Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 6)

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

“”ماضی ۔۔۔۔

یار اب یہ ڈئیر کرنا پڑے گا ورنہ ہم ہار جاے گی ۔۔۔۔

شفا ایک کیفے ایریا میں اپنی یونی گروپ کے ساتھ کافی پینے آئ تھی جب اس کی کلاس فیلو ماہین نے اسے کہا تھا ۔۔۔۔

اسے ڈئیر ملا تھا اسے کسی کے تپھڑ مارنا تھا لیکن پہلے وہ کوئ بہانہ سوچ رہی تھی کس کو مارے لیکن شفا اس بات کو مانے کے لیے تیار نہیں تھی وہ ایسا کام کرے ۔۔۔۔

دیکھو شفا تم اور میں ایک متوسط گھرانے سے ہے ڈئیر نہ پورا کرنے پر بیس ہزار روپے دینے پڑے گے تم یہ کر لو کون سا کسی کا قتل کرنا ہے ۔۔۔۔

وہ اسے سمجھاتی بولی تھی ۔۔۔۔

ویسے روپے کے علاؤہ بھی شفا کوئ اور چیز دے سکتی ہے ۔۔۔۔

ناصر چین اپنے لبوں میں دباے شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا سب جانتے تھے اسے وہ شفا پر مرتا تھا ایک نمبر کا آوارہ لوفر لڑکا تھا بگڑا ہوا لیکن اس کی بدمعاشی دیکھ وہ سب ہی ڈرتے تھے سواے شفا کے ۔۔۔۔

کوئ ضرورت نہیں شفا رحمان کبھی ڈئیر نہیں ہاری یہ بھی نہیں ہارے گئ ۔۔۔۔۔

وہ گردن اکڑے بولی تھی ۔۔۔۔۔

چلو پورا کرو وہ لڑکا دیکھ رہی ہو براؤن شرٹ والا اسے تپھڑ مار کر واپس آنا ہے اگر اس نے غصہ کیا تو تم ہار گئ اگر وہ چاپ رہا تم جیت گئ ۔۔۔۔۔

ناصر ویسے ہی اسے گھورتا ہوا سامنے کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

جہاں کیفے کے باہر والے ایریا میں ایک خوبصورت سی ٹیبل لگی تھی جس پر صرف وہ لڑکا سکون سے بیٹھا کافی پی رہا تھا اس پاس کوئ بھی نہیں تھا لیکن وہ جگہ کافی کھولی تھی جیسے اسی کے لیے بنای گی ہو ۔۔۔۔۔

یار جے کے کیفے ا گیا ہو یہاں کچھ نہیں اب جانے دے ۔۔۔۔

اپنی چیئر پر بیٹھا احد بیزار سی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔۔

وہ کل ہی جرمنی سے پاکستان آیا تھا کافی سالوں بعد ۔۔۔۔

جب جیند خان نے اسے کہا تھا وہ پاکستان جا کر ایک کیفے کو دیکھے وہاں کوئ لوفر لڑکا لڑکیوں کو تنگ کرتا ہے اور اس کے مینجر کو دھمکی دے رہا اگر اسے وہ کیفے آپنے نام چاہے ۔۔۔

اس کیفے کا اونر جنید کا دوست تھا اس نے ہلپپ مانگی تھی وہ تو پاکستان نہ ا سکا تبھی احد کو کہا تھا ۔۔۔

احد جو اپنے بزنس میٹنگ کے لیے یہاں پاکستان آیا تھا اب پچھتا رہا تھا کیوں جے کے کی بات مانی ۔۔۔۔

دیکھ اے کے کبھی جو تو خوش ہو جایا کر ان رنگین دنیا میں سکون سے بیٹھ کافی پی پھر جانا گھر اوکے ۔۔۔۔

ل۔۔۔

گڈ باے جانی ۔۔۔۔

جنید جلدی سے کہتا اس کی سنے بنا ہی اپنے موبائل پر کس کرتا فون کٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔

پاگ۔۔۔۔

دیکھ نہیں چل سکتے تم اندھے ہو گیا چٹاخخخ۔۔۔۔

احد بات کرتا ہوا اپنے ٹیبل سے زرا آگے آیا تھا جب اس کا فون سنے کیں مگن وہ سامنے سے ڈرتی ہوئ شفا سے ٹکرایا تھا بلکہ شفا ہی جان بوجھ کر اس سے ٹکرای تھی ۔۔۔۔

واٹ د۔۔۔۔۔

اپنے چہرے پر پہلی دفعہ کسی کا تپھڑ پڑتا دیکھ وہ شدید طش میں آتا اسے گالی دیتا روکا تھا ۔۔۔۔

جہاں وہ اپنی براون آنکھوں میں ڈر لیے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

شفا نے ایک نظر پیچھے کی طرف گھومای تھی جب ناصر نے ایک اور مارنے کو کہا تھا ۔۔۔۔۔

چٹاخخخخ۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔۔

مجبور ہوتی وہ احد کو سنبھلنے کا موقع دیے بنا اس کے دوسرے گال پر بھی تپھڑ رسید کر چکی تھی ۔۔۔۔

جب اسے ایسا محسوس ہوا تھا جیسے وہ کسی دیو جیسے دندرے کی قید میں ا چکی ہو ۔۔۔

اپنے سر ماتھے پر لاتعداد گنز دیکھ اس نے سہمی نظروں سے آس پاس دیکھا تھا ۔۔۔۔

جہاں کافی سارے ہٹے کٹے بلیک یونفارم پہنے باڈی گارڈز اپنی اپنی گنز لیے اس کے قریب کھڑے ماتھے کا نشانہ لے چکے تھے ۔۔۔۔

جبکہ اس کے بے حد قریب کھڑا احد سکون سے شفا کا سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا جو چیختی ہوئ اب ڈری سمہی نظروں سے ان سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

جانتی ہو میرے ایک اشارے پر یہ تمہارا سر اڑا دے گے ۔۔۔

شیطانی مسکراہٹ لاے وہ زرا سا اس کے قریب ہوتا اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

شفا کی سانس اٹک چکی تھی اب کیا ہونے والا وہ اپنی موت کو خود دعوت دے چکی ہے ۔۔۔۔

براؤن شرٹ کیپری سر پر براؤن حجاب کیے اپنے سرخ سفید چہرے پر چھوٹی چھوٹی براؤن آنکھیں جو براؤن ہی کلر کی گلاسز لگاے گالوں پر پڑتے ڈمپل سرخ گول شیپ کے لب وہ سر سے پاؤں تک سرپا حسن تھی جس کے حسن سے پہلی دفعہ احد خانزادہ متاثر ہوا تھا ۔۔۔۔

جرمنی میں اپنی زندگی گزارنے میں اس کا سامنا بہت سی خوبصورت دلکش لڑکیوں سے ہوا تھا لیکن وہ اس کے سادہ سے روپ میں ایسا کھویا تھا جس سے باہر نکلنا اس کے اب ممکن نہیں تھا ۔۔۔۔

وہ اسے چھوٹی بچی ہی سمجھ رہا تھا جو اپنے قد کی وجہ سے ڈری سمی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔۔

اپنے گروپ کو دیکھاے وہ کہ وہ کتنی بہادر ہے لیکن اب اس پاس اتنے گارڈز کو گنز لیے دیکھ ڈری تھی ۔۔۔

د۔دیکھو م۔مجھء آج کچھ مت کہنا پلیز میری عزت کا سوال ہے ا۔پ بعد میں کچھ بھی کر لینا ۔۔۔۔

وہ جو مکمل اس میں کھویا ہوا تھا جب اسے اس کی رونی منت کرتی آواز سنای دی تھی۔۔۔

جب اپنے سانسوں کو گھوٹتے ہوے بول رہی تھی ۔۔۔۔

ہمممم جانتی ہو لٹل بے بی ڈول اگر میں چاہو تو ایک اشارے سے وہ تمہارا یہ ننھا سا دماغ اڑا سکتے ہے لیکن اگر اب تمہیں چھوڑا تو میرا کیا فائدہ۔۔۔

وہ ویسے ہی پرسکون سا اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

م۔میں آپ کو دعا دو گی اللہ کرے آپ کو وہ مل جاے جو آپ چاہتے ہے ۔۔۔۔

اب پلیز چھوڑ دے پلیز پلیز پل۔۔۔

اچھا جاؤ لیکن میری طرف موڑ کر مت دیکھنا ۔۔۔۔

وہ بچوں جیسی شکل بناے دعا دیتی بول رہی تھی جب احد اس کی دعا سنتے پرسکون ہوا تھا جبکہ دل اس کا تیز رفتا سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔

تبھی وہ کنٹرول کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

شک۔شکریہ ۔۔۔

وہ خوشی سے چہکتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔

کیا اب گاڈرز چھوڑ کر اے تمہیں ۔۔۔۔

اسے ویسے ہی کھڑا دیکھ وہ ایک بار پھر سے بولا تھا جب شفا ہوش میں آتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔

شفا اس کے کہنے پر بنا اسے دیکھے وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔

جبکہ احد اپنی کافی بھولتا ہوا اب اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ۔۔۔

س۔سر آپ نے بلایا ۔۔۔

احد جو ویسے ہی اپنے ماضی میں گم تھا جب امجد نے اندر آتے ڈرتے ہوے پوچھا تھا ۔۔۔۔

ہاں یہاں آو ۔۔۔

شفا کو نرمی سے اپنی باہوں میں اچھے سے سیٹ کرتے پاس پڑے اپنے کورٹ سے اسے کور کر چکا تھا ۔۔۔

اسے پتہ تھا امجد آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا لیکن احد کو پسند نہیں تھا اس کی لٹل بے بی ڈول کو کوئ دیکھے بھی ۔۔۔۔

تم نے شفا سے جو پوچھا اس کی سزا میں اچھے سے دے سکتا ہو لیکن میرا کام کرو ۔۔۔

شام تک مجھے مہندی کا سارا سامان اپنے بنگلے میں چاہے پورے آفس کو انوائیٹ کرو میری شادی پر ۔۔۔۔

وہ ویسے ہی شفا کا معصوم سوتا چہرہ دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

ج۔جی سر ۔۔۔۔

امجد دل میں شکر مناتا ہوا جلدی سے بولا تھا اسے تو ڈر تھا احد اسے سزا دے گا ۔۔۔۔

جاؤ اب ۔۔۔۔

وہ ویسے ہی بولا تھا جب وہ جلدی سے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔

احد نے پوری کوشش کی تھی شفا کو کچھ یاد نہ اے لیکن اب اسے بہلانے کے لیے وہ یہ شادی والی وش اس کی پوری کرنا چاہتا تھا تاکہ وہ اس کام میں الجھن جاے ۔۔۔۔

یہ تم غلط کر رہے ہو خان میری بیٹی ہے ۔۔۔

کیوں اس الزام کو سچ کروانا چاہتے ہو جو سکندر نے لگاتے طلاق دی مجھے ۔۔۔۔

یہ صرف میری بیٹی ہے ا۔۔۔۔

تمہاری فصول سی تقریر نہیں سنی یہ بتاؤ نکاح کرو گی یا نہیں اگر نہیں تو میں اور یشفہ صبح کی فلائیٹ سے جرمنی جا رہے ۔۔۔۔

شائستہ رات کو اس کے روم میں چلتی ہوئ آتی بول رہی تھی جہاں وہ یشفہ کو گود میں اسے فیڈر دے رہا تھا تبھی وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ کیسے کر سکتے ہو میری بی۔۔۔

نہ نہ یہ صرف جنید خان کی بیٹی ہے اگر چاہتی ہو تمہاری بھی ہو تو مان جاؤ شادی کے لیے ۔۔۔

وہ ہکلاتی بول رہی تھی جب وہ پھر سے بولا تھا ۔۔۔

نفرت بھی نہیں کر سکتی میں تم سے کیوں اتنا بے بس کر رہے ہو مجھے خان تمہیں رحم نہیں آتا مجھ پر ا۔۔۔۔

کوئ چیز چاہے ہو تو بتا دو مجھے میں لا دو ۔۔۔۔

وہ آنسو بہاے روتی ہوئی بول رہی تھی جب وہ ویسے ہی سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ہاں زہر لا دو تاکہ م۔۔۔

میں خود تمہارے لیے زہر بنو گا چوہیا اب فکر مت کرو ۔۔۔

وہ سرخ چہرہ لیے طش سے بول رہی تھی جب وہ اسے فلائیگ کس کرتا بے باک ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

میں تیار ہو نکاح کے لیے مجھے کچھ چیزیں چاہے وہ لا دو ابھی ۔۔۔۔

وہ کچھ سوچتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

اوکے یشفہ سو جاے پھر لا دیتا ہو تم لسٹ بنا دو ۔۔۔

وہ ویسے ہی پرسکون سا بولا تھا ۔۔۔

شائستہ منہ بناتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔

کییییییییااااا واقعی آج رات ہماری مہندی ہاے کتنا مزہ اے گا امی ابو کو بلاے گے احد ۔۔۔۔

شام کو وہ اسے بتا چکا تھا آج ان دونوں کی مہندی ہے سامان منگوا چکا تھا جب وہ چہکتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔

نہیں امی ابو آنے سے رہے بتایا تو ہے خطرہ ان کی جانوں کو ۔۔۔

وہ اسے سمجھاے بولا تھا ۔۔۔۔

اچھا ۔۔

چلے آپ تو تیار ہو جاے مہندی ہے ہاے میں کیسے کھڑی آپ کے پاس مجھے جانا چاہے اپنے روم میں ۔۔۔

مہندی کا سن کر ہی وہ بے حد خوش ہوتی کہتی وہاں سے جانے کے لیے تیار ہوئ تھی ۔۔۔

ہماری شادی ہو چکی ہے یہ صرف تمہارے لیے کروا رہا اب دور جانے کی بات ہرغرص مت کرنا ورنہ یہ سب روک دو گا ۔۔۔

اسے باہوں سے پکڑتے اپنے قریب کیے وہ سینجدہ لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

اچھا مجھے تیار تو ہونے دے سڑیل انسان وہ بھی یہاں ہو جاؤ ا۔۔۔

ہاں ہو جاؤ ویسے بھی شوہر ہو تمہارا تو کیسا شرمانا ۔۔۔

وہ اسے دیکھ بول رہی تھی جب وہ اس کی شرٹ کے بٹنوں پر ہاتھ رکھتے شرراتی انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔

کچھ زیادہ ہی بے شرم ہو گے آپ ۔۔۔

وہ اپنی نظروں کو شرم سے جھکاتے بولی تھی ۔۔۔

اچھا جاؤ تیار ہو جاؤ لیکن رات یہی آنا ہے ۔۔۔

وہ اسے شرافت سے چھوڑتے اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جب وہ بچوں جیسا سر ہاں میں ہلاتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔

جب میں ہی یہاں نہیں ہو گی تو نکاح کس سے کرو گے جنید خان ۔۔۔۔

وہ اپنی لسٹ بناتی اسے دے چکی تھی جب وہ چیزیں لینے گھر سے باہر گیا تھا ۔۔۔

تبھی وہ جلدی سے اس کے روم میں آتی بیڈ پر گہری نیند سوتی یشفہ کو گود میں اٹھاے سر پر چادر لیتی ہوی باہر ہال میں جاتی بولی تھی ۔۔

اس نے سوچ لیا تھا جنید سے نکاح سے اچھا وہ یہاں سے بھاگ جاے کہیں دور ۔۔۔۔

میری بیٹی ہو صرف میری میں نہیں چاہتی دنیا والے وہی کہے جو سکندر کہتا رہا ۔۔۔

ہال میں آتے وہ گیٹ تک آئ تھی جب وہاں اتنی خاموشی اور کسی کو نہ پا کر وہ باہر کی طرف بھاگتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

وہ مسلسل بھاگتی ہوئ سڑک پر جا رہی تھی کبھی کبھار وہ پیچھے گردن موڑ کر دیکھ لیتی تھی کہیں جنید کے آدمی نہ ا رہے ہو ۔۔۔

لیکن وہ ویران خالی سڑک پر کوئ نہیں تھا ۔۔۔۔

وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکی تھی یشفہ کو لے کر بھاگنے میں ۔۔۔۔

ابھی بھی وہ مسلسل چلتی ہوئ اب بس اسٹیشن آئ تھی تاکہ بس لے سکے ۔۔۔۔

اور وہ یہاں سے دور چلی جاے ۔۔۔۔

ویری گڈ میں بڑا امپریس ہوا ہو یار شائستہ تم پہلی والی بہادر شائستہ ہی ہو ۔۔۔

واووووو اسی خوشی میں ہمارا نکاح کل نہیں ابھی ہو گا میری سویٹ سی چوہیا ۔۔۔۔

شائستہ سوتی یشفہ کو لے بامشکل وہاں اگی تھی اتنا تیز بھاگنے سے اس کا سانس پھول چکا تھا تبھی سانس لینے کے لیے وہ ایک بینچ پر بیٹھی تھی جب بلکل ساتھ بیٹھے سکون سے جنید نے اس کے کان میں سر گوشی کی تھی ۔۔۔۔

ت۔تم یہاں کیسے آ۔

تمہاری رگ رگ سے واقف ہو چوہیا مجھ سے بھاگنا کا سوچنا بھی مت چلو اب ۔۔۔

میری بیٹی کو تنگ کر رہی ہو دیکھو کتنی پرسکون سو رہی ہے ۔۔۔۔

شائستہ کا چہرہ پیسنے سے بھیگا ہوا تھا جب جنید اس کی باہوں سے یشفہ کو لے سکون سے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

شائستہ نے اب غور کیا تھا پورے بس اسٹیشن میں اس کے گاڈرز ہی کھڑے تھے ۔۔۔۔

وہ تو پورے راستے دیکھتے آئ تھی پھر یہ کیسے اے یہاں ۔۔۔

وہ بیٹھی یہی سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

جب تم نے نقلی لسٹ دی تب سے یہاں بیٹھا ہو اپنی دلہن کی راہ تکتے ہوے ۔۔۔۔

اسے پرسوچ دیکھ وہ اب اپنے بھاری قدم اٹھاے جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

شائستہ ناچار اس کے ساتھ جانے کو اٹھی تھی اب وہ جان گی تھی جہاں بھی گی وہاں وہ پہنچ جاے گا ۔۔۔۔

آپی آپ کتنی پیاری لگ رہی ہے ۔۔۔

احد کے ڈراہیور کی بیٹی شفا کے ہاتھوں میں مہندی لگانے آئ تھی جب اسے ییلو سلور نیٹ کے نفیس سے لہنگے میں سادہ سا تیار دیکھ وہ بولی تھی جہاں وہ بنا میک اپ کیے بس پنک لیپ گلوس لگاے مسکراتی بیٹھی تھی ۔۔۔

پورے ہال کو ہی احد نے زرد و گلاب کے پھولوں سے سجا لیا تھا بنگلے کے سارے ملازم ہی اس کی مہندی انجواے کر رہے تھے ان سب کے علاؤہ کسی کو نہیں بلایا گیا تھا ۔۔۔۔

شفا کو چھوڑے وہ خود پتہ نہیں کہاں گیا ہوا تھا ۔۔۔۔

ہاں تم بھی پیاری ہو ۔۔

شفا تو اپنی ہی مہندی دیکھ خوش ہوتی اسے بھی بولی تھی ۔۔۔۔

ویسے آپی آپ کو کہانیاں سنانے آتی ہے ۔۔۔۔

وہ ننھی سی ایک بچی تھی جو کبھی کبھی مہندی لگاتی تھی احد نے اسے ہی کہا تھا ۔۔۔

جب وہ اپنے سامنے بیٹھی اس لہنگے میں ملبوس گڑیا کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں کہانی آتی ہے تمہیں سناؤ ایک۔ ۔

اس کے ہاتھوں پر مہندی لگنے والی تھی جب وہ بولی تھی اپنے امی ابو کو نہ پا کر وہ ویسے بھی آبدیدہ ہو رہی تھی ۔۔۔

ایک چھوٹی سی پیاری گڑیا تھی اس کو ایک حیوان نما درندہ پسند کر لیتا ہے ۔۔۔۔

وہ حیوان بہت بے رحم دل ہوتا ہے بلکل ایک پتھڑ کا بنا ہوا ۔۔۔

احد نے اپنے آفس سے فارغ ہوتا ابھی ہال میں انٹر ہوا تھا جب اسے شفا کی نم آواز سنای دی وہ وہی روکتا اس کی سن رہا تھا جو کھوے ہوے لہجے میں اس لڑکی کو ایک سٹوری سنا رہی تھی ۔۔۔۔

پھر آپی کیا ہوا ۔۔۔۔

وہ بچی اب مہندی چھوڑے مگن انداز سے بولی تھی ۔۔۔۔

اس درندے کو گڑیا پسند آئ پھر اس سے زبردستی شادی کر لی لڑکی نے جب شادی کرنے سے انکار کیا تو اس کے ماں باپ کا قتل کر دیا ۔۔۔

پھر وہ گڑیا ہمیشہ اس درندے کی قید میں رہ گی ۔۔۔۔

ا۔۔۔۔

آپی پانی دو آپ کو ۔۔۔

اچانک شفا بتاتے ہوے اب پھوٹ پھوٹ کر رونا سٹارٹ کر چکی تھی۔۔۔

جب وہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

ن۔نہین پ۔۔۔

تم جاو یہاں سے ۔۔۔۔

شفا کی زبانی سب سنتے احد کا دل زور سے دھڑکا تھا مطلب شفا کو یاد ا رہا سب تبھی وہ جلدی سے ہال میں انٹر ہوتے وہ سرد لہجہ سے بولا تھا ۔۔۔

جب وہ بچی سر جھکاے وہاں سے گی تھی۔ ۔

اح۔احد ۔احد مجھے رونا آ رہا پتہ نہیں کیوں دیکھیں آنسو بھی آ رہے ہے ۔۔۔

م۔میرا دل کر رہا بہت زیادہ رو لو ۔۔۔۔

شفا اپنے سامنے سفید کرتا پاجامہ پہنے ساتھ مہندی کلر کی ویسٹ کوٹ پہنے براؤن کھوسہ اپنے سفید بھاری پاؤں میں پہنے بالوں کو اچھے سے سیٹ کیے وہ سرخ رنگ لیے چہرہ گرے بڑی بڑی چمکتی آنکھیں ہلکی کالی شیو اپنے بھرپور وجہہ لیے کسرتی جسم کے ساتھ وہ اس کے سامنے کھڑا ایک شہزادہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔

تبھی وہ روتی بھاگ کر اس کے سینے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔۔

احد مشکل سے ہی خود پر کنٹرول کر رہا تھا وہ نہیں چاہتا تھا شفا اس کا جلالی روپ دیکھے ۔۔۔۔

ریلکس تمہیں آنسو اس لیے آ رہے کیونکہ امی ابو ن۔۔۔۔

نہیں ۔م۔مجھے ا ۔اس گڑیا کے لیے رونا آ رہا پتہ نہیں وہ درندہ کیسے رکھتا ہو گا اسے اس کے ماں باپ بھی مر گے احد ۔۔۔۔

وہ بات بدلتا ہوا بول رہا تھا جب وہ سوں سوں کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

وہ جو درندہ تھا نہ وہ اپنی گڑیا کا ساتھ پا کر انسان بن گیا تھا سب سے پیار سے رہنے لگ گیا تھا کیونکہ اسے اپنی گڑیا بہت پسند تھی ۔۔۔

گڑیا کے ماں باپ اس کی وجہ سے نہیں م۔۔۔۔

تو اس درندے نے کیا گڑیا کو چھوڑ دیا پھر اگر وہ اچھا انسان بن چکا تھا ۔۔۔

اچھا یہ بتاے یہ سٹوری آپ نے مکمل پڑھیں ہے کیا ۔۔۔

احد اپنے سے کہانی بناتا ہوا سنا رہا تھا جب وہ آنکھوں میں چمک لاے بولی تھی ۔۔۔۔

ارے یاد آیا مجھے اپنی شادی کا لہنگا دیکھ لو یار پھر چینج کروا لے گے۔۔۔

صبح سے خود گیا تھا شاپنگ کرنے اپنی چیزیں دیکھ لو جا کر ۔۔۔۔

وہ زرا سختی سے اسے دیکھ بولا تھا جب وہ اچھے بچوں کی طرح بات مانتی ہوئ وہاں سے گی تھی ۔۔۔

اس کی نظروں میں سختی دیکھ وہ سمجھ جاتی تھی اس نے آگے بات نہیں بتانی تبھی وہ ہار مانتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔۔

مبارک ہو مسز جنید خان ۔۔۔۔

شائستہ گھر آئ تھی جب جنید نے پہلی دفعہ اس پر غصہ کرتے وہ نیلی فراک دی تھی جیسی یشفہ کے لیے لی تھی ۔۔۔۔

اپنی بیٹی کی خاطر وہ دل پر پھتڑ رکھتی وہ فراک پہن کر تیار ہو چکی تھی ۔۔۔۔

اتنے ماہ کوما میں رہنے کی وجہ سے اس کا گول چہرہ تھوڑا کمزور ہو گیا تھا آنکھوں کی چمک گالوں کی سرخ لبوں کا گلابی پن ہر چیز تو وہ کھو چکی تھی لیکن ابھی بھی فراک کے ساتھ ڈوپٹہ لیے ہلکے میک اپ میں خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔

چند لوگوں کو ہال میں بیٹھاے وہ مولوی کو لا چکا تھا ۔۔۔۔

شائستہ جو اپنے بھاری دل سے وہاں صوفے پر بیٹھی تھی جب اس نے نظریں اٹھا کر سامنے سے آتے جنید خان کو دیکھا تھا ۔۔۔

جو سفید سوٹ میں نیلی ویسٹ کوٹ پہنے براؤن بالوں کا سٹائل بناے اپنے خوبصورت چہرے پر مسکراہٹ نیلی آنکھوں میں چمک لیے وہ بھاری قدم لیے اپنی وجہہ پرسلنٹی لیے اندر آیا تھا جہاں اس کے ایک بازو پر لگی شائستہ جیسی ننھی سی فراک پہنے یشفہ تھی ۔۔۔۔

وہ بھی بلکل جنید خان جیسی دلکش لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔

نکاح ہو چکا تھا جب جنید کی کوئ دوست کی بیوی اس کے قریب آتی مبارک باد دے رہی تھی ۔۔۔۔

شائستہ کا دل اتنا پھتڑ ہو چکا تھا وہ جواب میں کچھ بول ہی نہ سکی تھی ۔۔۔۔

جے کے بہت خوش قسمت ہے جیسے تم ملی بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔

اس کی دوست کی بیوی اس کی حالت سمجھتی ہوی اس کے یخ ٹھنڈے ہاتھوں کو پکڑتے بولی تھی ۔۔۔۔

جب شائستہ نے جنید کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔

جو اسے ہی فرمواش کیے بس گود میں بیٹھی یشفہ کو لیے سب کو دیکھاتے مسکراتا ہوا کوئ بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

دیکھو تمہاری ماما اب مجھ معصوم کو دیکھ رہی ہے ۔۔۔

باتوں میں بزی جیند نے نظر اٹھا کر سامنے بیٹھی شائستہ کو دیکھا تھا جو یک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی جب اس نے یشفہ کو شکایت لگای تھی ۔۔۔۔

ننھی سی یشفہ نے بہت ہی برا سا منہ بناے شائستہ کی طرف دیکھا تھا جیسے وہ کہہ رہی ہو میرے بابا کو مت دیکھے ۔۔۔۔

تبھی شائستہ جنید کی نظروں سے نہ گھبراتی اب اپنی بیٹی کی نظروں سے گھبراتی سر جھکا گی تھی ۔۔۔۔

اہہہہ ماما شرما گی ۔۔۔۔

شائستہ کی اس حرکت پر یشفہ نے تالی بجای تھی تبھی جنید اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جی تو مسز جنید خان اب روم میں جایا جاے امید ہے تمہیں ہمارا روم پیارا لگے گا ۔۔۔۔

سب کو فارغ کرتے اب وہ اس کے قریب آتا اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتا شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

وہ جو کب سے صبر کیے بیٹھی تھی اب تن فن کرتی اٹھتی اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔۔

ارے جان تمہارا ہی ہو روم میں جا کر دیکھنا یہاں ملازم ہے کیا سوچے گے اب ہماری پرائویسی بھی ہونی چاہے ۔۔۔۔

وہ مسلسل شوخ ہوتا ہوا آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

اچھا ہم رومینس بعد میں کرتے پہلے میرے عشق سے ملو ۔۔۔۔

تم میری محبت ہو لیکن یشفہ میرا عشق ہے ملو اس سے ۔۔۔۔۔

اسے غصے سے بھرے دیکھ وہ اب یشفہ کا گال چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جب یشفہ نے بھی جوابی کس کی تھی اس کے گال پر ۔۔۔۔

انہہہہ ڈرامہ ۔۔۔۔

وہ نفرت سے اسے گھورتی اب اپنی فراک کو پکڑتے روم کی طرف گی تھی ۔۔۔

ارے آوو میری چوہیا ہمارا روم وہ فرسٹ والا ہے ویٹ کرو میں ایا ۔۔۔۔

جنید اسے جاتا دیکھ پیچھے ہانک لگاے بولا تھا ۔۔۔

جب شائستہ اگنور کرتی وہاں سے گی تھی۔ ۔

سب کو اندر آنے کی اجازت ہے سواے ناصر وحید کو ۔۔۔۔

وہ شفا کو بہلاتے ہوے اب لان میں آتا اپنے مینجر کو کہہ رہا تھا ۔۔۔

جی سر ۔۔۔

وہ سر جھکاے کہتا اب شادی ہال اریجمٹ دیکھنے گیا تھا ۔۔۔۔۔

جبکہ احد کا دل دعا مانگ رہا تھا کل کسی بھی طرح اس کی شادی پر ناصر نہ ا جاے اگر وہ آگیا تو شفا کو اس کا سارا ماضی بتاے گا ۔۔۔۔

اففف پتہ نہیں کل کیا ہو گا لٹل بے بی ڈول کو دیکھ لو ۔۔۔۔

اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیے وہ اب روم کی طرف واپس جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

شادی ہال پر شفا کے کہنے پر وہ شہر کے سب لوگوں کو بلا چکا تھا لیکن ڈر تھا کہیں ناصر نہ ا جاے اس کے علاؤہ کوئ شفا کو جانتا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔

ارے میں ہلیپ کرتا ہو کیا ہوا۔ ۔۔۔

وہ جو روم میں آیا تھا جب شفا کو اپنی کرتی سے الجھتے دیکھ وہ اس کے قریب جاتا بولا تھا ۔۔۔

ن۔نہ۔نہیں آپ کیوں ا۔اے ہے میں ک۔کر لیتی ۔ ۔۔

وہ جو اپنی کرتی کی ساری بیک زپ کھولے اس میں پھسے بالوں کو نکال رہی تھی اچانک اسے روم میں آتے دیکھ وہ جلدی سے شیشے سے لگتی بولی تھی آگے سے ساری کرتی نیچے سرکی ہوئ تھی ۔۔۔۔

مجھے سے ڈرا مت کرو جب تم ایسے کرتی ہو میرا دماغ گھوم جاتا ہے شوہر ہو تمہارا ۔۔۔۔

تم صرف میری ہو سنا تم نے ۔۔۔۔

وہ اس کی بات سنتا جنونی ہوتا کندھوں سے پکڑتے اچانک اپنے جلالی روپ میں اے غرایا تھا ۔۔۔

جب شفا کی سانس روکی تھی ۔۔۔۔

ن۔نہیں ڈرتی ب۔بس وہ کپڑ۔۔۔

احدددددد۔۔۔۔

وہ جو ڈرتی بول رہی تھی جب احد نے شدید طش میں آتے اس کی کرتی کی ساری زپ کو کھولا تھا جب وہ اپنی شرٹ کو پکڑتے چیخی تھی ۔۔۔

جب کہا ہے صرف میری ہو تو صرف میری ہو ایسے ڈرتی کیوں ہو کیا کھا رہا تمہیں میں ۔۔۔۔

ہاںںںںں بولو ۔۔۔۔۔

وہ جلالی روپ میں آتا اس کا گال پکڑتے دانت پیستے ہوے غرایا تھا۔ ۔۔۔

شفا کی آنکھوں کے سامنے ایسے ہی کوئ سین لہرایا تھا ۔۔۔۔

ن۔نہیں ہو میں آپ کی سنا ا۔اپ نے نہیں ہو وحشت ہوتی اپ۔اپ سے جان چھوڑ دے میری ۔۔۔۔

وہ اچانک آپے سے باہر ہوتی احد کو خود سے دور کرتی چیخی تھی وہ جو اس کی گردن پر جھکا اپنا لمس چھوڑنے میں بزی تھا اچانک اس کا دھکا کھاتے وہ دور گرا تھا ۔۔۔۔

احد ہوش میں واپس آیا تھا شفا کی چیخیں سن کر جو اپنا سر ہاتھوں میں پکڑتی کھڑی چیخ رہی تھی ۔۔۔۔

ن۔نہی۔ ہو ۔اپ کی ۔درندے حیوا۔ن۔ن۔نفرت۔ہ۔۔۔۔

شفااااااااااا۔۔۔۔

وہ اپنے بالوں کو نوچتی مسلسل چیختی بول رہی تھی جب اچانک وہ لہرا کر گری تھی ۔۔۔۔

تبھی احد بے چین ہوتا اٹھ کر بھاگتے اسے پکڑا تھا جو اب اسکی گود میں سر رکھے بے ہوش پڑی تھی ۔۔۔۔

نہیں تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔

ہیلو دانیال جلدی گھر ا شفا کی حالت نہیں ٹھیک ۔۔۔۔

احد اسے گود میں لیے اب دانیال کو فون کرتا چیخا تھا ۔۔۔

خود کو وہ کوس رہا تھا کیوں وہ اس کے سامنے اپنا جلالی روپ لایا تھا اسی سے تو وہ ڈرتی تھی ہمیشہ سے ۔۔۔۔

شفا میری جان تم ٹھیک ہو جاؤ میں کبھی ایسا بےہیو نہیں کرو گا ۔۔۔

اس کا پیسنے سے بھیگے چہرے کو چومتے وہ خود بھی آبدیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