Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 05)

Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana

“بچوں جلدی آجاؤ سب ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے” آسیہ بیگم نے سب کو آواز دی

“آگئے چھوٹی امی ” اسال جلدی سے سیڑھیاں پھلانگ کر آیا اور جلدی سے کرسی پر بیٹھ گیا اس کے ساتھ ہانی اور مان بھی آگئے

“آرام سے لڑکے گر جاتے تو بچپن والی عادت جائے گی نہیں نا تیری “آسیہ بیگم نے اسے کہا

“کچھ نہیں ہوتا آپ کا بیٹا بڑا ہو گیا ہے اب “اس نے اپنی شرٹ کی کالر پکڑ کر کہا

اس سے پہلے آسیہ بیگم کچھ بولتی آفتاب شاہ اندر آتے نظر آئے

“السلام علیکم دادا جانی “مان نے جلدی سے سلام کیا

“وعلیکم اسلام بیٹا “انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا

“بابا جان آپ بھی ناشتہ کر لے “اب کی بڑ کلثوم بیگم بولی

“ہاں میں ابھی آتا ہو فریش ہو کر “اور وہ اپنے روم میں چلے گئے تھوڑی دیر بعد واپس آے

اور ناشتہ کرنے بیٹھ گئے ۔۔۔

“تم لوگوں کو شرم نہیں آتی اتنے بڑے ہو گۓ ہو مگر بچوں کی طرح لڑنا مت چھوڑنا ” انہوں نے اسال اور ہانی کو کہا جو آپس میں لڑ رہے تھے ۔۔۔

“دادا جانی یہ مجھے تنگ کر رہا ہے “ہانی نے رونی صورت بنا کر بولی

“دادا جی یہ جھوٹ بول رہی ہے پہلے اس نے مجھے تنگ کیا ہے ۔۔۔” اسال جلدی سے بولا

ابھی وہ کچھ بولتے مان جلدی سے بول پڑا

“بس چپ کرو دونوں دادا جی آج آپ نے بہت دیر کر دی آنے میں “

ابھی وہ کچھ بولتے گلابوں نے آکر کہا

“بڑے صاحب آپ سے کوئی لڑکی ملنے آی ہے “

“اب سمجھ آی دادا جی آج دیر سے کیوں آے ہیں ۔۔” اسال کہاں چپ رہنے والا تھا جلدی سے بول پڑا

“شرم کرو شرم”ہانی نے اس کو شرم دلائی

“کون ہے گلابوں ۔۔؟ مان نے ان دونوں کو نظر انداز کر کے پوچھا

“پتا نہیں چھوٹے صاحب اسے آج پہلی مرتبہ دیکھا ہے” گلابوں بولآ

“نام پوچھا ۔۔؟” اس بار دادا جی نے بولا

“نہیں صاحب لیکن لڑکی بلکل پری جیسی ہے ۔۔ بہت سوہنی ہے صاحب ” گلابوں شرما کر بولا

اس کے اس طرح کہنے پر اسال اور ہانی کا ہنسی کا غبارہ چھوٹ پڑا

گلابوں 15 سال کا لڑکا تھا اس کا نام تو گلاب خان تھا مگر اسال اس کو گلابوں کہتا تھا اور اس کے ساتھ ہی سب نے کہنا شروع کر دیا

“اچھا تم۔ ایسا کرو ان کو اندر لے آؤ “دادا جی نے جواب دیا

اور گلابوں چلا گیا

جب لڑکی اندر آئ تو اس کو دیکھ کر سب حیران ہو گئے

B***********

ابھی ٹائم ہے یونی جانے میں کیوں نا میں باہر کا چکر لگا آؤ ” بیا نے اپنے دل میں سوچا اور وہ باہر جانے لگی

“چھوٹی بی بی آپ کہاں جا رہی ہیں “گارڈ نے بیا سے پوچھا

“میں بس ابھی ای باہر گھومنے جا رہی ہو ” بیا نے جواب دیا

“میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں ” گارڈ نے کہا

“نہیں میں ابھی آجاؤ گی آپ رہنے دے ” بیا نے کہا اور وہ چلی گی

بیا پارک میں چلی گی اور وہاں کے حسین نظارے دیکھنے لگی کافی تعداد میں وہاں لوگ ماجود تھے

بیا کی نظر اپنے سامنے سے جاتے آدمی پر پڑی

اس آدمی نے ایک بچے کو پیسے دیے اور اپنا وائیلٹ واپس جیب میں رکھا لیکن وہ جیب میں جانے کے با جائے زمین پر گر گیا

بیا نے وہ پرس اٹھیا اور اس آدمی کو آواز دی مگر اس نے سنی نہیں

بیا ان کے پیچھے چل دی اور ساتھ آواز بھی دیتی رہی مگر اس نے نہیں سنی

بیا نے دیکھا کے وہ آدمی ایک گھر کے اندر چلا گیا ہے

دیکھنے میں گھر تو بہت خوبصورت تھا گھر کے باہر شاہ والا لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

بیا اندر جانے لگی تو گارڈ نے اس کو روک لیا اور بولا

“کس سے ملنا ہے آپ کو بی بی ۔۔۔؟”

بیا کو کچھ سمجھ نہیں آئ کہ وہ کیا بولے آخر ہمت کر کے بولی

“وہ جو ابھی اندر گئے ہیں نا ان سے ملنا ہے مجھے “

گارڈ نے ایک نظر بیا کو دیکھا اور کیسی کو آواز دی

جب وہ لڑکا آیا تو بیا کو بہت ہنسی آئ کیوںکہ گارڈ نے گلابوں کہ کر پکارا تھا مگر وہاں ایک لڑکا تھا

گارڈ نے اسے کچھ کہا اور وہ اندر چلا گیا

تھوڑی دیر بعد جب وہ باہر آیا اور اندر آنے کا پیغام دے کر چلا گیا

بیا اندر کی طرف چل پڑی بیا نے اندر آتے ہی گھر کو دیکھا اور بولی

“بیوٹیفل ” گھر جتنا بھر سے خوبصورت تھا اس سے زیادہ اندر سے خوبصورت تھا

بیا کی نظر جب دائیں طرف پڑی تو حیران رہ گی کیونکہ وہاں کوئی اور نہیں اسال ہانی اور مان بیٹھے تھے

یہی حال ان لوگوں کا تھا

“بیا تم ۔۔۔۔۔۔!”اسال چلا کر بولا

اس کے اس طرح چلا کر بولنے پر آسیہ بیگم اور کلثوم بیگم بھی کچن سے باہر آگئی

جب کلثوم بیگم نے سامنے دیکھا تو دیکھتی رہ گئی سامنے کھڑی لڑکی خوبصورت نہیں بہت ہی خوبصورت تھی

لال رنگ کی لونگ شرٹ پہنے ہوۓ تھی بالوں کو باندھا ہوا تھا اور دوپٹے کو مفلر کی طرح لیا ہوا تھا

“what a pleasant surprise ..”

ہانی بولتے ہوۓ اگے آی

“وہ میں ۔۔میں تو وہ “بیا کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا بولے سب ہی اس کو دیکھ رہے تھے

“تم اداس ہو گی تھی میرے بنا ” اسال شرارت سے کہتا ہوا آگے کو آیا

“چھوٹے صاحب میں نے کہا تھا نا پری آئ ہے ” گلابوں نے کہا

اس کی بات پر سب ہنس پڑے

“بیٹا تم کیوں کھڑی ہو آؤ بیٹھو ” آسیہ بیگم نے اسے پیار سے کہا

“السلام علیکم انٹی “بیا نے انھے سلام کیا

“چلو بھائ آج جانا نہیں ہے کیا ” مایا بولتی ہوئی اندر آئ لیکن اندر کے منظر کو دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا

“بیا تم یہاں “عامر بھی اس کے ساتھ آیا تھا بیا کو وہ بھی دیکھ کر حیران ہوا

“وہ میں یہ دینے آئ تھی “اس نے وائیلٹ کی طرف اشارہ کیا

وہ انکل آپ کا وائیلٹ پارک میں گر گیا تھا میں نے آپ کو بہت آواز دی پر آپ نے سنی نہیں ۔۔” بیا نے ان کو وائیلٹ دیتے ہوے کہا

“شکریہ بیٹا اور سوری کہ تمہیں تکلیف اٹھانی پڑی ” وایئلٹ لیتے ہوۓ انہوں نےکہا

“کوئی بات نہیں انکل ” بیا نے مسکرا کر کہا مان تو اس کی مسکراہٹ میں ہی کھو گیا

اور مایا مان کی نظریں بیا پر محسوس کر چکی تھی اور جل اٹھی

کلثوم بیگم بھی اس کے حسن کی داد دیے بغیرنا رہ سکی

“آؤ بیا ناشتہ کر لو تم بھی ” ہانی نے اسے کہا

“نہیں یونی سے دیر ہو رہی ہے مجھے جانا ہے ” بیا نے جلدی سے کہا

“ہاں ٹھیک ہے تم چلو ہم بھی آتے ہیں ” مایا نے منہ بنا کر کہا

بیا جانے ہی لگی جاتے جاتے رک گی

“ایک پروبلم ہو گی ہے ” بیا رونی صورت بنا کر بولی

“کیا ھو ۔۔” مان جلدی سے بولا

سب نے اس کو حیران نظروں سے دیکھا یہ وہ ہی مان ہے جو لڑکیوں سے دور رہتا تھا آج لڑکی سے بات کر رہا ہے

“ہاں ہاں بیا بولو کیا ہوا بھائ ہیں نا تمہاری مدد کرنے کے لیے ” اسال شرارت سے بولا

“وہ مجھے گھر جانا ہے ” بیا رونی صورت بنا کر بولی

“ہاں تو جاؤں “مایا منہ بنا کر بولی

“مایا ۔۔” دادا جی نے رعب دار آواز میں کہا

“وہ مجھے گھر کا راستہ نہیں معلوم ” بیا رونے والی ہو گی

“ہاہاہاہا بیا تم بچی ہو کیا جو گھر کا راستہ نہیں معلوم ۔۔” اسال نے ہنس کر کہا

“اسال چپ رہو تمہں معلوم ہونا چاہیے کہ بیا پاکستان میں نئی ہے اس کو راستہ کیسے معلوم ہو گا ” پھر مان نے بیا کو مخاطب کیا

“بیا کوئی ہنٹ دو تاکہ تمہارے گھر کا پتا چلے ” میرے ساتھ تو آج تک پیار سے بات نہیں کی ” مایا نے دل میں سوچا

“آپ بس مجھے پارک تک چھوڑ دے آگے میں خود چلی جاؤ گی ” بیا نے بس اتنا کہا

“میں بھی ساتھ چلو گا تمہارا گھر بھی ساتھ دیکھ لو گا “

“بیٹا آپ پریشان نا ہو مان بیٹا تھمں گھر چھوڑ دے گا ” دادا جی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا

سب باہر کو چل پڑے

مان ابھی گاڑی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ بیا کے چینخنے کی آواز آئ

اس نے جلدی سے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بیا بھاگ کر آئ لر اس کہ گلے لگ گی

مان کو لگا کہ اس کی سانس بس یہاں ہی اٹک گی ہے ۔۔۔

“بیا کیا ہوا ۔۔۔” مان نے اس سے پوچھا

“وہ ۔۔وہ ” وہ صرف لیفٹ سائیڈ کی طرف اشارہ کر رہی تھی

“ٹونی کیا کر رہے ہو ” اسال نے آکر ٹونی کی رسی کو پکڑا جو بلکل بیا کہ پاس بھونک رہا تھا

“بیا ریلکس ۔۔ مان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا

بیا کو جب اپنی جلد بازی کا احساس ہوا تو جلدی سے پیچھے ہوئی مان نے اس کے چہرے کو دیکھا جو شرم سے لال ہو رہا تھا.

“سوری ” بیا نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوے کہا

“کوئی بات نہیں بیا ہو جاتا ہے کبھی کبھی ۔۔ میرے بھائ کو دیکھ کر ویسے بھی لڑکیاں اپنا ہوش کھو بیٹھتی ہیں ” اسال نے شرارت سے کہا

“اسال ۔۔۔!” مان زور دے کر بولا

اس کہ بعد وہ لوگ چلے گئے

اور پیچھے مایا جل کر رہ گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *