Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 09)

Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana

“آبھی جاؤ ۔۔۔۔۔” بیا باہر کھڑی نور کا انتظار کر رہی تھی ۔

“آگئی ۔۔۔اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔۔۔۔”نور نے باہر آتے ہوے کہا ۔

“تمھیں پتا ہے نا کہ آج میچ ہے ۔۔۔اب جلدی بیٹھو آگے ہی بہت دیر ہو گئی ہے ۔۔۔۔” بیا نے کار میں بیٹھتے ہوے کہا

“ویسے بیا وہ جو کل ہمارے گھر آے تھے کتنے اچھے تھے نا ۔۔۔اور وہ ہانی وہ تو میری دوست بھی بن گئی ہے ۔۔۔۔۔”اسماء بچوں کی طرح خوش ہو کر بولی ۔۔۔۔اور بیا اس کی بات پر مسکرا دی

“ہاں ۔۔۔سب ہی اچھے ہیں سوائے اس لنگور کے ۔۔۔” نور منہ بنا کر بولی

“نور وہ اب اتنا بھی بورا نہیں ہے ۔۔۔۔” بیا نے اس کی طرفداری کی ۔۔

“ہاں تم تو اب یہ ہی کہو گے کیونکہ وہ تمہارا دوست جو ہے ۔۔۔۔دوست دوست نا رہا ۔۔۔۔” نور نے نقلی آنسوں صاف کیے

“اچھا اب زیادہ نا بنو ۔۔۔” اسماء نے اس کی کمر پر ہلکی سے چپت لگائی ۔

باقی سارا راستہ ان کا ایسی ہنسی مذاق میں گزرا ۔

************

“ابھی تک نہیں آئ وہ ۔۔۔” مان بولا جو کافی دیر سے بیا کا انتظار کر رہا تھا ۔

“آجائے گی بھائ ۔۔۔لیں چنے کھائیں ۔۔۔” اسال نے چنے والا ہاتھ آگے کو کیا ۔۔

مان ابھی اس کو کچھ کہتا پیچھے سے کیسی نے آواز دی

“ہیلو ہینڈسم ” مان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سامنے کرن کھڑی تھی ۔۔۔ دوسری یونیورسٹی کے فٹ بال ٹیم کی کپٹن تھی ۔۔۔۔

مان نے پہلے اس کو دیکھا جو نا مناسب لباس میں تھی اور پھر اس کے بھرے ہوے ہاتھ کو مان نے ناگواری سے منہ پھیڑ لیا

اس کو اپنی انسلٹ محسوس ہوئی ۔۔۔۔لیکن پھر بھی ہمت نا ہاری اور مان کے سامنے آگئی

“بندہ ہینڈسم ہوتو اس پر اٹیٹیود سجتا ہے ۔۔۔۔۔” کرن مسکرا کر بولی

اتنے میں کرکٹ ٹیم کا کپٹن عمر بھی آگیا ۔۔۔۔

دراصل وہ بھی مان کی شہرت سے جلتا تھا

اس کی یونیورسٹی کی لڑکیاں بھی مان پر مرتی تھیں اور آج تک وہ مان سے جیت نہیں پایا تھا ۔

اس کو دیکھتے ہوے اسال شرارت سے بولا

“عمر تیار ہو ہارنے کے لیے ۔

“وہ تو وقت بتایا گا ۔۔۔” وہ بولا

“تم لوگوں کا تو پتا نہیں پر فٹ بال میں تو ہم ہی جیتے گے ۔۔۔” کرن غرور سے بولی ۔

“او پھلجھڑی اس بار تو ہم ہی جیتے گے ۔۔۔۔” ہانی جلدی سے بولی ۔

اتنے میں بیا بھاگ کر آئ اور بولی

“او سوری سوری تھوڑی دیر ہو گئی ۔

سب نے اس دلربا حسن کو دیکھا کرن نے بھی اس کو دیکھا تو دیکھتی رہ گئی بیا کو دیکھ کر عمر کی آنکھوں میں ایک چمک آئ ۔۔۔جو مان نے صاف محسوس کی ۔۔۔۔۔۔۔ مان نے بیا کو دیکھا جو اس وقت لال رنگ کی شرٹ پہنے ہوے خود ایک گلاب لگ رہی تھی ۔۔۔۔ بیشک اس کا حسن گھائل کرنے والا تھا ۔۔۔۔۔ مان کا بس نہیں چل رہا تھا کے بیا کو اس وقت یہاں سے غائب کر دے

“بیا ان سے ملو یہ دوسری یونیورسٹی کی فٹ بال ٹیم کی کپٹن ہے اور یہ کرکٹ ٹیم کے ” اسال نے کرن اور عمر کی طرف اشارہ کیا جو اس کو یہ دیکھ رہے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیا ان سے ملی مان بیا کے ساتھ تھا ۔۔۔مان کے ساتھ ہونے سے بیا کو تحفظ محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔

ورنہ سامنے والے کی نظریں اس کو اپنے جسم سے آڑ پار محسوس ہو رہی تھی۔

“ویسے یہ حسن کہاں چھپا کر رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔” عمر ایک آنکھ دبا کر بولا

مان نے غصے سے اس کو دیکھا ابھی وہ کچھ کہتا نور آکر بول پڑی ۔

“او مسٹر ۔۔۔یہ ٹھرکی پن اپنی یونیورسٹی میں دکھانا ۔۔۔اور اپنی حد میں رہو ورنہ مجھے حد دکھانی آتی ہے ۔۔۔۔ چلو بیا “

اور ۔ بیا کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑی ۔۔۔ ان کے جانے کے بعد اسال اور مان نے ان کی کافی کچھ کہا

“بیا ۔۔۔۔۔۔” مان نے اس کو پیچھے سے پکارا

بیا نے رک کر اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

“تم ٹھیک ہو ۔۔۔؟؟” بیا نے ہاں میں سر ہلایا

ابھی آگے کو بھرتی اس کو پاؤں سلپ کر گیا

گرنے کی وجہ سے بیا کے بال کھل گئے تھے

مان نے فورا اپنی باہوں میں تھام لیا اور ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھنچا

اس کا چہرہ اور مان کا چہرہ ایک دوسرے کے پاس تھا اتنا پاس کے وہ دونوں ایک دوسرے کی سانسوں کو محسوس کر سکتے تھے

مان کا ایک ہاتھ بیا کی کمر کی گرد تھا اور دوسرے ہاتھ سے بیا کے بال جو منہ آگئے تھے ان کو کان کے پیچھے کیا اور بولا

“خیال رکھا کرو اپنا ۔۔۔ اپنے لیے نہیں تو میرے لیے ۔۔۔۔” اور اس کو تھوڑی دیر یوں ہی محسوس کیا اور پھر چھوڑ دیا ۔۔۔۔ بیا تو شرم سے سر ہی نہیں اٹھا سکی ۔۔

وہاں سے فورا ہی بھاگ گئی

“پاگل “مان نے مسکرا کر کہا

اس بات سے انجان کے کوئی اور بھی تھا جو سب دیکھ رہا تھا اور نفرت کی آگ میں جل رہا تھا

“مجھے تم سے آج ہی ملنا ہے ” کیسی سے کال پر بات کی اور وہاں سے ہٹ گیا ۔۔

**************

“جو کرنا ہے جلد کرنا ہو گا بیا کو ہر حالت میں مان سے دور کرو ” مایا اپنے سامنے بیٹھا ہوے انسان سے کہا ۔۔۔۔

“تم بس انتظار کرو دیکھو میں کیا کرتا ہوں ۔۔۔۔” سامنے والا شیطانی مسکراہٹ منہ اور سجائے بولا ۔۔

ہونا تو وہی ہوتا ہے جو ہماری قسمت میں لکھا ہوتا ہے ۔

کافی دافعہ ہم خدا کے فیصلوں کے خلاف جانے کے کوشش کرتے ہیں لیکن ہم جانتے نہیں ہیں کے خدا کے فیصلوں کے خلاف جانا ممکن ہی نہیں ناممکن ہے

_________

“بھائ چلے بھی “اسال کب سے مان کو بولا رہا تھا مگر مان آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا مان کافی ٹائم سے بیا کا انتظار کار رہا تھا مگر بیا تو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔

“مان تمھیں دیر ہو رہی ہے میچ سٹارٹ ہونے صرف 15منٹ رہ گئے ہیں “مایا جل کر بولی اسکو معلوم تھا کہ مان کیوں نہیں جا رہا ہے

اتنے میں مان کو بیا آتی نظر آئ مان کی آنکھوں میں چمک آئ ۔۔۔ مایا نے مان کی نظروں کا تقاقب میں دیکھا تو اور جل اٹھی

“یار تم کہاں رہ گئی تھی ہم سب تمہارا کب انتظار کر رہے تھے “اسال جلدی سے بولا

“وہ بس آرہی تھی نور نے دیر کر دی ۔۔۔”دراصل بیا خود ہی مان کے سامنے نہیں آنا چاہتی تھی ۔

“مجھے تو پہلے ہی پتا تھا کہ کچھ اس نے ہی کیا ہو گا ۔۔۔۔۔۔” اسال جان بوجھ کر بولا کیونکہ اسے نور کو تنگ کرنے میں بہت مزہ آرہا تھا ۔

“اوے مجھ پر الزام لاگنے کی ضرورت نہیں ہے میں نہیں یہ خود ہی نہیں آرہی تھی ۔۔۔شکر مانو میرا کہ میں اس کو لے آئ ” نور منہ بنا کر بولی ۔

“کیوں بیا تم کیوں نہیں آنا چاہتی تھی “مان کو پتا ہونے کے باوجود پھر بھی مان سے پوچھا

“میں ۔۔۔وہ میں۔ ۔۔” بیا کو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کے کیا جواب دے ۔۔۔۔۔ اتنے میں سر نواز آگئے

“تم لوگ یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔میچ سٹارٹ ہونے والا ہے ۔۔۔چلو جلدی ۔۔۔۔”سر کہہ کر چلے گئے

سر کے جانے کے بعد وہ سب لوگ بھی چلے گئے ۔۔۔۔

سب سے پہلے ٹاس ہوئی اور دوسری یونیورسٹی کی ٹیم ٹاس جیت گئی ۔

میچ سٹارٹ ہوا اور اسال اور مان اور ان کی ٹیم نے عمدہ کارکردگی دکھائی ۔۔۔۔اور انھیں جلدی ہی ساری ٹیم کو اوٹ کر دیا ۔

آب ان لوگوں کا بریک تھا ۔۔

مان اور باقی ٹیم ڈریسنگ روم میں بیٹھے میچ کی بات کر رہے تھے ۔۔۔۔ مان نے پانی پینے کے لیے بوتل اٹھائی اور پینے ہی لگا تھا کہ بیا نے جلدی سے آکر بوتل گرا دی ۔۔۔

مان بیا کو ڈریسنگ روم میں دیکھ کر حیران رہ گیا ۔۔۔اور یہ ہی حالت باقی سب کی بھی تھی ۔

“بیا یہ آپ کا لندن نہیں ہے کہ آپ کہیں بھی گس جاؤ ۔۔۔ یہ پاکستان ہے ۔۔۔اور اس طرح ایک لڑکی کو لڑکوں کے ڈریسنگ روم میں آنے کی اجازت نہیں ہے ۔۔”سر قمر غصے سے بولے

“سوری سر میں جانتی ہوں کہ یہ غلط ہے اس طرح میرا لیکن آنا بھی میری مجبوری تھی ۔۔۔۔” بیا نے جلدی سے کہا

“بیا کیا ہوا سب ٹھیک ہے کیا تم ادھر کیوں آئ ہو ۔۔” مان نے بیا کا ہاتھ پکڑ کر کہا

اسال بھی آواز سن کر آگیا ۔

“کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔وہ ۔۔وہ دوسری ٹیم کا کپٹن ہے نا وہ جس سے صبح مجھے ملوایا تھا “

“وہ عمر ” بیا کچھ بولتی اسال بول پڑا

“ہاں وہی اس نے تمہارے پانی میں کچھ ملایا تھا آگر تم اس پانی کو پی لیتے تو تم میچ نہیں کھیل سکتے تھے اور ہم میچ ہار جاتے ۔۔۔” بیا بولی

بیا کی بات سن کر سب حیران ہو گئے

“تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہو “سر قمر نے اس سے پوچھا

“سر میں نے خود ابھی سنا ہے وہ جب آپس میں بات کر رہے تھے ۔۔۔”پھر بیا نے ساری بات بتائی جوہ وہ بات کر رہے تھے ۔

“شکریہ بیٹا تم نے مان کو وہ پانی پینے سے بچا لیا اور معذرت چاہتا ہو کہ میں نے تمھیں اتنا کچھ کہہ دیا ۔۔۔۔۔”سر قمر نے بیا کو

“نہیں سر اس کی ضرورت نہیں تھی یہ میرا فرض تھا ۔۔”بیا نے مسکرا کر کہا اورباہر چلی گئی

مان بھی اس کے پیچھے گیا۔۔

مان نے بیا کا ہاتھ پکڑ کر کھنچا بیا اس سے ٹکراتی ٹکراتی بچی ۔۔

بیا نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

“تم نے مجھے کیوں بچایا ” مان نے پوچھا

“میں نےجو اندر کہا تھا وہ ہی اب کہو گی ” بیا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا لیکن زیادہ دیر وہ مان کی نظروں میں دیکھ نہیں سکی ۔۔

ہر بار ہی ایسا ہی ہوتا تھا وہ جب بھی مان کی نظروں میں دیکھتی تو اپنے لیے جذبات دیکھ کر آنکھیں نیچے کر لیتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور آج بھی ایسا ہوا تھا

“اچھا ۔۔۔۔مجھے لگا کے کچھ اور ۔۔۔۔”مان نے اس کو اپنے قریب کرتے ہوے کہا ابھی وہ کچھ اور کہتا اسال نے مان کو آواز دی

مان بیا کو چھوڑ کر اندر چلا گیا

بیا شکر ادا کرتی وہاں سے نکل گئی

*******************

میچ سٹارٹ ہو چکا تھا مان کی ٹیم کے پہلے چار کھلاڑی جلدی اوٹ ہو گئے اس کے بعد مان کیریز پر آیا

مان آتے ہی عمدہ کھیلنا شرو ع کر دیا

ایک اور کھلاڑی کے اوٹ ہونے کے بعد اسال آگیا

مان اور اسال نے عمدہ کھیلتے ہوے ٹارگٹ کے قریب آگئے

پورا گراؤنڈ میں خاموشی چھا گئی

آخری بال پر 6 سکور چاہیے تھے

“یہ میچ تو ہار گئے ” نور کہہ کر اٹھ گئی

“کیوں ” بیا نے اس سے سوالیہ نظروں سے دیکھا

“کیونکہ یہ لنگور کچھ بھی نہیں کر سکتا “نور ہنس کر بولی

ابھی اس نے کہا ہی تھا کہ پورے گراؤنڈ میں شور مچ گیا نور نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی آخری بال پر اسال نے چھکا مارا

مان اور اسال نے ایک دوسرے کے گلے مل کر مبارک دی باقی سب نے بھی ایک دوسرے کو مبارک دی ۔۔

ہانی مایا اور بیا بھی اٹھ کر چلی گئی نور بھی پیچھے پیچھے چلے گئی

ایک ایک کر کے سب نے ان کو مبارک باد دی ۔۔

نور نے جب مان کو مبارک دی تو اسال بول پڑا

“ویسے دیکھا جائے تو میچ تو میں نے جیتایا ہے مبارک تو مجھے بھی بنتی ہے ۔

اس کے اس طرح کہنے سے سب ہنس پڑے

نور نے پھر اس کو مبارک باد دی

اسال نے نور کو آنکھ ماری اور وہاں سے بھاگ گیا

نور منہ کھولے اس کو دیکھتی رہ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *