Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Khamosh Muhabat (Episode 15)

Khamosh Muhabat By Rania Mehar

اہہہہ اہہہہہ بھوت بھوت۔۔۔۔

روم میں آتے وہ روتی ہوئی وہی سو گی تھی جب رات آٹھ بجے کچھ ٹوٹنے کی آواز سنتے ڈرتی ہوی چیخی تھی ۔۔۔۔

افففف اتنا ٹائم ہو گیا ۔۔

احد کی بھی کال نہیں ای کیا وہ نہیں اے گے اب تو رات ہو گی اتنی زیادہ ۔۔۔۔

موبائل پر اتنا ٹائم دیکھتی اب وہ پریشانی سے سوچ رہی تھی ۔۔۔

اب وہ پچھتا رہی تھی کیوں گھر اکیلی رہ گی ۔۔۔

اہہہہہہہ ۔۔۔۔

چ۔چور۔۔۔

اچانک ہال میں دوبارہ ٹوٹنے کی آواز اور باہر تیز آندھی کی آواز سنتے وہ ڈرتی ہوی باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔۔

اہہہہہہ

اہہہہہہ۔۔۔

وہ جو ڈرتی ہوئ ہال میں آی تھی جب سامنے کھڑے انسان کو دیکھتی وہ ڈر و خوف سے چیخنا شروع کر چکی تھی ۔۔۔

جبکہ سامنے والا شخص پرسکون کھڑا اس کی چیخ وپکار سن رہا تھا ۔۔۔۔

یہ کون سا ڈانس ہے جس میں چیخ بھی رہی ہو ۔۔۔۔

ہال میں کھڑے پرسکون احد نے سامنے چیختی شفا کو دیکھ پوچھا تھا جو منہ آنکھیں کھولے چیخ رہی تھی ۔۔۔

ہاے آپ ا گے سچی میں تو ڈر گی تھی چور یا بھوت آیا ہے ۔۔۔

وہ ویسے ہی چیختی بھاگ کر اس کے سینے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔۔

تو اتنی سی بات پر یہ چیخ و پکار کیوں تھی بندہ ویسے ہی آرام سے مل سکتا ہے ۔۔۔۔

اسے سینے سے لگاے وہ اس کے بالوں کو سنوارتے سکون سے بولا تھا جو سینے سے لگی ایک چھوٹی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔

ب۔بتا تو رہی ہو ڈر گی تھی بس۔۔۔۔

شفا ہوش میں آتی اس سے دور ہوتی گھبراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔۔

ہممممم۔۔۔۔

احد اس کے چہرے پر سرخی دیکھ کر چپ ہوا تھا ۔۔۔۔

ک

کھانا کھاے گے اپ۔۔۔

اپنی انگلیوں کو موڑوتے جب اسے کچھ نہ سوچا تو یہی پوچھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔

کھانا میں لے کر آیا ہو تم نے کہاں بنایا ہو گا ۔۔۔۔

احد اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے بولا تھا ۔۔۔۔

وہ کنفیوژ تھا کیونکہ پہلے شفا کے چہرے پر جو غصے والے تاثرات ہوا کرتے تھے اب وہاں اس کے چہرے پر شرمندگی ظاہر ہو رہی تھی ۔۔۔

سب ٹھیک ہے لٹل بے بی ڈول۔۔۔

اس کے قریب جاتے نرمی سے گال کو سہلاتے بولا تھا ۔۔۔۔

ج۔جی سب ٹھیک آپ اے ۔۔۔

جلدی سے دور جاتی وہ کہتی وہاں سے سیدھی کچن میں گی تھی ۔۔۔۔

تم جا کر بیٹھو میں کھانا خود نکال کر لاتا ہو لٹل بے بی ڈول۔۔۔

شفا نروس سی کچن میں کھڑی کھانے کے شاپرز کھول رہی تھی جب وہ اس کے پیچھے آتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ن۔نہیں وہ میں ک۔۔۔

اگر بیٹھ نہیں سکتی تو یہی روک جاؤ مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔

اس کی آواز اپنے اتنے قریب سے سنتے وہ دل و جان سے گھبراتی بول رہی تھی جب وہ بات کاٹتا اس کے آگے کھڑے ہوے کھانا نکالتے بولا تھا ۔۔۔

میری لٹل بے بی ڈول کو ہاٹ چاکلیٹ بہت پسند ہے ۔۔۔

یہ دیکھو میں لایا ہو ۔۔۔

اب وہ چھوٹے چھوٹے سے ہاٹ چاکلیٹ کے جار کو نکلتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاےےےے سچی میرا پہلا عشق ہے یہ ہاٹ چاکلیٹ اففففف یمیییییی۔۔۔

وہ خوشی سے پاگل ہوتی اسے بیک ہگ کیے جوش میں بولی تھی ۔۔۔۔

اس کے ننھے ہاتھوں کا لمس اپنے دل کے مقام پر پاتے احد کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔

تو تمہارا دوسرا عشق کون ہے لٹل بے بی ڈول۔۔۔

وہ ویسے ہی بزی سا بولا تھا جہاں وہ ہر چیز کو بھلاے سکون سے اس کی بیک سے لگی سن رہی تھی ۔۔۔۔

ہاٹ چاکلیٹ ۔۔۔

اپنے لبوں کو دانتوں میں دباے وہ شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔۔

تیسرا ۔۔۔۔

وہ سنیجدہ ہوتا ایک بار بھی بولا تھا ۔۔۔

ہاٹ چاکلیٹ۔۔ ۔

احد کی جلن دیکھ کر وہ مزید شرارتی ہوتی بولی تھی ۔۔۔

چوتھ۔۔

ہاٹ چاکلیٹ۔

ہاٹ چاکلیٹ۔۔۔

ہاٹ چاکلیٹ۔

ہاٹ چاکلیٹ۔۔

ہاٹ چ۔۔۔۔

اسے جلتا بھنتا دیکھ وہ مسلسل بول رہی تھی جب احد نے ہاٹ چاکلیٹ کا جار اٹھا کر اس کی طرف رخ کیے اس کے سارے چہرے پر گرای تھی ۔۔۔۔

ی۔یہ کیا طریقہ ہے اح۔احد سارا خراب کر دیا مجھے اب ک۔کتنی مشکل سے ص۔۔۔۔

کوئ بات نہیں میری لٹل بے بی ڈول میں ہو نا تمہیں صاف کرنے کے لیے اب تمہیں ہاٹ چاکلیٹ اتنی ہی پسند ہے تو سوچا اب دل بھر کر کھا لو اس کو ۔۔۔۔

وہ اپنے بھرے چہرے کے ساتھ گھبراتی اس کی طرف دیکھنے کی کوشش کرتی بول رہی تھی کیونکہ اس کی گلاسز پورے چاکلیٹ سے بھر چکے تھے ۔۔۔۔

جب وہ اسے ایک ہاتھ سے کمر کو پکڑتے دوسرے ہاتھ سے اس کی گلاسز کو آرام سے اتارے بولا تھا ۔۔۔۔

ا۔ای۔ایسے کون چاکلیٹ کھاتا ہے آپ پاگل ہے ۔۔۔۔

ماتھے پر لگی ساری چاکلیٹ بار بار اس کی پلکوں سے گرتی آنکھوں کے اندر جانے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ اپنے ہاتھوں کو آنکھوں پر رکھتے گھبراتے بولی تھی ۔۔۔۔

احد خانزادہ ایسے چاکلیٹ کھاتا ہے لٹل بے بی ڈول۔۔۔

اس کے دونوں ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے وہ اب مکمل اس پر جھکتے ہوے گمبھیر سرگوشی کرتا بولا تھا جب شفا سانس روکتے زرا سا ہل کر دور ہو پائ تھی ۔۔۔۔۔

و۔و۔وہ جار م۔میں ہے ا۔۔۔۔

احد جو نرمی سے جھکتے اس کی آنکھوں کو چوم رہا تھا جب وہ اپنی آنکھوں کو زور سے بند کرتی بولتی ہوی اچانک چپ ہوئ تھی ۔۔۔۔

کیونکہ اب اس کے لب اس کے گول سے چہرے کو چومنے میں بزی ہو گے تھے ۔۔۔۔

شفا کی دھڑکن نے اپنی رفتار بڑھا لی تھی اسے لگا تھا اگر احد نے ایسے ہی اپنی شدت رکھی تو وہ جلد ہی زمین بوس ہو جاے گی ۔۔۔۔

او کھانا کھاتے ہے اگر میں زرا سا بہکا بھی تو تم فوت ہو جاؤ گی ۔۔۔۔

اس کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر احد پیچھے ہوتے اب پاکٹ سے رومال نکالے اسے دیتے بولا تھا ۔۔۔۔

جو اپنی رہائ پاتے بنا اس کی طرف دیکھتی کچن سے بھاگی تھی ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہا سلی گرل دھیان سے جاؤ یار ۔۔۔

احد اپنے ہونٹوں پر لگی چاکلیٹ کو انگوٹھے سے صاف کر رہا تھا جب بھاگتی شفا اسی کی طرف دیکھ کچن سے باہر جانے کے بجاے دیوار سے ٹکراتی گری تھی جب وہ قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔

گندے ۔۔۔

ایک تو گلاسز نہیں پہنے تھے دوسرا وہ احد کی قربت سے گھبراتی بنا دیکھے دیوار سے ٹکرا چکی تھی ۔۔

تبھی ایک چھوٹی بچی کی طرح منہ بناے اپنے بالوں کو سنوارتے آٹھ کر کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

لٹل بے بی ابھی چاکلیٹ لگ۔۔۔۔

احد اسے تنگ کرتا بول رہا تھا جب وہ ڈرتی ہوئ ویسے ہی بھاگی تھی ۔۔۔۔

اس کی حرکت پر وہ مسکراتا ہوا اب کھانے کی ٹرے اٹھاے باہر جا رہا تھا ۔۔۔۔

سو جاؤ یار یشفہ کتنا لیٹ ہو گیا ہے یہ سارا قصور خان کا ہے جس نے تمہیں بگڑ دیا ہے ۔۔۔

رات کو شائستہ اسے گود میں اٹھاے سلانے کی کوشش کرتی بیزار ہوتی بولی تھی اسے خود نیند ا رہی تھی لیکن یشفہ کو نیند کے بجاے مستیاں سوج رہی تھی جو خود مسکراتی شائستہ کے ساتھ کر رہی تھی ۔۔۔

دیکھو بیٹا س۔۔

ب۔بابا۔۔

شائستہ جب بھی اسے سونے کا کہتی تب وہ معصوم سی شکل بنا کر جنید کو پکارتی تھی ۔۔۔

نہیں یہ بتاؤ بس بابا ہی ہے تمہارے میں کچھ نہیں لگتی تمہاری جب دیکھو بابا بابا بابا ماں تو سوتیلی ہو تمہاری ا۔۔۔

بابا بابا بابا بابا بابا ۔۔۔

شائستہ نیند آنے کی چڑ کی وجہ سے غصہ سے بول رہی تھی جب یشفہ ایک بار پھر سے معصوم شکل بناے تالی بجاے بولی تھی ۔۔۔۔

تمہارے جو بابا ہے وہ ایک بھوتنی کے پاس چلے گے ہے تم میرے پاس رہو اچھا ۔۔۔

شائستہ کو جب سمجھ نہ آیا اسے کیسے بہلاے تبھی جو دماغ میں آیا وہی بول گی ۔۔۔

م۔ماما بھوتنی ۔۔۔

یشفہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھاڑے اسے ہی دیکھ بولی تھی ۔۔۔

افففف کون سا ٹائم تھا جو یہ پیدا ہوئ خان نے پورا بگڑ دیا اس ک۔۔۔

ماما ب۔بھوتنی ماما بھوتنی ۔۔۔

وہ خودی پھس چکی تھی یشفہ کے ہاتھوں جو اب اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں کو پورے روم کی طرف اشارہ کرتی شائستہ کو ہی ڈراے بول رہی تھی ۔۔۔۔

ہار تھک کر شائستہ اسے لیے صوفے پر بیٹھ چکی تھی تاکہ جنید کا ویٹ کر سکے ۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ ۔۔۔

لٹل بے بی ڈول تم ٹھیک ہو ۔۔۔

شفا اور احد نے کھانا کھا لیا تھا ۔۔

شفا تو سامان سمیٹ کر آرام سے روم میں چلی گی تھی وہ جو سوچ رہی تھی احد اس کے پیچھے اے گا جبکہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا وہ وہی ہال کے صوفے پر بیٹھ چکا تھا شفا روم میں بیٹھی یہی سوچتی رہی وہ کیسے احد کو روم میں بلاے اب بھی وہ بیڈ پر اکیلی بیٹھی ہوئ تھی جب اچانک باہر بادل گرجنے پر وہ چیخی تھی ۔۔۔

تبھی احد روم کی طرف اے فکرمندی سے بولا تھا ۔

ج۔جی میں ٹ۔ٹھیک ہ۔۔۔

فکر مت کرنا میں باہر ہی ہو جب زیادہ ڈر لگے تو مجھے بتانا میری جان ۔۔۔

احد روم میں آنے کی بجاے وہی کھڑے اس کی بات کاٹتے بولا تھا ۔۔۔

ہمممم۔۔۔

کیسے کہو اندر ا جاے یہ ۔۔

شفا اپنے ہاتھوں کی انگلیاں موڑوتی ہوی سوچ رہی تھی ۔۔۔

و۔وہ م۔مجھے پانی چاہے۔۔۔

شفا کو فضول سا بہانہ سوچ چکا تھا تبھی وہ بولی تھی جب احد الٹے قدموں کچن کی طرف پانی لینے گیا تھا ۔۔۔۔

یہ لو پانی ۔۔۔

پانی کا گلاس لیے وہ اندر آیا تھا جب شفا گلاس پکڑتی وہی سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔

وہ سوری مجھے گرمی لگ رہی تھی تبھی شرٹ ریمو کی ۔۔۔

شفا آنکھیں پھاڑے بس سامنے کھڑے شرٹ لیس احد کے سکس پیک دیکھ رہی تھی تبھی وہ تھوڑا سا شرمندہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ک۔کوئ بات نہ۔نہیں ۔۔۔

وہ جلدی سے خود پر قابو پاتی آنکھیں جھکاے گھبراتی بولی تھی احد کو ایسے دیکھ کر شفا کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی جیسے وہ مشکل سے کنٹرول کیے اپنی نظریں پھیر چکی تھی۔۔

و۔وہ نی۔۔۔

احد اس کی حالت دیکھ خودی چپ چاپ باہر چلا گیا تھا جبکہ شفا بس اتنا ہی بول سکی کیونکہ اسے سمجھ نہیں ا رہا تھا کیسے اسے روکے وہ ۔۔

ارے بابا کی جان کدھر جا رہی ہے ۔۔

آدھی رات کو جب جنید روم میں انٹر ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ بھاگ کر صوفے کے پاس آتے بولا تھا جہاں شائستہ خود صوفے پر آدھی بیٹھتی آدھی لیٹی تھی ٹانگیں اس کی ٹیبل پر تھی جبکہ یشفہ خود جاگتی اب بور ہو کر اسی کی ٹانگوں سے نیچے اترنے کی کوشش کر رہی تھی جب جنید نے اسے باہوں میں اٹھایا تھا ۔۔۔

ب۔بابا۔بابا م۔ماما بھوتنی ۔۔۔

جنید کا چہرہ دیکھ کر یشفہ خوش ہوتی اپنی اٹکتی زبان سے بولی تھی اپنی طرف سے اس نے بڑی معصوم سی شکل بنا کر بات کی تھی ۔۔۔۔

ہاہہاہاہاہاہہا ہاہاہہاہاہاہا میری جان کو پتہ چل گیا واقعی تمہاری ماما بھوتنی ہے ۔۔۔

شائستہ کو اپنی حالت سے بے خبر گہری نیند سوتے دیکھ جنید قہقہ لگاے سکون سے اس کے پاس بیٹھتے بولا تھا ۔۔۔۔

ادھر آو دھیان سے دیکھو یہ واقعی بھوتنی ہے پیاری سی ۔۔۔

جنید اب یشفہ کو اپنی گود میں بیٹھے خود شائستہ کی طرف جھکتے بولا تھا یشفہ بھی اپنے باپ کی نقل کرنے کی کوشش کرتی اس پر جھک رہی تھی ۔۔۔۔

ن۔نہیں م۔میرے بابا پ۔پیارے ہے ماما بھوتنی ۔۔۔۔

جنید جو شائستہ کے چہرے کے ہر نقش کو بڑی گہری نظروں سے دیکھ کر اپنی پیاس بجھانے میں بزی تھا جب یشفہ برا سا منہ بناے واپس جنید کا گال چومتی بولی تھی ۔۔۔۔

تمہاری ماما بہت پیاری ہے ۔۔۔

یشفہ تو جنید کے ساتھ لگی اس کے گال چوم رہی تھی جبکہ جنید کا پورا دھیان شائستہ پر تھا جو ابھی بھی گہری نیند میں ویسے ہی سو رہی تھی ۔۔۔

لو یو میری خانم تمہارا خان بہت محبت کرتا ہے تم سے ۔۔۔

اپنی بھاری انگلیوں سے اس کے نرم سے گالوں کو چھوتے جنید نے سرگوشی کی تھی اس کی سرگوشی ایسی تھی وہی سن سکا تھا ۔۔

بہت جلد میں اپنی خانم کو بتاو گا مجھے کتنی محبت ہے تم سے ۔۔۔

اپنی ہی سرگوشی پر وہ مسکراتے اب اس کی چھوٹی سی ناک کو چھومتے بولا تھا ۔۔۔۔

نہ کرو یشفہ میں جنید نہیں ہو جو بار بار چومنے لگ جاتی ہو ۔۔۔

نیند میں جنید کا لمس پاتے وہ بڑابڑتی ہوی جنید کی طرف منہ کرتی منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاے ایک تو لوگ جلتے بہت ہے مجھ سے کیا کرو میں ہو ہی حیسن ۔۔۔

اس کے کان میں ایک بار پھر سے سرگوشی کرتے اپنی باہوں کا حصار بناے سینے سے لگاے وہ وہی صوفے سے ٹک لگا چکا تھا ۔۔۔۔

ا۔احد۔

کیا ہوا سب ٹھیک ہے لٹل بےبی ڈول ۔۔

احد جو اکیلا ہال میں بیٹھا فون یوز کر رہا تھا جب اسے شفا کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔

تیز بارش کی وجہ سے لائٹ چلی گی تھی بلکہ اب تو یو پی ایس بھی ختم ہو گیا تھا صرف ہال اور شفا کے روم میں چھوٹی چھوٹی موم بتیاں جل رہی تھی ۔۔۔

وہ جو کافی دیر روم میں رہ رہی تھی آج موم بتیوں کی روشنی میں اکیلی بیٹھتی وہ ڈرتی ہوئ باہر آئ تھی جب وہ پریشان سا بولا تھا ۔۔۔

م۔مجھء ۔ڈر لگ رہا ہے اکیلے ۔۔۔

کم روشنی میں بھی وہ نروس سی رونی شکل بناے ویسے ہی کھڑی بولی تھی ۔۔۔

ڈر کیسا میری جان میں ہو نا اپنی جان کے پاس یہاں ا جاو ۔۔۔

نیم اندھیرے میں کھڑی وہ چھوٹی سی گڑیا احد کو اپنی سانسوں سے بھی زیادہ عزیز تھی جیسے وہ بے حد چاہتا تھا وہ اپنی شفا خانزادہ سے ایسی خاموش محبت کرتا تھا جیسے ایک روح کو سانسوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔

م۔میری گلاسز بھی ٹ۔ٹوٹ گے ۔۔۔

وہ ویسے ہی سر جھکاے بچوں جیسی شکل بناے بولی تھی جیسے ابھی رو دے گی ۔۔۔

جب وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تھی ہاتھ لگتے گلاسز فرش پر گرتی ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔

جب احد خانزادہ تمہارے پاس ہو تب ڈرنے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے بس مجھے محسوس کیا کرو ۔۔

میں تمہاری سانس تمہاری ڈھرکن تمہاری گلاسز ہو سب کچھ ہو میں تمہارا اب ریلکس رہو ۔۔۔

وہ سکون سے چلتا ہوا اس کے پاس جاتے کمر سے پکڑتے سینے سے لگاے کان میں سرگوشی کرتے بولا تھا ۔۔۔

جب شفا اپنی سانس روکے اس کے سینے سے لگی آنکھوں کو بند کرتی اس کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

احد کی بات سنتے اس کا دل اچانک پرسکون ہوا تھا ۔۔۔

ب۔بارش کیوں ہو رہی ہے ۔۔۔۔

احد کے کہنے پر وہ دونوں صوفے پر ایک ساتھ پاس ہو کر بیٹھ گے تھے شفا کے قریب آتے ہی احد نے فون چھوڑ دیا تھا وہ خاموشی سے اس کی چلتی سانسوں کو سن رہا تھا شفا جو پاس ہی بیٹھی تھی وہ کافی دیر سے خود کو مگن دیکھتے احد کے دیکھ رہی تھی جیسے شفا کو دیکھنے سے ضروری کوئ کام ہے ہی نہیں اس کے پاس ۔۔

تبھی وہ اس کا دھیان بھٹکانے کے لیے جو دل میں آیا بول چکی تھی ۔۔۔۔

آؤ باہر جا کر پوچھتے ہے بارش کیوں ہو رہی ہے ۔۔۔۔

وہ سجنیدہ سی شکل بناے اس کا ہاتھ پکڑتے بولا تھا ۔۔۔۔

ک

کیو۔کیوں مجھے نہیں جانا باہر بجلی گرج رہ ا۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہہہ۔۔۔۔

وہ جو اپنی دونوں ٹانگوں کو اوپر کیے ناراض بچے کی طرح اسی سے لڑ رہی تھی جب کھڑکی سے بجلی گرتی سنای دی تبھی وہ چیختی ہوئ اسی کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔۔

بس بارش اسی وجہ سے ہوئ ہے تم میرے پاس ا سکو ورنہ ویسے تو تم میرے قریب آتی ہی نہیں ہو ۔۔۔۔

وہ جو تیز ہوتی سانسوں کے ساتھ اس کے سینے سے لگی ہوئ تھی جب وہ اس کی کمر پر بکھرے بالوں کو سائیڈ پر کرتے سرگوشی کر چکا تھا ۔۔۔۔

گ۔گرمی لگ رہی ہے ت۔۔۔۔

تو میں اپنی جان کے لیے اے سی ہو دیکھنا نہیں لگتی گرمی تمہیں ۔۔۔۔

وہ جو کوئ بہانہ بناے اس سے دور ہونے کی کوشش کر رہی تھی جب احد اس کا چہرہ اوپر کیے اس کی گردن پر بہتے پسینے کو اپنے لبوں سے صاف کرتا بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا جب شفا پوری دل و جان سے اندر تک ہل گی تھی ۔۔۔

سوری میری جان میری وجہ سے تمہیں بہت سے غم ملے ہے پر میں وعدہ کرتا ہو تمہارے ہر غم کو ختم کر دو گا جو غلطی فہمی تمہیں ہ۔۔۔۔

ا۔احد ۔م۔مجھء مجھے سب پتہ لگ گیا ہے میں جانتی ہو آپ کی کوئ غلطی نہیں تھی ۔۔

کافی دیر وہ دونوں خاموش ایک دوسرے کی چلتی سانسوں کو سن رہے تھے جب احد آہستہ سے اپنے لبوں سے شفا کے کان کی لو کو چومتے ہوے بول رہا تھا جب شفا اپنا چہرہ اس کی کے چہرے کے قریب کیے ہاتھوں میں اس کی گال کو سہلاے بولی تھی ۔۔۔

تم کیسے جانتی ہو مطلب یہ سب ک۔۔۔

کل ابو کا خط اپنے ناولز کے بنڈل سے ملا جس میں انھوں نے بتایا تھا آپ کتنے اچھے ہے اور یہ بھی ان کی جان کو خطرہ ہے ناصر دشمن بنا پھرتا ہے میں سب جان گی ہو احد ۔۔

ک۔ک۔کتنا عرصہ آپ کو میں نے غلط سمجھا خونی سمجھا جبکہ ایسا کچھ نہیں تھا میں کتنی بڑی گناہگار نکلی اپنے ہی شوہر کو قاتل سمجھتی رہی میں ا۔۔۔۔

لٹل بے بی ڈول میری جان میری طرف دیکھو کیوں رو رہی ہو میں نے کچھ کہا کیا اپنی جان کو ۔۔

شفا جو اسی کی بات کاٹتی بولتی ہوی اچانک پھوٹ پھوٹ کر روی تبھی وہ تڑپتے ہوے اس کا ایک ایک آنسو اپنی انگلیوں سے صاف کرتا نرمی سے بولا تھا ۔۔۔

م

میں نے کتنا غلط سمجھا آپ کو م۔مجھء معاف کر دے پلیز ا۔۔۔۔

احد کے بار بار سمجھانے پر بھی جب شفا کے رونے میں کمی نہ آئ اور وہ دوبارہ روتی ہوی بول رہی تھی جب احد اسے گردن سے پکڑتے اپنے قریب کیے اس کے بھیگے لبوں کو اپنے دہکنے لب میں قید کرتا اس کی سانسوں کو روک چکا تھا ۔۔۔۔

وہ جو پہلے اس کی قربت و لمس سے تڑپتی تھی چڑتی تھی آج وہ سکون سے اس کا دیا یہ خوبصورت لمس محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

بہت ناصر جیل میں ہو گا پاپا ماما کو انصاف ملے گا میں وعدہ کرتا ہو مجھے بہت خوشی ہے تمہیں سب پتہ چل گیا ۔۔۔۔

کافی دیر اس کی سانسوں کا جام پینے کے بعد وہ اسے نرمی سے چھوڑے بھیگے لبوں پر انگلیاں چلاے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ وہ نڈھال سی اپنی سانسوں کو ہموار کرتی اسی کی گردن میں چہرہ چھپا گی تھی ۔۔۔

اب تو ڈر نہیں لگ رہا میری جان کو ۔۔۔

وہ کافی دیر ویسے ہی اس کی گردن میں چہرہ چھپاے ہوے تھی جب وہ اس کے بالوں کو سنوارتے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

ن۔نہیں ۔۔۔

جلدی سے دور ہوتی وہ گھبراتی بولی تھی اسے تو ہوش ہی نہیں تھا وہ کیا کر رہی ہے ۔۔۔

ڈرنا بھی نہیں احد خانزادہ ابھی زندہ ہے ۔۔

اسے دوبارہ اپنی باہوں میں لیتے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

ا۔احدددد روشنی بھی گی ہاےےے۔۔۔

وہ جو باہوں میں مچل رہی تھی اچانک پورے گھر میں اندھیرہ ہوتے دیکھ اسے زور سے ہگ کیے چیخی تھی۔ ۔۔۔

بلکل بھی نہیں جان اب ہی تو روشنی ملی ہے ہمارے رشتے کو اور میں چاہتا ہو یہ روشنی ہمشیہ ہمارے رشتے میں رہے جو بھی غلط فہمیاں تھی جو بھی گلے شکوے تھے وہ رات کے اندھیرے کی طرح ختم ہو چکے ہے اب یہ وہ روشنی ہے جس سے تمہاری ہر غلط فہمی دور ہوی ۔۔۔

اس کے چہرے کو اپنے چہرے کے قریب کیے وہ آہستہ آہستہ اس کے پورے چہرے کے ہر ایک نقش کو چومتے وہ مدہوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

و۔وہ ا۔اح۔احد ر۔ر۔۔۔اہہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔۔

شفا کو اندھیرے میں صرف اپنے چہرے گردن کان پر اس کا شدت بھرا لمس محسوس ہو رہا تھا اس سے پہلے وہ اپنی حد پار کرتا جب کھڑکی سے بجلی گرجنے کی آواز سنتے وہ چیختی ہوئ احد کے اوپر ہی گری تھی ۔۔۔۔

گرتے ہی شفا کے لب احد کے لبوں سے ٹچ ہوے تھے شفا جلدی سے دور ہونے والی تھی جب احد نے موقع کا فائدہ اٹھاے مسکراتے ہوے اسے زور سے اپنے حصار میں لیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ شفا اب خود کو کوس رہی تھی کیوں اس کے اوپر گری وہ جو اب مدہوش ہوا اس کی سانسوں پر راج کر رہا تھا ۔۔۔۔

گ۔گ۔گندے ۔۔۔

تھوڑی دیر کے لیے اپنی جان چھڑواتے شفا اپنے لال انگارہ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔

شکریہ میری لٹل بے بی ڈول۔۔

اپنی تعریف سنتے وہ خوشی سے کہتا دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا جب وہ بے بس ہوتی اپنی ہار مان گی تھی اس کے سامنے ۔۔۔

سو جاؤ میری جان میں یہی ہو ۔۔۔

شفا کو ایسے ہار مانتے دیکھ احد نرمی سے صوفے پر کروٹ چینچ کیے اسے سینے پر لیٹاے بالوں کو سنوارتے بولا تھا جب اپنے بالوں پر اس کی بھاری انگلیوں کا لمس پاتے وہ آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں جا رہی تھی ۔۔۔

احد خوش تھا شفا کو سب پتہ چل گیا ہے ۔۔۔

یہ ابھی تک سو رہی ہے یہ تو غلط ہے ۔۔۔

صبح جنید کی ہی آنکھ کھلی تھی جب شائستہ کو ویسے ہی اپنی گود میں سر رکھے سوتی دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔

جو گہری نیند ویسے ہی سو رہی تھی ۔۔۔

میری چوہیا سوتے ہوے کتنی شریف لگتی ہو معصوم سی ورنہ پورا پٹاخہ ہو ۔۔

شائستہ کی پلکوں کی جھالر کو ہلکا سا اٹھتا دیکھ وہ شرارتی انداز میں اسے صوفے پر سیدھا کرتا اس پر جھکتے چھوٹی سی ناک کو چھومتے بولا تھا مقصد شائستہ مکمل جاگ جاے ۔۔۔۔

(ہاں جیسے خود تو ننھے کاکے ہے جو مجھ پر ایسا طنز کر رہے ہے آب پیچھے بھی ہو جاؤ خانننننن)۔۔۔

اسے تنگ کرتے جنید کبھی اس کا چہرہ کبھی کان کبھی گردن ہاتھوں کو مسلسل اپنے لبوں سے چھوتے اس کی دھڑکن تیز کر رہا تھا جب وہ زور سے آنکھیں بند کیے سونے کا ڈرامہ کیے دل میں بولی تھی ۔۔۔

چہرے کے بگڑے تاثرات دیکھ وہ دل سے خوش ہو رہا تھا شدید غصہ اور شرم سے شائستہ کا چہرہ لال ٹماٹڑ ہو رہا تھا ۔۔۔۔

تم مجھے پہلے نہیں مل سکتی تھی کیا پہلے ملتی تو آج ہمارے بیس بچے ہوتے خانم ۔۔۔۔

شائستہ جو اس کی ہر شرارت کو بڑی مشکل سے برداشت کر رہی تھی اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں میں صوفے کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا جب جنید اپنا قہقہ روکتے آخری وار کر چکا تھا ۔۔۔۔

خانننننننننننن تم نے مجھے میشن سمجھا ہے کیا مطلب کچھ بھی بول ر۔۔۔۔۔

شرم سے پانی پانی ہوتی وہ اچانک اٹھتی شیرنی کی طرح اس پر حاوی ہوتی دھاڑتی اپنی حالت سوچتی ہوی چپ ہو گی تھی ۔۔۔۔

ارے خانم کیا ہوا نیند میں کچھ دیکھ لیا کہا اور یہ فیس اتنا ریڈ کیوں ہوا ہے بخار تو نہیں تمہیں ۔۔۔۔

اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے وہ سکون سے اس کے لال گال کو چھوتے معصوم بنتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

پ۔پیچھے ہو جانے دو مجھے ہر وقت تمہاری یہ شرراتیں مجھے اچھی نہیں لگتی ۔۔۔

اچانک وہ سنیجدہ ہوتی اپنا ڈوپٹہ کو تلاش کرتی بولی تھی ۔۔۔

اٹھا سکتی ہو تو اٹھا لوں۔۔۔

ڈوپٹہ جنید کی ٹانگ کے نیچے پڑا تھا جب وہ اسے ترسی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی تبھی وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

اٹھا لو ٹانگ اپنی ورنہ توڑ دو گی افففف کتنے موٹے ہو خان کم کھایا کرو مجھے لگتا یہ فوڈ ریسٹورنٹ کی چین جو تم نے بنای ہے خودی کھا کھا کر کسی دن پھٹ جاؤ گے اٹھاؤ ٹانگ ا۔ ۔۔۔

ہمت جمع کیے وہ مسلسل اس کی ٹانگ کو اپنے ہاتھوں سے اٹھانے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب اس کا روٹھا بچوں جیسا چہرہ دیکھ جنید خان نے کمر سے پکڑتے اپنے اوپر گرایا تھا جب وہ ٹوٹی ٹہنی کی طرح اس پر گری تھی۔ ۔۔۔

پھر کیا خیال ہے خانم ۔۔

اس کے جسم سے اٹھتی خوشبو میں مدہوش ہوتے وہ شرارتی انداز سے بولا تھا ۔۔۔۔

ک۔کس ۔۔

ہاے میری خانم کتنی پیاری ہے اپنی خان کے دل کی بات سن ہی لی تم نے ۔۔۔

وہ جو گھبراتی بول رہی تھی جب وہ اپنی آنکھوں میں شرارت لاے بولا تھا ۔۔۔۔

کون سی بات ۔۔۔

وہ ناسمجھی سے پوچھ بیٹھی تھی ۔۔۔

یہی کہ تمہیں کس چاہے میں ابھی دیتا ہو ۔۔۔۔

شائستہ کو سوچنے کا موقع دے بغیر وہ جلدی سے اپنی خواہش پوری کرنے اس کے لبوں پر جھکتے اپنا شدت بھرا لمس چھوڑ رہا تھا ۔۔۔۔

خ۔خان م۔میرا ڈوپٹہ دو۔۔۔۔

اسے سے بڑی مشکل سے جان چھڑواتے وہ جلدی سے اٹھتی ہوی بولی تھی ۔۔۔۔

بلکل بھی نہیں خانم ۔۔۔

اسے کمر سے پکڑتے بیک ہگ کیے وہ سکون سے بولتا اب اس کا رخ اپنی طرف کر چکا تھا ۔۔۔۔

تم کیا نہیں چاہتی ہماری یشفہ کا بھای اے چھوٹا سا ا۔۔۔۔

کون سا نشہ کیا ہے صبح صبح عیجب بول رہے ہو خان چھوڑو ۔۔۔۔

ایک بار پھر اس کے لبوں پر جھکتے وہ بول رہا تھا جب وہ آپے سے باہر ہوتی چیخی تھی ۔۔۔۔

مجھے چاہے بےبی بات ختم ۔۔۔

اسے اپنے قریب کیے وہ بولتا ہوا اس کی آواز کو دبا چکا تھا ۔۔۔

وہ جو خاموشی سے اس کی سانسوں کی مہک میں مدہوش تھا اچانک روم میں آنے والی شخصیت کو دیکھ جنید کو اتنا غصہ آیا تھا وہ شائستہ کے لبوں پر ہی ظلم ڈھانے لگ گیا تھا ۔۔۔۔

چ۔چھو۔چھوڑو جنگلی انسان یہ کیا طریقہ ت۔۔۔۔

جنید خان کا پہلے نرمی بھرا لمس پھر اچانک شدت بھرا لمس محسوس کیے وہ تڑپتی ہوی دور ہو کر بولتی ہوی اچانک چپ ہوئ تھی جب اس کی کمر کسی کے ساتھ ٹکرای تھی ۔۔۔۔

ت۔تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔

شائستہ نے جیسے ہی پیچھے موڑ کر دیکھا تو سامنے کھڑی سدرہ کو دیکھ وہ چیخی تھی ۔۔۔۔

ظاہر سی بات ہے خان کی بیوی ہو تو یہی او گی کیوں خان میں صیح کہہ رہی ہو ۔۔۔

وہ بے شرموں کی طرح ان دونوں کے سامنے کھڑی سکون سے کہتی جنید خان کا غصہ بڑھا چکی تھی جو خاموشی سے اپنی سرخ آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔۔

ہاں تمہاری بیوی آی ہے مل لو مسٹر جنید خانننننننن۔۔۔۔

اپنی حیثیت یاد آتے ہی اچانک شائستہ غصہ کنٹرول کیے کہتی وہاں سے ویسے ہی بھاگی تھی۔ ۔۔۔

کتنے ہی آنسو اس کی آنکھوں سے نکلے تھے سدرہ کو جنید کی آج بھی بیوی کے روپ میں دیکھ کر ۔۔۔۔

شائستہ شائستہ۔۔۔۔

وہ سدرہ کو اگنور کیے اس کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔۔