیچھے جاتا بولا تھا ۔۔۔۔
مبارک ہو سر آپ کے بیٹی ہوئ ہے۔۔۔
مسلسل دو گھنٹے بعد جنید کو یہ خوشخبری سنای گی تھی ڈاکٹر نے باہر ا کر بتایا تھا اسے ۔۔۔۔
جنید کو دلی خوشی ہوئ تھی بیٹی کا سن کر جیسے اس کی اولاد ہو وہ ۔۔۔۔
شائستہ کیسی ہے ۔۔۔
وہ ابھی بھی فکرمند ہوتا بولا تھا ۔۔۔
جی ٹھیک ہے بس کافی ویک ہے انہیں کیئر کی ضرورت ہے ۔۔۔
ڈاکٹر اب کہتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔
جبکہ وہ سوچ رہا تھا اندر جاے یا نہیں ۔۔۔
ہاں سکندر کو فون کر لو ۔۔۔۔
اب وہ خوش ہوتا سکندر کو کال ملاے سوچ رہا تھا وہ اسے بتانا بھول ہی گیا تھا ۔۔۔۔
مسٹر سکندر ش۔۔۔
جی میں ہی سکندر ہو ۔۔۔
سکندر اپنے آفس کے دوست کو خون دینے ہاسپٹل آیا تھا لیکن اس کے کچھ ٹیسٹ کیے گے تھے جب ڈاکٹر نے کہا تھا وہ کچھ گھنٹے ویٹ کرے پھر خون لیا جاے گا ۔۔
جنید کے فون سنتے ہی وہ خوشی سے پاگل ہو رہا تھا اللہ نے اسے بیٹی دی تھی لیکن رپورٹ لینے کے لیے وہ بیٹھا ہوا تھا دل سے وہ سوچ رہا تھا ایک خون دینے کے لیے اس کا ٹیسٹ ہوا تھا لیکن رپورٹ کس چیز کی ۔۔۔
تبھی ایک نرس آتی بولی تھی جب سکندر اپنا پورا نام بتانے والا تھا جب اسے رپوٹ تھما دی گئ تھی ۔۔۔
رپورٹ پر لکھنی تحریر پڑھ کر اسے محسوس ہوا قدموں تلے زمین سرک گی تھی ۔۔۔
ی۔یہ کیسے ہو سک۔سکتاہے ۔۔۔
رپورٹ پر لکھا تھا وہ کبھی باپ نہیں بن سکتا جبکہ اس کا وجود زنزلوں کے جٹکھوں میں ا گیا تھا یہی سوچ کر اگر ایسا ہے تو شائستہ ۔۔۔۔
اس سے آگے وہ سوچ ہی نہیں سکا تھا ۔۔
بے جان وجود کو لے وہ اب گھر کی طرف گیا تھا ۔۔۔۔
منحوس نے بیٹی پیدا کر لی ہاے مجھے پوتا چاہے تھا ۔۔۔
بامشکل وہ سیدھا گھر آیا تھا جب اس کی ماں برا سا منہ بناے بولی تھی ان کو خبر بھی سکندر نے فون کر کے دی تھی ۔۔۔
سن رہے ہو میں کیا بول رہی ہو کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔
اسے گم صم دیکھ وہ پریشانی سے بولی تھی ۔۔۔
ی۔ی۔۔۔
دیکھا میں کہتی تھی نہ وہ نہیں اچھی جو لڑکی اپنے کزن کے عشق میں مبتلا تھی وہ کیسے تمہاری ہو سکتی تھی ہاے کاش اس سے شادی کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ تو لیتے ا۔۔۔
کیا بولے جا رہی ہے امی وہ ایسی نہیں ہے مجھ سے بہتر کوئ نہیں جانتا اور اپ بھی جانتی نکاح کیسے ہوا تھا ۔۔۔
وہ اسے بھڑکاتی بول رہی تھی جب وہ ہوش میں اے چیخا تھا اس کا دماغ پھٹ رہا تھا کہ اس کی شائستہ بے وفائی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔
کبھی پوچھا نکاح کیوں ایسے ہوا جلدی میں ارے تم ہمیشہ اس کے عشق میں پاگل رہے توجہ ہی نہیں دی اب تو اس کی یہ اولاد ہی تمہاری نہیں ہے ۔۔۔
وہ سفاکیت سے کہتی سکندر کا رہ سا وجود بھی اڑا چکی تھی جب وہ سن دماغ سے صرف یہی آواز گونجتی محسوس ہوئی اس کی اولاد ہی نہیں وہ ۔۔۔۔
تبھی وہ شدید غصے سے گھر سے نکلتا باہر ہاسپٹل کی طرف گیا تھا ۔۔۔۔
یہ تم کیا کر رہی ہو نکلو کچن سے باہر ۔۔۔
احد کچن میں آیا تھا تاکہ ہاٹ چاکلیٹ وہ بنا سکے جو کہ شفا کو بے حد پسند تھی ۔۔۔
اسے شلیف کے پاس کھڑا دیکھ وہ غصے سے بولا تھا ۔۔۔۔
کبھی جو آپ آرام سے بات کر لے ہر وقت سڑی ہوئی شکل بنا کر گھومتے ہے ۔۔۔
کہتے ہے انسان کو اتنا سڑا ہوا بھی نہیں ہونا چاہے ورنہ بچے ویسے ہوتے ہے اور میں نہیں چاہتی میرے بچے ایسے کھڑوس سڑیل پیدا ہ۔۔۔۔۔
وہ جو اس سے چھپ کر کچن میں آئ تھی تاکہ ہاٹ چاکلیٹ بنا کر وہ جلدی سے وہاں سے نکل جاے گی اور احد کو پتہ نہیں چلے گا اب اسے سامنے کھڑا دیکھ وہ جلتی بھنتی ہوئ ناک پھیلاے بولتی اچانک چپ ہوئ تھی ۔۔۔۔
تم فکر مت کرو ہمارے بچے کھڑوس نہیں ہو گے وہ سویٹ ہو گے بلکل اپنی ماں جیسے تم سویٹ ہو۔ ۔
وہ گرے آنکھوں سے مسکراتا ہوا اسے کمر سگ پکڑتے اپنے سینے سے لگاے بولا تھا ۔۔۔
چلے د۔دور رہے میں بناتی ہو آپ کو چاہے تو بتاے تاکہ میں بنا دو ۔۔۔
جلدی سے اسے دور کرتی وہ پیچھے ہوتی بولی تھی ۔۔۔
احد کچھ بھی کہے بنا آرام سے کرسی پر بیٹھتا اسے ہی دیکھنے میں بزی ہو چکا تھا ۔۔۔۔
ا۔اپ یہاں سے نہیں ج۔جاسکتے کون سا بھاگ رہی میں ۔۔۔۔
کافی دیر تک اپنے جسم پر اس کی تیپش لے نظروں کو فیل کر رہی تھی جب وہ کانپتی ہوئ ڈرتے بولی تھی ۔۔۔
احد مسکرایا تھا اس کی بات پر مطلب وہ ابھی بھی اس سے ڈرتی تھی جیسے پہلے دن ڈری تھی اس سے ۔۔۔۔
کیوں میں نے کیا کر دیا اب بیٹھا تو ہو ۔۔۔
وہ ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔۔
اچھا کام کر دے میرا آپ پھر میں اپ کو اسپشل ہاٹ چاکلیٹ دو گی کھانے کو ۔۔۔
وہ ایک اینڈیا سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔
اس نے ان دو ماہ میں دیکھا احد کا رویہ اپنے ملازموں کے ساتھ اچھا نہیں تھا اس نے جب بھی دیکھا اسے ان پر چیختے چلاتے روڈ ہی دیکھا تھا ۔۔۔
ہاں بولو کیا کام کرنا اب تمہاری تو سن سکتا احد خانزادہ ۔۔۔۔
وہ سکون سے چلتا ہوا اسے کمر سے پکڑتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
یہ سب کو دے کر اے پلیز ۔۔۔
ایک ٹرے پکڑاتے وہ معصومیت سے بولی تھی ۔۔۔۔
واٹ ہوش میں ہو ایسے کام احد خانزادہ کرے ہو ہی نہیں سکتا ا۔۔۔۔
لیکن احد خانزادہ اپنی شفا خانزادہ کے لیے کر سکتا ہے ۔۔۔۔
شفا نے اسے کہا تھا کچن کے باہر دس ملازم جو کھڑے تھے ان کو وہ ہاٹ چاکلیٹ دے کر اے جب وہ شوک سے چیختا بول رہا تھا جب وہ اس کا گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
لاو اب ۔۔۔
اس کی حرکت پر مدھم سا مسکراتے وہ بولا تھا ۔۔۔
گڈ بواے ۔۔۔
وہ خوشی سے چہکتے ہوے بولی تھی جب وہ ایک تابعدار شوہر بنتا ہوا باہر جا رہا تھا ۔۔۔۔
بہت پیاری ہے بلکل تمہاری جیسی ۔۔۔۔
جیند روم میں انٹر ہوتا بولا تھا جہاں وہ شائستہ کے ساتھ پنک کلر کے چھوٹے سے کمبل میں گہری نیند سو رہی تھی روئ کی بنی چھوٹی سی گڑیا جو سیفد شفاف رنگت گول مٹول سی ابھی اس کی آنکھیں نہیں کھولی تھی ورنہ وہ اس کی آنکھیں بھی دیکھ لیتا ۔۔۔۔
شائستہ کمزور سا مسکرائی تھی اسے پتہ تھا وہ شروع سے بچوں کا دیوانہ تھا ۔۔۔
اچھا تم جوس پیؤ گی مطلب ویکنس بہت ہے تمہیں ا۔۔۔
ج۔جنید رہنے د۔دو میں ٹھیک ہو ۔۔۔
وہ بےتاب ہوتا بول رہا تھا جب وہ بامشکل بولی تھی ۔۔۔
اچھا کیا میں اسے گود میں اٹھا لو دیکھو کتنی معصوم سی ہے پلیز شائستہ میں اسے اپنے باہوں میں فیل کرنا چاہتا ہو ۔۔۔
اچانک وہ آبدیدہ ہوتا اس کے قریب آتا بولا تھا اس کی نظریں بچی پر ہی تھی ۔۔۔۔
ہ۔ہاں اٹھا لو ۔۔۔
اسے سکندر کا ویٹ تھا لیکن اسے نہ آتا دیکھ وہ اسے دیکھ بولی تھی جو اس کی بچی کو لینے کے لیے بے چین تھا ۔۔۔۔
“”””واٹ بچے مجھے نہیں چاہے یہ کیا لائف ہے شادی کر لو پھر بچے پیدا کر لو میں ایسا کچھ نہیں کر رہی تم نے مجھے جاہل عورت سمجھا ہے جنید ۔۔۔
سدرہ جیند کی بات سنتی چیخی تھی ۔۔۔
کیا بول رہی ہو ہر عورت پیدا کرتی ہے بچے کوئ جاہل نہیں ہوتا بلکہ اس سے عورت مکمل ہوتی ہے یہ تو اللہ کا کرم ہے جو ہمیں اولاد جیسی نعمت سے نواز رہا ہے ورنہ وہ بھی لوگ ہے جو اس نعمت کے لیے ترس رہے ہے ۔۔۔
وہ اسے سمجھاتا ہوا بولا تھا جب وہ نفرت سے اسے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
تم نے بچے پیدا کرنے تو دوسری شادی کر لو لیکن میں ایسا کام کوئ نہیں کر رہی ۔۔۔
وہ چیختی بے باک ہوتی کہتی وہاں سے واک آؤٹ کر چکی تھی “””۔۔
کتنی پیاری ہو تم سکندر کتنا خوش قسمت ہے جیسے رحمت ملی ہے کاش تم میری بیٹی ہوتی ۔۔۔
وہ اپنا ماضی سوچتا اپنے بھاری ہاتھوں میں اس ننھے وجود کو لے دیوانہ وار اس کا سرخ چہرہ چومتے آنسو بہاے بول رہا تھا ۔۔۔۔
ت
تم ٹ۔ٹھیک ہو خان ۔۔۔۔
شائستہ کب سے دیکھ رہی تھی وہ مسلسل روتا بچی کے گال چومتا کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا جیسے وہ اپنے ہوش میں نہیں ہو تبھی وہ مشکل سے بولی تھی ۔۔۔
شائستہ کو جب بھی جنید پر پیار آتا وہ اسے خان ہی کہتی تھی ۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہو اتنی پیاری بیٹی کو دیکھ کر میرا دل بے ایمان ہو گیا سوچ رہا لے کر بھاگ جاؤ یہاں سے ۔۔۔
ہاہہاہہاہاہاہہاہا ہاہہاہاہہاہاہاہ پھر یہ صرف جنید خان کی بیٹی ہو گی یشفہ جیند خان ۔۔۔۔
اپنا موڈ ٹھیک کرتے وہ مذاق میں قہقہ لگاے بولا تھا ۔۔۔
ٹانگیں توڑ دو گی اگ۔اگر میری بیٹی کو کچھ کیا تو ہاہہ۔۔۔
آرام سے ہنسو مت پین ہو گا ۔۔۔۔
شائستہ خوش ہوتی اپنی پہلی ٹون میں اے بولتے قہقہ لگانے کی کوشش کی تھی جب وہ پریشان سا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
تمہیں ۔ا۔اج بھی میری فک۔فکر ہ۔۔۔
ظاہر سی بات ہے فکر تو ہو گی تمہارا عاشق جو ہے بلکہ تمہارے بچے کا باپ بھی ۔۔۔
اپنی ماں کی باتوں میں آتے وہ شدید غصے میں ہاسپٹل آیا تھا جب روم کے باہر کھڑے اس نے ان دونوں کی باتیں نفرت سے سنتے اندر آتے طش سے چیخا تھا ۔۔۔۔
ہوش میں ہو کیا بکواس کر رہے ہو شائستہ کے شوہر نہ ہوتے تو جان سے مار دیتا تجھے میں ۔۔۔
بچی کو اس کے پاس لیٹاے وہ بگڑے شیر کی طرح اسے گربیان سے پکڑتے غرایا تھا ۔۔۔۔
ہوش میں تو اب آیا ہو کتنا پاگل تھا جو اس لڑکی سے شادی کر لی مجھے دھوکا دیتی رہی یہ ا ۔۔۔
کیسا دھوکا دیا تم کو اس نے ۔۔۔
سکندر بول رہا تھا جب وہ طش سے چیخا تھا ۔۔۔
دیکھو یہ رپورٹ پڑھو کیا لکھا ہے ۔۔۔
اپنے ہاتھ میں پکڑی رپورٹ اسے دیتے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
دیکھو سکندر صبر سے کام لو کیا پتہ یہ غلط ہو ہم دوبارہ یہی رپورٹ کروا لیتے ہے ا۔۔۔
ہاں اب تم ایسے ہی کہو گے ارے تم تو ہو امیر زادے کسی کو بھی کہہ کر رپورٹ اپنی مرضی کی بنوا لو گے ظاہر ہے اپنا گناہ تو چھپانا ہی ہے تم دونوں نے ۔۔۔۔
جنید وہ رپورٹ پڑھتا تحمل سے بول رہا تھا جب وہ ان دونوں کو دیکھ نفرت سے ںولا تھا ۔۔۔۔
دیکھو تم ایسا۔ایسا نہیں کہہ سکتے م۔میری بات کو سمجھو ت۔۔۔
شائستہ کمزور بے بس ہاسپٹل کے روم میں لیٹی اپنی ننھی سی بچی کو لیے سامنے اپنے شوہر کو کھڑا دیکھ بولنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔
کیا سنو میں تمہاری بات ہاں بولو یہی کہ یہ بچی میری ہے جبکہ ایسا کچھ نہیں دیکھو یہ رپورٹ تم نے جھوٹ بولا یہ میری اولاد ہی نہیں ہے ا۔۔۔
تم زبان سبنھال کر بات کرو سمجھے کیا نہیں جانتے تھے اسے تم ۔۔۔
زبان کاٹ کر تمہارے ہاتھ میں رکھ دو گا ۔۔۔۔
وہ چیختا غراتا ہوا بول رہا تھا وہ تو اسے بے حد محبت کرتا تھا جب اسی روم میں کھڑے جنید خان پہلی دفعہ اپنے جلالی روپ میں آتے اس نے اسے کالر سے پکڑتے غرایا تھا ۔۔۔
یہ تمہاری ہی ہو سکتی ہے اولاد کیونکہ میں جانتا ہو یہ عورت نے کبھی مجھ سے محبت کی ہی نہیں یہ تو ہمیشہ تم سے محبت ک۔۔۔
چٹاخخخخ چٹاخخخخخچ دو طلاق اسے ابھی کہ ابھی تم جیسے انسان کے ساتھ وہ رہ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔
وہ زہر اگلنے میں بزی تھا جب وہ دوبارہ اسے گردن سے پکڑتے غرایا تھا ۔۔۔
شائستہ کو مسلسل درد سے تڑپتے روتے دیکھ جنید پاگل ہوتا غرایا تھا ۔۔۔
ت۔تم پاگل ہو خان ی۔۔۔
نہیں اب وہی ہو گا جو یہ شخص چاہتا ہے مجھے بھی ایسی لڑکی نہیں چاہے جو میری ہی نہیں تھی یہ اولاد بھی میری نہیں تھی ۔۔۔۔
سکندر اب جنید کا غصہ دیکھ کر سمجھ گیا تھا وہ سہی سمجھا تھا دونوں کے بارے میں ۔۔۔
تبھی اب وہ پرسکون ہوتا بولا تھا ۔۔۔
وہ جو بامشکل بولنے کی ہمت کر رہی تھی جب اس کا شوہر غصے سے کہتا ہوا بنا کسی کی سنے اسے وہی طلاق دے چکا تھا ۔۔۔
میں تمہیں طلاق دیتا ہو ۔۔
اب خوش رہو اپنے عاشق کے ساتھ اور اس کی بچے کے ساتھ بھی ۔۔۔
وہ کتنا بے حس انسان تھا اپنی دو گھنٹے پہلے آئ ننھی سی پری کو دیکھے بنا اپنا فیصلہ سناے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہ۔۔
جب وہ غم سے تڑپتی ہوئ دوبارہ اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر ڈاکٹر۔۔۔
وہ چیختا ہوا اس کے قریب جاتا ڈاکٹر کو بلا رہا تھا ۔۔۔
اہہہہ اہہہہہہ۔۔۔
جبکہ ننھی یشفہ بھوک کی وجہ سے رونا سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔
دیکھے آپ اپنی بچی کو پکڑے ہم آپ کی وائف کو چیک کرتے ہے ۔۔۔
ڈاکٹرز اندر آتے اسے چیک کر رہے تھے جب دوسری ڈاکٹر اسے یشفہ کو دے بولی تھی ۔۔۔
آپ ہلیپ کرے بچی کو فیڈر بنا کر دے ۔۔۔۔
جنید تو پریشان ہو چکا تھا بچی کو فیڈ کیسے کروانا جب لیڈی ڈاکٹر نرس کو کہتی جنید کی مشکل آسان کر چکی تھی ۔۔۔۔
میں یہی رہو گا آپ مجھے فیڈر بنا دے وہ بیگ ہے یشفہ ہے اس میں ہر ضرورت کی چیزیں ہے ۔۔۔
وہ جانے کی بجاے وہی صوفے پر بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔
یہاں آنے پر ہی جیند نے ہی اس کی ضرورت کی ہر چیز بازار سے منگوا کر رکھی تھی ۔۔۔
اب وہ فیڈر اسے دیتا سامنے لیٹی شائستہ کو دیکھ رہا تھا جیسے ڈاکٹر ابھی بھی چیک کر رہے تھے ۔۔۔۔
انہیں کوئ گہرا صدمہ لگا ہے جس کی وجہ سے نروس بریک ڈاؤن ہوا پہلے ہی ویک تھی اب اس کنڈیشن کی وجہ سے و ۔۔۔۔
کافی دیر چیک کرنے کے بعد ڈاکٹر اس کے پاس آتے بولتے چپ ہوئ تھی یشفہ اب سو چکی تھی ۔۔۔۔
یہ بتاے وہ ٹھیک ہے ۔۔۔۔
وہ بےتابی سے بولا تھا ۔۔۔
سوری سر آپ کی مسز کوما میں جا چکی ہے اب آگے اللہ کی مرضی ۔۔۔۔
وہ اسے حوصلہ دیتی کہتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔
اہہہہہ نہیں ایسے نہیں ہو سکتا ایک بار پھر میری ہی ذات سے تمہیں نقصان ہوا ہے شائستہ ۔۔۔
لیکن میں وعدہ کرتا ہو جیتنے میری وجہ سے تمہیں غم ملے اب میں تمہارے ہر غم کی دوا بنو گا۔۔۔۔
یہ خبر اس پر بجلی بن کر گری تھی تبھی وہ طش و غم سے چیختا ہوا آنسو بہاے اپنے میں بولا تھا ۔۔۔۔
وقت بھی کیا چیز ہوتا ہے کہاں وہ ہر وقت ہنستے مسکرانے والے آج غموں کے پہاڑوں میں گھرے ہوے تھے اگر درد شائستہ نے سہا تھا تو غم و درد جنید خان نے بھی سہا تھا ۔۔۔۔
یہ پکڑو پیو سب تم کی فکر میری لٹل بےبی ڈول کو ہوتی ہے یہ نہیں ہوتا اپنے شوہر کی بھی فکر کر لے ۔۔۔
وہ ٹرے لیے اب جلتا بھنتا ہوا باہر ان سب کے پاس آتا بولا تھا جو جلدی سے اٹھ کر کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔
ن۔نہین س۔۔۔
یار لے لو تم لوگوں نے نہیں لیا تو زبردستی ٹھونسو گا تم سب کے منہ میں چلو پکڑو جلدی ۔۔۔۔
وہ جو ڈرتے بول رہے تھے جب وہ غراہٹ لیے بولا تھا ۔۔۔۔
ج۔جی س ۔۔
پکڑو اب ۔۔۔۔
وہ حکم مانتے بول رہے تھے جب وہ پھر سے غرایا تھا ۔۔۔۔
اب وہ سب ہی ہاٹ چاکلیٹ لیے خاموشی سے کھڑے تھے ۔۔۔
کھانا بھی ہے اس کو ۔۔۔
توبہ کیا زمانہ آگیا شوہر کی فکر نہیں نوکروں کی ہے حد ہے ۔۔۔۔
وہ بڑبڑاتا ہوا اب واپس کچن کی طرف گیا تھا جہاں اس کی لٹل بے بی ڈول ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔
وہ اب سب خوش ہوتے ہاٹ چاکلیٹ سے فائدہ اٹھایے کھا رہے تھے ۔۔۔۔
ہاٹ چاکلیٹ فینش ہو گی اب کیا کرو میں ۔۔۔
وہ برا سا منہ بناے دوبارہ کچن میں آیا کرسی پر بیٹھ چکا تھا جب وہ مسکراہٹ روکے اس کے قریب آتی بولی تھی ۔۔۔۔
مجھے نہیں کھانی خود کھاؤ شوق سے اور ان سب کو کھلاؤ جن کی فکر ہے ۔۔۔۔
میں تو تمہارا سوتیلا شوہر ہو ۔۔۔
ہاہہاہہاہاہاہہاہا ہاہہاہاہہاہاہاہ واٹ سوتیلا شوہر ۔۔۔
ہاےےےےے میرا پیٹ درد کرنے لگ گیا ہنس کر ۔۔۔۔
وہ روٹھے بچے کی طرح منہ بناے بولنے میں بزی تھا جب وہ دل کھول کر قہقہ لگاے بولی تھی۔۔۔۔۔
اچھا نہ سوری اچھا آپ واقعی ہاٹ چاکلیٹ نہیں کھاے گے ۔۔۔۔
اسے ایسے ہی سنیجدہ دیکھ وہ اسے مناے بولی تھی ۔۔۔۔
تم کھاو میں نہیں کھا رہا۔۔۔
وہ ابھی بھی ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔
چلے ٹھیک اب شکوہ مت کرنا آپ مجھ معصوم سے ۔۔۔
وہ کچھ سوچتی ہوی اسے ہاتھ سے پکڑتے اپنے قریب کھڑا کیے بولی تھی ۔۔۔۔
“””کیا”’ احد خاموش اس کے قریب کھڑا اپنی آئ برو اچکاتے پوچھا تھا ۔۔۔۔
جب شفا شرماتی گھبراتی اپنے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ کو اپنے لبوں میں دباے اس کے چہرے کی طرف جھکی تھی ۔۔۔۔۔
اب اسے احد کے منانا بھی تو تھا اسے وہ ایسے روٹھا ہوا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔
احد یہ سمجھا تھا وہ ایسے چاکلیٹ کھانا چاہتی ہے تبھی اس کی چاکلیٹ کی دوسری سائیڈ کو اپنے لبوں میں دباے کھانے میں ہلیپ کر رہا تھا ۔۔۔۔
احد تو چاکلیٹ کھانے میں بزی تھا اس نے شفا کو کمر سے نہیں پکڑا تھا جبکہ شفا کی نظریں ختم ہوتی چاکلیٹ پر تھی جیسے جیسے وہ ختم ہو رہی تھی وہ دونوں قریب ا رہے تھے ۔۔۔۔
ڈھڑامممممممم۔۔۔۔۔
چاکلیٹ ختم ہوتے ہی جب دونوں کے لب ٹچ ہوے تو احد خودی اس سے دور ہوا تھا لیکن شفا نے ہمت کرتے اسے کمر سے پکڑتے اپنے قریب کیے اپنی آنکھیں بند کیے آحد کے لبوں کو قید کر چکی تھی ۔۔۔۔
وہ تو شوک ہوتا اپنے ہوش گم ہوتے دیکھ بنا دیکھے دھڑام کرتے نیچے ماربل کر گرا تھا ۔۔۔۔
جبکہ ساتھ شفا بھی ویسے ہی گری تھی اس کے اوپر ۔۔۔۔
احد تو اپنی لٹل ڈول کی حرکت پر شوک تھا جبکہ شفا اسے چھوڑتی وہی شرماتے ہوے اس کے سینے پر منہ چھپا گی تھی ۔۔۔۔
