Khamosh Muhabat By Rania Mehar Readelle50332 Khamosh Muhabat (Episode 20)
No Download Link
Rate this Novel
Khamosh Muhabat (Episode 20)
Khamosh Muhabat By Rania Mehar
“”کچھ گھنٹے پہلے۔۔
کتنے برے ہے آپ احد۔۔
شفا باتھ لیتی صبح ہی روم میں آتی شیشے کے سامنے کھڑی ہوتی برا سا منہ بناتے بولی تھی۔۔
کیوں کیا کر دیا میں نے ۔۔
احد اپنی نیند سے بھری آنکھوں کو بامشکل کھولتے ہوئے اس کی طرف دیکھ بولا تھا ۔۔
وہ۔اپ۔۔۔
شفا نے جیسے ہی چہرہ موڑتے اس کی طرف دیکھ بتانے کا اردہ کیا وہی بیڈ پر شرٹ لیس احد کو دیکھ اسے پوری رات یاد آ گی تھی تبھی شرم سے ہوتے لال چہرے کو لیے وہ چہرہ واپس موڑتی چپ ہوئ تھی۔۔۔
بتاؤ میری لٹل بےبی ڈول کتنا برا میں کیا رات اپنی محبت بتانے میں ناکام رہا میں۔
شفا کے چہرے پر گلنار کے رنگ دیکھ وہ سکون سے اٹھتا قدم لیے اس کے پیچھے آتے بیک ہے کیے اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھتے وہ اس کے بالوں سے آتی شیمپو کی خوشبو کو گہرا سانس لیتے اندر کی طرف لیجاتے بھاری آواز میں بولا تھا۔۔۔
ن۔نہیں اس میں برے نہیں ا۔اپ س۔۔۔
پھر بتاؤ کس میں برا ہو گیا میں ۔۔
احد کو قریب پاتے وہ تیز ہوتی سانسوں کے درمیان بول رہی تھی جب وہ اس کا رخ اپنی طرف کرتا اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے سہلاتے بولا تھا۔۔
پ۔پ۔پت۔۔
مجھے لگتا رات اپنی شدت دیکھائی میں نے تبھی شکوہ کر رہی ہو میں اپنی شدت پوری کر دی۔۔
نہ کرے مجھے سچی شرم آ رہی ہے ۔۔۔
اس سے پہلے وہ بولتی جب اسی کی پہنی سیفد شرٹ کے کالر کو پیچھے کیے گردن پر بنے سرخ نشانات کو دیکھتے وہاں اپنے دہکنے لب رکھتے بول رہا تھا جب وہ شرماتی ہوئی اسی کے سینے میں منہ چھپائے بولی تھی۔۔۔
ارے میری جان اس میں شرمانے والی کیا بات ہے بلکہ تمہاری محبت اور کتنی شدت دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا تم کتنی محبت کرتی ہو مجھ سے ۔۔۔
شفا کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ شوخ ہوتا بولا تھا جب شفا کی نظریں فورآ اس کے برہنہ سینے پر گی تھی جہاں اس کے ناخنوں کے لاتعداد نشان تھے ۔۔
و۔وہ می۔۔
شفا شرم سے پانی پانی ہوتی بول ہی رہی تھی جب احد بنا اس کی سنتے آرام سے اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔۔
وہ آہستہ آہستہ اس کی سانسوں کی مہک میں مدہوش ہورہا تھا جبکہ اس کی قربت سے شفا کو بھی سکون مل رہا تھا۔۔۔
کچھ گھنٹے بعد””…
احد آپ اتنی جلدی ا گے ک۔۔۔
ت۔تم ماہین کیسی ہو میں سمجھیں تھی احد ہے آؤ بیٹھو یہاں پر ۔۔۔
