Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 14)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 14)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
“اسلام علیکم آنٹی ۔۔۔۔”بیا نے آکر کلثوم بیگم کو سلام کیا ۔۔۔۔۔
“وعلیکم اسلام ۔۔۔”انہوں نے مسکرا کر جواب دیا
“اور یہ کیا تم لوگ تیار نہیں ہوئی ابھی تک ۔” ان کو عام ڈریس میں دیکھ کر کلثوم بیگم نے کہا
“وہ آنٹی ہم۔ نے سوچا کام بہت کام ہو گا ہم آپ کی مدد کر دے گے ۔۔۔۔” بیا بولی
“ہاں یہ تم لوگوں نے بہت اچھا کیا ۔۔۔ یہاں کے تو سب کام مان اور اسال نے سمبھال رکھیں ہیں ۔۔۔ اور باقی تم لوگوں کے چاچو نے ۔۔۔۔ تم لوگ بس ایک کام کرو دلہن کو جا کر سمبھال لو ۔۔۔” کلثوم بیگم نے مسکرا کر کہا
ان کی بات پر وہ سب ہنس پڑی ۔۔۔۔اور سب ہانی کے روم کی طرف چل پڑی ابھی وہ تھوڑی آگے ہی گئی تھی کہ راستے میں آسیہ بیگم ان کو مل گئی اور ان کو دیکھتی ہی بولی
“شکر ہے بیٹا تم لوگ مل گئی ۔۔۔۔بیٹا ایک کام کر دو ۔۔”
“جی آنٹی ۔۔۔” سب ایک ساتھ بولی
“بیٹا یہ ڈریس وہ سامنے والے کمرے میں رکھ آؤ ۔۔۔میں ذرا نیچے جا کر باقی کام دیکھ لو ۔۔۔۔۔”وہ جلدی میں بولی
“میں رکھ آتی ہو بیا اور اسماء تم لوگ ہانی کے پاس جاؤ ۔۔۔۔ “نور بولی
“ٹھیک ہے ۔۔۔” وہ دونوں بول کر چل پڑی
نور جلدی جلدی روم میں گئی اور سوٹ رکھ کر ابھی موڑی ہی تھی کہ واشروم کا دروازہ کھولنے کی آواز آئ ۔۔۔۔۔۔
نور نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئی ابھی وہ چینخ مارتی کیسی نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر آواز دبا دی
★★★★★★★★★★★★
“ایسا کرتا ہو نور کے سامنے نہیں جاتا اس کا کیا پتا سب کے سامنے ہی میری کر دے ۔۔۔۔”اسال شیو بناتے ہوے سوچ رہا تھا
“پر آگر اس کے سامنے نہیں جاؤ گا تو پتا کیسے لگا کہ وہ مجھے پسند کرتی ہے یا نہیں ۔۔۔۔” وہ سوچتے ہوے بولا ۔۔
“ٹھیک ہے جو ہوتا ہے ہوتا رہے مگر جواب تو لے کر رہو گا ۔۔۔۔۔” وہ فائنل سوچتے ہوے بولا
وہ سوچتے باہر ہی نکلا تھا کہ سامنے نور کو دیکھ کر حیران رہ گیا ابھی وہ چینخ مارتی اسال نے جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
“یہ میرا وہم ہے کہ تم میرے سامنے ہو ” وہ خواب کی حالت میں بولا
نور نے اس کے پاؤں پر اپنا پاؤں مارا
اسال جلدی سے پیچھے ہوا ۔
“یہ کیا باتمیزی ہے ۔۔۔” اسال چلا کر بولا
“اب یقین آگیا کہ میں حقیقت میں ہوں ۔۔۔۔۔” نور اپنی مسکراہٹ چھپا کر بولی
“تم یہاں کیا کرنے آئ ہو میرے روم میں “وہ اس کے روبرو ہو کر بولا
“او تو یہ تمہارا کمرہ ہے ۔۔۔۔” نور روم کو ستائشی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی
“ویسے چاہو تو تمہارا بھی بن سکتا ہے ۔۔۔۔” اسال شوخی سے کہتا اس کے قریب ہوا
“ہنہ ۔۔۔ شکل دیکھی ہے ۔۔۔۔” نور بولی
“بہت بار دیکھی ہے اور جب بھی دیکھی منہ سے ماشاللہ ہی نکلا ہے ۔۔۔” اسال شرارت سے بولا
“خوش فہمی ہے ۔۔۔۔۔” نور اس کو پیچھے کرتے ہوے بولی ۔۔۔۔
“ویسے سوچ لو یہ اففر محدود مدت کے لیے ہے ۔۔۔۔” اسال بولتا ہوا پھر قریب آیا
نور نے اس کو پیچھے کیا اوردروازے کے پاس رک کر بولی
“سوچو گی ” وہاں سے بھاگ گئی اسال اس کے اظہار پر ہنس پڑا ۔۔۔
★★★★★★★★
“مان بیٹا ہال کا کام ہو گیا ہے “اکرم شاہ نے مان سے پوچھا
“جی بابا سب ہو گیا ہے آپ ٹینشن نا لے ۔۔۔”مان نے مسکرا کر جواب دیا
عقیل شاہ بھی آگئے
“اسال بیٹا ادھر آؤ ” انہوں نے اسال کو آتا دیکھ کر بلایا
“جی چاچو ۔۔۔”اسال ان کے پاس آکر بولا
” بیٹا وہ کھانے کا سارا انتظام دیکھ لیا ہے نا ۔۔۔۔” وہ بولے
“سب کچھ ہو گیا ہے ۔۔۔۔ آپ فکر نا کرے ۔۔۔” اسال بولا
“مان بھائ آپ یہ سامان گاڑی میں رکھ دے ۔۔۔” اسماء نے آکر مان کو کہا
اکرم شاہ اور عقیل شاہ نے اس چھوٹی سی پیاری سی لڑکی کو دیکھا
“بیٹا یہ ۔۔۔”انہوں نے اسماء کی طرف دلہ کر کہا
“بابا یہ ہماری دوست ہے ۔۔۔۔اسماء اور اسماء یہ ہمارے بابا ۔۔۔” اسال مسکرا کر بولا
“اسلام علیکم انکل ۔۔۔” اسماء نے ان کو سلام کیا
“وعلیکم سلام بیٹا “انہوں نے مسکرا کر جواب دیا
“بیٹا یہ تمھیں تنگ تو نہیں کرتا ۔۔۔” انہوں نے اسال کی طرف اشارہ کر کہ کہا
ابھی اسماء بولتی نور پیچھے سے بول پڑی
“انکل یہ بہت تنگ کرتا ہے ۔۔۔”
“اسال ۔۔۔۔۔”انہوں نے اسال کو غصے سے دیکھا
“بابا یہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔۔۔”اسال ان کے غصے سے گھبرا کر فورا بولا
“انکل میں جھوٹ بول سکتی ہو ۔۔۔” نور معصوم صورت بنا کر بولی
ابھی وہ کچھ بولتی اسماء بولا پڑی
“انکل یہ دونوں ایسے ہی ہیں چھوڑیں انہیں ۔۔۔”
انہوں نے دونوں کو دیکھا
“وہ لگتا ہے کوئی مجھے بولا رہا ہے ” نور نے جانے میں ہی عافیت جانی ۔۔۔۔
اسال بھی جلدی سے وہاں سے کسک گیا
ابھی نور جا ہی رہی تھی کہ اسال اس کے سامنے آگیا ۔۔
“کیا کہہ رہی تھی تم ۔۔۔؟” اسال اس کا ہاتھ پکڑ کر بولا
“میں ۔۔۔۔ میں تو کچھ بھی نہیں کہہ رہی تھی ۔۔۔۔”نور گھبرا کر بولی
“اچھا جی وہ جو۔ بابا کے سامنے کہہ رہی تھی کہ میں تمھیں تنگ کرتا ہوں ۔۔۔۔کب کیا میں نے ۔۔۔” وہ بولا
“آنٹی آپ ۔۔۔” نور فورا بولی
اسال نے جلدی سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔
نور اس کو پاگل بنا کر جا چکی تھی ۔۔۔
“ایک بار میری دسترس میں آجاؤ پھر بتاتا ہوں ۔۔۔” اسال خود سے بولا اور وہاں سے چلا گیا
★★★★★★★★★★★★
“اوف ہو کتنی دیر ہو گئی ہے اور کام بھی بہت پڑے ہیں ۔۔ “بیا خود سے ہی بولتی جا رہی تھی کہ کیسی نے اس کا ہاتھ کھنچ کر اس کو اندر کر لیا
بیا ابھی چینخ مارتی مان نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی اور بولا
“ششش۔ ۔۔۔چینخا مت میں ہو تمہارا شاہ ۔۔۔”
“آپ ۔۔۔۔آپ نے تو مجھے ڈرا دیا ۔۔۔ میں تو ڈر ہی گئی تھی کہ کس نے پکڑ لیا ۔۔۔” بیا جلدی سے بولی
مان نے بیا کو دیکھا اس نے آج لال رنگ کا شرارا اور اس کے اوپر گولڈن رنگ کی قمیض جس پر نفیس کام کیا ہوا تھا پہنا ہوا تھا بالوں کو کرلی کیا ہوا تھا ۔ہونٹوں اور ریڈ ہی لپسٹک لگائی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ نظر لگنے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
“کیوں آج میرا امتحان لینے پر ُتلی ہو ” مان گھمبیر لہجے میں بولا
اس کی بات سن کر بیا کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے ۔۔۔۔
“شاہ ۔۔۔۔” بیا نے مان کو پکارا
“ہمممم ۔۔۔” مان مدہوشی کی حالت میں بولا
“پلیز چھوڑیں ۔۔۔سب انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔۔” بیا اس کی قربت میں کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔۔
“چھوڑنے کے لیے تھوڑا پکڑا ہے ۔۔۔۔” مان شرارت سے بولا مان کہہ کر اس پر جھک گیا ابھی وہ کوئی گستاخی کرتا باہر لڑکیوں کی چینخے کی آواز آئ
“بارات آگئی ۔۔۔”
“شاہ چھوڑیں بارات آگئی ہے ۔۔۔” بیا بولی
“اوکے لیکن صرف اب کے لیے ۔۔” مان نے اس کے گال کو چھو کر بولا
