Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 7)

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

“””ماضی ۔۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہ ہلیپ ہلیپ ۔۔۔۔

شفا سے ملنے کے بعد احد کو ایک پل بھی سکون نہیں آیا تھا ۔۔۔

لیکن وہ وقتی اٹریکشن سمجھ رہا تھا ۔۔۔

کافی دن بعد وہ اپنی اسی کیفیت میں مبتلا تھا کہیں بھی جاتا اسے بس وہ لٹل ڈول ہی دیکھتی ہر جگہ ۔۔۔

اب بھی شام کے وقت وہ ایک ضروری کام سے فارغ ہوتا اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا جب سامنے سے بھاگتی شفا کو دیکھ اچانک کار کو بریک لگای تھی ۔۔۔

جہاں وہ اسے ہی دیکھ چیختی ہوئ کار کے ڈور کے پاس آی تھی ۔۔۔

س۔سر پلیز ہلیپ کر دے ۔۔۔

شفا تو اس دن کے بعد اسے بھول ہی گی تھی ابھی بھی اسے دیکھ وہ پہچان نہ پائ تھی ۔۔۔

گولڈن پنک کلر کے نیٹ کے بنے خوبصورت سے لہنگے میں وہ ہلکے میک اپ کے ساتھ ناک میں بڑی سی نتھ پہنے ریڈ لیپ اسٹک لگے لب ہاتھوں پر پہنی گولڈن پنک کلر کی چوڑیاں سر پر نیٹ کا ڈوپٹہ لیے پورے جسم کو کور کیا گیا تھا ۔۔۔۔

نیچے گولڈن پنک کلر کی ہائ ہلیز تھی ۔۔۔

احد کی نظریں اس کی نتھ پر لگے موتی پر تھی جو بار بار اس کے لبوں کو چھو رہے تھے ۔۔۔

اسے اچانک اس موتی سے جلیسی فیل ہو رہی تھی ۔۔۔۔

کیا ہوا بیٹھو اندر ۔۔۔۔

اس کا گھبرایا پیسنے سے بھرے چہرے کو دیکھ وہ جلدی سے ڈور اوپن کیے بولا تھا ۔۔۔۔

وہ ۔وہ کتا ا۔۔۔۔

واٹ تم نے مجھے کتا کہا ۔۔۔

وہ جلدی سے بیٹھتی ہوئ بول رہی تھی جب وہ سنتا شدید غصے سے چیخا تھا ۔۔۔

ن۔نہی۔۔سر وہ آپ نہیں م۔می۔بتا رہی ک۔کتا پیچھے پڑ گیا تھا ۔۔۔۔

وہ اپنے لبوں پر زبان پھیرتے ہوے گہرے سانس لیے بولی تھی ۔۔۔

احد نے اس کی باتوں پر گھور کیے بنا بس اس کے اب لبوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

اس کی نظروں کو دیکھ وہ جلدی سے اپنی نظریں جھکا گی تھی ۔۔۔۔

ا۔ابو ک۔کے علاؤہ کسی کے ساتھ میں نہیں گی ی۔یہ بس مجبوری تھی تو ہلیپ لی اپ۔اپ سے ور۔ورنہ میں اپنے ابو کے ساتھ جاتی ہو۔۔۔۔

ریلکس میں نے کچھ نہیں کہا یہ لو پانی پیو ۔۔۔۔

شفا اسے خودی اپنی مجبوری بتاتے ہوے رونے لگ گی تھی جب احد نے اسے چھوٹی پانی کی بوتل دی تھی پینے کے لیے ۔۔۔۔

ش۔شکریہ سر۔۔۔۔

پانی کو ایک ہی سانس میں پیتے ہوے وہ خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

ایسی لک میں یہاں میرا مطلب اس ویران جگہ پر وہ بھی دلہن بنے ۔۔۔۔

کافی دیر خاموشی کے بعد احد نے دوبارہ سوال کیا تھا اس کا حسین سراپا بار بار اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا جب وہ کنٹرول کرتا بولا تھا ۔۔۔

کار اس نے سٹارٹ نہیں کی تھی ۔۔۔۔

وہ۔وہ یونی فیئر ویل پارٹی تھی وہاں ایک دلہن کا ایکٹ تھا میرا تبھی ایسی لک بنای ۔۔۔۔

ابو آنے والے تھے لینے انہیی کا ویٹ کر رہی تھی جب کونے میں کھڑے چار پانچ بڑے بڑے کتوں کو دیکھ ڈر گی بس ڈر سے بھاگ گی وہ بھی پیچھے ا گے بھاگتے بھاگتے پتہ ہی نہیں چلا کدھر ا گی اب تو شام ہو گی ابو پریشان ہو گے ۔۔۔۔

شفا اسے سب بتاتی ہوئ اچانک پر اداس ہو چکی تھی ۔۔۔

اچھا ابو کو فون ک۔۔۔۔

میرے ابو ہے بس آپ کے نہیں آپ رحمان ملک نام لے ان کا ۔۔

احد اسے مشورہ دیتا بول رہا تھا جب وہ اچانک شیرنی کی طرح پھنکارتی بولی تھی ۔۔۔۔

احد اپنی عادت کے برعکس زیادہ بول رہا تھا اسے شفا سے بات کرنے میں مزہ ا رہا تھا ۔۔۔

اب بھی اس کی سنتے وہ مدھم سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔

اچھا تمہارے ابو اب ٹھیک انہیں فون کر لوں ۔۔۔۔

وہ ریلکس ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہلیپ کیا مانگ لی زیادہ فری ہو گے ہے جیسے مجھے پتہ ہی نہیں تھا ابو کو فون کر لو اگر فون ہوتا تو ایسے پاگلوں جیسے بھاگتی ۔۔۔۔

وہی گر گیا فون میرا ۔۔۔۔۔

وہ دوبارہ سوں سوں کرتی برا سا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔۔

اب کدھر گھر تک چ۔۔۔۔

شکریہ سر آپ کا مجھے نہیں چاہے ہلیپ ۔۔۔۔

اور ہاں میرے ابو ہے بس شفا کو شئیرنگ نہیں پسند ۔۔۔۔۔

وہ اب روٹھی ہوئی ڈور اوپن کیے باہر نکل رہی تھی جب احد نے پریشان ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔

ابھی تو وہ اسے مکمل دیکھ بھی نہیں پایا تھا جو واپس جا رہی تھی ۔۔۔۔

شفا اپنا نیم بتاتی ہوئ ٹھاہ کرتی ڈور کو بند کرتی باہر چلی گئ تھی ۔۔۔۔۔

اچھا سنو تو سہی ابھی وہ کتے باہر ہی ہو گے تم ڈر ج۔۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہ بچاؤ بچاؤ ۔۔۔۔

شفا جو کار سے نکلتی باہر اتنی خاموشی دیکھ وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔

لیکن وہی کتے اس کی تاک میں بیٹھے دوبارہ بھونکتے ہوے اس کے پیچھے بھاگے تھے ۔۔۔۔

احد جو اسے منانے کے لیے خود بھی باہر آیا تھا ۔۔۔

جب کتوں سے ڈرتی بھاگتی وہ اسی کی طرف بھاگتی ارہی تھی ۔۔۔۔۔

س۔سر بچاے ا۔۔۔۔۔

وہ بھاگتی سامنے کھڑے احد کو دیکھ بول رہی تھی جب اسے کمر سے پکڑتے جھکٹے سے کار کی بونٹ پر اسے بیٹھتا خود اس کے آگے کھڑا ان کتوں کو گھور رہا تھا جو اپنی لمبی زبان نکلے غرا رہے تھے ۔۔۔۔

ش۔شی۔شی شی دور رہو س۔سر آپ بھی اوپر آ جاے ۔۔۔۔

احد جو ان کو گھورنے میں بزی تھا جب شفا اپنا ننھا سا ہاتھ اس کے شولڈر پر رکھتی کتوں کو دور ہونے کا کہا رہی تھی ۔۔۔

اس کی بچگانہ حرکت پر وہ مسکرایا تھا ۔۔۔۔

بھوں ۔بھوں۔۔۔۔

شفا کے مسلسل شی شی کرنے پر وہ بھڑکتے بھونکنے میں بزی تھے ۔۔۔۔

جب احد نے فوراً سے نیچے بیٹھتے ان کتوں کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

جب مسلسل اس کی گرے آنکھوں میں دیکھ وہ کتے اچانک پرسکون ہوتے وہی بیٹھ چکے تھے ۔۔۔۔

شفا جو ڈر رہی تھی وہ اسے یا احد کو نقصان پہنچاے گے وہاں اب خاموشی دیکھ اس کا حیرت سے منہ کھولا تھا ۔۔۔۔

م۔مجھ سے دشمنی تھی کیا جو میرے پیچھے پڑ چکے تھے انہہہ۔۔۔۔

وہ اب منہ بناے بولی تھی جب احد دوبارہ آٹھ کر اس کے قریب کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

چلو آؤ نیچے اترو تمہارے گھر چھوڑ دو ۔۔۔۔

اس کی طرف اپنی بائیں کیے وہ بولا تھا جیسے وہ چھوٹی بچی ہو اس کی باہوں میں ا جاے گی ۔۔۔۔

بچی نہیں اتر سکتی می۔۔۔۔

ہاے میرا لہنگا ۔۔۔۔۔

وہ منہ بناتی بونٹ سے اتر رہی تھی جب لہنگا نیچے سے پھستے پھٹا تھا جب وہ دوبارہ رونی شکل بناے بولی تھی ۔۔۔۔

دوسرا ا سکتا ہے “”واٹ آ بیگ ڈیل””

احد نے لاپرواہی سے اسے دیکھ کہا تھا جو اپنے لہنگے کو پھٹے دیکھ رو رہی تھی ۔۔۔

م۔میرے ابو نے اسپشل میرے لیے بنایا تھا وہ مجھے اس لہنگے میں دلہن بنا دیکھنا چاہتے تھے میں نے سنبھال کر رکھا تھا یہی پہنو گی اب اس منحوس فیئر ویل پارٹی کے لیے پہنا تھا اب پھٹ گیا ۔۔۔۔

اہہہہہ اپنی شادی پر کیا پہنو گی ۔۔۔۔

فکر مت کرو تم اس سے زیادہ خوبصورت لہنگا پہنو گ۔۔۔۔

آپ سے مشورہ مانگا جو دے رہے فری میں انہ۔۔

اپنی شادی پر یہی پہنو گی میں ۔۔۔۔

انکل انکل مجھے گھر جانا ہے چلے اور پیسے یہ سر دے گے ۔۔۔۔

احد اس کی ساری بات سنتا آرام سے بول رہا تھا جب سرخ چہرہ لیے کہتی وہاں سے اترتی سامنے سے آتے ایک رکشے والے کو روکتی اس میں بیٹھتے اب احد کو پیسے دینے کا بولی تھی ۔۔۔۔

رکشے والا حیران تھا دلہن بنی لڑکی سامنے اتنا دلکش امیر لڑکا کھڑا تھا لیکن اس لڑکی نے رکشے پر ہی بیٹھنا تھا ۔۔۔۔

یہ لو ۔۔۔۔

احد نے ہزار کا نوٹ نکال کر اسے دیا تھا جب رکشے والے کا منہ کھولا تھا ۔۔۔۔

سر باقی پ۔۔۔

رکھ لو اس کو باحفاظت گھر تک چھوڑ دینا ۔۔۔۔

جب چھوڑ دو تب اس کاڈر پر لکھے نمبر پر کال کرنا ۔۔۔۔

شفا تو سکون سے بیٹھ چکی تھی جب احد اس رکشے والے کو اپنا کاڈر دیتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

ا۔ا۔احد خانزادہ۔۔۔۔

کاڈر پر لکھے نام کو دیکھ وہ ہکلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جاؤ اب ۔۔۔

اس کی حیرانی دیکھ وہ سکون سے بولا تھا جب رکشہ سٹارٹ ہوا تھا ۔۔۔۔

اب اس سڑک پر کھڑا دور جاتے رکشے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

سرور جاؤ اس رکشے کو فولو کرو اسے شک ہرگز نہ ہو تم اس کا پیچھا کر رہے ہو ۔۔۔۔

احد اپنی پاکٹ سے موبائل نکالے اپنے گاڈر کو بولا تھا جو تھوڑی دور ہی اپنی گاڈرز گاڑی میں موجود تھا وہ دور رہ کر احد کی حفاظت کر رہا تھا ۔۔۔۔

جی سر ۔۔۔۔

اس کا حکم مانتے اب وہ رکشے کے پیچھے گیا تھا ۔۔۔۔

“””حال ۔۔۔۔

مبارک ہو اے کے بھابھی کو سب یاد ا رہا ہے ۔۔

دانیال شفا کا چیک اپ کرتا مسکراتا بولا تھا لیکن سامنے احد کا سنیجدہ چہرہ دیکھ ایکدم چپ ہوا تھا ۔۔۔۔

کیسے ہو سکتا ہے اس کی یاداشت واپس کیسے آ سکتی مجھے یہی شفا چاہے پہلے والی نہیں جو احد خانزادہ کے نام سے ڈرتی تھی ۔۔۔۔

اسے گربیان سے پکڑتے وہ غرایا تھا ۔۔۔۔

کیا جانور کو کیسے بول رہے ہو انسان ہے وہ یاداشت ان کی واپس آ رہی میں کیسے روک کر یہی رہنے دو ۔۔۔۔

کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے میصبت ٹل نہیں جاتی ہمت ہے تو سامنا کرو بھابھی کو بہت جلد سب یاد ا جاے گا یہ ان کے حق میں بہتر ہے ۔۔۔۔

میں نہیں جانتا وہ تمہیں اپنے ساتھ رکھتی یا نہیں لیکن یہ کہو گا اگر وہ دور ہونا چاہے تو ہو جانا اے کے صرف ان کی محبت کی خاطر ۔۔۔۔۔

سچ ایک نہ ایک سامنے آنا ہی ہے بہتر یہ ہے تم اسے ڈھونڈو جس کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا ۔۔۔۔

اتنے ماہ میں تم صرف شفا کے لیے ہر چیز چھوڑ کر اسے دیکھ رہے ہو ورنہ تمہیں اس شخص کو ڈھونڈ کر اسے سزا دیتے ۔۔۔

لیکن تم بس شفا بھابھی کے عشق میں فارغ رہے اب تم اسے ڈھوڈنڈو ۔۔۔۔

اسے سمجھاتے وہ اب اپنا بوکس اٹھاے باہر گیا تھا ۔۔۔۔۔

جب روم میں ملازم شفا کا وہی لہنگا لے کر آیا تھا جیسے دیکھ احد ماضی میں گیا تھا ۔۔۔۔

وہ اس کے گھر جا کر پہلے پھٹے لہنگے کو ڈھونڈ کر سیم ویسا بنوا چکا تھا تاکہ شفا آج کی رات یہ پہن سکے ۔۔۔۔

احد نے اپنے دل کو مضبوط کر لیا تھا اگر شفا کو سب یاد ا گیا تب وہ اس کے فیصلے کا احترام کرے گا ۔۔۔۔

اب وہ بے ہوش شفا کا چہرہ دیکھ اس کا سارا سامان رکھ رہا تھا ۔۔۔۔

یہ دیکھو میری بیٹی کا پیارا سا روم اب تم یہاں رہو گی ۔۔۔۔

شائستہ اپنے روم میں گی تھی لیکن اسے لاک ہوتا دیکھ مجبوراً جنید خان کے روم میں آنا پڑا تھا ۔۔۔۔

پورے روم کو پھولوں کی بجاے لاتعداد کھلونوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔

شائستہ دو پل کو یہی سمجھتی تھی وہ ایک بےبی روم میں آی ہے نہ کہ جنید کے روم میں ۔۔۔۔

ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی جب جیند اندر آتا یشفہ کو لیے بولا تھا ۔۔۔۔

یہ دیکھو میرے بچے کے ٹوائز۔۔۔۔

شائستہ کو فل اگنور کیے وہ بس یشفہ سے باتیں کرتا سب چیزیں دکھا رہا تھا جیسے وہی دونوں روم میں ہو ۔۔۔۔

“””تم میرے روم میں جاؤ چوہیا”””۔۔۔

کافی دیر تک بھی جب جنید نے اسے نہیں دیکھا تبھی وہ جلتی بھنتی ہوئ خودی بیڈ پر بیٹھتی جنید کی نقل اتار چکی تھی ۔۔۔۔

دفع ہو میری بلا سے میں کیوں بیٹھی ہو چینج کرنا چاہے ۔۔۔۔

جنید کو اپنی طرف ایک بار متوجہ نہ ہوتے دیکھ شائستہ کے اندر سے پرانی والی شائستہ جاگ رہی تھی تبھی جلتی ہوئ شیشے کے سامنے کھڑی ہوتی اپنا ڈوپٹہ اتارنے میں بزی ہو گی تھی ۔۔۔۔۔

میری بیٹی ساتھ سویا کرے گی تاکہ وہ ہمیشہ اپنے بابا کے پاس رہے چلو ہم چینج کرتے ہے ۔۔۔۔

جنید تو مکمل یشفہ سے لاڈ کرنے میں بزی تھا جب اسے گود میں اٹھاے اب وہ اس کے کپڑے اتار کر دوسرے پہناتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

اہہہ بابا تو بھول گے وہ تو اپنی پیاری بیٹی کے لیے آئسکریم لاے تھے چلو وہ کھاتے ہے ۔۔۔۔

شائستہ مسلسل دونوں کو دیکھتی خود سے الجھ رہی تھی جب جیند یشفہ کے کپڑے چینج کرتے اسے دوبارہ گود میں اٹھاے باہر جاتا زرا اونچی آواز سے بولا تھا ۔۔۔۔

اہہہہ مجھ سے شادی کیوں کی جب یشفہ کو ہی پیار کرنا تھا عجوبہ بنا دیا مجھے افففف کیا کرو میں ۔۔۔۔۔

شائستہ کو سمجھ نہیں ا رہا تھا وہ اتنی جلیس کیوں ہو رہی تھی تبھی بولتی ہوئ بیڈ پر گرتی آنسو بہاے بولی تھی۔۔۔۔۔

جیتنے بھی آنسو بہانے دے بہا لے اب تم جنید خان کی جان ہو ۔۔۔۔

آج کے بعد میں تمہارا کوئ آنسو نہ دیکھو۔ ۔۔۔۔

شائستہ اپنی آنکھوں پر بازوں رکھتی بنا چینج کیے خاموش لیٹی آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔۔

کافی دیر وہ اپنے کام میں مشغول رہی تھی جب اسے اپنے بے حد قریب جنید کی بھاری آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔

وہی آواز جیسے سن کر وہ دل سے خوش ہو جاتی تھی اسے ہمیشہ سے اس کی یہ سحر انگیز آواز پیاری لگتی تھی۔ ۔۔۔

ا۔ی۔ایسا کیوں ہوا خان می۔میرے ساتھ ت۔تم مجھے پہلے ب۔ںھی تو مل س۔۔۔۔۔

شائستہ تو اسے اپنے قریب دیکھتی آنسو بہاے بول رہی تھی جب جنید نے اپنا ایک ہاتھ اس کے بالوں میں الجھائے دوسرے ہاتھ سے اس کی گال سہلاتے وہ نرمی سے اس کے خشک لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

شائستہ کو امید نہیں تھی وہ ایسا کچھ کرے گا تبھی وہ ہوش میں آتی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

جنید جو خود کو سیراب کرتا اب اس کی گردن پر جھکا تھا جب شائستہ نے سانس روکے آنکھیں زور سے بند کی تھی ۔۔۔۔۔

چلو بیٹا سو جاؤ آج بابا تھک گے تمہاری ماما بہت تنگ کرتی مجھے ۔۔۔۔

شائستہ جو سمجھی تھی جنید خان آج رات اپنا حق لینے کے لیے اس کے قریب آیا ہے کافی دیر وہ اس کا ردعمل دیکھنے کا ویٹ آنکھیں بند کیے کرتی رہی جب اسے اپنے قریب جنید کی آواز سنای دی جو یشفہ سے باتیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

شائستہ نے شوک ہوتے آنکھیں کھول کر سائیڈ پر دیکھا تھا جہاں وہ یشفہ کو درمیان میں لیٹاے سکون سے اس سے باتیں کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

اس کی سرخ آنکھوں میں سرخی دیکھ شائستہ نے بھی سرخ چہرہ لیے اپنی کروٹ جلدی سے چینج کی تھی ۔۔۔۔۔

سو جاؤ سکون سے پہلے بھی بتایا ہے اب بھی بتا رہا ہو تم سے زیادہ مجھے یشفہ عزیز ہے تبھی یہ نکاح کیا کیونکہ تم یا میں یشفہ کے بنا نہیں رہ سکتے ۔۔۔۔

میری محبت پر تمہیں یقین نہیں اے گا تبھی نہ میں ہی یہ حق جتاو گا بس خوش رہو ہماری فمیلی کمپلیٹ ہے ۔۔۔۔۔

مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں وہی تمہارا خان ہو ۔۔۔۔۔

شائستہ جو کروٹ لیے سونے کی کوشش کر رہی تھی جب جنید نے اپنا ایک ہاتھ اس کے سر پر رکھتے ماتھے کو دباتے سرگوشی کی تھی تاکہ یشفہ اٹھ نہ جاے ۔۔۔۔۔

اس کی باتیں سنتے شائستہ ایسے بن چکی تھی جیسے گہری نیند سو رہی ہو ۔۔۔۔

یشفہ اور شائستہ کو سوتے دیکھ وہ خود بھی سونے لگ گیا تھا ۔۔۔۔

کیا ہوا سکندر بہت خاموش رہنے لگ گے ہو ۔۔۔۔

سکندر شاہ اس کے پاس آتا بولا تھا جو آفس میں بلکل چپ بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔

سکندر ملک کا ایک ہی بچپن کے دوست تھا سکندر شاہ جو دونوں ہی ایک ہی کمپنی میں کام کرتے تھے ۔۔۔۔

دونوں کے نام تک سیم تھے کسی کو سمجھ نہیں آتا تھا شاہ اور ملک کون ہے لیکن دوستی کمال کی تھی دونوں کی ۔۔۔۔۔

زندگی نے کیا مذاق کیا میرے ساتھ جس لڑکی سے محبت کی اتنی مشکلوں سے شادی کی آج وہ مجھ سے دور کسی اور کی بیوی بن چکی ۔۔۔۔

سکندر آبدیدہ ہوتا بولا تھا شائستہ سے محبت اس نے بھرپور کی تھی ۔۔۔۔

اگر اتنی ہی محبت تھی تو اتنی چھوٹی بات پر طلاق کیوں دی کیا اتنا یقین بھی نہ تھا اپنی محبت پ۔۔۔۔۔

اگر تمہیں یہ خبر ملے تو تم باپ نہیں۔ بن سکتے کیا تمہیں غصہ نہیں آے گا ۔۔۔

وہ اسے سمجھاتے بول رہا تھا جب وہ غصے سے بولا تھا ۔۔۔۔

بلکل نہیں کیوں غصہ کرنا بلکہ اپنے رب کی رضا جان کر چپ ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ہم سے بہتر جانتا ہے کیا ہمارے لیے بہتر اور کیا نہیں ۔۔۔۔

ہاں دکھ ضرور ہوا تھا یہ خبر سن کر مجھے ۔۔۔۔

سکندر شاہ نے سکون سے کہا تھا ۔۔۔۔

مطلب تمہاری رپورٹ بھی ایسی تھی ۔۔۔

سکندر ملک نے حیران ہوتے پوچھا تھا ۔۔۔

ہاں جس دن لوکیگ کو خون دینا تھا تب ٹیسٹ کروایا تھا دوسری بار ۔۔۔

پہلے بار ٹیسٹ کروایا تھا تب یہی لگا شاہد غلط ہو لیکن دوسری بار والے کی رپورٹ ابھی تک نہیں ملی اتنے ماہ ہو گے ۔۔۔۔

ایک منٹ ایک منٹ ہم دونوں کا چیک اپ اکٹھا ہوا تھا مطلب وہ رپورٹس تمہاری تھی ۔۔۔

اففففف میں نے پورا نام نہ سنا نہ ہی پڑھا مطلب وہ رپورٹس سکندر شاہ کی تھی سکندر ملک کی نہیں ۔۔۔۔

وہ بتا رہا تھا جب اچانک سکندر ملک جوش سے بولتا خود بھی حیران ہوا تھا ۔۔۔۔

ہو سکتی ہے ہمارا نام ایک جیسا ہے غلطی ہو گی شاہد نرس سے ۔۔۔۔

سکندر شاہ ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔

ہاےےےے کتنا بڑا گناہ کر لیا بنا کسی تصدیق میں نے کتنا بڑا فیصلہ لے لیا اب میں کیا کرو ۔۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہہہ۔۔۔۔

سکندر ملک اپنا پچھلا رویہ یاد کرتا سر ہاتھوں میں تھامے پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ۔۔۔۔

سکندر شاہ اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا جو پاگلوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ۔۔۔۔

اسے اپنی غلطی پر پچھتاوا ہو رہا تھا ۔۔۔

ہاے کتنی پیاری چیزیں ہے ساری لیکن پارلر والی کہاں گی ۔۔۔۔

اگلی صبح وہ اٹھتی اپنے روم میں اپنا شادی کا سارا سامان دیکھ چہکتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔

رات کیا ہوا وہ سب بھول گئ تھی ابھی تو اسے خوشی ہی بہت تھی دلہن بنے کی ۔۔۔۔۔

جب میں ہو تو پارلر والی کیا ضرورت ہے میں خود اپنی جان کو تیار کرو گا ۔۔۔

احد باتھ لیتا ہوا شرٹ لیس باہر آتے ٹاول سے بالوں کو خشک کرتے بولا تھا ۔۔۔۔۔

۔ل۔ل۔لیکن ا۔اپ کیوں پ۔پہلے ی۔یہ شرٹ پہن ک۔۔۔

شادی کا فکشین رات کی بجاے ابھی دوپہر کو ہو گا۔۔۔

میں نے ٹائم چینج کر دیا ۔۔۔۔

وہ اسے اپنے سامنے ایسے دیکھ گھبراتی نظریں جھکاے بول رہی تھی جب وہ بھاری قدم اس کی طرف بڑھاتے قریب اے بولا تھا ۔۔۔۔

اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں کو سبھنالے اپنے شفاف چہرے پر احد کے بالوں سے ٹپکتے پانی کو محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

ناشتہ کر لو پھر تیار کرو گا اوکے جان ۔۔۔۔

نرمی سے اس کی پلکوں کی جھالر کو چومتے وہ جکھے ہی کان میں سرگوشی کر چکا تھا ۔۔۔۔

شفا کے ماتھے پر پیسنے کے قطرے آے تھے ۔۔۔۔

ج۔جی اچھا ۔۔۔۔

بامشکل وہ بات پوری کر سکی تھی ۔۔۔

احد مسکرایا تھا اس کی حرکت پر ۔۔۔۔۔

میں چاہتا ہو آج کی رات ہماری یادگار ہو کوئ ہمیں تنگ کرنے والا نہ ہو ۔۔۔۔

ناشتے کے بعد وہ کافی دیر بعد روم میں انٹر ہوئ تھی جہاں احد ویسے ہی شرٹ لیس اس کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔

بیڈ پر پڑے اپنے لہنگے کو اٹھاے وہ کانپتی ٹانگوں سے واش روم گی تھی ۔۔۔۔۔

لہنگا وہ پہن چکی تھی لیکن ڈوپٹہ وہی باہر رہ گیا تھا ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی جب احد بنا ناک کیے واش روم کے ڈور کو کی سے اوپن کرتے اندر اے اس کا ہاتھ پکڑتے باہر شیشے کے سامنے کھڑا کیے اس کے بھیگے بالوں کو شولڈر پر کرتے کرتی کی بیک زپ کو بند کرنے لگ گیا تھا ۔۔۔۔۔

شفا کو ابھی سے شرم آ رہی تھی احد کے سامنے ۔۔۔

جو اپنے ہاتھوں سے اس کی زپ بند کر رہا تھا ۔۔۔۔

ویسے میں سوچ رہا ہال میں جانے کا فائدہ تم تیار ہو گی بس بات ختم ا۔۔۔۔

ا۔اح۔احد پلیز۔۔۔۔

زپ بند کرنے کے بعد اسے پکڑے کرسی پر بیٹھاے اس کے اوپر جھکتے وہ شیشے پر پڑی گولڈن پنک کلر کی چوڑیاں اٹھاے آہستہ سے اس کی دونوں کلاہیوں میں ڈالتے سرگوشی بول رہا تھا جب وہ تیز سانسوں کے درمیان بولی تھی ۔۔۔۔

حیا سے چہرہ لال ٹماٹڑ ہو چکا تھا ۔۔۔

تم نہیں جانتی اس وقت کے لیے میں کتنا تڑپا ہو جہاں صرف ہم دونوں ہو اور رات کی خاموشی ۔۔۔۔

جیولری پہناے اب وہ اس کے سامنے آتا چہرے کو تھام کر اس کے کانپتے لبوں کو دیکھ مدہوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

شفا کا دل منہ میں آیا تھا وہ تو پہلے ہی سوکھے پتے کی طرح کانپ رہی تھی اب احد کی گمبھیر سرگوشیاں سنتے اس کی روح فنا ہو رہی تھی ۔۔۔۔

بس تھوڑی دیر اس کے بعد شفا خانزادہ پوری کی پوری احد خانزادہ کی ہو گی میری جان ۔۔۔۔۔

ریڈ لیپ اسٹک اٹھاے وہ نرمی سے اس کے لبوں پر رکھے ویسے ہی بھاری سرگوشی سے بولا تھا ۔۔۔۔

شفا نے زور سے آنکھیں بند کر لی تھی ۔۔

وہ جو اپنے لبوں پر لیپ اسٹک لگے محسوس کر رہی اچانک اپنے منہ میں وہی لیپ اسٹک کا ذائقہ ساتھ احد کے لمس کو پاتے وہ پوری کانپی تھی ۔۔۔۔

بند آنکھوں سے اس نے اس کے برہنہ سینے پر اپنے ننھے ہاتھ رکھے تھے ۔۔۔۔۔

احد کا شدت بھرا لمس ہونٹوں پر پاتے وہ مسلسل دور جانے کی کوشش کر رہی تھی جب احد اس کی روکتی سانس کو دیکھ نرمی سے چھوڑ چکا تھا ۔۔۔۔

ابھی تم پوری تیار نہیں ہوی میں تو ابھی سے بہکنا سٹارٹ ہو چکا ہو آگے کیا ہو گا ۔۔۔۔

اس کا سرخ چہرہ بھیگے لب پیسنے سے بھرے ماتھے کو دیکھ وہ اپنی سرخی مائل گرے آنکھوں سے دیکھ اس کے کان میں سرگوشی کر چکا تھا ۔۔۔۔

اچ۔۔۔۔

س۔سر آپ کا فون آیا ہے ۔۔۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا جب باہر ملازم نے ڈرتے ہوے باہر سے کہا تھا ۔۔۔۔

آوکے لٹل بے بی ڈول رات کو ملتے ہے ۔۔۔۔

وہ بدمزہ ہوتا وہاں سے اٹھتا شفا کا ماتھا چومتے کہتے وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔

ہاےےےےے میرا سانس افففففف میرا کیا بنے گا ۔۔۔۔۔

احد کو روم سے جاتے دیکھ وہ جلدی سے بیڈ کے قریب جاتی سائیڈ ٹیبل پر پڑے پانی کے جگ سے پانی کا گلاس پیتے وہی دھڑام کرتی بیڈ پر لیٹی اپنی چلتی دھڑکنوں پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔۔

احد کی اتنی سی قربت پر وہ مرنے والی ہو گی تھی یہ سوچ کر وہ اندر سے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔

“””تین گھنٹے بعد۔۔۔۔۔

لٹل بے بی ڈول تم جو سمجھ رہی ویسا نہیں ہے ا۔۔۔۔

د۔دو۔دور رہو مجھ سے اپ۔اپ مجھے نفرت آپ سے ۔۔۔۔

شفا اسے خود سے دور کرتی چیخی تھی ۔۔۔۔

وہ تو بلکل اپنے بگڑے حیلے میں کھڑی تھی کہاں وہ دلہن بنی تھی اب وہی لہنگا پہنے وہ بکھری کھڑی تھی ۔۔۔۔

مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت سمجھیں میری محبت ہو ت۔۔۔

نہیں ہو میں آپ کی محبت ا۔اپ نے بس بدلے کے لیے شادی کی ۔۔۔۔

احد اپنی سرخ گرے آنکھوں سے اسے اپنے بے حد قریب کرتا بول رہا تھا جب وہ روتی تھر تھر کانپتی ہوئ بولی تھی اس کی براؤن آنکھیں رونے سے سوجی ہوئ تھی ۔۔۔۔

کون سا بدلہ ۔۔۔۔

وہ اپنی آئ برو اچکاتے بولا تھا اسے تو سمجھ ہی نہیں ا رہا تھا جس لڑکی سے وہ عشق کرتا تھا وہی اسے برا انسان سمجھ رہی تھی ۔۔۔

و۔وہ پائل کے لیے جو ۔د۔دو سو روپے کی تھی اس۔اسی وجہ سے می۔میرے ماں باپ کو مار دیا ۔۔۔۔

اسی بدلے کی وجہ سے م۔مجھ سے گن پوائنٹ پر نکاح کیا نفرت ہے مجھے ا۔اپ سے ۔۔۔۔

وہ نفرت سے چیختی ہوئ حقارت سے اس کے چہرے پر تھوک چکی تھی ۔۔۔۔۔

اگر کوئ دیکھ لیتا احد خانزادہ کو جو کسی کی ایک بات تک نہیں سنتا تھا آج وہ اپنی محبت کو باہوں میں بھرتے اس کی ہر بات اور تھوک تک برداشت کر چکا تھا ۔۔۔۔

اچھا ریلکس میں نے تمہارے ماں باپ کو نہیں م۔۔۔

ا۔اپ نے ہی مارا تھا ابو۔نے بتایا تھا آپ نے دھمکی دی تھی ان کو تبھی ایسا ہوا۔۔۔۔

وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا ساتھ ہی ڈاکٹر دانیال کو کال ملاے بول رہا تھا جب وہ دوبارہ چیختی بولی تھی ۔۔۔۔

کتنی بار سمجھایا ہے مجھے محبت تھی تم سے تبھی شادی کر لی تمہارے ماں باپ کا قاتل نہیں ہو میں اگر میں نے ایسا کرنا ہوتا تو اپنی یہ خاموش محبت کب کا دیکھا چکا ہوتا بلکہ تمہیں حاصل کرنے کے لیے مجھے کوئ روک بھی نہیں سکتا ا۔۔۔۔

ا۔اپ کی یہی خاموش محبت میرے گلے کا پھندا بن گی آپ سے شادی کرنے سے اچھا تھا وہی اپنے ماں باپ کے ساتھ م۔۔۔۔۔

مرنے کا زیادہ شوق ہے تو مجھے بتایا کرو میں تمہیں روزانہ مارنے کو تیار ہو مائ لٹل بے بی ۔۔۔۔

وہ دوبارہ بول رہی تھی جب وہ بنا اسے ٹائم دیے اپنے قریب کرتا اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

آج پھر اس کی شدت والا عمل پا کر وہ تھر تھر کانپتی روتی ہوئی وہی اس کی باہوں میں جھول گی تھی ۔۔۔

ابھی نادان ہے میری لٹل بے بی ۔۔۔

اسے باہوں میں لیتے وہ اسے لیے اپنے عالیشان روم میں لے کر جاتا مسکرایا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اس پاس نوکروں کی فوج کھڑی ہکا بکا کھڑی تھی یہ دیکھ کر اس جیسا انسان کبھی مسکرا بھی سکتا تھا کیا ۔۔۔۔

احد کو دل سے ڈر تھا شفا کیا فصیلہ کرے گی لیکن وہ اسے خود سے کبھی دور نہیں جانے دے گا اب تو ہرگز نہیں ۔۔۔۔۔