Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Last Episode)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Last Episode)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
“آج تو میرا بھائ شہزادہ لگ رہا ہے ۔۔۔۔”اسال نے مان کو دیکھتے ہوے کہا جو اس وقت سکن رنگ کی شیروانی میں ملبوس تھا ۔۔۔
“ویسے کم تو تم بھی نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔۔” مان نے اسال کو دیکھتے ہوے کہا
اسال اپنی تعریف پر ہنس پڑا ۔۔۔۔۔
اتنے میں کلثوم بیگم اور آسیہ بیگم اندر آئ ۔۔
“ماشااللہ کیسی کی نظر نا لگے ۔۔۔۔” کلثوم بیگم نے اس کی نظر اتاری ۔۔۔
“امی میں بھی ہو ۔۔۔” اسال منہ بنا کر بولا
“ایک تو یہ لڑکا بھی نا ۔۔۔” کلثوم بیگم نے اس کی نظر اتاری ۔۔۔۔
“جلدی کرو بھائ ۔۔۔ بابا کہہ رہے ہیں دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔” ہانی بھی چلاتی ہوئی اندر آئ ۔۔
“آرام سے ہانی ۔۔۔اپنی حالت دیکھی ہے ۔۔۔۔” آسیہ بیگم نے اس کی کو دیکھتے ہوے کہا ہانی نے اپنے آپ کو پورا ڈوپٹے سے کوور کیا ہوا تھا ۔۔۔
“امی میں تو وہ ۔۔۔” ہانی ان کی ڈانٹ سن کر خاموش ہو گئی ۔۔۔۔
“ہاں بیٹا چلو دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔” کلثوم بیگم بھی کہتی ہوئی باہر چلی گئی ۔۔ساتھ آسیہ بیگم بھی چلی گئی ۔۔۔۔
“واہ بھائ آج تو بڑے پیارے لگ رہے ہیں ۔۔۔ آج لڑکیوں نے ٹھنڈی آہیں بھرنی ہے ۔۔ ” ہانی شرارت سے بولی ۔۔۔۔
مان اس کی بات پر ہنس پڑا
“اور کیسی پر بجلیاں گرنی ہیں ۔۔۔”اسال بھی شوخی سے بولا
“چلو دونوں دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔” مان نے مسکراتے ہوے کہا اور خود آگے چل پڑا
اسال اور ہانی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرائے اور مان کا ہاتھ پکڑ کر کھنچا
“واہ بھائ بہت جلدی نہیں ہے آپ کو ۔ ۔۔۔۔” دونوں ایک ساتھ بولے
مان نے آنکھیں ترچھی کر کے انہیں دیکھا
“نا بھائ نا آج نہیں ڈرنے والے ہم ۔۔۔۔”اسال بے خوفی سے بولا ۔۔۔۔۔
“اچھا جی ۔۔۔” مان نے کہتے ہی اس کی گردن پکڑ لی
“بھائ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔ بھائ چھوڑو نا ۔۔۔۔۔” اسال اپنے آپ کو چھڑواتے ہوے بولا ۔۔۔۔اتنے آسیہ بیگم بھی آگئی ۔۔۔۔
“لڑکوں یہ کیا کر رہے ہو نیچے سب انتظار کر رہے ہیں دولہے کا ۔۔۔ بارات لے کر جانی بھی ہے یا نہیں ۔۔۔۔” آسیہ بیگم بولی
“نہیں چھوٹی امی ۔۔۔”مان بولتا انہوں نے پہلے ہی ایسے روک دیا اور بولی
“اچھا بس کرو جلدی آؤ نیچے بھائ جان اور ابو غصہ کر رہے ہیں ۔۔۔۔” وہ کہہ کر چلی۔ گئی ۔۔۔۔
“چلو جی چلتے ہیں۔ ۔۔ “ہانی بولی وہ دونوں بھی اس کے ساتھ چل پڑے ۔۔۔۔
“ویر میرا گھوڑی چڑیا ۔۔۔” اسال جاتے جاتے بھی شرارت سے باز نا آیا ۔۔۔
نیچے پہنچنے کے بعد وہ سب سے پہلے آفتاب شاہ سے ملا ۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد اپنے ابو سے اور پھر باقی بڑے لوگوں سے ۔۔۔
آفتاب شاہ نے مان کو سہرا باندھا ۔۔۔
“چلو بچو آگے ہی دیر ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔” اکرم شاہ بولے ۔۔۔
اور پھر سب لوگ گاڑیوں میں بیٹھ گئے ۔۔۔۔
اور مان صاحب اپنی دلہنیا لینے چل پڑے
★★★★★★★★★★
” bia…..you looking gorgeous”
نور نے بیا کو دیکھ کر چلای ۔۔۔۔
“نور یار کیا ہے کان کے پردے پھاڑ دیے ۔۔۔” اسماء اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ کر بولی
“اچھا تم بس کرو ۔۔۔۔ اور بیا تم ۔۔۔بیا یار تم کتنی پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔آج تو مان بھائ گئے ۔۔۔۔” نور شرارت سے بولی ۔۔۔
“نور مجھے یقین نہیں آرہا ہے ۔۔۔۔کہ میری محبّت میرا شاہ مجھے مل چکا ہے ۔۔۔ ” بیا مسکرا کر بولی
“ہاں واقعی ۔۔ ورنہ اس مایا نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی تمھیں اور مان بھائ کو الگ کرنے میں ۔۔۔۔۔ویسے وہ اب ہے کہاں ۔۔۔” نور منہ بنا کر بولی ۔۔۔نور کو مایا ویسے بھی پسند نہیں تھی اور جب سے اس نے بیا پر حملہ کیا تھا تب سے تو نور نفرت کرتی تھی مایا سے ۔۔۔
“وہ مایا ۔۔۔مایا کو اس کے تایا ابو کے پاس باہر بھیج دیا گیا ہے ۔۔۔۔۔کوئی نہیں چاہتا تھا کہ وہ یہاں رہے ۔۔۔۔ اور آمنہ پھو پھو نےاس کی طرف سے معافی مانگی اس لیے سب نے اسے معاف کر دیا اور میں نے بھی ۔۔۔۔”
بیا بولی ۔۔۔۔۔
“لیکن ۔۔۔” ابھی وہ کچھ اور بولتی اسماء شور مچاتی اندر آئ
“کیا ہے اب تم شور کیوں مچا رہی ہو ۔۔۔۔” نور غصے سے بولی ۔۔۔
“بارات آگئی ہے ۔۔۔” اسماء خوشی سے بولی
“سچی ۔۔۔۔!!”نور بھی چلائی
اسماء نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
بیا کی دل کی دھڑکن اچانک ہی تیز ہوئی ۔۔۔۔
نور اور اسماء دونوں ہی باہر چلے گئے بارات کا ویلکم کرنے ۔۔۔۔
B ★★★★★★★★★★
مان کو گھوڑی پر بیٹھایا گیا تھا اسال عامر اور باقی سب کزنز بھی اگے ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہے تھے ۔۔۔۔۔
مان نے اوپر نظر اٹھائ مگر بیا اس کو کہیں بھی نظر نہیں آئ ۔۔۔۔مان نے مایوسی سے نظر نیچے کر لی ۔۔۔
سب لوگ ہال کے اندر داخل ہوے ۔۔۔۔ان کا سب نے بہت اچھے طریقے سے ویلکم کیا
جب وہ لوگ اندر اے تو لڑکیوں نے پھولوں کی بارش کر دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسماء اور نور آگے بھر بھر کر پھول گرا رہی تھی ۔۔۔۔
مان کو اسٹیج پر بیٹھا دیا گیا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔” اسال نے نور کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔
نور فورا مڑی اسال کو دیکھ کر اس کی دھڑکن تیز ہو گئی فورا اپنے اوپر قابو پا کر بولی
“ایک تم جن کی طرح کہیں بھی ٹپک جاتے ہو ۔۔۔۔”
” تو کیا آپ میرے انتظار میں نہیں تھی ۔۔۔” اسال نے آئبرو اٹھا کر کہا
“ہم کیوں کرے آپ کا انتظار ۔۔۔۔؟” نور نے فورا کہا
“جی آنٹی میں جاتی ہوں ۔۔۔” اسال کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ نور آنٹی کا سہارا لے کر وہاں سے بھاگ گئی ۔۔۔۔
“نور تمھیں تو میں دیکھ لو گا ۔۔۔” اسال منہ بناتے ہوے بولا
مان جو کافی دیر سے بیا کا انتظار کر رہا تھا اسال اس کی کیفیت بھانپتے ہوے بولا
“بھائ آپ کا انتظار ختم ہوا ۔۔وہ دیکھ سامنے ۔۔۔”
مان سامنے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔۔
بیانے ڈیپ ریڈ کلر کا لہنگا پہنا ہوا تھا لمبے بالوں کا جوڑا بنایا ہوا تھا بیا بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔
مان نے جھک کر بیا کا ہاتھ تھاما اور اس کو اسٹیج پر لے گیا ۔۔۔۔
“کیوں آج میرا ایمان ڈگمگا رہی ہو ۔۔۔”مان نے بیا کے کان میں سرگوشی کی
مان کی سرگوشی نے اس کو سمٹ نے میں مجبور کر دیا
“لو پھر آگئی مانگنے ۔۔۔” اسال نے نور کو چھیڑنے کے لیے بولا اور وہ واقعی چھیڑ گئی
“او ہیلو ۔۔۔ تم سے نہیں مانگ رہے ہیں ہم اپنے بھائ سے مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔اور ویسے بھی یہ حق ہے ہمارا ۔۔۔۔۔” نور چٹاخ سے بولی
“اچھا لڑو نہیں ۔۔بتاؤ کتنے پیسے ۔۔۔۔” مان نے نور سے پوچھا
“بس 2 لاکھ ۔۔” نور مسکرا کر بولی
“بس لڑکی پچھلی بر عامر کی شادی میں 1 لاکھ مانگا تھا اور اب 2لاکھ ۔۔۔”اسال صدمے سے بولا 2لاکھ وہ بھی 1گلاس دودھ کی قیمت ۔۔۔
“نور یہ کچھ زیادہ نہیں ہے ۔۔” مان بھی بولا پڑا
“کیوں بھائ ہم۔ نے آپ کو اتنی پیاری اتنی معصوم ۔۔۔اتنی بھولی بھالی ہماری بہن بیا نہیں دی آپ کو ۔۔۔” نور معصومیت سے بولی ۔۔۔۔۔۔۔
“واہ جی واہ تو ہم اپنا پیار سا ۔۔۔معصوم سا ۔۔۔بھولا بھالا سا بھائ نہیں دے رہے ۔۔۔” اسال بھی اسی کے لہجے میں بولا
“اللّه پوچھ گا ۔۔۔”نور منہ بنا کر بولی
“وہ تو سب کو پوچھ گا کون سا مجھے اکیلے پوچھنا ہے ۔۔۔” اسال کہاں ہاتھ آنے والا تھا فورا بولا ۔۔۔
“بھائ آپ ہمیں پیسے دے رہے ہیں یا ہم اپنی دلہن لے جائے ۔۔۔” نور نے بیا کی طرف اشارہ کر کے کہا
“ہم غریبوں پر اتنا ظلم ۔۔۔۔” مان نے فورا بیا کا ہاتھ تھام کر لیا جسے وہ سچ میں لے کر چلی جائے گی ۔۔۔اس کی حرکت پر سب کا مشترکہ قہقہ لگا
کافی بحث کے بعد وہ لوگ 1 لاکھ لینے میں کامیاب ہو گی ۔۔۔۔
“ویسے اپنے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔” اسال نے نور کے کان کے پاس ہو کر کہا وہ جو پیسے سب کو دے رہی تھی اک دم سے پیچھے مڑی
“بہت ہی اچھا خیال ہے ۔۔۔اور یہ کیا تم بار بار مچھر کی طرح کان میں آکر ری ری کرتے ہو ۔۔۔” نور نے کان کے پاس ہو کر بات کرنے پر چوٹ کی
“اچھا جی اب ہم ری ری کرتے ہیں ۔۔۔” اسال اس کے پاس ہو کر ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اس کا اردہ سمجھتی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی ۔۔۔
اتنے میں رخصیتی کا شور اٹھا ۔۔۔۔
بیا نور اور اسماء کے گلے لگ کر بہت روی ۔۔۔۔اپنے بابا کے گلے لگ کر بھی بہت روی ۔۔۔
پھر قرآن کے سائے میں اس کو گاڑی میں بیٹھایا گیا ۔۔۔۔۔۔
اور گاڑی اپنے راستے پر چل پڑی ۔۔۔
★★★★★★★★★★
اس وقت وہ مان کے بیڈروم میں اس کے بیڈ پر سیج سجائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد مان اندر آیا ۔۔۔ اور دروازے کو لاک کیا ۔۔۔۔
بیا کو اپنی دل کی دھڑکن بھرتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔ مان آکر اس کے پاس بیٹھ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مان نے بیا سرد ہاتھ اپنے گرم ہاتھ میں لیا ۔۔۔ اور لبوں سے لگا لیا ۔۔۔۔
بیا نے اپنے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی مگر مقابل شاید چھوڑنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔۔
مان نے ہاتھ کی مدد سے اس کی تھوڑی پکڑ کر کر چہرہ اوپر کیا
“باربی ادھر دیکھو ۔۔۔” مان نے کہا
بیا نے اپنی پلکیں اٹھائی اور میں کی آنکھوں میں دیکھا مگر زیادہ دیر نا دیکھ سکی اور آنکھیں جھکا لی ۔۔۔۔۔
“باربی تمھیں پتا ہے میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہو کہ تم مجھے ملی ہو ۔۔۔”مان نے مسکرا کر کہا
“تم کچھ نہیں کہو گی ۔۔۔” مان نے بیا سے کہا
“میں بھی اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہو کہ آپ میری زندگی میں آئے ۔۔۔۔” بیا بھی مسکرا کر بولی ۔۔۔۔۔
مان نے اس کی پیشانی پر اپنے پیار کی مہر مثبت کی ۔۔۔۔۔۔
بیا کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا
مان مہبوت سا اس کے چہرے کو دیکھنے لگا جس پر کئی، رنگ بکھرے تھے پھر مان نے اس کا چھوٹا سا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا ۔۔اور اس کے چہرے پر جھک گیا ۔۔۔۔ بیا سٹپٹا کر فورا پیچھے ہوئی مگر مان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ اپنے طرف کھنچا وہ گڑیا کی طرح اس کی طرف کھنچتی چلی آئ ۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کے وہ کوئی اور گستاخی کرتا بیا نے اپنا ہاتھ فورا اس کے سامنے کیا اور بولی
“میری منہ دکھائی ۔۔۔”
مان بد مزہ ہو کر پیچھے کو ہوا ۔۔ ۔
اور پاس ہی پڑے سائیڈ ٹیبل کے ڈرا سے اک ڈیبی نکالی ۔۔۔۔
بیا نے سوالیہ نظروں سے مان کو دیکھا
مان اس کا سوال سمجھتے ہوے ڈیبی کھولی تو بیا پہلے تو دیکھ کر حیران ہوئی اور پھر خوش
“اجازت ہے ۔۔۔” مان نے پوچھا
بیا نے ہاں میں سر ہلایا مان نے اس کی انگلی میں وہ ہی نکاح والی رنگ پہنا ڈی ۔۔۔۔
“خوش ہو۔۔۔”مان نے اس سے پوچھا
“بہت ۔۔۔۔۔۔”بیا نے کہہ کر اپنا سر اس کے چوڑے کشادہ سینے پر رکھ دیا ۔۔۔ مان نے آہنی بازؤں سے اس کو اپنے احصار میں لے لیا ۔۔۔۔
یہ رات ان کی تکمیل کی رات تھی ۔۔۔۔۔۔باہر چاند چودوایں کے چاند کی طرح روشن تھا اور اپنی روشنی چارو اور پیھلا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
★★★★★★★★★★
after 2 years
“امی کچھ میرا بھی خیال کر لے ۔۔۔ دیکھیں نا اب تو میں ماموں بھی بن گیا ہو اور عنقریب چاچو بھی بنے والا ہو ۔۔۔۔اب آپ ہی سوچے بنا چچی کے چاچو کیسا لگے گا ۔۔۔” اسال کلثوم بیگم کے پاس بیٹھا ان کو۔ مسکا لگا رہا تھا
“اچھا ہی لگے گا تم اکیلے نہیں ہو جو چاچو بن رہے ہو بنا چچی کے ۔۔۔۔۔” ہانی سیب کھاتے ہوے بولی ۔۔۔
“بس کر کم کھایا کر موٹی ۔۔۔” اسال نے اس کے جسم پر چوٹ کی جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد وہ تھوڑا موٹی ہو گئی تھی ۔۔۔ اور اسال اسی بنا پر اس کو تنگ کرتا تھا ۔۔۔۔۔
ہانی نے پاس پڑے ہوے کشن اٹھائے اور اسال کو مارا مگر اس نے بڑی چالاکی سے کیچ کر لیے
“کیا کرتی ہو بچوں کے کھیلنے کی عمر میں خود کیچ کیچ کھیل رہی ہو ۔۔۔
“امی ۔۔۔” ہانی چلائی
“بیٹا ۔۔۔”کلثوم بیگم نے اس کو تنیبہ کی ۔۔
“امی اس کو چھوڑیں وہ سوچے نا جو میں نے کہا ہے ۔۔۔۔۔۔” اسال پھر بولا
“اچھا بیٹا سوچتے ہیں ابھی کیا عمر ہے ۔ ۔۔۔”کلثوم بیگم نے مصروفیت سے کہا
“امی میں نے کنوارہ نہیں مرنا ۔۔۔۔۔” اسال منہ بنا کر بولا ۔۔۔
“اچھا میں آج ہی تمہارے ابو سے بات کرتی ہو ۔۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی
“ami you are the best ami in the world .”
اسال چلا کر بولا اور ان کے گلے لگ گیا
“اچھا چل اب مجھے کام کرنے دے ۔۔۔” کلثوم بیگم نے اس کو سائیڈ پر کرتے ہوے کہا
اسال نے جلدی سے واٹس اپپ کھولی اور نور کو مسیج کیا
“بس تیار ہو جاؤ میری بننے کے لیے ۔۔۔۔” اور مسکرا دیا ۔۔۔۔۔۔۔
★★★★★★★★
“کیا شاہ آپ نا چھوٹے بچوں سے کم نہیں ہے بہت گند ڈالتے ہیں ۔۔۔”بیا نے کمرے میں بھکری ہوئی چیزوں کو دیکھ کر کہا
مان نے شیشے سے نظر اٹھا کر بیا کو دیکھا ان 2 سالوں میں وہ اور بھی خوبصورت ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔ اور اب تو وہ اس کو بہت بڑے عہدے پر فائز کرنے والی تھی ۔۔۔
مان آہستہ آہستہ اس کے قریب گیا اور اس کو اپنے احصار میں لیا
وہ جو اپنے کام میں مصروف تھی اچانک چونکی ۔۔
“شاہ ۔۔۔”
“جی شاہ کی جان ۔۔۔۔” مان مسکرا کر بولا ۔۔۔۔
“شاہ آپ کو دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔” بیا اس کے احصار میں کسماتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
“thank you “
مان نے اس سے کہا
“کس لیے ۔۔۔؟؟”بیا نے سوال کیا ۔۔۔
“اس کے لیے۔۔۔” مان نے اس کے وجود پر ہاتھ رکھ کر کہا جہاں ان کی محبت سانس لے رہی تھی .. ..
بیا نے شرم سے سر نیچے کر لیا اور پھر بولی
“شاہ یہ تو اللّه کی نوازش ہے جس کو چاہے نواز دے ۔۔۔۔۔”
“بے شک ۔۔۔” مان بولا ۔۔۔
“شاہ جائیے نا دیر ہو رہی ہے آپ کو ۔۔۔۔” بیا اس سے دور ہوتے ہوے بولی
“اب تو میں جا رہا ہوں آکر تمھیں پوچھا گا ۔۔۔۔۔۔” مان مصنوئی غصے سے بولا
“دیکھ گے ۔۔۔”بیا نے مسکرا کر کہا
مان نے اپنا بیگ اٹھایا اور چلا گیا ۔۔۔۔
★★★★★★★★
“ایک تو یہ مجھے صبح سے گھبراہٹ کیوں ہو رہی ہے ۔۔۔۔ جیسے کچھ ہونے والا ہے ۔۔۔ نہیں یہ میں کیا سوچنے لگ گئی ۔۔”بیا خود دے کہتی اپنے روم سے باہر آئ لیکن وہ کیا جانتی تھی کہ اس کو گھبراہٹ ایسے ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
آخری بات جو اس نے سنی جس نے اس کو ہوش سے بیگانہ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔
“امی بھائ کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ۔۔۔۔”
★★★★★★★★
بیا نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولی اور سامنے وہ ہی چہرہ تھا جس کی اس نے تمنا کی تھی ۔۔۔
“شاہ ۔ ۔۔۔”بیا نے آہستہ سے کہا
“لیٹی رہو ۔۔۔۔ ” وہ جو اٹھنے لگی تھی مان نے دوبارہ لیٹا دیا ۔۔
“آ ۔۔۔۔آپ ٹھیک ہیں نا ۔۔” بیا نے پرشانی سے پوچھا ۔۔۔۔
“بیا میں بلکل ٹھیک ہو اور دیکھو تمہارے سامنے کھڑا ہو ۔۔۔۔” مان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا
“یا اللّه تیرا شکر ۔۔۔”
بیا نے فورا اللّه کا شکر ادا کیا
“لیکن آپ کی تو گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا نا ۔۔۔”بیا نے پوچھا
“جان گاڑی کا ہوا تھا ایکسیڈنٹ مگر میں اس میں نہیں تھا ۔۔۔اور تم نے کیا اپنی حالت بنا لی ۔۔۔”مان نے اسے ہوسپٹل میں ماجودگی پر چوٹ کی ۔۔۔
اتنے میں دروازہ کھولا ۔۔ بیا نے دروازے کی طرف دیکھا تو اسال اندر داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کمبل میں لپٹا ہوا ایک ننا وجود بھی تھا اسال کےساتھ نور بھی اندر آئ ۔۔۔۔
تھنک یو بھابھی ۔۔۔ مجھے چاچو اور اس کو چاچی بنانے کے لیے۔ ۔۔۔۔۔” اسال شرارت سے بولا
“یہ ۔۔۔۔ “بیا نے مان کی طرف دیکھا
مان نے ہاں میں سر ہلایا اور بولا
“جی باربی یہ ہمارا پیار سا بیٹا ۔۔۔”
بیا نے اس کو گود میں لیا گول گلابی گال بلکل مان کی طرح کا تھا ایک چیز جو اس نے بیا سے چرائی تھی وہ ہونٹ کے پاس تل ۔۔۔۔
بیا کی آنکھیں خوشی سے نم ہو گی ۔۔۔
بیا نے اس کی پیشانی چومی اور بولی
“میلا شہزادہ ۔۔۔”
“اچھا اس کا نام تو بتا دے ۔۔۔۔” اسال نے کہا
مان اور بیا نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور بولے
“ارسل ارمان شاہ ۔۔۔۔”
“wow this is a great name …”
نور فورا بولی ۔۔۔۔
“بھابی ادھر لاے اس کو ۔۔۔۔” اسال نے بیا سے ارسل کو لیا
“واہ شہزادے تیرا نام تو میرے نام سے ملتا جلتا ہے ۔۔۔۔ ویسے یہ دیکھ تیری چاچی ۔ ۔۔۔” اسال نے نور کی طرف اشارہ کیا
“او ہیلو منہ دھو کر رکھو ۔۔۔ میں اس کی خالہ ہو چاچی نہیں ۔۔۔۔” نور نے اسال کو کہا جو اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
“اب تو جلدی کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔” اسال نے اس کو گھورتے ہوے کہا
اس کی بات پر مان اور بیا دونوں ہی ہنس پڑے ۔۔۔
باقی سب لوگ بھی اندر آگئے تھے ۔۔
“ادھر لاؤ میرے بچے کو ۔۔۔”کلثوم بیگم نے کہا
اکرم شاہ بھی بہت خوش تھے ۔۔۔۔
“آج تو مٹھائ بنتی ہے ۔۔۔۔” مرزا صاحب بولے
“جی جی بلکل ۔۔۔”اکرم شاہ نے بھی اس کی تائید کی ۔۔۔
“بابا ۔۔۔۔۔”بیا نے کہا
“نہیں بیٹا آج تمہاری نہیں سنا گا ۔۔ بھائ آج میں بہت خوش ہوں آخر میں نانا بن گیا ہو ۔۔۔۔۔” مرزا صاحب بولے
ان کی بات پر سب کا مشترکہ قہقہ گونجا ۔۔۔
بیا نے مان کا ہاتھ پکڑا اور دونوں نے مسکرا کر اپنی فیملی کو دیکھا ۔۔۔جو آج بہت خوش تھی ۔۔۔۔
یہ خوشیاں عارضی نہیں تھی بلکہ تاحیات کے لیے تھی ۔۔۔۔۔
محبت صرف وہ ہی اچھی ہوتی ہے جو پاکیزہ ہو نکاح کے بعد والی محبت ہی محبت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔
جو ہماری قسمت میں لکھا جا چکا ہے اس کو ہم بدل نہیں سکتے ۔۔۔۔
جو ہمیں ملنا ہے وہ ہمیں ملنا ہی ہے ۔۔۔۔ کوئی ہم سے وہ چھین نہیں سکتا ۔۔۔۔ جو ہماری قسمت میں نہیں ہے وہ ہم لاکھ چاہے مگر وہ ہمیں پھر بھی نہیں ملے گا ۔ ۔ ۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔مگر پھر بھی مایا جیسے کچھ لوگ ہی بات نہیں سمجھتے۔۔۔۔
★★★★★★★★★★
زندگی محبت ہے۔۔۔
محبت خوشبو ہے۔۔۔
خوشبو آرزو ہے۔۔۔۔
آرزو جستجو ہے۔۔۔۔۔
جستجو دیوانگی ہے ۔۔۔
دیوانگی بندگی ہے ۔۔۔
بندگی خواب ہے ۔۔۔۔
خواب آنسو ہے ۔۔۔۔
آنسو دھڑکن ہے ۔۔۔
دھڑکن دل ہے ۔۔۔۔۔
دل تو ہے ۔۔
تو زندگی ہے ۔۔۔۔
میری زندگی ہے ۔۔۔۔