شفا کو ہارٹ چاکلیٹ کھانی تھی احد اس کے لیے مارکیٹ گیا تھا چاکلیٹ لینے وہ جو اسی کا ویٹ کرتی ہال میں چکر لگا رہی تھی جب ہال میں کسی کے قدموں کی آہٹ سنتے بولتی ہوئ سامنے کھڑی ماہین کو دیکھ بولی تھی۔۔۔
می۔میں ٹھیک ہو ۔۔
احد کی سیفد شرٹ میں ملبوس بکھرے بالوں بنا گلاسز پہنے وہ چہرے سے نکھری نکھری لگ رہی تھی اس کے چہرے پر حیا کے رنگ رقص کر رہے تھے ماہین اس سے جلیس ہوتی بامشکل جواب دے پائ تھی ۔۔۔
جبکہ شفا تو اپنی لک سے شرمندہ ہوتی ویسے ہی کھڑی تھی۔۔۔
ت۔تم بیٹھو یہاں میں زرا کپڑے چینج کر لو عجیب لگ ر۔۔۔
نہیں تم پیاری لگ رہی ہو ویسے بتاؤ احد کدھر ہے ۔۔۔
شفا جو وہاں سے جاتے بول رہی تھی جب وہ اس کا ہاتھ پکڑتے اپنے قریب بیٹھاے پوچھا تھا۔۔۔
ہاں وہ مارکیٹ گے ہے تم یہی رہنا ہم ناشتہ ساتھ کرے گے اوکے تمہیں پتہ میں نے ہمیشہ تمہیں اپنی چھوٹی بہن مانا ہے کیوٹ سی ا۔۔۔
بہن مانا ہے تو مجھے میری محبت دے دو شفا ۔۔۔
شفا اس کے گالوں پر اپنے ننھے لبوں کو رکھتے بول رہی تھی جب وہ سرد لہجے میں بولی تھی ۔۔
اچھا دے دو گی بتاؤ کون ہے تمہاری محبت اور یار سچی مجھے خوشی ہوئ تم نے ناصر کو چھ ۔۔۔
احد خانزادہ ہے میری محبت تم مجھے دو وہ اس پر میرا حق ہے ۔۔
شفا دوبارہ بول رہی تھی جب وہ کھوے ہوے لہجے میں بولی تھی۔۔۔
ہوش میں ہو تم وہ میرا شوہر ہے ا۔۔۔
تو میری محبت ہے وہ تم شوہر ناصر کو بنا لینا ویسے بھی تمہارے لیے تڑپتا ہے ا۔۔۔
ماہیننننننن۔۔۔
ارے بےبی ان نازک ہاتھوں کا استعمال میرے پر کرو قسم سے کچھ نہیں کہا کرو گا میں تمہیں ۔۔۔
ماہین کی بات سنتے شفا طش سے اٹھتی اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کرنے والی تھی جب پیچھے سے آتے ناصر نے اس کی کلائی کو پکڑتے خباثت سے کہا تھا۔۔
گارڈز گارڈز گ۔۔
اہہہہہ بےبی کوئ تمہاری آواز نہیں سنے گا آج میرا دن ہے تم میرے ساتھ جاؤ گی چلو ساتھ میرے ۔۔۔
شفا کو ایسے چیختے دیکھ ناصر اپنے ساتھ اسے گیسٹھتے ہوے بولا تھا جب وہ روتی ہوئی چلای تھی۔۔
مجھے نہیں جانا تمہارے ساتھ ۔۔
چھوڑو میرا ہاتھ تم جانور ہو جانور ۔۔۔
شفا اپنا ہاتھ ناصر کے ہاتھ سے چھڑواتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
جبکہ ماہین پاس کھڑی قہقہ لگا رہی تھی ۔۔۔
تم میری دوست تھی یار ا۔۔۔
جہاں محبت ہو وہاں دوست نہیں رہ جاتا بے بی تم ناصر کے پاس جاو گی تو ہی احد میرا ا۔۔۔
چٹاخخخخخخ۔۔
ماہین پاگلوں کی طرح بول رہی تھی جب ناصر سے ہاتھ چھڑواتے شفا نے اسے تپھڑ مارا تھا ۔۔
کتنی بری لڑکی نکلی تم شرم انی چاہے تھی تمہیں میں نے اپنا دوست مانا تھا اور تم تف ہے تم پر میں تھوکتی ہو تم جیسی دوست پر ۔۔۔
