Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 01)

Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana

کہیں عشق کی دیکھی ابتدا

کہیں عشق کی دیکھی انتہا

کہیں عشق سجدے میں گر گیا

کہیں عشق سجدے سے پھر گیا

کہیں عشق درس وفا بنا

کہیں عشق حسن ادا بنا

کہیں عشق نے سانپ سے ڈسوا دیا

کہیں عشق نے نماز کو قضا کیا

کہیں عشق سیف خدا بنا

کہیں عشق شیر خدا بنا

کہیں عشق طور پر دیدار ہے

کہیں عشق ذبح کو تیار ہے

کہیں عشق نے بکا دیا

کہیں عشق نے شاہ مصر بنا دیا

کہیں عشق آنکھوں ک نور ہے

کہیں عشق کوہ طور ہے

کہیں عشق تو ہی تو ہے

کہیں عشق اللہ ہو ہے

**************

“تم نا جاؤ نا بیا ہمارا دل نہیں لگے گا ” نور افسردہ ہو کر بولی

“میرا جانا ضروری ہے تم لوگوں کو پتا ہے نا میں بابا کو اداس نہیں دیکھ سکتی ان کہ لئے مجھے پاکستان جانا ہی ہو گا”بیا بھی اداس تھی جانے سے مگر جانا بھی ضروری تھا۔۔۔۔۔

“میرا بھی دل نہیں لگے گا”اب کی بار اسماء بولی

وہ دونوں بیا کے پاکستان جانے سے دکھی تھی ان لوگوں کی دوستی ہی کچھ اسی تھی ایک پل بھی تینوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتی تھی ۔۔۔

ان لوگوں کے گھر بھی پاس پاس تھے ۔

ان لوگوں کی دوستی تب ہوئی جب بیا پاکستان سے لندن آئ ۔۔جب بیا صرف 6 سال کی تھی ۔۔

جب سے ان لوگوں کی دوستی تھی اور اب پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ ان سے دور جا رہی تھی

اس لئے کافی اداس تھی ۔۔۔۔

“لیکن ایک شرط پر”دونوں ایک ساتھ بولی

“مجھے سب شرطیں منظور ہے” وہ فوری بولی کیوں کہ وہ جانتی تھی کہ ان کی کیا شرط ہے ۔۔

“تم جانے سے پہلے ہمیں آئس کریم کھلاؤ گی اور وہ بھی ہماری پسند کی “اس نے حامی بھر لی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور ان کے ساتھ آئس کریم کھانے چلی گی۔۔۔۔۔۔

*****************

“کب آے گا وہ ” ہانیہ منہ بنا کر بولی جو کافی ٹائم سے اپنے گروپ کے ساتھ یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر کھڑی اسال کا انتظار کر رہی تھی ۔۔

اتنے میں اسال اپنی سپورٹ بائیک پر یونیورسٹی آیا اور ان کے پاس آیا ۔۔۔

“تم جلدی نہیں آسکتے”ہانیہ غصے سے بولی

“یار یونیورسٹی دو لوگ جلدی آتے ہیں ایک وہ جن کو پڑھائی سے پیار ہو جو مجھے تو نہیں ہے اور ایک وہ جن کا یہاں پیار ہو جو میرا نہیں ہے” آخری بات اس نے بہت مصومیت سے کہی ۔۔

اور وہ لوگ نا چاہتے ہوے بھی ہنس دئیے ۔۔۔

ان لوگوں کا گروپ ایسا ہی تھا یونیورسٹی میں ان کا گروپ “کزن گروپ” کے نام سے مشہور تھا ۔۔۔۔۔ یہ لوگ اپنے گروپ میں کسی کو بھی شامل نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔

“تو نے کنوارہ ہی مرنا ہے لکھوا لے مجھ سے ” اب کی بار عامر بولا

اور سب فلک شگاف ہنسے ۔۔۔۔ اور اسال منہ بنا کر کھڑا ہو گیا ۔۔

“مان نہیں آیا ابھی تک” اب کی بار مایا بولی جو کافی ٹائم سے اس کا انتظار کر رہی تھی اگر یہ کہا جائے کہ وہ یونیورسٹی آتی صرف مان کے لئے تھی تو یہ غلط نا ہو گا

مان اس کے ماموں کا بیٹا تھا اور اسے بچپن سے ہی پسند کرتی تھی اور یہ بات سب جانتے تھے مگر مان اس کو صرف اپنی کزن اور دوست مانتا تھا ۔۔۔۔

مان کے دادا یعنی آفتاب شاہ کےتین بیٹے تھے اکرم شاہ ،عقیل شاہ ،مرزا شاہ اور ایک بیٹی آمنہ تھی ۔۔۔

اکرم شاہ کی شادی ان کی کزن کلثوم سے ہوئی تھی اور ان کے دو بیٹے تھے ارمان شاہ ،اور اسال اور عقیل شاہ کی شادی اپنی بھابھی کی بہن آسیہ سے ہوئی تھی ۔۔جن کی ایک بیٹی تھی ہانیہ اور سب سے چھوٹے بیٹے مرزا شاہ نے اپنی پسند کی شادی کی تھی جس کی وجہ سے گھر والوں نے ان سے قطع تعلق کر لیا تھا ۔۔۔۔

آفتاب شاہ کی بیٹی یعنی آمنہ کی دو بچے تھے مایا اور عامر ۔۔ مایا کے برعکس عامر کافی اچھا تھا مایا کو اپنی خوبصورتی پر بہت ناز تھا اور وہ تھی بھی خوبصورت پوری یونیورسٹی کی خوبصورت لڑکی تھی اس لئے مغرور بھی بہت تھی ۔۔۔۔۔ مگر پھر بھی اتنی خوبصورت ہونے کے باوجود وہ مان کا دل نا جیت سکی ۔۔۔۔

ابھی وہ لوگ ہنسے میں مشغول تھے کہ ان کو مان کی سپورٹ کار آتی نظر آئ ۔۔۔

“وہ آیا شہزداہ”اسال جھٹ سے بولا

اتنے میں مان ان لوگوں کے پاس آیا اور سلام کیا

“تم کہاں تھے مان میں کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی ” مایا اس کے ساتھ لگتی ہوئی بولی

مان نے اس کو ایک نظر دیکھا جینز کے اوپر شرٹ پہنے ہوۓ بلاشبہ بہت حسین تھی مگر مان کو اسی لڑکیاں بلکل بھی پسند نہیں تھی جو اپنے حسن کی نمائش کرتی پھرے

“میں روز ہی اسی وقت پر آتا ہوں “وہ ناگواری سے کہتا ہوا اس کو اپنے سے الگ کر کے چلا گیا اور اس کے پیچھے باقی سب بھی چل دئیے ۔۔۔ اور وہ بھی غصے سے ان کے پیچھے چل پڑی ۔۔

_____________

وہ اب تھک کر ایک پارک میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔ اور پارک میں بچوں کو کھیلتا دیکھ رہی تھیں۔ ۔۔۔

“بیا “نور نے اسے پکارا جو نجانے کہاں کھوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

“ہاں ” بیا نے اسے جواب دیا جسے ابھی خواب سے جاگی ہو ۔۔۔۔

“ایک تو پتا نہیں تم بیٹھے بیٹھے کہاں کھو جاتی ہو” نور نے مصنوعی غصے سے کہا ۔۔۔

“ہاہاہا ۔۔۔ کہیں بھی نہیں میں ادھر ہی ہو”بیا نے ہنس کر بات ٹالنے کی کوشش کی ۔۔۔

“تمہارا وجود تو ادھر ہی ہے پر تمہارا ذہن کہیں اور ہے “نور نے بیا کو دیکھا جو تھوڑی پریشان دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔

“بس تھوڑا سا ڈر لگ رہا ہے کے میرے پاکستان جانے کا مقصد بھی پورا ہو گا یا نہیں ” بیا وہ بات بولی جو کافی ٹائم سے اس کو پریشان کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

“تم پریشان نا انشاءلله سب ٹھیک ہو گا اور تمہارا مقصد پورا ہو گا “اب کی بار اسماء بولی ۔۔

“امین ” دونوں ایک ساتھ بولی

تم نے تو اس کو دیکھا ہی نہیں ہے “اس بار اسما بولی ۔۔اس سی پہلے بیا بولتی نور بول پڑی

“بیا اگروہ کالا ہوا یا موٹا ہوا تو “۔۔۔۔نور نے شرارت سے بولی

“محبّت صورت سی نہیں دل سی ہوتی ہے اور مجھے دل سی محبّت ہے اس سے ۔۔۔اس سے رشتہ میرا روح کا ہے وہ جیسا بھی ہے قبول ہے “۔۔۔۔۔

ہر دم خیال یار

کرے غافل،کرے کافر🔥

“اچھا چلو بہت دیر ہو گی ہے “اس سے پہلے کہ نور بولتی اسما بول پڑی ۔۔۔

“ہاں چلو گھر چلتے ہیں کافی ٹائم ہو گیا ہے ۔۔بابا انتظار کر رہے ہو گے۔۔۔

اورایک یادگار دن کے بعد ان لوگوں نے واپسی کا سفر شروع کیا ۔۔۔

********

“اسلام علیکم امی ” مان نے گھر آکر اپنی امی کو سلام کیا

“آگیا میرا بچہ کیسا ہے ” کلثوم بیگم نے اس کو پیار کرتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔

“امی میں بھی آپ کا بیٹا ہوں مجھے بھی پیار کر لیا کرے” وہ پیار پر زور دیتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کے کلثوم بیگم بولتی ہانیہ بول پڑی

“تمھے تو کچرے میں سے اٹھایا تھا ۔۔۔ کیوں تائی امی “۔۔۔۔۔۔ وہ کچرے پر زور ڈالتی ہوئی بولی ۔۔۔۔

اس کے ساتھ ہی سب ہنس پڑے ۔۔۔۔ اور اسال ہانیہ کے پیچھے بھگا اور وہ کلثوم بیگم کے پیچھے جا کر چپ گئ۔ ۔۔۔

“امی ” وہ امی پر زور دے کر بولا

“ارے میرے بچے کو کیوں تنگ کر رہے ہو ادھر آ میرا بچہ ” کلثوم بیگم پیار سے بولی اور وہ ان کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔

کلثوم بیگم نے اس کا ماتھا چوما اور بولی

“تو میرا شہزداہ ہے ” اور وہ خوش ہو گیا

“اور امی میں ” مان مصنوعی خفگی سے بولا ۔۔۔۔

“تم دونوں میرے جان کا ٹکڑا ہوں”

“تائی امی میں بھی ” ہانیہ زور سے بولتی ہوئی ان کی باہوں میں چھپ گی ۔۔۔۔ اور سب ہنس دئے

یہ چھوٹی سی فیملی ہی ان کی دنیا تھی ۔۔۔۔

انہوں نے دعا کی کے ان کی فیملی ہمیشہ اسے ہی خوش رہے ۔۔۔۔

لیکن کافی بار جو ہم سوچتے ہیں وہ ہوتا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔

“اچھا اب بہت پیار ہو گیا کھانا کھا لو سب” اب کی بار آسیہ بیگم بولی

اسّلام علیکم چھوٹی امی کسی ہیں آپ “مان نے ان سے پیار سے پوچھا

“وعلیکم اسلام بیٹا میں ٹھیک ہو ” انہوں نے اس کے ماتھے کو چوم لیا۔۔۔۔

“ایک بیٹا تم ہو اور ایک یہ میری گندی اولاد ” انہوں نے ہانیہ کی کمر پر تھپڑ مارا ۔۔

“اف امی ۔۔۔۔۔!!!!” ہانیہ درد سے چلائی

“اسے نہیں کے آ کر ماں کو سلام کر لے “۔۔۔۔انہوں نے ہانیہ کو دیکھتے ہوۓ کہا اسال اس کی درگت بنتے ہوۓ دیکھ رہا تھا بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی ہوئی تھی آخر کار زور سے ہنس پڑا ۔۔۔

آسیہ بیگم نے اس کو بھی ہلکی سے چپت لگائی ۔۔۔ اور بولی

“تم کون سا آ کر سلام کرتے ہو کچھ سیکھو اپنے بھائ سے ” اور اسال منہ بنا کر رہ گیا کیوں کے اب ہنسے کی باری ہانیہ کی تھی ۔۔۔۔

اسی طرح ان کی نوک جھوک جاری رہی ۔۔۔۔

اور مان ان کو چھوڑ کر فریش ہونے اپنے کمرے میں چلا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *