Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 13)

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

“””جنید 😘شائستہ

“”احد 😘شفا اسپشیل اپپی 🥳

یہ کس خوشی میں پارٹی رکھی ہے مجھے بتانا ضروری سمجھو گے ۔۔۔۔

شائستہ پارٹی کے لیے تیار کھڑی روم میں اے جنید کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔

جو خود بھی تیار سا کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

ویسے سچ سچ بتانا کون سا چونا لگایا ہے جو اتنی بدصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔

بیلو لٹل فراک میں ہلکے میک اپ کیے بالوں کو کرل کیے

تیار کھڑی شائستہ کے پاس اے شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

وہی چونا جو تم اپنی اس بدصورت شکل پر لگاتے ہو شکر کرو میں ڈری نہیں ورنہ ہارٹ اٹیک ا جاتا مجھے ۔۔۔۔

شائستہ بھی اسی کے انداز میں بولتی اپنا رخ موڑ چکی تھی ۔۔۔۔

اتنے عرصے میں پہلی بار جنید نے شائستہ کو وہی پہلی ٹون میں دیکھا تھا ۔۔۔

ہارٹ اٹیک تو مجھے اے گا جب تم رات کو سونے سے پہلے یہ چونے والا منہ دھو لو گی ۔۔۔۔

جنید اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

خانننننننننننن میں تمہاری جان نکال دو گی ۔۔۔۔

اس کی بات سنتے شائستہ غصے سے دانت پیستے اس کی طرف رخ کیے اسکے بالوں کو مٹھیوں میں بھرتے بولی تھی ۔۔۔

اہہہہہہ ظالم عورت مجھ معصوم کے حسن سے جلیس ہوتی ہو چھوڑو بال میرے ورنہ اگر میں نے تمہارے پکڑے تم نے رونے لگ جانا ہے ۔۔۔۔

جنید نے احتجاج کرتے کہا تھا ۔۔۔۔

نہیں چھوڑ رہی جو مرضی کرو ا۔۔۔۔۔

شائستہ ویسے ہی بالوں سے پکڑتے بول رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر جیند کی انگلیاں محسوس کرتے بلکل چپ ہو گی تھی ۔۔۔۔

خ۔خ۔خان ب۔باہر چلتے ۔۔۔

شائستہ اب ہوش میں آی تھی وہ مذاق مذاق میں اس کے کتنے قریب ا چکی تھی رہی سہی کسر جنید نے اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے ختم کی تھی ۔۔۔۔

جہاں کچھ فاصلہ تھا اب صرف ایک انچ کا رہ گیا تھا ۔۔۔

جب تم خان کہتی ہو دل میں سکون اتارتا ہے خان کی خانم ۔۔۔۔

شائستہ کے گال کو چومتے وہ بہکے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔۔

ی۔یشفہ ب۔۔۔۔

یہ میں جب تمہارے پاس ہوتا ہو تمہیں تبھی سارے یاد آتے ہے یشفہ باہر لان میں چلی گی ہے بس تمہیں ہی لینے آیا تھا او اب ۔۔۔۔۔

وہ جو اس کی خوشبو میں بہکتے ہوے اپنی بے باکیاں دیکھا رہا تھا ایک دفعہ اس کے بولنے پر ہوش میں آتا اچانک سینجدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

وہ شائستہ پر کوئ زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا تبھی ہوش میں اے وہ دور ہوتا کہتا باہر گیا تھا ۔۔۔۔

لگتا برا مان گیا ۔۔۔

شائستہ بھی اپنے رویے پر شرمندہ ہوتی اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو موڑوتے ہوے سوچا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ والا ڈریس پیارا ہے یہی پہن لو گی ۔۔۔۔

شفا روم میں آتی وڈراب کے سامنے کھڑی سوچتی بولی تھی ۔۔۔

احد کو جنید نے فون پر پارٹی کا کہا تھا جب احد نے اس سے بہانہ بنایا تھا وہ نہیں آسکتا جس کی باتیں شفا بھی سن چکی تھی ۔۔۔۔

احد کے انکار کی وجہ وہ جانتی تھی اور یہ بھی جانتی تھی احد اور جنید کی دوستی کتنی گہری تھی ۔۔۔۔

تبھی اپنی مرضی سے وہ سوچ رہی تھی کون سا ڈریس پارٹی میں پہن کر جاے ۔۔۔۔

ل۔لیکن ان کو کیا کہو گی کیوں جا رہی ان کے ساتھ ۔۔۔

وہ ابھی بھی سوچتی ہوی نروس ہو رہی تھی دل تو اس کا نہیں تھا لیکن اب وہ احد خانزادہ کی بیوی تھی اسے یہ سب کرنا تھا تاکہ سب کو شک نہ ہو وہ دونوں لڑے ہوے ہے ۔۔۔۔

یاد جے کے ا تو رہا ہو ورنہ میرا موڈ ہرگز نہیں تھا آنے کو ا۔۔۔۔

شام کو جنید کی دھمکیاں سنتے آخر احد مان ہی گیا تھا پارٹی پر جانے کو تبھی وہ تیار سا ہوا جانے کے لیے ہال میں اے جیند سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔

جب سڑھیوں سے اترتی شفا کو دیکھ احد کے باقی کے الفاظ منہ میں ہی رہ چکے تھے ۔۔۔۔

وہ تو بس آنکھیں پھاڑے اپنی لٹل بے بی ڈول کو دیکھ رہا تھا جو نروس سی چلتی نیچے اتر رہی تھی ۔۔۔۔

مہرون سلور کلر کی خوبصورت سی ساڑھی پہنے لمبے کالے بالوں کو نیچے سے ہلکے سے کرل کیے کھولے چھوڑے تھے جو اس کی نازک سی کمر پر جھول رہے تھے گول شفاف چہرے پر بلکل ہلکا سا میک اپ بڑی بڑی آنکھوں پر براؤن کلر کے گلاسز اپنی خوبصورت سیفد کلاہیوں پر مہرون اور سلور کلر کی چوڑیاں پہنے سلور کلر کا کھوسہ اپنے چھوٹے سے پاؤں میں پہنے وہ آہستہ آہستہ قدم لیے نیچے آ رہی تھی اس کے چہرے پر نروس ہونے والے تاثرات تھے ۔۔۔

جبکہ وہ اپنی انگلیاں موڑوتی رہی تھی ۔۔

و۔وہ میں نے سوچا جانا چاہے اب ک۔کسی کو یہ نہیں پتہ ہمارا درمیان کیا چل رہا ہے اب می۔میں احد خانزادہ کی بیوی ہو اتنا تو بنتا ہے میں ۔نہیں چاہتی آپ کا دوست اداس ہو آپ کے نہ آنے پر ۔۔۔۔

احد ویسے ہی منہ آنکھیں کھولے اسے اپنے قریب آتے دیکھ رہا تھا جب وہ قریب جاتی اپنی نظروں کو آس پاس دوڑاتی ہوی بولی تھی ۔۔۔

جبکہ احد کی نظریں اس کے چھوٹے سے مہرون لیپ اسٹک لگے لبوں پر ٹک چکی تھی ۔۔

چ۔چلے ہم لیٹ ہو رہے ۔۔۔

اس کی نظروں سے نروس ہوتی وہ اپنے بالوں کو بلاوجہ سنوارتے ہوے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں ہاں چلو ۔۔۔

وہ ہوش میں آتا جلدی سے بولا تھا وہ بے حد خوش تھا چاہے وہ جس بھی مقصد کے لیے تیار ہوئ ہو لیکن احد سے بات تو کر ہی رہی تھی ۔۔۔۔

پرپل کلر کے خوبصورت سے پردوں سے پورے لان کو لائٹس اور گلابوں سے سجایا گیا تھا وہاں رکھی ہر چیز اپنی نفاست کا ثبوت دے رہی تھی جنید نے بہت محبت سے پوری پارٹی کی سجاوٹ یشفہ کے لیے کروای تھی ۔۔۔۔

وہاں آیا ہر شخص جنید خان کی شان دار پارٹی انجواے کرنے آیا تھا اور وہ سب وہاں اس کی بیٹی کو دیکھنے بھی اے ہوے تھے ۔۔۔

اتنا خرچہ کرنے کی کیا ضرورت تھی اور یہ یشفہ کدھر ہے ۔۔۔

شائستہ سب مہمانوں سے ملتی اب جیند کے پاس آتی سرگوشی کرتی بولی تھی جو کسی سے بات کرنے میں بزی تھا ۔۔۔۔

آتی ہے میری بیٹی ویسے بھی یہ پارٹی میری بیٹی کے لیے یو نو اسپشیل گیسٹ کی ۔۔۔

جنید سب کی طرف دیکھتا ہلکا سا اسے کمر سے پکڑتے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔

مہمانوں کا لحاظ کرتے وہ بھی چپ رہی تھی ۔۔۔

مت کیا کرو اتنا خان وہ میری بیٹی ہ۔۔۔

یہ پارٹی ہی اسی لیے ہے تاکہ سب کو پتہ چل سکے یشفہ جنید خان کی بیٹی ہے صرف اس کی سمجھی تم بلاوجہ مجھ سے الجھنے کی کوشش مت کیا کرو تم جانتی ہو مجھے بحث نہیں پسند ۔۔۔۔

جنید بار بار اس کی ایک ہی بات سنتے بالآخر طش میں آتے دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔

ہمممم۔۔۔

اس کی بات سنتے وہ چپ ہو گی تھی بول بھی کیا سکتی تھی ۔۔۔۔

اندر شائستہ بھابھی ہو گی تم ان کے پاس چلی جانا اوکے ۔۔۔

احد اور شفا وہاں پہنچ گے تھے جب وہ کار میں ہی بیٹھے سکون سے بولا تھا پورے راستے وہ دونوں کچھ نہیں بولے تھے ۔۔۔۔

اچ۔اچھا ا۔اندر کافی مہمان بھی ہو گے ۔۔۔

اچانک شفا ڈرے سہمے لہجے میں بولی تھی اتنے ماہ بعد وہ کہیں باہر نکلی تھی اب اسے لوگوں سے ڈر لگتا تھا ۔۔۔

ریلکس ڈرنے والی بات نہیں تم چاہو تو واپس جا سک۔۔۔۔

ک۔کدھر ڈر رہی یہی پوچھا کتنے مہمان ہو گے ایویں چلاک بنتے ہے میرے آگے ۔۔۔

احد اسے پرسکون کرتا بول رہا تھا جب وہ گھبراہٹ پر قابو پاے بولا تھا ۔۔۔۔

چلو آؤ باہر ۔۔۔

شفا کانپتے ہاتھوں سے سیٹ بلیٹ کھول رہی تھی جب احد اسے دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔

ریلکس رہو میں تمہارے ساتھ ہی ہو اوکے لٹل بے بی ڈول۔۔۔

شفا کی طرف جھکتے وہ اس کی سیٹ بلیٹ کھولتے سکون سے بول رہا تھا اس بات سے بے خبر وہ شفا کی دل کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھا چکا تھا ۔۔۔

احد کے کلون کی خوشبو میں وہ مدہوش ہو رہی تھی انکھیں بند کیے شفا نے گہرا سانس لیا تھا جب وہی خوشبو اس کے ناک سے سیدھی اندر گی تھی ۔۔۔۔

بلکل بھی پینک نہیں ہونا ۔۔۔۔

بلیٹ کھولتے احد نے اس کے سرخ انار جیسے گالوں کو سہلاتے نرمی سے کہا تھا جب وہ آنکھیں بند کیے سر ہاں میں ہلا چکی تھی ۔۔۔۔

خ۔خانننن۔۔۔

شائستہ جنید کے ساتھ ہی سب مہمانوں کا ویلکم کر رہی تھی جب اچانک انٹرنس سے سکندر کو انٹر ہوتے دیکھ وہ ڈرتی ہوئ جنید کا بازوں پکڑتے سرگوشی لیے بولی تھی ۔۔۔۔

ریلکس وہ ہماری بیٹی کی پارٹی میں آیا ہے اور کچھ نہیں کرے گا ۔۔۔

جنید اس کی گھبراہٹ سمجھتے ہوے اسے کمر سے پکڑتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

ا۔ایسا ہی ہو ورنہ اب اگر اس نے میرے کردار پر الزام لگایا خان میں زندہ نہیں رہ پاؤ گی ۔۔۔

شائستہ بے آواز روتی ہوئی اس سے لگتی بولی تھی ۔۔۔۔

ویلکم سکندر مجھے امید تھی تم ضرور او گے ۔۔۔۔

جنید ویسے ہی پرسکون کھڑا سامنے آتے سکندر کو دیکھ بولا تھا لیکن سکندر کی نظریں تو شائستہ پر ہی تھی جو ڈری سمہی جنید کے بازوں سے لگی تھی ۔۔۔۔

ضروری بات کرنی تم سے ۔۔۔

سکندر اپنے مدعے پر آتا بولا تھا اسے جنید نے ہی پارٹی پر بلایا تھا ۔۔۔۔

سوری ابھی میں بزی کیوں کہ ہماری بیٹی آنے والی ہے ۔۔۔۔

سامنے سے آتے احد اور شفا کو دیکھتے جیند سکون سے بولا تھا وہ انہیں کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔

تاکہ یشفہ کو لایا جاے ۔۔۔۔

سکندر خاموش کھڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔

“””یہ دل پاگل بنا بیٹھا

اسے اب تو ہی سمجھا رہے “”

“”دیکھے تجھ میں میرے دنیا

میری دنیا بن جا رہے “”

“”وہ خوش قسمت جو قسمت سے

تمہیں ایسے پایا ہوں

میں تم عشق کرنے کی اجازت رب سے لایا ہوں ❤️“””

پورے لان کی لائٹس آف ہو گی تھی جب ریڈ قالین کر ایک سپاٹ لائٹ جلی تھی وہی ننھی سی یشفہ جنید کی باہوں میں تھی جس میں سیم ڈرسینگ شائستہ جیسی تھی۔ ۔۔۔

تبھی ایک ہاتھ میں مائک پکڑتے وہ اپنی سریلی آواز سے گانا گا رہا تھا ۔۔۔۔۔

شائستہ جو گم صم کھڑی ان دونوں کا ویٹ کر رہی تھی اب ان دونوں کو سامنے چلتے ہوے آتے دیکھ شوک ہوئ تھی جب جنید آہستہ آہستہ قدم لیتا اس کے قریب آیا تھا ۔۔۔۔

سو گائز لیسٹ ویلکم مائ لٹل فیری۔ ۔۔۔

یہ ہے جنید خان کی بیٹی یشفہ جنید خان ۔۔۔۔۔

شائستہ کے پاس آتے اس کا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں لیتے اب وہ پورے جوش سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

وہاں آیا ہر مہمان بس جنید خان کی خوبصورت بیوی اور بیٹی کو دیکھ رہے تھے جن کے ہاتھ وہ مضبوطی سے تھامے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔۔

دور کھڑے سکندر کو آگ لگی تھی وہ اس کی اولاد تھی جیسے جیند اپنی کہہ رہا تھا پوری شان سے ۔۔

پورے لان میں تالیوں کی گونج اٹھی تھی ۔۔۔۔۔

شائستہ نے آنسو بھری آنکھوں سے جنید کی طرف دیکھا تھا جو ہر چیز سے بے خبر بس یشفہ کے گال چوم رہا تھا ۔۔۔۔۔

یہ اسپشیل پارٹی میں نے اپنی بیٹی کے لیے ہی رکھی ہے کیونکہ آج میری بیٹی پہلا لفظ بولنے والی ہے ۔۔۔۔۔

مائک اپنے لبوں کے قریب کیے وہ مسکراتا ہوا ویسے ہی بول رہا تھا ۔۔۔۔

ابھی اس نے بولنا نہیں سکھا۔۔۔

شائستہ دبی آواز سے اس کے قریب کھڑی بولی تھی ۔۔۔۔

ارے چوہیا ابھی دیکھنا میری بیٹی بولتی بولو بیٹا آپ۔ ۔۔۔

جیند شائستہ کی ناک دباے اب پورے جوش سے بولا تھا ۔۔۔۔

سکندر مسلسل جلتا بھنتا ہوا اپنا رخ بدل رہا تھا ۔۔۔۔

لیک۔۔۔۔

د۔د۔دادا(بابا)…..

اس سے پہلے شائستہ کچھ کہتی جب یشفہ نے اپنی سریلی توتلی زبان میں جنید کو بابا کہا تھا وہی جنید خوشی سے جھوم اٹھا تھا ۔۔۔۔۔

اور شائستہ کو گہرا صدمہ ہوا تھا وہ ماما کہنے کی بجاے بابا بول چکی تھی ۔۔۔۔۔

جنید کے قہقہوں کے ساتھ یشفہ کی توتلی زبان کی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔۔۔

سارے مہمان ان تینوں کی باتوں کو انجواے کر رہے تھے ۔۔۔۔

تو نے ایسی سڑی ہوئ شکل بنای ہے بندہ تھوڑا ہنس ہی لیتا ہے میری پارٹی پر آیا ہے کیوں مجھے ہی شرمندہ کرتا ہے کہ میں نے تجھ جیسے سڑیل کھڑوس انسان کو یہاں کیوں بلایا ہے ۔۔۔۔۔

جنید یشفہ شائستہ کو دیتے اب سائیڈ کونے میں کھڑے احد کے پاس آتے بیزار سی شکل بناے بولا تھا جو گم صم سا کھڑا تھا ۔۔۔۔۔

کیا مسئلہ ہو گیا ا تو گیا ہو جے کے ۔۔۔۔

احد بیزار سی شکل بناے بولا تھا ۔۔

اووووو بھای آنے سے کیا ہونا بندہ ہنس بول لیتا ہے دیکھ میں جانتا ہو تم اداس ہے شفا کی وجہ سے ۔۔۔

چل ایک کام کرتے ہے آج وہ والا احد خانزادہ کو اندر سے جاگاو جس پر دنیا مرتی ہے جس سے ڈرتی ہے آج موقع بھی ہے ۔۔۔۔

شفا یہاں پارٹی کی وجہ سے آئ ہے رائٹ۔۔۔۔

جنید کچھ سوچتا پرجوش ہوتے بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں تو۔۔۔

اپنی آئ برو اچکاتے وہ بیزاری لیے بولا تھا ۔۔۔

شفا آئ ہے تو فل انجواے کرے اب یہ میں بھی بتاو کیا انجواے کرنا وہ لوگوں کو دیکھانے کے لیے ائ ہے احد خانزادہ کی بیوی ہے ایسی بیوی جیسے اپنے شوہر سے بے حد محبت ہے تو تم فائدہ اٹھاؤ اس کے ساتھ وہ کچھ نہیں کہے گی ۔۔۔۔۔

وہ خود کنفیوژ ہے وہ تمہیں معاف کرے یا باقی کی زندگی گزارے اس نے تمہیں دور ہونے کو کہا اور تو اتنا بھی دور مت ہو کہ وہ بھول ہی جاے تمہیں کبھی کبھی اپنے وہ احد خانزادہ والی جھلک بھی دیکھا تاکہ اسے یاد رہے وہ تجھ جیسے سڑیل کھڑوس انسان کی بیوی ہے سمجھ رہا ہے تو ۔۔۔۔۔

جنید سیریس ہوتا اسے سمجھا رہا تھا جیسے وہ سکون سے سمجھتے مسکرایا تھا ۔۔۔۔

چل ہو جا شروع دیکھ وہ تجھ ہی دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔

اسے مسکراتا دیکھ جنید نے اس کی توجہ شفا کی طرف کروای تھی جو ہاتھ پر تھوڑی اٹکاے بس اسے ہی مسلسل گھور رہی تھی ۔۔۔۔۔

ہاں سمجھ گیا ہو باپ بن کر تم سمجھ دار ہو گیا ہے گڈ بہت اچھا بیٹا ۔۔۔۔۔

احد پرسکون ہوتا اس کی گال تپھپھاتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔

شرم کر لے اے کے میں پہلے سے ہی ذہین ہو ا ۔۔۔

چل بس کر جانتا ہو تجھے میں ۔۔۔۔

جنید بچوں جیسی شکل بناے بول رہا تھا جب احد نے ٹوکا تھا اب وہ دونوں باتوں میں بزی ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔

اے میرے اللہ میں کیا کرو ۔۔۔

ایسا نہیں احد برا انسان ہے مجھے پتہ ہے انہوں نے میرا خیال کیسے رکھا مجھ سے محبت بھی کرتے ہے لیکن جب بھی اپنے امی ابو کو سوچتی ہو تب مجھے شدید نفرت ہوتی ہے افففف میں کیا کرو میرا سر پھٹ جاے گا ۔۔۔۔۔

شفا اکیلی سائیڈ پر ٹیبل کب سے دور کھڑے احد کو دیکھ مسلسل سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

وہ جانتی تھی احد نے کتنی محبت اور چاہت سے اسے رکھا تھا جیسے وہ واقعی لٹل بے بی ڈول ہو ۔۔۔

لیکن اپنا ماضی یاد کرتے وہ شدید چڑ جاتی تھی ابھی بھی وہ اپنی فیلگنز میں کنفیوژڈ تھی ۔۔۔۔

ابھی وہ اپنے دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

جہاں مہرون کلر کے تھری پیس پہنے گرے آنکھوں میں چمک لیے خوبصورت چہرے پر سنجیدگی طاری کیے بھرپور کسرتی جسم لیے وہ خاموشی سے جنید کی بات سن رہا تھا ۔۔۔۔۔

احد خانزادہ جیسے وجہہ پرسلنٹی والے کو پا کر شفا خود پر رشک کرتی تھی وہ کتنی خوش نصیب تھی جیسے ایسا شوہر ملا لیکن کہیں نہ کہیں وہ ابھی کینفوژ تھی ۔۔۔۔

وہ دیکھو کتنا ہینڈسم نوجوان کھڑا ہے ۔۔۔

شفا اسے ہی دیکھ مسلسل سوچوں میں گم تھی جب اسے اپنے پیچھے والے ٹیبل پر بیٹھی لڑکیوں کی بات سنتے اس کے کان کھڑے ہوے تھے ۔۔۔۔۔

ہاں پیارا ہے مجھے لگتا وہ شادی شدہ نہیں ۔۔۔۔۔

دوسری بھی ٹھنڈی آہیں بھرتی بولی تھی جب شفا کو فل آگ لگی تھی بات سن کر ۔۔۔۔۔

او ملتے ہے شاہد بات ہی ک۔۔۔۔

دیکھ شکل سے ہی کھڑوس سڑیل لگتا ہے شاہد ہمیں بلاے ہی نہ ۔۔۔۔

پہلی والی بول رہی تھی جب دوسری برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔۔

جب شفا کے دل میں سکون اتارتا تھا کہ وہ نہیں جانے والی ۔۔۔۔۔

آجا یار کیا پتہ وہ ہمیں لیفٹ ہی کروا دے ۔۔۔۔

پہلی والی بضد ہوتی بولی تھی جب اچانک شفا الرٹ ہوی تھی ۔۔۔۔

جاؤ تم یشفہ کو دیکھو میں زرا کال سن لو ۔۔۔۔

احد فون کان کو لگاے اب جنید کو جانے کا بولا تھا ۔۔۔۔

سڑیل انسان کبھی جو آرام سے بول لو جب بھی دیکھا کاٹتے ہی ہو میں تمہیں پکڑ کر کھڑا ہوا کیا جو کہہ رہے جاؤ یہاں سے میں کال سن لو ۔۔۔۔

مجھے ایسا فیل ہوتا جیسے پارٹی میرے گھر نہیں تیرے گھر ہے چل میں جا رہا ہو ۔۔۔۔

جیند اس کے شولڈر پر مکے مارتے بولنے میں بزی تھا جب اس کی گھوری دیکھ جلدی سے بات مانتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔۔

ہاں امجد ناصر کا پتہ کرواؤ وہ آج کل ک۔۔۔

کدھر تھے آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر جانتے ہے میں اداس ہو گی تھی ۔۔۔۔

احد رخ چینج کیے فون پر بزی تھا جب شفا آن لڑکیوں کو یہ دیکھانے وہ احد خانزادہ کی بیوی ہے تبھی اب اس کے قریب آتی بڑے پیار سے اس کی بیک پر اپنا سر رکھتے لاڈ سے بولی تھی جبکہ نظریں ان لڑکیوں پر تھی جو چلتی ہوئ انہیں کی طرف ا رہی تھی ۔۔۔۔

کیا ہوا سب خیریت ہے ا۔۔۔۔۔

اہہہہہہ مجھے پتہ تھا آپ کو میری یاد ا رہی تھی دیکھیں میں ا گی ۔۔۔۔

احد فون جلدی سے کٹ کیے اس کی طرف رخ کیے بول رہا تھا جب شفا ویسے ہی لاڈ سے اس کے گال کو چھوتی بولی تھی دل سے وہ ڈر رہی تھی کہ پتہ نہیں احد کیا کرے گا اس کے ساتھ ۔۔۔۔

ہاں یاد تو تمہاری ہر وقت آتی ہے مجھے وہ الگ بات ہے تم سمجھتی نہیں ہو ۔۔۔۔۔

احد ان لڑکیوں کو دیکھتے سب سمجھ گیا تھا تبھی جنید کی بات سنتے وہ پرانے والے احد کے روپ میں آیا تھا تبھی سب بلاے مسکراتے ہوے شفا کو سینے سے لگاے بولا تھا ۔۔۔۔

و۔و۔وہ دنیا ۔کو۔دیکھانء ۔دیکھانے کے لیے ایسا ک ۔۔۔

ارے لٹل بے بی ڈول ظاہر سی بات ہے میں بھی دنیا کو دیکھا رہا ہو ۔۔۔۔۔

شفا اس کے سینے سے لگتی جلدی سے گھبراتے بول رہی تھی جب وہ اس کے لبوں کو سہلاتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

ا۔اچھ۔اچھا۔۔۔۔

شفا نارمل تاثرات لاے پیچھے کھڑی منہ کھولے لڑکیوں کو دیکھ اب جلانے کے لیے احد کی گردن میں بائیں حائل کیے بولی تھی ۔۔۔۔۔

شفا جو بامشکل اپنی بائیں حائل کر رہی تھی جب اسے کمر سے پکڑتے اپنی طرف کھینچ کر اونچا کیا تھا ۔۔۔۔

ا۔احد وہ ا۔اب د۔دنیا کو ذ۔اتنا بھی نہیں دیکھانا سب بولڈ ہی س۔۔۔۔

لٹل بے بی ڈول احد خانزادہ تمہارے معاملے میں کافی بولڈ ہے ۔۔۔۔۔

وہ جو شرم سے پانی پانی ہوتی بول رہی تھی جب احد اس کے کان کی طرف جھکتے سرگوشی کیے بولا تھا ۔۔۔۔۔

شفا کی سانس اٹک چکی تھی اس کی بات سن کر وہ خود اس کے پاس ا کر پھس چکی تھی ۔۔۔۔۔

و۔وہ ج۔جنید لالہ سے مل لے ہم تبھی یہاں اے ہے ۔۔۔۔

وہ لڑکیاں تو جلتی بھنتی وہاں سے چلی گی تھی تبھی شفا ہمت کرتی اس سے دور ہوتے نظریں چڑہاے بولی تھی ۔۔۔۔۔

اس کی سرگوشی سے ہی شفا کے ہاتھوں میں پیسنہ ا چکا تھا وہ تو سوچ کر ہی کانپ گی آگے وہ کچھ کرتا تو وہ بے ہوش ہی ہو جاتی ۔۔۔۔

ریلکس لٹل بے بی ڈول کچھ نہیں ہوا تم بلاوجہ شرمندہ مت ہوا کرو ۔۔۔۔

احد اس کے پیسنے سے بھیگے چہرے کو چھوتے آرام سے بولا تھا ۔۔۔

جب وہ آہستہ سے اس سے دور ہوتی اس پاس دیکھنے لگ گی تھی ۔۔۔۔

دور ہو یہاں سے ۔۔۔

شائستہ یشفہ اور جنید کو ڈھونڈتے ہوے لان سے زرا دور آی تھی جب سامنے کھڑے سکندر کو دیکھ زرا غصے سے بولی تھی ۔۔۔۔

کیوں دور ہو دیکھو شائستہ میں واقعی شرمندہ ہو اپنے کیے پر میں اپنی غلطی سدرنا چاہتا ہو ۔۔۔۔

سکندر اسے سمجھاے بولا تھا جب شائستہ آپے سے باہر ہوئ تھی ۔۔۔۔

چٹاخخخخ ۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ یہ کیا انسانیت ہے جب غلط فہمی ہوئ تو چھوڑ دیا جب پتہ چلا غلطی ہے تب اپنا ڈرامہ شروع کر دیا ۔۔۔۔

وہ اسے تپھڑ مارتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

دیکھو می۔۔۔

بسسسسس بہت ہو گیا سکندر ملک میں نے چار سال خان کے لیے اپنی خاموش محبت کو دل کے ایک کونے میں رکھ کر تمہارے ساتھ وفاداری کی ایمانداری سے رہی کبھی کچھ نہیں کہا ہر بات کو اگنور کر کے تمہارے ساتھ خوش رہی اور بدلے میں تم نے وہ تین لفظ کہہ دے تب تمہیں یاد نہیں آی تھی اپنی محبت ایسی محبت کا کیا کرنا جس میں یقین و اعتبار ہی نہ ہو ۔۔۔۔

میں تمہاری کبھی نہیں بن سکتی میں اب خان کی امانت ہو یہ بات تم جیتنی جلدی سمجھ لو تو اچھا ہے ۔۔۔۔

شائستہ دانت پیستے ہوے غراتی ہوئ وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ سکندر کو غصہ آیا تھا وہ پہلے والی شائستہ ہی نہیں تھی وہ پرانے یونی والی شائستہ بن چکی تھی جو آگے بندے کو نانی یاد کروا دیتی تھی ۔۔۔۔

یہ میری بیٹی ہے جنید ایسے میرے پاس ہونا چاہے ۔۔۔

وہ تن فن کرتا ہوا جنید کے پاس اے بولا تھا جب جنید مسکرایا تھا ۔۔۔۔

ہاےےےے لگتا میری چوہیا سے مار کھا کر اے ہو چچچچچ افسوس ۔۔۔۔۔

وہ پرسکون سا اس کی لال گال دیکھتا ہوا طنزیہ بولا تھا ۔۔۔۔

بکواس بند کرو وہ میری ہے بس غلطی ہو گی تم نے شادی کر لی اب طلاق دو ت۔۔۔۔۔

میری رگوں میں خانوں کا خون دوڑتا ہے کیوں چاہتے ہو تمہاری یہ ہڈی پسلی ایک کر دو ضائع ہونے کا ارادہ ہے کیا ۔۔۔

میرے خون میں اتنی غیرت ضرور ہے کہ اپنی عزت کو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتا وہ جنید خان کی بیوی ہے جیسے پانے کے لیے میں چار سال تڑپا ہو بالآخر وہ مجھے مل ہی گی۔ ۔۔۔

اب جلدی سے اپنی یہ منحوس شکل گم کرو ورنہ میرے اندر کا جلاد خان جاگ جاے گا ۔۔۔۔۔

سکندر بول رہا تھا جب جنید ایک ہاتھ سے اسے گردن سے پکڑتے غرایا تھا ۔۔۔۔

اس کی مدھم غراہٹ سے ہی یشفہ نے رونا سٹارٹ کر دیا تھا۔ ۔۔۔۔

اہہہہہ میرا بچہ رونا کیوں اچھا سوری بابا زرا غصہ میں ا گے تھے چلو تمہاری ماما کے پاس چلتے ہے اوکے ۔۔۔۔

سکندر کو چھوڑے اب وہ یشفہ کا گال چومتا ہوا پرسکون ہوتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔۔

روکو جنید خان بہت شوق ہے اسے اپنانے کا تو سنو ۔۔۔۔

سکندر اسے پانے کے لیے پاگل ہو گیا تھا تبھی کچھ سوچتا ہوا چلتا ہوا جنید کے قریب اے کان میں کچھ کہا تھا ۔۔۔۔

جیسے سن کر جنید نے کمال ضبط سے اسے گھورا تھا بولا کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔۔

اب تمہاری غیرت کدھر گی خان ۔۔۔۔

ہہاہہاہہاہاہا۔۔۔

اس کا سرخ ضبط سے بھرے چہرے کو دیکھ سکندر قہقہ لگاے بولا تھا جب وہ وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔

یہ اتنا سیریس کیوں ہوا ہے ۔۔۔۔

پارٹی ختم ہوتے ہی سب وہاں سے چلے گے تھے ۔۔۔۔

رات کو روم میں اے وہ کب سے دیکھ رہی تھی جنید کافی چپ اور سینجدہ سا تھا ۔۔۔۔

وہ اب بھی یشفہ کے کپڑے اتار کر دوسرے پہناتے سوچ رہی تھی ۔۔۔۔۔

جہاں وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔

پوچھو یا نہیں ۔۔۔

رہنے دیتی ہو یقیناً سدرہ کو یاد کر رہا ہو گا میں کیوں پوچھو آیویں ۔۔۔۔

شائستہ مسلسل سوچتی ہوئ دل میں بولی تھی ۔۔۔۔

چلو میرا بیٹا اب آرام سے سو جاے ۔۔۔

یشفہ کے گال چومتی وہ بولی تھی ۔۔۔۔

جب وہ سارا دن کی تھکی ہاری گہری نیند میں سو گی تھی ۔۔۔۔

خ۔خان تم نے سونا نہیں کیا ۔۔۔۔۔

یشفہ کو سلاے اب وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کی چٹیا کیے ڈرتے ہوے بولی تھی جہاں وہ اب بھی گہری سوچ میں ڈوبا بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

خا۔خان میں ت ۔تم سے ب۔۔۔۔۔

کافی دیر بعد بھی جب اسے جواب نہ ملا تو وہ دوبارہ بول رہی تھی تبھی جنید خاموشی سے اٹھتا اس کی بیک پر کھڑے سختی سے کمر پکڑ چکا تھا ۔۔۔۔

اس کی سانسیں روکی تھی جنید کے لمس پر ۔۔۔۔۔

خ۔خان وہ میں کہہ ر۔۔۔۔

وہ جو اپنا منہ اس کی گردن میں چھپاے آنکھیں بند کیے کھڑا تھا جب وہ دوبارہ ہمت کرتی بولتی چپ ہوئ تھی ۔۔۔۔

کیونکہ جنید اس کا رخ اپنی طرف کرتا اس کے لبوں کو اپنی قید میں کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

جنید کی نرمی کی بجاے سختی کو دیکھ شائستہ کا دل کانپا تھا ۔۔۔۔۔

ک۔ک۔کس ب۔بات کا غصہ ہے ت۔۔۔۔

اہہہہہہ ۔۔۔۔

کافی دیر وہ اس کی سانسوں میں مدہوش رہا تھا جب ہمت جمع کرتی وہ اس سے دور ہوتی بول رہی تھی جب جنید کچھ بھی کہے بنا اس کا رخ موڑے شرٹ کو شولڈر سے نیچے کیے وہاں گردن پر بنے چھوٹے سے کالے تل پر دانت گاڑھے کاٹ چکا تھا جب وہ درد سے تڑپتی چیخی تھی ۔۔۔۔۔

کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔

شفا روم میں اے اپنی ساڑھی کا پلو پر لگی پینز کو اتارنے میں بزی تھی جب واش روم سے باہر آتے شرٹ لیس احد نے اسے دیکھ پوچھا تھا ۔۔۔۔۔

دیکھ نہیں رہا پینز نکال رہی ہو کتنی بڑی غلطی کی یہ پہن کر ۔۔۔۔۔

وہ اپنی ہی ساڑھی میں الجھی ہوئی بیزار سی شکل بناے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں دیکھ رہا ہے لیکن صرف تمہارا حسن ۔۔۔۔

وہ بھاری قدم لیے اس کے قریب جاتا منٹوں میں کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔۔

اس کے برہنہ سینے سے لگتے ہی شفا کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی شرم و حیا سے چہرہ لال انگارہ بن چکا تھا ۔۔۔۔۔

ی۔یہاں ت۔تو د۔دنیا وا۔والے نہیں ہ۔۔۔۔۔

شفا اس کے بدن سے آتی کلون کی خوشبو میں بہکتے ہوے بامشکل کنٹرول کیے بول رہی تھی جب وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

احد خانزادہ صرف تمہارا ہے اور تمہارا ہی رہے گا یہ دو چار لڑکیوں سے جلیس مت ہوا کرو یقین کرو میں صرف تمہارا ہی رہو گا چاہے تم نفرت کرو یا محبت ۔۔۔۔۔

وہ نرمی سے اس کے ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں کو چھوتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

اچانک ہی شفا کو اپنے دل میں کوئ خوشی سی محسوس ہوئی تھی اس کی بات سن کر ۔۔۔۔۔

ن۔نف۔نفرت کرتی ہو ا ۔۔۔۔۔

وہ بہکی ہوئی سمجھ سے باہر ہوتے اپنی اسی انگلیوں کو اس کی گردن پر سہلاے بول رہی تھی جب احد نے جھکتے ہوے اس کے لیپ اسٹک لگے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیا تھا ۔۔۔۔۔

د۔د۔دور ر۔۔۔۔۔

وہ اس کے عمل سے گھبراتی جلدی سے ہوش میں اے دور جانے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب احد نے اسے دوبارہ قابو میں کیے اس کی سانسوں کو قید کیا تھا ۔۔۔۔۔

وہ اب سکون سے کھڑا اس کی سانسوں کو پیتے خود کو سیراب کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

جانتی ہو میرا سب سے ویک پوائنٹ تمہارا ایسے میری گردن کو سہلانا مجھے بہکا دیتا ہے تم جب بھی ایسا کرو گی مجھے ویسا ہی پاؤ گی جیسا اب ہو مائ لٹل بے بی ڈول ۔۔۔۔

کافی دیر وہ اس کی سانسوں کو الجھاے کھڑا تھا جب اسے محسوس ہوا شفا کی حالت غیر ہو رہی تبھی نرمی سے چھوڑے وہ اس کے کان کی لو کو لبوں میں دباے سرگوشی کرتا مسکرایا تھا ۔۔۔۔۔

ب۔بہت ب۔برے ہے آپ ۔۔۔۔۔

شفا سے جب جواب نہ بن سکا تبھی وہ اس کے سینے پر مکہ مارتی وہاں سے بھاگتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ اس کی حرکت پر احد کا دل سرشار ہوا تھا ۔۔۔۔۔

خ۔خان مج۔۔۔

سسییی۔۔۔۔

جنید کا جنونی انداز دیکھ شائستہ بول رہی تھی جب ایک بار پھر سے سسکی تھی ۔۔۔۔۔

جنید تو مگن ہوتا مسلسل اس کے تل کو کاٹ رہا تھا جو اب سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

خانننننن بس بہت ہو گیا کیا تم نے مجھے سدرہ سمجھ لیا ہے جو ایسا کر رہے ہو ۔۔۔

اگر اتنی ہی کمی محسوس ہو رہی اس کی تو جاو اس کے پاس میں اور میری بیٹی اکیلے رہ لے گے ۔۔۔۔۔

پہلے تو وہ برداشت کرتی رہی لیکن اب اس کی شدت بھرتے دیکھ وہ دور ہوتی طش سے چیخی تھی ۔۔۔۔۔

جب جنید ویسے ہی خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔

جاوووو خان ورنہ میں خود روم سے باہ۔۔۔۔۔

شائستہ پورا زور لگا کر چیخ رہی تھی جب جنید اسے کمر سے پکڑتے ایک بار پھر سے اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

وہ خود سمجھنے سے قاصر تھا شائستہ پر وہ کس بات کا غصہ نکال رہا تھا ۔۔۔۔۔

ج۔جاہل انسان جانور ۔۔۔۔

اس کی حالت خراب کیے جنید اسے بیڈ پر گراے اب روم سے باہر چلا گیا تھا جب وہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتی رونی شکل بناے چیخی تھی ۔۔۔۔۔

ا۔احد۔ا آپ سو گے کیا ۔۔۔۔

شفا اور احد دونوں روم میں الگ سوتے تھے وہ بیڈ پر جبکہ شفا صوفے پر احد بھی اس کی رضامندی جانتے خاموش تھا ۔۔۔۔

وہ جو سوچوں میں ڈوبا لیٹا تھا اب شفا کی رونی آواز سنتے ڈھیٹ بنے سوتا بنا رہا ۔۔۔۔

شفا نائٹ ڈریس پہنے احد کو اگنور کیے صوفے پر جا کر لیٹی تھی ابھی وہ لیٹی ہی تھی جب اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے پاؤں پر کچھ گرا ہو ۔۔۔۔

وہ تو بھول ہی گی تھی اس نے پائلز پہنی ہے ۔۔۔۔

تبھی اب وہ ڈرتی ہوئ اپنا سرہانہ لیے اس کے سر پر کھڑی بولی تھی ۔۔۔

ل۔لگتا س۔سو گے میں بھی یہی لیٹ جاتی ہو ۔۔۔۔

اس کا جواب نہ پاتے وہ ڈرتے ہوے احد کے قریب بیڈ پر جلدی سے لیٹ چکی تھی ۔۔۔۔

احد کی سائیڈ دوسری طرف تھی جہاں وہ صرف اس کی برہنہ مضبوط کمر ہی دیکھ سکی ۔۔۔۔

اییییییی۔۔۔۔

وہ جو آنکھیں زور سے بند کیے لیٹی تھی جب دوبارہ اپنی ہی پائل کی چھن آواز سنتی جلدی سے اس کے قریب ہوتی چیخی تھی ۔۔۔۔۔

ک۔کیسے سو رہے ہے جیسے پتہ نہیں کب کے نیند کے نشے میں ہو جب سامنے ہو تو میری لٹل بے بی ڈول کی رٹ لگای ہوتی ۔۔۔۔

کافی دیر وہ مسلسل ڈرتی ڈرتی اب احد کی کمر سے لگتی سونے کی کوشش کر رہی تھی جب پھر سے اس کی خاموشی پاتے وہ اب سارا ڈر بھولتی ہوئ طش سے احد کے اوپر سے گرتی اب اس کے بلکل سامنے ہاتھ پر اپنا سر رکھے اسے دیکھتی غرای تھی ۔۔۔۔

جب احد نے بامشکل اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔ ۔۔۔

کوئ محبت نہیں ان کو اب ڈر لگ رہا یہ نہیں سینے سے لگا لگ انہہہہ ڈرامہ ۔۔۔۔

وہ کافی دیر ویسے ہی لیٹی اس کے نقش نین دیکھ رہی تھی جب بھی وہ یہ سوچتی احد اس کا ہے تب ہی اس کا دل خوشی سے بھر جاتا تھا وہ خود نہیں جانتی تھی اسے کیا ہو رہا ہے۔ ۔۔۔

اب بھی وہ بچوں جیسی شکل بناے بولی تھی۔ ۔۔۔

جب احد نے بلکل نرمی سے اسے اپنی طرف ایسا کیچھنا تھا کہ اسے محسوس نہ ہو ۔۔۔۔

واقعی وہ اب اس کے بلکل سینے سے لگی اس کی دھڑکن سن رہی تھی ۔۔۔۔۔

انہہہ کھڑوس انسان پہلے بھی تھا اور اب بھی ۔۔۔۔

اس کی دھڑکن سنتی وہ شرماتی ہوئی اب اس کے ہلکی شیو لیے گال کو سہلاے بولی تھی ۔۔۔۔۔

پتہ نہیں کیوں یہ انسان اتنا سینجدہ ہے اللہ نے اتنی خوبصورت شکل دی لیکن وہی سڑا ہوا بیگن بن کر گھومتا ہے ۔۔۔۔

شفا کی نظر اب اس کے گلابی ہونٹوں پر گی تھی جیسے وہ سختی سے دباے ہوے تھے اصل میں وہ اپنے آپ پر کنٹرول کر رہا تھا نہیں چاہتا تھا ایک بار پھر سے وہ شفا پر اپنی شدت ظاہر کرے ۔۔۔۔

ہاےےے صرف ایک بار ورنہ میرا دل بار بار اکساے گا ۔۔۔۔

وہ کافی دیر اس کے لبوں کو سہلاتی رہی تھی جب دل میں اس کی عیجب سی خواہش جاگی تھی وہ اسے چھونا چاہتی تھی تبھی وہ شرماتی گھبراتی اب سوچ رہی تھی ۔۔۔

افففف توبہ کیا سوچ رہی میں ڈر سر پر حاوی ہو گیا اگر یہ جاگ گے ت۔۔۔۔

کہاں جاگنا اتنی دیر سے ساتھ ہو تب تم جاگے نہیں اب کیسے جاگ جاے گے ۔۔۔۔

وہ اپنے ہی دل و دماغ سے جنگ کرنے میں بزی تھی جب اپنے دل کی بات پر وہ حامی بھری اس کے اور قریب گی تھی ۔۔۔۔

احد کی ٹانگوں پر اپنی ٹانگیں رکھے اپنے دونوں ہاتھوں کو اس کی گردن کے گرد پھیلاے اب وہ شرماتی ہوی بہت آہستہ سے اس کے نیچے والے لب کو چھوتی جلدی سے پیچھے ہوئ تھی۔ ۔۔۔۔

احد کب سے اسکی باتیں اور حرکت سن رہا تھا لیکن یہ والی حرکت اور اپنے لبوں پر اس کا لمس پاتے وہ بے قابو ہو رہا تھا۔ ۔۔۔۔

ایک بار کرتے وہ پھر سے اپنے دل کی مانتی وہی عمل دوہرا چکی تھی اس کے ذہین میں یہی تھا احد سو رہا ہے ۔۔۔۔۔

بس لاسٹ بار ۔۔۔۔

وہ مکمل احد کے قابو میں تھی جیسے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی اب بھی وہ تیسری دفعہ اس پر جھکتی جیسے ہی نیچے والے لب کو نرمی سے چھوا تھا وہی احد اسے کمر سے پکڑتے اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

شفا جو کب سے یہی سمجھ رہی تھی احد سو رہا اب اسے ایسے اپنی سانسوں سے الجھتے دیکھ وہ گھبراتی اسے گردن سے پکڑ چکی تھی ۔۔۔۔۔

جبکہ وہ خود کو کوس رہی تھی کیوں اس کے ساتھ ایسا کر چکی تھی جو اب اس کی سانسوں کا حشر نشر کر رہا تھا ۔۔۔۔۔