تو۔۔۔
شدید غصے میں اتے وہ ماہین کے چہرے پر تھوک چکی تھی جب وہ بھی بنا کچھ لحاظ کیے پاس پڑے گلدان کو اس کے سر پر مار چکی تھی ۔۔
تم پاگل ہو کیا یہ کیا حرکت کی اگر اسے کچھ ہوا تو یاد رکھنا میں تجھے نہیں چھوڑو گا پھر بھول جانا تجھے احد ملے گا ۔۔
ناصر شفا کے سر سے خون نکلتے دیکھ دانت پیستے ماہین کی گردن دبوچتے غرایا تھا ۔۔۔
نہیں ہوتا اس کو کچھ لے جاو اس کو ۔۔۔
شفا کے سر سے مسلسل نکلتے خون نے اس کی سفید شرٹ کو بھیگا دیا تھا جو وہ رات احد کی پہن کر سوی تھی ۔۔۔
ناصر نیم بےہوش شفا کو گود میں اٹھاے وہاں سے لے کر چلا گیا تھا جبکہ احد اس بات سے بےخبر اپنی لٹل ںےبی ڈول کے لیے ہارٹ چاکیلٹ لینے گیا تھا ۔۔۔
دیکھو شفا یار میں ا گیا ہو سوری یار وہ ٹریفک بہت تھا میں نے کوشش کی جلدی آنے کی ا۔۔۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو نکلو باہر ۔۔۔
احد جو ہاتھوں میں ہارٹ چاکلیٹ کے جار پکڑتے ہال میں انٹر ہوتے خوشی سے بول رہا تھا جب اچانک صوفے پر بیٹھی ماہین کو دیکھ کر ناگواری سے بولا تھا۔۔
تم سے ملنے آئ تھی میں سوچا مل لو ا۔۔۔
مل لیا چلو نکلو باہر آج کے بعد شفا سے ملنا ہو تو پلیس سے باہر ملنا مجھے تمہارا گندہ وجود اپنے پلیس میں بھی پسند نہیں ہے سنا تم نے ۔۔
احد سرد ناگواری لہجے سے بولتا ہوا اوپر سیڑھیوں کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔
اس وجود کو بھی تم نے برداشت کیا تھا احد جو ناصر کا تھا تم جانتے ہو تمہاری شریف معصوم سی بیوی اس وقت کہاں ہے ۔۔۔
اپنی توہین ہوتے دیکھ ماہین آپے سے باہر ہوتی اٹھتی ہوئ زہر اگلنا شروع کر چکی تھی ۔۔۔
بکواس بند کرو میں تمہاری زبان کھیچ لو گا ہمت بھی کیسے ہوئ میری لٹل ب۔۔۔
نہیں یقین ا رہا تو میں تمہیں ایڈریس دیتی ہو وہاں جا کر دیکھ لو بلکہ میں تمہیں ایک پک دیکھاتی ہو ویٹ ۔۔۔
سیڑھیوں سے نیچے وہ بگڑے شیر کے طرح اس کی طرف آتے غرا رہا تھا جب وہ سکون سے کھڑی اپنے موبائل سے کوئ پک دیکھا رہی تھی۔۔
ا۔اتنا برا دھوکا نہیں دے سکتی وہ مجھے پتہ ہے وہ کیسی ہے تم اپنا یہ گندہ موبائل پکڑو ۔۔
موبائل میں شفا کی ناصر کے ساتھ بولڈ پک دیکھتے وہ چیختے ہوے موبائل سامنے دیوار پر مارتا غراتا ہوا چیخا تھا ۔۔۔
اس کی غراہٹ سنتے ماہین بھی سانس روک چکی تھی لیکن ہمت جمع کرتی اس کے پاس جاتی بولی تھی ۔۔
دیکھو احد وہ اس کی تھی یار تم سمجھتے کیوں نہیں ہو اس نے یہ سب صرف تم سے بدلہ لینے کے لیے کیا تھا ورنہ وہ تو ناصر کے ساتھ ہی بھاگنے والی تھی اس کا پلان ہی یہی تھا دیکھو میں تم سے کتنی محبت کرتی ہو بےتحاشہ میری جان ۔۔۔
احد ماہین کی ساری بات سنتے دکھی ہوتے اپنا ہی سر پکڑتے وہی پھوٹ پھوٹ کر روتے سیڑھیوں پر بیٹھ چکا تھا جب وہ اس کی نم گال کو چھوتے بول رہی تھی ۔۔۔
وہ حیران تھی کہ احد خانزادہ جیسا مرد اپنی بیوی کے لیے کیسے شدت سے رو رہا تھا جیسے وہ چھوٹا بچہ ہو ۔۔
ن۔نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتی میری ہے وہ سنا تم نے احد خانزادہ کمزور نہیں ہے جو اپنی بیوی کو کسی اور کی باہوں میں دیکھے میں جان سے مار دو گا سب کو پوری دنیا کو آگ لگا دو گا سمجھی۔۔۔
وہ جو اس کے گالوں کو چھوتے دل میں سکون اترتے محسوس کر رہی تھی جب وہ اسے بھی خود سے دھکا دیتا آٹھ کر کھڑے ہوتے غرایا تھا ۔۔۔
ایڈریس دو مجھے فورآ میں دونوں کو وہی شوٹ کرو گا ۔۔۔۔
وہ بکھرے بالوں اور حیلے کے ساتھ دو ٹوک انداز میں بولا تھا ۔۔۔
جب ماہین اپنے پلان کو کامیاب ہوتے دیکھ مسکراتی ہوئی جلدی سے ایڈریس دے چکی تھی ۔۔۔
ہاں بولو ویسا ہو گا جیسا کہا تھا تم سے ۔۔
ناصر روم میں بیڈ پر بیٹھتے ماہین کو کال ملاے بولا تھا ۔۔۔
ہاں پلان کامیاب ہوا جب تک احد کو پتہ چلے گا میں نے ایڈریس غلط دیا ہے تب تک تم شفا کو پاکستان سے لے کر دور جا چکے ہو گے ۔۔۔
ماہین نے مسکراتے ہوے کہا تھا ۔۔۔
اففف یار یہ تو ٹھیک ہو گیا پر شفا کو ہوش نہیں آی خون زیادہ بہنے پر بےہوش ہو چکی تھی پک بھی مجھے ایسے ہی بنانی پڑے ہوش میں ہوتی تو پاس بھی نہ آنے دیتی ہو ۔۔۔
اپنی گود میں بےہوش شفا کا سر دیکھ وہ شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا۔۔۔
اچھا تمہارا کام ہو گیا اب شفا سے طلاق کے پیپرز پر سائن کروا لینا اچھا پھر بات ہو گی میں زرا احد کے ساتھ جاؤ ۔۔
ماہین اپنا کہتی فون کٹ کر چکی تھی۔۔
جبکہ ناصر بھی خوش ہوتا شفا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
چٹاخخخخخخ ۔۔
کیا سوچا تھا میں تمہارے اس گندے پلان میں ا جاؤ گا ہاہاہاہاہاہاہاہاہا تم سوچ جہاں ختم ہوتی وہاں میری سوچ سٹارٹ ہوتی ہے کتنی بدکردار لڑکی ہو ت۔۔۔
احد میں بدکردار لڑکی نہیں ہو میں تم سے محبت کرتی ہو تمہاری وجہ سے ہی میں نے یہ سب کیا ۔۔۔۔
ماہین جو وہی کھڑی باہر جانے والی تھی جب اچانک احد کو غصے سے آگ بگولہ ہوتے قریب آتے اپنے چہرے پر تھپڑ کھاتے وہ پریشانی میں بولی تھی۔ ۔۔۔
تم ہو ایسی لڑکی پہلے تمہاری محبت ناصر تھا جب مجھے دیکھا تو سوچا یہ تو زیادہ امیر لڑکا ہے اس کے پیچھے پڑ جاتی ہو کل کو مجھ سے امیر لڑکا مل گیا تو مجھے بھی چھوڑ دو گی ایسی محبت ہوتی ہے تمہاری تف ہے تم پر ۔۔۔
دل کر رہا اسی گن سے تمہیں شوٹ کر دو ۔۔۔
احد دانت پیستے ہوے گن اس کے سر پر رکھتے غرایا تھا جب وہ شرمندہ ہوئ تھی ۔۔
تمہارے لیے میری محبت س۔۔۔۔
اوووووو جیسٹ شیٹ اپ۔۔
محبت ایسی نہیں ہوتی محبت تو وہ ہوتی ہے جو غیر موجودگی میں بھی اپنی محبت کی حفاظت کی جائے کسی کو اپنے قریب نہ آنے دے تم کیا سوچا تھا تمہارے وہ فیک پک دیکھانے اور ایڈریس پر مجھے یقین ا گیا غلط ہے میں دیکھنا چاہتا تھا تم اپنی دوستی میں کتنا گر سکتی ہو ۔۔۔
شفا نے ہمیشہ تمہیں چھوٹی بہن مانا دوست مانا وہ تو ہر وقت تمہارا ذکر کرتی تھی کہ تم کتنی اچھی ہو اس کی بیسٹ فرینڈ ہو وہ خوش ہوتی تھی تمہارے ساتھ رہ کر ۔۔۔
دوستی نہ سہی تو کم سے کم لڑکی ہونے کا احساس کر لیتی تم یہی سوچ لیتی تم کس حیوان کے حوالے کر رہی ہو ۔۔۔۔
ڈوب کر مر جاؤ تم میں صرف یہی کہہ سکو گا کیونکہ عورت ذات کو مارنا مجھے زیب نہیں دیتا کبھی اکیلے بیٹھ کر سوچنا تم نے اپنی عزت خود ختم کی ہے میرے اور شفا کی نظر میں ا ۔۔
می۔۔۔
ناصر بھول گیا ہے وہ کس درندے کو چھڑ چکا ہے میں جو شرافت سے انتظار کر رہا تھا وہ خودی اپنا جرم قبول کرے گا اب میں اسے بتاؤ گا اصلی درندہ کیا ہوتا ہے ۔۔۔
ماہین واقعی اب ہوش میں آتی شرمندہ ہوتی اس کی بات کاٹتے بولنے والی تھی جب وہ دوبارہ غراتے ہال میں انٹر ہوتی پولیس کے ساتھ جنید خان کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
پکڑو اس کو ا۔۔۔
نہیں یہ شفا کی دوست ہے اس کو چھوڑو ناصر کو ڈھونڈو ۔۔۔
ہال سے باہر جاتے احد نے جلدی سے جنید کو کال کرکے سب بتا دیا تھا تبھی وہ پولیس فورس لیے وہی آتا طش میں ماہین کو دیکھ غرایا تھا جب احد نے ٹوکتے کہا تھا ۔۔۔
لیکن اے کے ا۔۔۔
میرے لیے ضروری لٹل بےبی ڈول ہے وہ چاہے مجھے ہر ہال میں ۔۔۔
جنید غصے میں بول رہا تھا جب احد اپنی گن کو لوڈ کیے پکڑتے ہال سے باہر جاتے غرایا تھا ۔۔۔۔
جبکہ ماہین ندامت سے سر جھکائے وہی بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر روی تھی ۔۔۔۔
ہاےےے تمہیں پانے کے لیے کیا کچھ کیا کاش اس وقت تمہارا بڈھا باپ ماں جاتا تو آج میری بیوی ہوتی چلو کوئ نہ بیوی تو تم ابھی بھی بن ہی جاؤ گی ۔۔۔
شفا کا سر گود سے نکالے اب وہ اسے بیڈ پر لیٹاے اس پر جھکتے پیار سے بول رہا تھا ۔۔۔
م۔مجھے ج۔جانے د۔دو پلیز ۔۔۔
شفا نے ہوش میں آتے آہستہ آہستہ اپنی آنکھوں کو کھولا تھا جب اپنے اوپر جھکے ناصر کو دیکھ وہ روتی ڈرتی ہوں ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔
ارے جان ڈر کیوں رہی ہو ا۔
م۔مجھے جانے دو پلیز ن۔میں نے احد کے پاس جانا ہے ۔۔۔
وہ جو اس کے گالوں کو چھونے کی کوشش کرتا بول رہا تھا جب وہ آنسو بہاتے اپنے چہرے کو موڑتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔
تمہیں پانے کے لیے میں نے اتنا سب کیا تم تمہیں اس کی ضرورت ہے جب بول رہا ہو ا۔۔۔۔
ٹھاہہہہہہہہ ٹھاہہہہہہہہ۔۔۔۔
وہ جو اس کا چہرہ دبوچتے طش سے بول رہا تھا جب اسے بلڈنگ کے باہر سے پولیس کی فائرنگ کی آواز اور ساتھ ہی ان کی وارننگ سنای دی تھی ۔۔۔۔
بڑا جنونی بندہ ہے تمہارا یار اتنی فاسٹ سروس واؤ ۔۔
شفا کے زرد چہرے کو دیکھ وہ طنزیہ مسکراتے بولا تھا۔۔۔
ویسے جب تک یہ پولیس اور احد روم تک اے گے تب تک ہم یہاں سے دور جا چکے ہو گے جان ۔۔۔
شفا کی برہنہ ٹانگ پر ہاتھ رکھتے وہ شیطانی مسکراہٹ سے بولا تھا ۔۔۔
ارے جان نہیں سمجھی تم اس بلڈنگ کے لاسٹ فلور پر ہیلی کاپٹر کھڑا ہمارا ویٹ کر ر۔۔۔۔
ٹھاہہہہہ۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔
وہ جو اپنا ہاتھ آہستہ آہستہ اوپر لے کر جاتے بول رہا تھا جب احد بگڑے شیر کی طرح سرخ چہرہ لیے وہ روم میں انٹر ہوتے بنا سوچے سمجھے ناصر پر شوٹ کر چکا تھا ۔۔۔
تم یہاں ا۔۔۔
کیا سوچتے ہو تم کہ لڑکیوں کی عزت پر ہاتھ ڈال کر تم طاقت وار مرد بن جاتے ہو یا ان کو درندہ بن کر ڈراؤ گے غلط میں تمہیں بتاؤ گا اصلی درندہ کون ہوتا ہے ناصر۔۔۔
ناصر کے بازو پر گولی لگی تھی جب وہاں سے بہتے خون اور احد کو دیکھ وہ چیخا تھا جب احد غرایا تھا ۔۔۔
شفا ناصر کے جال سے نکلتی بھاگ کر احد کے سینے سے لگتی مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔۔
شفا چھوڑو اس کو میری طرف آؤ ورنہ احد کو شوٹ کر دو گا ش۔۔۔۔
تم شفا کو کیوں بلا رہے ہو میں ہی آتا ہو تمہارے قریب شوق سے شوٹ کرنا مجھے ۔۔۔۔
ناصر اپنی گن نکالے شفا کو دھمکی دیتے بول رہا تھا جو مسلسل رونے میں بزی تھی جب احد شفا کو سائیڈ پر کرتا ناصر کی طرف بڑھتے ہوے غرایا تھا ۔۔۔۔
ن۔ن۔نہیں نہیں احد پلیز یہاں سے چلے یہ ی۔یہ مار دے گا آپ کو ۔۔
اس کا بازو پکڑتے وہ مسلسل روتی ہوئی اپنی طرف کھینچتی بولی تھی ۔۔۔۔
یہ ہاتھ لگایا تھا تم نے شفا کو ۔۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ ۔۔
شفا کی ان سنی کرتے احد بنا ڈرے ناصر کے سامنے جاتے ہی شیر کی طرح اس پر قابو پاتے غراتے ہوے اس کا بازو توڑا تھا جب ناصر درد سے غرایا تھا اس کی گن دور جا کر گر چکی تھی ۔۔۔۔۔
ناصر اور احد دونوں لڑنے میں مصروف ہو چکے تھے ۔۔۔۔
ن۔نہیں نہیں احد وہ مر جائے گا آپ چھوڑے ہم یہاں سے چلے جاتے ہے پلیز پلیز میری بات سن لے ۔۔۔۔
باڈی بلڈر احد خانزادہ کے آگے ناصر کچھ بھی نہیں تھا مسلسل احد کے وار کھاتے وہ خون سے لت پت زمین پر گرا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا جب احد آپے سے باہر ہوتا اسے گردن سے پکڑتے موڑنے والا ہی تھا جب شفا مسلسل روتی ہوئی بامشکل بول پائ تھی کیونکہ وہ کب سے دیکھ رہی تھی دونوں کو لڑتے ہوے ۔۔۔۔
لیکن ا۔۔۔
م۔مجھے آپ چاہے بس اس گندے انسان کو پولیس پکڑ لے گی آپ چلے ساتھ میرے ۔۔۔
احد کا زخمی چہرہ اور بازو کو دیکھتے وہ اس کی نہ سنتے اپنی کہتے اسے اٹھنے کا بول رہی تھی ۔۔
اچھا نہیں کہتا اس کو اب خوش چلو ساتھ میرے ۔۔۔
شفا کی بگڑتی حالت دیکھ وہ اٹھتا ہوا بولا تھا جب وہ بھی بچوں جیسے اس کا ہاتھ پکڑتے روم سے باہر گیا تھا۔ ۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔
کیا سوچا تھا تم مجھ سے جان اتنی جلدی چھڑوا لو گی ۔۔
غلط بےبی ایسا تو نہیں ہو سکتا۔۔۔
احد جو شفا کے ساتھ روم سے باہر نکلتا سیڑھیوں سے نیچے جا رہا تھا جب احد کے شولڈر پر شوٹ کرتے زخمی ناصر نے شفا کا ہاتھ پکڑتے اوپر والے فلور کی سیڑھیوں پر بھاگتے بولا تھا۔۔۔۔
اح۔احد احد احددددددد ۔۔۔
احد کے شولڈر سے بہتے خون کو دیکھ شفا چیختی ہوئ روی تھی ناصر اس کا ہاتھ نہیں چھوڑ رہا تھا۔۔۔۔
چھوڑ اس کو میں بول رہا چھوڑ۔۔۔
ٹھاہہہہہہ۔۔۔۔
احد اس کے پیچھے جاتے غراتے ہوے اس کی ٹانگ پر شوٹ کرتے چیخا تھا۔ ۔۔۔
بیٹھو اندر جلدی ۔۔۔
اوپر فلور پر آتے سامنے کھڑے ہیلی کاپٹر کو دیکھ وہ شفا کو آڈر دیتا بولا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں بیٹھو گی ۔۔۔
شفا ہمت جمع کرتی بولی تھی ۔۔۔
زیادہ نخرہ مت دیکھاؤ بیٹھو ا۔۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہہہہ۔۔۔۔
ناصر کو ڈر تھا احد ان تک پہنچ نہ جاے تبھی وہ طش سے بول ہی رہا تھا جب پیچھے سے احد نے اس کی گردن پکڑتے زمین پر گرایا تھا ۔۔۔۔
تجھے چھوڑ کر میں واقعی بہت بڑی غلطی کرنے والا تھا خیر اب میں تجھے نہیں زندہ چھوڑو گا ۔۔۔۔
ناصر کی کمر اور پیٹ پر ٹانگوں کا وار کرتے احد غصے سے غرایا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ دونوں ایک پھر گھتم گھتا ہو چکے تھے ۔۔۔۔
احد چھوڑ دو اس کو یار پولیس دیکھ لے گی ۔۔۔۔
بلڈنگ سے نیچے کھڑی پولیس اور جنید کب سے اوپر والے فلور پر دونوں کی لڑای دیکھ رہے تھے ہیلی کاپٹر کو پولیس اپنے حوالے کر چکی تھی جبکہ وہ ابھی ناصر کو پکڑ نہیں پائ تھی ۔۔
ابھی بھی فلور کی گرل تک آتے احد کو دیکھ جنید نیچے سے سیپکر سے چیخا تھا ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا اب بول دیکھ یہاں سے تو نیچے گرا تو سیدھا اوپر جاے گا ۔۔۔
لڑتے وقت واقعی احد کو ہوش نہیں تھا وہ فلور کی گرل تک ا چکے ہے تبھی ناصر اسے گرل سے دھکا دیتے ہاتھ پکڑتے قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔
احد کو سہارا صرف ناصر کے ہاتھ کا تھا ۔۔
ن۔نہیں پلیز ایسا کچھ مت کرنا ا۔۔۔
چھوڑ ہاتھ میرا تجھے میں بتاؤ گا موت کیسی ہوتی ہے چھوڑ۔۔۔
شفا جو چیختی بول رہی تھی جب احد نیچے لٹکتے ہوے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔
احددددددددد۔۔۔
چیخنے کی آواز سنتے نیچے سے جنید چیخا تھا ۔۔۔
وہی شفا بھی احد کی طرف بھاگی تھی ۔۔۔
احدددد احددددددد۔۔۔
جنید کے ساتھ پوری پولیس فورس بھی بلڈنگ کے اندر بھاگی تھی جبکہ شفا مسلسل روتی ہوئی گرل سے نیچے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ڈ۔ڈا۔ڈاکٹر وہ۔۔۔
ایم سوری ہم ان کو بچا نہ سکے ۔۔۔۔
شفا شائستہ جنید ہاسپٹل اے تھے کافی دیر انتظار کے بعد آپریشن تھیٹر سے باہر آتے ڈاکٹر کو دیکھ شفا نے روتے ہوے بامشکل بول رہی تھی جب ڈاکٹر نے افسردہ ہوتے جواب دیا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہیں ن۔نہیں نہیں لالہ اس نے چھوڑ دیا مجھے لالہ سنا آپ نے چھوڑ دیا اس نے مجھے ۔۔۔۔
یہ خبر شفا پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی تبھی جنید کے گلے لگتی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چیخی تھی ۔۔۔۔
جنید اور شائستہ اس کو حوصلہ دے رہے تھے جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔۔
ایک سال بعد ۔۔۔
میم قبرستان ا گیا آپ چلی جاے ۔۔۔
شفا کی کار قبرستان کے باہر کھڑی ہوئی تھی جب گم صم سی شفا کو دیکھ ڈرائیور بولا تھا ۔۔۔
اچھا ۔۔۔
وہ ایک الفاظ کہتی ہوئی پاس ہی پڑے کوڈ میں ننھے سے وجود کے سر پر بوسہ دیا تھا جو نیلے کمبل میں سکون سے سو رہا تھا۔۔۔
خ۔خیال رکھنا اس کا ۔۔۔
بھاری ہوتی آواز میں ڈرایئور کو حکم دیتی کار سے باہر آی تھی ۔۔۔۔
جی میم ۔۔۔
وہ تابعداری سے سر ہاں میں ہلاتا بےبی کوڈ کے پاس بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔
ا۔اس نے چھوڑ دیا م۔مجھے اکیلی ہ۔کو ۔۔۔۔
وہ جو قبر کے پاس بیٹھی مسلسل روتے ہوے اس کے ساتھ گزرے ہر لحمے کو یاد کر رہی تھی جب اپنے شولڈر پر ہاتھ محسوس کیے وہ اسی کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ ایک سال سے دیکھ رہا تھا وہ کتنا روتی تھی روزانہ قبر پر ا کر اپنا ہر گزارا لمحہ یاد کر کے ۔۔۔۔
قبرستان کی خاموشی میں صرف شفا کی ڈھاریں سنای دے رہی تھی ۔۔۔۔
