Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 17) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 17) Part - 1
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
“”جنید خان شائستہ اسپیشل اپپی
لالہ فون ملاے ان کو پتہ نہیں کہاں رہ گے اب تو رات ہونے والی ہے۔ ۔۔
رات کھانے پر سب نے احد کا ویٹ کیا تھا جو کہ ابھی تک نہیں آیا تھا تبھی اب وہ زرا پریشان ہوتی جنید کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
چھوٹی شاہد اس کا فون بند ہو گا تم بتاؤ کہاں گیا تھا وہ میں ڈھونڈ لیتا ہو ۔۔۔۔
جنید خود پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
م۔جھء نہیں پت۔۔۔
احددددد احدددددددد۔۔۔
وہ اب آنسو کا باندھ توڑتے ہوے رو کر بول رہی تھی جب ہال میں زخمی بے ہوش احد کو ملازموں کے ساتھ انٹر ہوتے وہ چیخی تھی ۔۔۔۔
احد احد ۔اے کے اے کے ۔۔۔
کیا ہوا ہے اس کو ۔۔۔۔
جنید شائستہ سدرہ شفا سب ہی احد کے پاس پہنچ گے تھے جب جنید نے ہی باہوں میں بھرتے احد کے خون سے لت پت وجود کو صوفے پر لیٹاتے ملازم سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
و۔۔۔
لالہ پلیز ڈاکٹر کو بلاے احد کے منہ سے خون نکل رہا ہے ۔۔۔۔
ملازم بولنے والا تھا جب شفا احد کے قریب بیٹھتی روتی ہوئی چیخی تھی جہاں احد کے لبوں سے خون کا فوارہ پھوٹ رہا تھا ۔۔۔۔
ہوا کیا تھا اور اس حالت میں گھر لانے کی ضرورت کیا تھی دیکھو کتنی بری حالت ہے ۔۔۔۔
شفا تو مسلسل پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی احد کی حالت دیکھ کر تبھی جنید ڈاکٹر کو کال ملانے کے بعد اب ملازموں پر بھڑک رہا تھا ۔۔۔۔
و۔وہ س۔سر کا جہاں ایکسڈنٹ ہوا تھا وہاں سے کسی کی کال آئ تھی جب ہم پہنچے تب احد سر ہوش میں تھے انھوں نے کہا تھا ان کو شفا میم کے پاس جانا ہے ہاسپٹل نہیں ۔۔۔
ایک ملازم سر جھکاے سب بول چکا تھا ۔۔۔۔
چھوٹی تم تو حوصلہ کرو ایسے تو احد بھی ہوش میں ا کر تمہارے لیے پریشان رہے گا ۔۔۔۔
شفا مسلسل دیوانوں کی طرح احد کے خون آلود چہرے ہاتھوں کو چومتی رو رہی تھی جب وہ بولا تھا ۔۔۔۔
ک۔کیا ح ح۔حوصلہ کرو لالہ آپ د۔دیکھے کتنی ز زخمی ہے یہ ۔۔۔
وہ ہچکیوں کے ساتھ روتی بولی تھی ۔۔۔۔
حوصلہ کرو تم وہ ٹھیک ہے بلکل ۔۔
اس کے سر پر ہاتھ رکھتے وہ اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرتا بولا تھا ۔۔
جبکہ شفا مسلسل احد کا خون آلود چہرے کو دیکھتی رہی تھی ۔۔۔۔
بازو پر فکیچر ہوا ہے باقی سب ٹھیک ہے شکر اللہ کا جس نے ان کو دوبارہ زندگی دی ہے بس اختیاط کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ بازو لیفٹ سائیڈ کا ہے ۔۔
ڈاکٹر احد کا مکمل چیک اپ کرتا ہوا بولا تھا جہاں شفا جنید شائستہ سدرہ روم میں ہی کھڑے تھے جب ڈاکٹر نے انہیں آگاہ کیا تھا ۔۔۔۔
ل۔لیکن وہ منہ سے خون کا آنا اس کو بھی چیک کرے آپ ۔۔۔
شفا گھبراتی ہوئ اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو موڑوتے ہوے بولی تھی ۔۔
چہرے اور لیپس پر ٹوٹے شیشے کے ٹکرے لگے تھے یہی وجہ تھی جو خون منہ سے آیا ویسے کوئ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میڈیسن بتا دی ہے آپ کو آپ وہی یوز کرے بہت جلد یہ ہوش میں آجاے گے ۔۔۔۔
ڈاکٹر ایک پھر سے ہدایت دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
میرے خیال سے آج رات ہمیں یہی روکنا چاہ۔۔۔
ن۔نہیں لالہ آپ گھر جاے میں دیکھ لو گی دیکھے یشفہ کتنا ڈری ہوئی ہے خون دیکھ کر ۔۔۔
جنید فکرمندی سے بول رہا تھا جب وہ شفا گھبراتی ہوئ بولی تھی۔ ۔۔۔
بچی ہے تبھی ڈر گی تم فکر مت کرو تمہارا لالہ یہی ہے ہم کہیں نہیں جا رہے شائستہ تم یشفہ کو لے جاو روم میں ۔۔۔
جنید بڑے بھای کی طرح شفا کے سر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا اسے یہ معصوم سی گڑیا بہت پسند تھی جو احد کے لیے مسلسل پریشانی میں رو رہی تھی ۔۔۔
لا۔ل۔ل۔۔۔
جاؤ تم میں یہی ہو احد کے پاس جیسے ہی اسے ہوش اے گا میں بلا لو گا ۔۔۔
وہ جو بول رہی تھی جب وہ زرا سختی سے بولا تھا ۔۔۔
و وہ لالہ میں یہی بیٹھ ج۔۔۔۔
جاؤ میرا بچہ لالہ ہے یہاں کچھ نہیں ہوتا اس سڑے ہوے بیگن کو ۔۔۔
وہ دوبارہ وہی بیٹھنے کی کوشش کر رہی تھی جب جنید زبردستی مسکراتے ہوے بولا تھا تاکہ شفا ہنس پڑے ۔۔۔۔
لالہ اب یہ اتنے بھی سڑے ہوے بیگن نہیں ہے ۔۔۔
شفا اپنا گول چھوٹا سے منہ کو بگاڑتے ہوے بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔
جنید کا اس کی بات سنتے قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
اہہ۔۔
بس میرا بےبی ۔۔
جنید کافی دیر سے احد کے ہوش میں آنے کا ویٹ کر رہا تھا جو سکون سے بےہوش کے انجکشن سے سو رہا تھا جنید سے کیسے برداشت ہوتا احد کا سکون تبھی بور ہوتے جنید اس کے اوپر جھکتے ہوے زخمی گال پر تھپڑ مارا تھا ۔۔۔
جب احد غنودگی میں ہی کراہ تھا جب وہ اپنی مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔۔
ت۔تم م
منحوس ا۔ان۔۔۔۔
ششششش شششش ڈاکٹر نے منع کیا ہے بولنے سے ہاے کتنے عرصے بعد تم میرے ہاتھوں میں اے ہو ۔۔۔
احد اپنی بھاری ہوتی آنکھوں کو بامشکل کھولتے دانت پیستے بولنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
جب جنید اس کا زخمی بازو اپنی گرفت میں کرتے بولا تھا اس وقت جنید خان نے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی ۔۔۔
ل۔لٹل ب۔بے بی کدھر ہے تم دفع ہو یہاں سے م۔مجھء وہ چاہے تمہاری یہ شیطان جیسی شکل نہیں دیکھنی میں نے۔۔
جنید کے پیٹ پر زور سے لات مارتے وہ بامشکل اٹھنے کی کوشش کرتا بولا تھا ۔۔۔
اچھا زیادہ غصہ نہ کر چھوٹی نیچے ہے مجھے یہ جانا ہے ہوا کیا تھا یہ ایکسڈنٹ کیسے ہوا اور وجہ کیا تھا ۔۔۔
اچانک وہ سنجیدہ ہوتے بولا تھا ۔۔۔
یار کچھ نہیں ہوا تھا موڈ خراب تھا تو باہر چلا گیا تھا ابھی میں روڈ پر کار ڈرائیو کر رہا تھا جب اچانک سامنے سے آتے ٹرک سے ٹکر ہوئ کار کو بریک لگاتے لگاتے کار سائیڈ پر لگے درخت سے ٹکرائی ۔۔۔
اس کے بعد کوئ ہوش نہیں ہوا کیا ہے۔۔ جب ملازم اے تب یہی کہا مجھے گھر لے جاو پھر کوی ہوش نہ رہا ۔۔۔
اگر کار کو ہینڈل کرتا تو میں نے اوپر ہی جانا تھا ۔۔۔۔
وہ بھی سینجدہ ہوتا ساری بات بتا چکا تھا ۔۔۔
تمہیں شک ہے کس نے یہ سب کیا پولیس کو ا۔۔۔۔
ناصر کا کام ہے سارا یہ میں جانتا ہو پولیس سے بھی بات کرنی ہے مجھے ۔ اس شیطان کا پردہ فاش کرنا ہے اب ۔۔۔
جنید سب سنتا پریشان ہوتا بول رہا تھا جب وہ دانت پیستے ہوے طش سے غرایا تھا ۔۔۔
چھوٹی کو یہ بات پتہ نہ چلے جانتے ہو وہ کتنی پریشان ہے تمہارے لیے ہم دونوں سکون سے ہینڈل کر لے گے ۔۔
جنید اسے سمجھاتے ہوے بولا تھا ۔۔۔
ہممممم ۔۔۔
احد گہری سوچ میں ڈوب چکا تھا ۔۔۔
چلو یہاں سے یار اب کیا دلہنوں کی طرح سج کر میرے قریب بیٹھے ہو ۔۔۔
جنید مسلسل احد کا زخمی چہرہ دیکھ رہا تھا جب وہ ہمت جمع کرتا اٹھتا ہوا بیڈ سے ٹک لگاے بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔
چل اپنی شکل دیکھنی ہے تم نے کوئ تجھے پانچ روپے نہ دے کہاں تمہاری دلہن بن کر بیٹھو توبہ ت۔۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔
جنید ویسے ہی اس کے ساتھ بیڈ سے ٹک لگاے بول رہا تھا جب احد نے اپنے زخمی ہاتھ کا مکا بنا کر جنید کے گال پر مارا تھا ۔۔۔
کہاں جا رہا ہے یار دیکھ اپنی حالت ا۔۔۔
لٹل بےبی ڈول کے پاس تم نے تو روم چھوڑنا نہیں ہے سوچا خودی نکل جاؤ یہاں سے ۔۔۔۔
احد بامشکل اپنے پاؤں پر کھڑا ہو رہا تھا جب جنید نے فکرمندی سے پوچھا تھا تبھی وہ اسے گھورتا ہوا لنگڑاتے ہوے کہتا روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
یار شفا کچھ کھا لو ایسے تو حالت ہی خراب ہو گی احد بلکل ٹھیک ہے ا۔۔۔۔
ک۔کیسے ٹ۔ٹھیک ہو گے کب سے لالہ نے مجھے روم سے باہر نکالا ہے خود وہی ہے ایک بار نہیں بتایا احد کو ہوش آیا یا نہیں ۔۔۔۔
شائستہ ہال میں بیٹھی شفا کو کھانا کھلانے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب وہ ہیچکیوں کے ساتھ روتی ہوی بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا تھوڑا سا کھا لو اس کے بعد روم میں جا کر دیکھ لے ا۔۔۔
ا۔اپ ک۔کو ہوش ا گیا ن۔نیچے کیوں ا اے ہے آپ ۔۔۔۔
شائستہ ایک بار اسے پھر کہہ رہی تھی جب شفا نے سڑھیوں سے نیچے اترے احد کو دیکھ بھاگ کر اس کے سینے سے لگتی چھوٹی بچی کی طرح روتی بولی تھی ۔۔۔
ش۔ششش ا۔۔۔۔
اہہہہہہہ۔۔۔
ک۔کیا اندھے تھے جو سامنے سے آتے ٹرک کو نہ دیکھ سک۔سکے کدھر دھیان تھا آپ کا جو پتہ ہی نہ چلا آپ کو حد ہے لاپرواہی کی ۔۔۔۔
احد اسے بامشکل اپنے ایک بازو سے پکڑتے چپ کروا رہا تھا جب شفا اب آنسو بہاے اسی کے سینے پر چھوٹے ہاتھوں کے مکے مارتی بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا یار سوری نہ میری ہی غلطی تھی میری آنکھیں ہی چھوٹی تھی جو نظر نہیں آیا چلو کھانا کھاؤ اب ۔۔۔
اسے ویسے ہی پکڑتے وہ صوفے کی طرف لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ شائستہ کے ساتھ جنید بھی کھڑا یہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
دیکھ رہی ہو ایسے ہوتے ہے میاں بیوی ایسی ہوتی بیوی جو تڑپتی ہے ایک تم ہو جیسے میری قدر ہی نہیں ہے ۔۔۔
جنید شائستہ کے کان میں سرگوشی کرتا شوخ ہوتے بولا تھا ۔۔۔
شائستہ نے جنید کو گھورا تھا ۔۔۔
اس کا ایکسڈنٹ ہوا ہے تم بھی کروا لو تب میں بھی رو لو گی بلکہ وہ تمہاری پیاری سی بیوی ہے وہ خیال رکھ لے گی تمہارا ۔۔۔۔
شائستہ سڑھیوں سے نیچے آتی سدرہ کو دیکھ کر دانت پیستے جنید کی طرف دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔۔
ہاےےےے میری خانم تم اپنی اس پیاری بھری نظروں سے مجھے دیکھو تو سہی ایک بار دیکھنا وہی تمہارے قدموں میں گر جاؤ گا۔ ۔۔۔
جنید شرارتی انداز میں شائستہ کا گال چومتے ہوے بولا تھا جب وہ شرم سے لال ہوئ تھی ۔۔۔۔
ہمارے گھر کی ماسی سکنیہ کی آنکھیں پیاری ہے وہی دیکھ کر مر جاو تم ۔۔۔۔
دانت پیستے وہ اسے ہی گھورتی ہوی کہتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔
ہاں یار وہ بھی پیاری ہے لیکن وہ مجھ سے بڑی ہے مطلب وہ انٹییییییییی اہہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔
ظالم عورت یہ کیا تھا ۔۔۔۔
دور جاتی شائستہ کو دیکھ وہ ویسے ہی شرارت بھرے لہجے میں بول رہا تھا جب ٹیبل پر پڑے گلدان کو اٹھا کر اس کے پاؤں پر مارا تھا جب وہ درد سے کراہ تھا گلدان پاؤں کے پاس ہی گرا تھا ۔۔۔۔
ہاں ہو ظالم عورت میں ۔۔۔
پہلے اسے فکرمندی ہوئ تھی جنید کا پاؤں دیکھ کر لیکن گلدان کو ٹچ ہوتے نہ دیکھ کر وہ ویسے ہی کہتی پرسکون سی روم میں چلی گی تھی ۔۔۔۔
چھوڑو میری بیٹی کو اتنا ہی شوق ہے بچوں کا تو اپنی پہلی بیوی کو کہو ۔۔
اگر تم یہ سوچ رہے ہو میری بیٹی کو لے جاو گے تو مسٹر جنید خان یہ تمہاری غلط فہمی ہے ۔۔۔
شائستہ روم میں آئ تھی جب بیڈ پر یشفہ کے ساتھ جنید کو کھیلتے دیکھ وہ آگ بگولہ ہو کر بولی تھی ۔۔۔۔
سدرہ نے شائستہ کے دماغ میں یہی بات بٹھای تھی جنید نے شادی بس بچے کے لیے تھی شائستہ کے ساتھ یہی وجہ تھی وہ یشفہ کو اس سے دور کر رہی تھی ۔۔۔
ہوش میں تو ہو کیا بکواس کر رہی ہو شائستہہہہہہ۔۔۔۔
جنید جو مسلسل دو دن سے یشفہ کو نہ دیکھ سکا تھا نہ ہی کھیل سکا آج موقع ملتے ہی وہ کھیل رہا تھا اب شائستہ کی ایسی بات سنتے وہ آگ بگولہ ہوتے پہلی بار چیخا تھا ۔۔۔۔
بکواس نہیں حقیقت ہے مسٹر خان ۔۔
وہ ویسے ہی طش سے چیخی تھی ۔۔۔
ایسی کوئ بات نہیں ہے تم غلط سمجھ ر۔۔۔
میں جا رہی ہو یہاں سے تم یہی سو جاؤ ۔۔۔
وہ تھوڑا سا نارمل ہوتا اسے سمجھا رہا تھا جب وہ کہتی ہوی بنا سنے وہاں سے گی تھی ۔۔۔
شائستہ شائستہ ۔۔۔
وہ پیچھے آوازیں دیتا رہ گیا لیکن وہ ان سنی کرتی وہاں سے چلی گی تھی ۔۔۔۔
تم جاو یہاں سے ۔۔۔
احد روم میں آیا تھا جب سامنے کھڑی سدرہ کو دیکھ وہ زرا سختی سے بولا تھا۔ ۔۔۔
جو ویسے ہی ڈھیٹ بنی کھڑی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔
میں نے سوچا تم سے پوچھ لو کیسے ہو ا۔ ۔۔۔
جب میری بیوی روم میں ہو تب ہی اس کے سامنے پوچھنا اب نکلو باہر ۔۔۔۔
وہ اس کے قریب آتی بول رہی تھی جب احد ایک سائیڈ پر کھڑے ہوتے سکون بھرے لہجے میں بولا تھا ۔۔۔۔
ویسے جیتنے خوبصورت ہو اتنے ہی روڈ بھی کافی ہو مجھے بے حد پسند اے ہو ورنہ میں نے آج تک ایسا مرد نہیں دیکھا ا ۔۔۔۔
میں نے بھی آج تک تمہاری جیسی عورت نہیں دیکھی ۔۔۔۔
احد کے قریب اے اس کے زخمی گال کو چھوتے وہ بے باک ہوتے بول رہی تھی جب وہ طش سے اس سے دور ہوتا بات کاٹتا بولا تھا۔ ۔۔۔
واقعی کیا ۔۔۔
وہ خوش ہوتی سوال کر چکی تھی ۔۔۔۔
ہاں واقعی شوہر ہونے کے باوجود تم نے کسی اور کے پیار میں رہی کسی اور کے ساتھ تمہارے ناجائز تعلقات تھے ۔۔۔ اپنی پہلی اولاد کو خود مار دیا اپنے شوہر کو چھوڑ دیا اسی غلیظ انسان کی وجہ سے ۔
جب اس سے دل بھر گیا تم واپس اس کی ہستی بستی زندگی میں ا گی ہو آگ لگانے یہی ہی نہیں تمہاری گندی غلیظ نظریں مجھ پر ہے ۔۔۔۔
عورت نہ ہوتی تو تمہارا وہ حشر کرتا کہ پوری زندگی یاد کرتی تم اب شرافت اس میں ہے یہاں سے نکل جاؤ بلکہ جے کے کی لائف سے دفع ہو۔ ۔۔۔
وہ جو احد کے منہ سے اپنے لیے کچھ خوبصورت سنا چاہتی تھی اب اس کے منہ سے اگلتے زہر کو دیکھ وہ اپنی جگہ شرمندہ اور طش میں ا رہی تھی ۔۔۔۔
یہ سب جھوٹ ہے ا ۔۔۔
یہ جھوٹ نہیں ہے تمہارے اس خوبصورت چہرے کا گندہ روپ ہے پیسوں کے لیے ائ ہو تم میں جانتا ہو تمہیں رقم میں خود دو گا بس جے کے کی لائف سے نکل جاؤ میں لاسٹ بار وارن کر رہا ہو۔ ۔۔۔
وہ گھبراتی ہوئ بول رہی تھی جب وہ چلتا ہوا وڈراب روم میں جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
دیکھو احد ایسا کچھ نہیں ہے ا۔۔۔
پکڑو چیک اور دفع ہو جاؤ اگر تم صبح ہوتے نہ گی یہاں سے میں گاڈرز کو کہہ کر باہر پھینکوا دو گا سمجھی تم ۔۔۔۔
بامشکل وہ چلتا ہوا سدرہ کے سامنے چیک کو گراتے بولا تھا ۔۔۔۔
یہ میں کیا سن رہی ہو ۔۔۔
شفا کے ساتھ شائستہ بھی احد کے روم میں ا رہی تھی جب باہر کھڑتے ہوتے شائستہ نے سب سن لیا تھا تبھی اندر آتی وہ احد کے سامنے کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
ی۔یہ جھوٹ بو۔بول ر۔۔۔۔
بھابھی جو بھی سنا وہ سچ ہے یہ جے کے کی بیوی نہیں ہے چار سال پہلے اس نے خود طلاق لی تھی ۔۔۔
یہ صرف پیسوں کے لیے ائ تھی ۔۔۔
احد سدرہ کی بات کاٹتا ہوا بولا تھا سدرہ تو شرم کے مارے روم سے باہر نکل گئ تھی لیکن شائستہ کو گہرہ صدمہ لگا تھا ۔۔۔۔
ہاےےے میں نے خان کی کتنی انسلٹ ک۔۔۔
بھابھی جے کے کی آپ کے لیے خاموش محبت میں نے چار سالوں میں دیکھی ہے آپ پلیز اس کو معاف کر دے ہر غلطی کی معافی ہوتی ہے ۔۔۔۔
وہ خود کو کوستی بول رہی تھی جب احد نے اسے سمجھایا تھا ۔۔۔۔
اس کو رات یہی رہنے دے آپ جاے لالہ کے پاس ۔۔۔۔
شائستہ کو ویسے ہی چپ چاپ روم سے باہر جاتے دیکھ شفا نے یشفہ کو گود میں لیتے ہوے کہا تھا جب وہ اسے دیتی خود باہر چلی گئ تھی ۔۔۔۔
تم کب آئ ۔۔
وہ جو کافی دیر سر ہاتھوں میں پکڑے صوفے پر بیٹھا تھا جب شائستہ نے ہاتھ اپنے سر پر محسوس ہوے تو وہ بولا تھا ۔۔۔۔
خان مجھے بتاؤ چار سال پہلے کیا ہوا تھا سدرہ اب بھی تمہاری بیوی ہے یا نہیں ۔۔۔
اس کا چہرہ اپنی طرف اوپر کیے وہ اس کی سرخ آنکھوں میں دیکھ سکون سے ںولی تھی ۔۔۔۔
تمہارا دل توڑ کر میں سدرہ سے نکاح کرکے جرمنی چلا گیا شروع کے کچھ ماہ بہت خوبصورت گزارے سدرہ بھی خوش تھی میرے ساتھ ۔وہاں بزنس پارٹنر مجھے ملا جونی جو مجھ سے زیادہ امیر تھا ۔۔۔۔
سدرہ کو محبت نہیں تھی مجھ سے اسے ہوس تھی پیسوں کی جو کہا میں نے وہی کیا پھر آہستہ آہستہ میں اپنے بزنس کو آگے بڑھانے کے لیے دن رات بزی ہوتا گیا کسی چیز کا ہوش ہی کہاں ہوتا تھا کبھی کبھی پاکستان چاچو کو کال ملا کر بات کر لیتا تھا ورنہ نہیں ۔۔۔۔
آہستہ آہستہ سدرہ مجھ سے دور ہونے لگی چڑ جاتی تھی مجھے دیکھ کر میں سمجھتا رہتا اسے ٹائم نہیں دے پاتا اس لیے وہ ایسا کرتی ہے لیکن نہیں وہ تو بیزار ہو گی تھی مجھ سے کیونکہ میں اتنا امیر جو نہیں تھا ۔۔۔۔
جونی کا میرے گھر انا روزانہ ہو چکا تھا میں نے بھی کبھی نہ پوچھا جس دن تمہاری کال آئ پاکستان سے اس دن سدرہ کی طیبعت خراب تھی ہم ڈاکٹر پاس گے وہاں مجھے پتہ چلا میں باپ بننے والا ہو ۔۔۔۔
ت۔تمہیں پتہ مجھے بےبیز کتنے پسند تھے یہ خبر سنتے ہی میرا دل خوش ہو گیا مجھے خوشی تھی میرا اب بےبی ہو گا چھوٹا سا ۔۔۔۔
شائستہ جو اس کی بات سننے صوفے پر اس کے پاس بیٹھی تھی جب وہ بات کرتے اچانک نم آنکھوں میں چمک لیے اس کی طرف دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
ہ۔ہاں جانتی ہو پھر وہ بے بی کدھر گیا ۔۔۔
وہ بھی نم آنکھوں سے بامشکل بولی پای تھی ۔۔۔۔
مر گیا وہ ۔۔۔
کھوے ہوے لہجے میں وہ بولا تھا ۔۔۔
ک
ک۔۔۔
سدرہ کو بے بی نہیں چاہے تھا میں جو اتنا خوش تھا اسے وہ میری خوشی راس نہ آئ ختم کر دیا اس نے بےبی کو دنیا میں آنے سے پہلے وہ کہتی تھی وہ ایسی عورت نہیں بنا چاہتی تھی جو صرف بچے پیدا کرنے والی ہو ۔۔۔۔
بہت رویا تڑپا میں کہ میرے ساتھ ایسے کیوں ہوا اپنی ہی اولاد کی خوش نہ کر سکا میں ۔۔۔
سدرہ کو اس کے حال پر چھوڑ دیا ہاہاہاہاہاہا جھوٹی محبت جو تھی میری نہیں چھوڑ سکتا تھا میں ۔۔۔
آہستہ آہستہ مجھے یہ غم ستانے لگ گیا میں نے تمہارا دل کو درد دیا تھا تمہارے پیار کی قدر نہ کی دل توڑ دیا یہی وجہ تھی میری مجھ سے ہر خوشی چھین لی گی ۔۔۔
تمت۔تمہاری بددعا ل۔۔۔۔
ن۔نہیں خان جب کسی سے عشق کیا جاے اسے بددعا نہیں دی جاتی میرا اللہ گواہ ہے میں نے آج تک تمہاری خوشی کے لیے دعا ہی مانگی ہے ۔۔۔
جنید پھوٹ پھوٹ کر روتے بول رہا تھا جب شائستہ اس کے آنسو صاف کرتے خود بھی سوں سوں کرتی بولی تھی ۔۔۔
تمہارا دل توڑا اپنی ہونے والی اولاد کو کھو دیا یہی غم مجھے ہر وقت رہنے لگ گیا میں سدرہ اپنے بزنس ہر چیز سے غافل ہو چکا تھا سارا سارا دن اپنے ہی غم میں رہتا ۔۔۔
سدرہ کو مجھ سے پیسے چاہے تھے جو کہ میرے ڈپریشن کی وجہ سے بزنس بھی ڈاون ہوتا جا رہا تھا کسی چیز کا ہوش نہیں تھا ۔۔۔۔
ماما نے جونی کو گھر آنے سے خودی روک دیا وہ دبے دبے لفظوں میں مجھے کہتی بیوی پر دھیان دو لیکن میں ہوش میں ہی کب تھا ۔۔۔
میری توجہ میرے پاس پیسے نہ ہونے کی وجہ سے سدرہ بھی مجھ سے بیزار ہو چکی تھی وہ طلاق چاہتی تھی
لیکن میں اسے نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
ایک دن ماما نے مجھے بتایا تمہارا فون آیا تھا اور انھوں نے کیا کچھ کہا مجھے کافی شرمندگی ہوئ سن کر پر افسوس تھا میں تمہں کال نہ کر سکا وجہ یہی کہ تمہاری شادی ہو چکی ہو گی تم خوش ہو گی سکندر کے ساتھ مجھے تو میری محبت نہ ملی لیکن سکندر کو مل گی میں خوش تھا ۔۔۔۔
سدرہ نے مجھے دھوکے سے گھر سے باہر بھیجا کہ میں بزنس ڈیل کے لیے جاؤ اور وہ پیچھے سے جونی سے مل سکے ۔۔۔
یہی ہوا بزنس ڈیل پر مجھے اے کے ملا مجھے اس کی کمپنی اچھی لگی ۔۔ سدرہ کو بتاے بنا میں گھر ا یا گیا لیکن اپنے ہی گھر میں وہ گندہ منظر دیکھتے دل کیا زمین پھٹے اور میں دفن ہو جاؤ ۔۔۔۔
جنید اچانک بولتے بولتے شائستہ کے سینے سے لگتے بچوں کی طرح رونے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
ک۔کیا دیکھا ت۔۔۔
ج۔جس اولاد کا غم منانے میں بزی تھا وہ اولاد ہی میری نہیں تھی تم خود سوچو میں کتنا بدنصیب انسان تھا جیسے محبت ہی نہ مل سکی میری بیوی ایسے کردار کی ہوگی کبھی سوچا نہیں تھا اتنے ماہ میں غافل رہا دونوں سے مجھے یہ سزا ملی تمہارے دل کو توڑنے پر ۔۔۔
اس رات مجھے پتہ چلا وہ بچہ ہی میرا نہیں تھا یہ خبر سنتے میرا دماغ پھٹنے پر ا چکا تھا ۔۔۔
کیا تھا میرے پاس نہ پیسہ نہ محبت سدرہ جونی کے ساتھ خوش تھی وہ طلاق لے کر چلی گی ہمشیہ کے لیے ۔۔۔
ماما اپنے بیٹے کی ایسی حالت نہ دیکھتے ہوے وہ بھی مجھے ایک دن اکیلا دنیا میں چھوڑ کر چلی گی ۔۔۔۔
اس وقت کوئ میرے ہر غم ہر درد کا ساتھی تھا تو وہ احد خانزادہ تھا جو ہر پل میرے ساتھ رہا۔ ۔۔
چار سال میں اسی غم میں تھا جرمنی میرے ساتھ کتنا غلط ہوا ہے یہی سوچتا رہا تم خوش ہو تمہارے تو بچے بھی ہو چکے ہو گے ۔۔
یہ بھی اے کے کی وجہ سے پاکستان آیا تھا بزنس ڈیل کے لیے ورنہ میں وہی ٹھیک تھا یہاں ا کر میرے غموں میں سے ایک غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا یہ جان کر چاچو کی موت کی وجہ میں بنا ۔۔۔۔
ا۔ ۔ ۔
ششششش خان بس جو کہنا تھا سن لیا اب کچھ مت بولو پلیز ۔۔۔۔
بھول جاؤ جو بھی کچھ ہوا ہمارا ملنا ایسے ہی لکھا گیا تھا۔ ۔۔
وہ بول رہا تھا جب شائستہ اسے چپ کرواتے اس کے بھیگے گالوں کو چومتے پیار سے بولی تھی ۔۔۔۔
جیند خان بھی اپنے دل کا ہر غم نکالے سکون میں اچکا تھا ۔۔۔۔
سدرہ صرف پیسوں کے لیے یہاں آی ہے میں صبح اسے پیسے دے دو گا وہ چلی جاے گی یہاں سے ۔۔۔۔
میرا یقین کرو جنید خان کی محبت تم میری جان میں نے کوئ ہمدردی میں شادی نہیں کی تم سے دور رہ کر مجھے اندازہ ہوا تم سے کتنی محبت تھی مجھے بس وہ سدرہ کے جال میں پھنس گیا میں ا ۔۔۔۔۔
شائستہ کی طرف دیکھ وہ اسے سمجھاتے بول رہا تھا جب شائستہ نے آہستہ سے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھے تھے مقصد صرف اتنا تھا جنید پرانی بات بھول جاے اب ۔۔۔
لیکن وہ خود بھول گی تھی نادانی میں وہ جنید خان کے جال میں خود پھنس چکی تھی ۔۔۔۔۔
اپنے لبوں پر اس کے لبوں کا نرم سا لمس پاتے وہ سب بھلاے کمر سے پکڑتے اپنے بے حد قریب کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
“” I Love u Khan ki khanam “”
اس کی سانسوں کو کچھ دیر چھوڑنے کے بعد وہ بہکاے ہوے اس کے سرخ انار جیسے چہرے پر پھونک مارتے بولا تھا ۔۔۔۔۔
“”Love u 2 khanam k Khan “”
اس کے اظہار محبت پر وہ شرماتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔
کیا کہا مجھے نہیں سنا خانم زرا اونچی آواز میں کہو ۔۔۔۔
اسے کمر سے پکڑتے وہ نرمی سے اپنی گود میں بیٹھاے شرارتی انداز میں بولا تھا ۔۔۔۔
تھوڑا تنگ کرو تم بندر چلو سوتے ہے رات کافی ہو گی ہے ۔۔۔۔
اس کی شرارت سمجھتے وہ گود سے اٹھتے ہوے بولی تھی جب جنید نے دوبارہ اسے کمر سے پکڑتے بیک ہگ کیا تھا ۔۔۔۔
میری چوہیا خانم آج تو سونے کی رات بلکل نہیں ہے ۔۔
اس کی گردن اور کان کی لو کو لبوں سے سہلاتے وہ گمبھیر سرگوشی میں بولا تھا ۔۔۔۔
جب شائستہ کی دھڑکن۔ تیز ہوئ تھی ۔۔۔۔
ک۔کیوں نہیں سونا ہم نے مجھے نیند آئ ہے ۔۔۔
اس کی گردن اور کان کو چومتے ہوے جنید نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا جب وہ پورا معصومیت سے نیند والا چہرہ بناے ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ میں نے آج اپنی خانم کو بتانا ہے اس کا یہ خان کتنی محبت کرتا ہے اپنی چوہیا سے ۔۔۔۔
اسے گود میں اٹھاے وہ اس کی چھوٹی سی ناک کو چھومتے ہوے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔
خ۔خان یشفہ رو رہی ہ۔۔۔
اے کے اور چھوٹی کے پاس ہے یشفہ تم میری گی کرو خانم ۔۔۔
اسے بیڈ پر گراے وہ اس پر جھکتے گہری نظروں سے مسکراتے دیکھ رہا تھا جب وہ اٹھنے کی کوشش کرتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔
جب اس کی دونوں کلاہیوں کو پکڑتے وہ ان پر اپنے لب سہلاے بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ خان روم کی لائٹ آن ہے میں آف کر کے ا ۔۔۔۔
ہو گی لائٹ آف خانم اور کچھ کرنا ہے تم نے ۔۔۔۔
کوئ بہانہ نہ یاد آتے وہ پھر سے اچانک اٹھنے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب جنید نے ریموٹ سے روم کی ساری لائٹس آف کرتے زرا منہ بناے کہا تھا ۔۔۔۔
شائستہ اب بلکل خاموش ہو گی تھی ۔۔۔۔
اب کہیں اور جانا ہے تو بتا دو ۔۔۔۔
کافی دیر وہ دونوں کی سانسوں کی آواز سن رہا تھا جب اس کے کان میں سرگوشی کرتے وہ اپنے لب اس کے گال پر سہلاتے مسکرایا تھا ۔۔۔۔
اس کے انداز پر وہ حیا بھری نظروں کو جھکاے مسکراتی ہوی اسے ہگ کر چکی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہہاہاہاہہا میری چوہیا شرما گی ۔۔۔۔
اس کی اس ادا پر وہ دل کھول کر قہقہ لگاتے اس کی شہ رگ کو چومتے بولا تھا ۔۔۔۔
بندر ۔۔
تیز ہوتی سانسوں کے درمیان وہ صرف اتنا بول کر پھر سے اپنا چہرہ اس کی گردن میں چھپا چکی تھی ۔۔۔۔
شائستہ تم میری کسی نیکی کی جزا ہو جیسے پا کر میں بے حد خوش ہو ہم دونوں کو جیتنے غم ملنے تھے مل گے میرا وعدہ ہے تمہارے قریب کوئ غم نہیں۔ اے گا یہ وعدہ ہے تمہارے خان کا ۔۔۔۔
جنید خان اس کے لبوں پر جھکتے ہوے نرمی سے اس کی سانسوں کو اپنی قید میں کرتے بولا تھا ۔۔۔۔
جب اس نے مسکراتے ہوے اپنی آنکھوں کو بند کیا تھا وہ خوش تھی جنید کی زندگی میں ا کر ۔۔۔۔
دونوں ہی خوش تھے ایک دوسرے کا ساتھ پا کر وہ دونوں ہی اپنی زندگی کی شروعات کر چکے تھے ۔۔۔۔
بالآخر اتنے غم کو سہنے کے بعد ان کی محبت مکمل ہو چکی تھی ۔۔۔
جیسے جیسے رات گزار رہی تھی شائستہ جنید خان کی محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی وہ خوش تھی اس کا ساتھ پا کر ۔۔۔
