Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 8)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
“””تین گھنٹے پہلے ۔۔۔۔
یار اے کے میں ا جاتا لیکن میری بھی شادی کل ہی ہوئ ہے مجھے اپنی بیٹی کے ساتھ ٹائم گزارنا ہے ویسے بھی اگر ہم میں سے کوئ نہ بھی آیا تیرے لیے ہی اچ۔۔۔۔
چل بس کر جانتا ہو سب میں ہی پاگل تھا جو تجھے بلا لیا ۔۔۔۔
احد نے جنید کو فون کیا تھا تاکہ وہ شادی پر اسکے آگے سے اس کی بات سنتے وہ بدمزہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں جل کے مر جا تو اللہ نے مجھے اتنی پیاری بیٹی جو دی ہے ۔۔۔
جنید مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔۔۔
میں نے کیوں جلنا تیری ہے بیٹی ہے ویسے بھی بیٹیاں باپ پر جاتی ہے لیکن شکر یہ تم جیسے لنگور پر نہیں چلی گی چل فون بند کر میں اتنا فری نہیں ۔۔۔۔
احد اسے سناتا ہوا فون بند کر چکا تھا جبکہ اب جلنے کی باری جنید کی تھی ۔۔۔۔
کیا میں واقعی لنگور دیکھتا ہو انہہہ جلتا میرے حسن سے ہاےےےے کیا کرو ۔۔۔۔
جنید جلدی سے سیریس ہوتا شیشے میں اپنی شکل کو دیکھتے بول رہا تھا جب اس کی نظر یشفہ پر گی تھی جو بڑی بڑی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی تبھی وہ پرسکون ہوتا اپنے بالوں کو سائیڈ پر کرتا ایک ادا سے بولا تھا ۔۔۔۔
جب یشفہ نے خوشی سے تالی بجای تھی ۔۔۔۔
س۔۔س۔سر آپ سے ملنے کوئ آیا ہے ۔۔۔
احد اپنے پرسنل روم میں بیٹھا آفس کا کام کر رہا تھا جب امجد اندر آتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بنگلے کے اندر ہی اس نے پرسنل روم بنایا تھا جہاں وہ اپنا ہر کام کرتا تھا ۔۔۔۔
ہممم بھیجو کون ہے۔۔۔
لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کرتی اس کی سفید دودھیا انگلیاں مسلسل چلاے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
سنا ہے تم میری محبت پر آج حق جمانے والے ہو تو سوچا جس انسان کو اتنے ماہ سے ڈھونڈ رہا تھا آج اسے مل ہی لو ۔۔۔
ناصر ولید روم میں انٹر ہوتا خودی پرسکون ہوتے بولا تھا ۔۔۔
اس کی آواز سنتے احد کا دماغ سن ہو چکا تھا ۔۔۔۔
تمممممم بالآخر تم ا ہی گے ۔۔۔۔
اسے دیکھ وہ اس پر چختے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں آنا ہی پڑا ظاہر سی بات ہے اپنی شفا ا۔۔۔۔
ابھی تو صرف دانت توڑا ہے شکر کرو زبان نہیں کاٹ دی ۔۔۔۔
ناصر خودی اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھے سکون سے بول رہا تھا جب احد اپنے پرانے روپ میں آتا اس کے منہ پر مکا رسید کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
جب ناصر کے منہ سے خون کے ساتھ دانت بھی ٹوٹ گرا تھا ۔۔۔۔
ہاں کر لو یہ سب جب شفا کو تمہاری اصلیت پتہ چلے گی تمہیں اپناے گی بھی ۔۔۔۔
احد خانزادہ تم نے میری محبت کو اپنے قبضے میں کیا ہے ڈرو اس وقت سے جب وہ تم سے نفرت کرے گی بہت جلد میں اسے وہ سب بتاو گا جو تم چھپا کر گھوم رہے ہو ۔۔۔۔
ناصر طش سے چیخا تھا ۔۔۔۔
آزما کر دیکھ لو میں بھی اب دیکھنا چاہتا ہو تمہاری یہ ہوس بھری محبت جیتی ہے یا میری وہ خاموش محبت جیسے میں اتنے ماہ سے کرتا ا رہا ہو ۔۔۔۔
احد جانتا تھا وہ کیوں آیا ہے تبھی دراز کھولتے اس میں سے ایک چیک نکالے اس کے سامنے پھیکتے ہوے وہ بھی سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
لکھو اس پر رقم جیتنی چاہے لو اور دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔
چیک اس کی طرف کرتے وہ شدت غصے سے بولا تھا ۔۔۔
جب ناصر کی آنکھیں چمکی تھی لیکن وہ اسے اور ڈرانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا احد خانزادہ جو ابھی شیر بن کر گھوم رہا تھا اب زخمی شیر ک۔۔۔۔
تم نے شیر کی غار میں ا کر غلطی کی ہے بیٹا ۔۔۔
کون سا زخمی شیر ہاںںںںں۔۔۔۔
یہ مت سوچو زخمی شیر اپنے شکار کو تباہ نہیں کر سکتا بلکہ وہ تب سب سے زیادہ خطرناک جانور بنا ہوتا ہے جو اپنے شکار کی چیڑ پھاڑ کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاتا ۔۔۔۔۔
بس وہ یہ دیکھ رہا ہوتا اس کا شکار کب تک سانس لیے سکتا ہے ۔۔۔
اب اٹھاو یہ اور دفع ہو جاؤ ۔۔۔۔۔
ناصر اسے دیکھ بول رہا تھا جب وہ اسے گردن سے دبوچتے دانت پیستے ایک ایک لفظ چبا کر بولا تھا ۔۔۔۔
ناصر کی سانسیں روک چکی تھی ۔۔۔۔
ا۔اج ہی اسے بتا۔بتاو گا تمہاری ا۔۔۔
ہاں شوق سے اب یہ چوہے بلی والا کھیل ختم تم اپنا وار کھلیو احد خانزادہ اپنا وار کرے گا ۔۔۔۔
جیسٹ ویٹ اینڈ وچ ۔۔۔۔۔
وہ اٹکتی سانسوں سے بول رہا تھا جب احد نے اچانک اسے گردن سے چھوڑتے کہا تھا جب وہ دھڑام کرتا قالین پر گرا تھا۔۔۔۔
اب دفع ہو جاؤ شکل گم کرو ۔۔۔
چیک اس کے منہ پر مارتے زور سے لات اس کے پیٹ پر مارتے وہ طش سے چلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ اس کا دماغ پر مسلسل بم پھٹ رہے تھے یہی سوچ کر اگر شفا نے اس کی بجاے ناصر کی باتوں پر یقین کر لیا پھ۔۔۔
نہ۔نہیں نہیں میں تمہاری سوچوں پر اتنا حاوی ہو جاؤ گا لٹل بے بی ڈول کہ تمہیں صرف احد خانزادہ کی دیکھای دے گا ۔۔۔۔
وہ اپنی ہی سوچ سے گھبراتے ہوے اب تن فن کرتا شفا کے روم میں جاتے سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
بہت ہی خوبصورت لگ رہی ہو خاص کر تمہاری یہ موتی والی نتھ ۔۔۔۔
شفا دلہن بنی ڈری سمہی وہی بیڈ پر بیٹھی تھی اسے آنے والے وقت سے ڈر لگ رہا تھا بلکہ آج احد کی جنونی قربت دیکھ وہ دل سے ڈری تھی ۔۔۔
ابھی وہ بیٹھی یہی سوچ رہی تھی جب احد روم میں تن فن کرتا اس کے قریب بیٹھتے سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
ا۔ا۔اپ ی۔یہاں ۔۔
وہ جو اپنے خیالوں میں مگن تھی اس کی سرگوشی سنتے وہ دل سے کانپتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں” نہیں آ سکتا کیا ۔۔۔۔
اس کے لیپ اسٹک لگے لبوں کو جنونی انداز سے چھوتے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
سسی۔۔۔
ی۔یہ کیا ک۔کر رہے ہے پ۔پین ہو رہا ۔۔۔
اپنے لبوں پر اس کی بھاری انگلیوں کو محسوس کیے وہ تڑپتی ہوئ اٹکتے بولی تھی ۔۔۔۔
جب احد نے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا تھا ۔۔۔
آج تک احد نے جب بھی اسے چھوا تھا اس کے لمس میں ہمیشہ نرمی ہی ہوتی تھی جیسے وہ واقعی نازک سی ڈول ہو لیکن آج اس کا پر شدت لمس پر وہ تڑپ کر رہ گی تھی تبھی شکوہ کر چکی تھی ۔۔۔۔
اگر کبھی کوئ تمہیں میرے خلاف کرے تو کیا کرو گی ۔۔۔۔
اس کے لبوں پر ہلکا سا کاٹتے اب وہ اس کی نتھ پر لگے موتی کو اپنے لبوں میں دباے بولا تھا ۔۔۔۔
ی۔یہ کیسا س۔۔۔۔
سسسسی۔۔۔۔
شفا آنسو روکے بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب احد نے وہی موتی لبوں میں لیے کر اپنی طرف کھینچا تھا تبھی وہ درد سے تڑپی تھی ۔۔۔۔
جو پوچھا وہ بول۔۔۔۔
ا۔اپ بہت اچھے ہے میں آپ کے خلاف کبھی جا نہیں سکتی جیسے آپ محبت کرتے ویسے بھی بھی کرتی ہو محبت آپ سے ۔۔۔۔
احد نے دوبارہ اپنا وہی عمل دوہرایا تھا جب ناک سے ہلکا سا خون نکلنا شروع ہوا تھا تبھی وہ روتی آنسو بہاے ایک ہی سانس میں بول چکی تھی ۔۔۔۔
شفا اتنے ماہ میں کبھی میں نے تم سے کچھ نہیں مانگا اگر یہ کہو مجھے یہ دونوں کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنا ہے ابھی تو تمہاری اجازت ہو گی ۔۔۔
اسے کمر سے پکڑتے وہ سیدھا بیڈ پر لیٹاے خود اس پر جھکتے وہ بہکے ہوے انداز سے بولا تھا ۔۔۔
وہ ویسے ہی شرٹلیس تھا ۔۔۔۔
اس کی زومعنی الفاظ سنتے شفا کی رہی سہی سانس بھی ختم ہو گی تھی ۔۔۔۔
م۔مجھے ڈ۔ڈر لگتا ہے ا۔آپ ٹ۔ٹھیک نہیں لگ ر۔رہے۔۔۔۔۔
وہ اپنے سرخ چہرے سے اسے خود سے دور کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔۔
کس بات کا ڈر کیا شوہر نہیں میں تمہارا بولو جواب دو ۔۔۔۔
وہ جنونی ہوا دوبارہ اس پر جھکتے اپنا سارا وزن اس نازک جان پر ڈالے بولا تھا وہ واقعی ہوش میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔
ا۔اگر ایسا۔ک۔کرے گے آپ تو ہمشیہ ش۔شفا خانزادہ کو کھو دے گے با۔باقی آپ ج۔جو کرنا چاہتے ہے ک۔کر لے ہ۔یہ آپ کا حق ہے ۔۔۔
دل پر پھتڑ رکھتی وہ زور سے آنکھیں بند کرتی روتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔
اپنے لبوں پر پرسرار سی مسکراہٹ لاے احد اب اس پر مکمل جھکا اس کی گردن کو چوم رہا تھا ۔۔۔۔۔
شفا احد کا ایسا روپ دیکھ آواز بند کیے آنسو بہا رہی تھی وہ اسے نہیں روکنا چاہتی تھی وہ صیح کہہ رہا تھا شوہر تھا وہ کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔
احد کے لبوں کا لمس وہ اپنے شولڈر پر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
شفا کی دھڑکن اچانک تیز ہوئ تھی جب احد نے اس کی کرتی کی بیک زپ اوپن کی تھی ۔۔۔۔
اس سے پہلے احد اپنی ہر حد پار کرتا تھا جب اسے شفا کے رونے کی آواز اونچی سنای دی تھی ۔۔۔۔۔
شششش ریلکس اگر تمہارے ساتھ ایسے ہی کرنا ہوتا تو اسی دن کرتا جب ہمارا نکاح ہوا تھا ۔۔۔۔
ریلکس میری لٹل بے بی ڈول بس تین گھنٹے اس کے بعد ہم دونوں ایک ہو گے ۔۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھتا ہوا شفا کو اپنے سینے سے لگاے اسے پرسکون کرتا بولا تھا جبکہ دل میں کوس رہا تھا کیوں وہ اپنے کنٹرول سے باہر ہوا تھا ۔۔۔۔
ا۔اپ ن۔نء ۔۔۔
تیار ہو جاؤ میری جان کچھ دیر بعد ملتے ہے ۔۔۔
وہ سوں سوں کرتی اسے کے سینے میں منہ چھپاے بول رہی تھی جب وہ اسے چپ کرواتے اب جلدی سے روم سے باہر چلا گیا تھا اسے ڈر تھا کہیں وہ زیادہ دیر رک کر کچھ اور نہ کر دے ۔۔۔۔
شفا اپنی سانسوں کو بحال کرتی اپنا بکھرے وجود کو لیے واش روم گی تھی تاکہ وہ دوبارہ تیار ہو سکے ۔۔۔۔
“””ماضی ۔۔۔۔۔
یہ تم کیا کر رہی ہو چوہیا ۔۔۔۔
جنید ناشتہ کرنے کچن میں ایا تھا جب سامنے ملازمہ کی بجاے شائستہ کو چولہے کے پاس کھڑا دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔۔
جو سوس پین کو پکڑے کچھ سوچتی کھڑی تھی ۔۔۔۔
تائ جان کی طیبعت نہیں ٹھیک اس لیے سوچا چاے بنا د۔۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاہاہاہ ہاہہاہہاہاہاہہاہا واٹ چاے بنا بھی کون رہا جیسے پتہ ہی نہیں چاے میں کیا ڈالتا ہے ۔۔۔۔
شائستہ نے مسکراتے ہوے جواب دیا تھا جب وہ چھت پھاڑ قہقہ لگاے بولا تھا ۔۔۔۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے دیکھنا میں بناتی پہلے زرا بتاو چاے میں چینی کتنی ڈالنی ۔۔۔۔
سوس پین اس کے سر پر مارتی وہ سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔۔
خلیل خان اور راحیل خان دونوں بھای تھے ۔۔۔
بڑے بھای راحیل خان کا وسیع پیمانے پر بزنس تھا جو اپنے عالیشان بنگلے میں اپنی بیوی اور ایک خوبصورت بیٹے جنید خان کے ساتھ رہتے تھے ۔۔۔۔۔
انہیں اپنے چھوٹے بھای سے بہت محبت تھی خلیل خان ایک گورنمٹ کے سکول ٹیچر تھے ۔۔۔۔
ان کا چھوٹا سا اپنا گھر تھا جہاں وہ اور ان کی بیوی بیٹی شائستہ خلیل خان رہتے تھے ۔۔۔
شائستہ کے پیدا ہونے کے کچھ ماہ بعد اس کی امی فوت ہو چکی تھی ۔۔۔
خلیل صاحب نے شادی کی بجاے اپنی بیٹی کی خودی پرورش کی تھی ۔۔۔
وہ خلیل جنید اور راحیل سب کی لاڈلی تھی ۔۔۔
دونوں ہی فمیلی کے گھر ساتھ ہی تھے تبھی شائستہ اور جنید کی دوستی زیادہ تھی ۔۔۔
اس کی تائ کو بھی پسند تھی لیکن اب بڑی ہوتی شائستہ اس کی شرارتوں پر ساتھ دیتے جیند کو دیکھ ہر ماں کی طرح وہ بھی شائستہ سے اسے دور رکھتی تھی تاکہ ان کا بیٹا اس سے محبت نہ کر جاے ۔۔۔۔۔
تائ کی ساری باتیں وہ ہنستے مسکراتے اگنور کر جاتی تھی جانتی تھی انہیں کیا خدشہ لاحق ہے ۔۔۔۔
جبکہ شائستہ اور جنید کے دل میں ایسی کوئ بات نہیں تھی ۔۔۔۔۔
اچھا چھوڑو میں چاے بناتا ہو ۔۔۔۔
اسے سائیڈ پر کرتے وہ خود چولہے کے پاس کھڑے ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔
ویسے خان تم چاہتے ہو تمہارے نام کی فوڈ چین بنے پوری دنیا میں جبکہ تایا جان کا بزنس بہت بڑا ہے کہاں تمہیں تائ جان ایک باورچی بنے دے گی ۔۔۔۔
شائستہ مسکراہٹ روکتے ہوے بولی تھی ۔ ۔۔۔
میری وش ہے وہ ایک ایسا فوڈ ریسٹورنٹ بناؤ جس میں ہر ویٹر آ کر سنگل لوگوں کو پوچھے گا ۔۔۔
میلے بابو نے تھانا تھایا ۔۔۔۔ہاہہاہذہہاہاہاہاہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ یہ اسپشیل تمہارے لیے ہو گا میں جانتا ہو تم شادی نہیں کرو گی ۔۔۔۔
جنید چاے تیار کرتا ہوا اب ریلکس شائستہ کا مذاق بناتے قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔
بابا کو چھوڑ کر میں شادی ہرگز نہیں کرو گی ویسے بھی میں کہاں سے لڑکی لگتی ہو کوئ پسند بھی نہیں کرتا مجج۔۔۔۔
بہت بہت خوبصورت ہو تم یہ تمہاری آنکھیں یہ گلابی ہونٹ ہاں بال چھوٹے ہے مجھے لمبے بال پسند ہے دیکھو کبھی خود کو کتنی خوبصورت ہو تم ۔۔۔۔
وہ اپنے باب کٹ بالوں کو سنوارتے بول رہی تھی جب جنید اس کے قریب آتا اس کے چہرے کو چھوتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔
پہلی دفعہ شائستہ کی دھڑکن تیز ہوئ تھی پہلی دفعہ اسے احساس ہوا تھا وہ بھی باقی لڑکیوں کی طرح ہے پہلی دفعہ اسے پتہ چلا تھا جنید کے لبوں سے تعریف سن کر وہ خود کو کیسا فیل کر رہی تھی ۔۔۔۔
اگر اتنی پیاری ہو تو ش۔۔۔۔
یہ کیا ہو رہا ہے کچن میں ۔۔۔۔۔۔
جنید جو پیار سے اس کی چھوٹی سی ناک کو دباے مسکرا رہا تھا جب تای جان وہاں آتی دونوں کو اتنا قریب دیکھ چلائ تھی ۔۔۔۔
و۔وہ تائ جان یہ چاے آپ کے ل۔۔۔
تم جاو گھر اپنے جوان ہو گی ہو بچی نہیں رہی جو منہ اٹھا کر یہاں ا جاتی ہو ۔۔
آج کے بعد تم یہاں اکیلی ہر گز نہیں او گ۔۔۔
ماما یہ کیسی باتیں کر ت۔۔۔۔
جنید تم روم میں جاؤ ۔۔۔
اپنی ماں کی بات سنتے جنید طش سے بول رہا تھا جب وہ دوبارہ اپنی کہتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔
م۔میں چلتی ہو ۔۔۔
اپنے آنسو کو روکتے وہ کہتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔
جنید بھی بے بس ہوتا وہاں سے روم میں گیا تھا ۔۔۔۔
وقت کا کام تھا گزارنا جو کہ گزار رہا تھا ۔۔۔۔
اس دن کے بعد شائستہ کی شرارتیں ختم نہیں کم ہو گی تھی ۔۔۔۔
وہ جنید جو پسند کرنے لگ گی تھی بلکہ پسند تو وہ شروع سے تھا لیکن وہ اس سے محبت کرنے لگ گی تھی ۔۔۔۔
وہی جنید دن با دن سدرہ کی محبت میں پاگل ہو گیا تھا اب وہ جلد سے جلد اس سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
جنید کے ساتھ شائستہ کی دوستی دیکھ سدرہ جلتی تھی تبھی وہ اکثر جنید کو روکتی تھی ۔۔۔۔
دن مہینے مہینے سالوں میں گزار گے تھے لیکن اس کے دل میں خاموش محبت پیدا ہو چکی تھی جنید کے لیے۔۔۔
تائ جان سے ڈرتے وہ اپنے دل کا حال نہیں سنا پا رہی تھی جنید کو ۔۔۔۔
جبکہ وہ لاپرواہ سا اپنی سٹڈی کمپلیٹ کرتا بزنس ہینڈل کرنے والا تھا ۔۔۔۔
جنید تم گھر کب بات کرو گے اپنی ماما سے ۔۔۔
سدرہ جنید کے ساتھ کیفے ایریا آتے کافی پیتے بولی تھی ۔۔۔
یار ماما سے ہی بات کرنی ہے ل۔۔۔۔
جی چاچو کیااااااا اتنا تیز بخار ہو گیا آپ مجھے اب بتا رہے ہے ۔۔۔۔
موبائل رنگ کرتا دیکھ وہ بات کرتے فون پک کر چکا تھا جب اسے خلیل خان کی کال آئ تھی جو پریشان سے ہوتے اسے ہی بلا رہے تھے شائستہ کو تیز بخار ہے ۔۔۔۔
تبھی وہ فکر مند ہوتا چیخا تھا ۔۔۔۔
جی بس ابھی آیا ۔۔۔
جنید جلدی سے اٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جنید میری ب۔۔۔
یار بعد میں کرتے پہلے شائستہ کو دیکھ لو اسے بخار ہے ۔۔۔۔
سدرہ اسے دیکھ بول رہی تھی جب وہ اپنی کہتا تن فن وہاں سے بھاگا تھا ۔۔۔۔
اہہہہہہ اس لڑکی کا کچھ کرنا پڑے گا ورنہ یہ مجھے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔۔۔۔
سدرہ غصے سے چیختی ہوئ غرای تھی ۔۔۔۔
کیا ہوا یار چلو ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔
جنید گھر آتا سیدھا اس کے روم میں آتے فکر مند ہوتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں وہ نڈھال سی بیڈ پر بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
خاننننننن۔۔۔۔
وہ روتی ہوئی بھاگ کر اس کے سینے سے لگتی بولی تھیں۔۔۔۔
یار اتنا تیز بخار ہو رہا ہے رو کر اپنی حالت بری ک۔۔۔
م۔میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی خان ۔۔
جنید اسے سینے سے لگاے فکر مند ہوتا ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔
وہ پہلے بھی اس کے سینے لگتی تھی جنید کی نظر میں وہ آج بھی ایک دوست ہی سمجھا تھا ۔۔۔
تبھی اس کی بات پر مسکراتے بولا تھا ۔۔۔
اچھی بات ہے چلو اب میڈیسن ل۔۔۔
م۔میں شادی کرنا چاہتی ہو تم سے خان ۔۔۔۔
وہ ابھی بھی اس کی دوستی سمجھ کر ساتھ لے کر جاتے بول رہا تھا جب وہ آنسو بہاے اس کی آنکھوں میں دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
واٹٹٹٹٹٹ ۔۔۔
خود سے جدا کیے وہ طش سے چیخا تھا دماغ اس کا سن ہو چکا تھا ۔۔۔۔
میں تم سے بہت محبت کرتی ہو پلیز شادی کر لو ۔۔۔۔
شائستہ دوبارہ اس کے سینے سے لگتی روتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔
آج اس کے کلاس فیلو سکندر ملک نے پرپوز کیا تھا جس پر وہ کافی پریشان ہو گی تھی تبھی اب وہ آپے سے باہر ہوتی اپنی محبت کا اسے بتا چکی تھی ۔۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے کیا بکواس کر رہی ہو تم جانتی ہو میں تم سے محبت نہیں کرتا پھر بھی بول رہی ہو ۔۔۔
وہ اس کی بات سنتا پہلی دفعہ اس پر چیختا چلایا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں ایسی بات مت کرو میں نے بچپن سے ہمیشہ تمہیں ہی اپنا سمجھا ہے شروع سے تمہیں دیکھا چاہا تمہیں ہر پل محسوس کیا ۔۔۔
اب تم ایسے بول رہے ہو کیا تمہیں میری خاموش محبت اج تک محسوس نہیں ہوئ ۔۔۔
میں لڑکی ہو کر آج تم سے اپنے دل کی بات کر رہی ہو مان کیوں نہیں جاتے چاہے تم محبت نہ کرو میری ہی کافی ہو گی تم میری فیلینگز کو سم۔۔۔۔
تم میری نظر میں بس ایک دوست کی حیثیت سے تھی اور رہو گی میں تم سے کبھی محبت کی ہی نہیں میری محبت کوئ اور لڑکی ہے ۔۔۔۔
یہ فضول کا سوچنا بند کرو بچی ہو ابھی تمہارے لیے جو بہتر ہو گا وہی مل جاے گا ۔۔۔۔
وہ روتی تڑپتی ہوی اسے کالر سے پکڑتے بول رہی تھی جب وہ اسے جھٹکا دیتے طش سے چلایا تھا ۔۔۔
جنید اٹھائیس سال کا نوجوان تھا بلکہ شائستہ بائیس سال کی لڑکی اس کی نظر میں بچی تھی ۔۔۔
لی۔ل۔۔۔
بس بہت ہو گیا میں تمہارا کبھی نہیں ہو سکتا چاچو جس سے بھی تمہاری شادی کرے مجھے پرواہ نہیں ۔۔۔
وہ بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ سخت دل ہوتا کہتا وہاں سے واک آؤٹ کر چکا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ مسلسل روتی وہی قالین پر گر چکی تھی ۔۔۔۔
تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے خاننننننننن۔۔۔
شائستہ چخیتی ہوئ وہی گری تھی جب جنید دل پر پھتڑ رکھتا بنا دیکھے وہاں سے واک آؤٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔
