Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 15)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 15)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
“بارات آگئی ۔۔۔بارات آگئی ۔۔۔” نور چلاتے ہوے روم میں آئ
سب لڑکیاں بارات دیکھنے کے لیے چلی گئی
“چلو ہانی تم بھی اپنی بارات دیکھ لو ۔۔۔۔ “نور نے ہانی کو آنکھ مار کر کہا
“نور ۔۔۔” ہانی شرما کر بولی ۔۔۔۔۔
“نور تنگ مت کرو ہانی کو ۔۔۔” بیا نے آکر کہا
“اچھا جی چلو بھائ ہم تو جا رہے ہیں بارات دیکھنے تم بھی آجانا ۔۔۔۔۔” نور کہ کر چلی گئی
“ہانی تم خوش تو ہو نا ۔۔۔” بیا نے ہانیہ سے پوچھا
“تم یہ کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔۔” ہانی نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔۔۔۔
“نہیں ویسے ہی ۔۔۔۔۔” بیا نے مسکرا کر کہا
“بیا تمھیں میں بتا نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہو ۔۔۔ بیا عامر میری بچپن کی محبّت ہے ۔۔۔۔ میں نے اس کے سوا کیسی کو بھی نہیں چاہا ۔۔۔ بیا محبّت نا ایک بار ہی ہوتی ہے اور وہ مجھے عامر سے ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ ” ہانی بولی تو اس کے لہجے میں عامر کے لیے محبّت ہی محبّت تھی
“اللّه تم دونوں کو خوش رکھے ” بیا نے دل سے دعا دی ۔۔۔۔۔
“آمین ” ہانی نے مسکرا کر کہا
“چلو آؤ بارات دیکھتے ہیں ۔۔۔۔” بیا نے بھی شرارت سے کہا
وہ دونوں بھی بارات دیکھنے چلی۔ گئی
عامر گھوڑے پر بیٹھا کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔ اس نے سکن رنگ کی شیروانی پہنی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس کے دوست سب ڈانس کر رہے تھے
عامر کی نظریں ہانی کو ڈھونڈ رہی تھی ۔۔۔۔
عامر نے جب اوپر دیکھا تو اسے بیا کے ساتھ ہانی کھڑی نظر آئ اسی وقت ہانی نے دیکھا تو عامر نے اس کو آنکھ ماری ۔۔۔
ہانی نے شرما کر منہ نیچے کر لیا
“ہانی چلو روم میں اور میں جا رہی ہو نیچے ۔۔۔” بیا نے کہا
ہانی کو روم میں چھوڑ کر بیا نیچے آگئی ۔۔۔
لڑکیاں ہاتھوں میں پھول لیے لڑکوں والوں کے استقبال کے لیے کھڑی تھی۔ ۔۔
ہانی بھی جلدی سے آکر ان کے ساتھ کھڑی ہو گئی ۔۔۔
سب سے آگے دولہا تھا ساتھ ہی مایا تھی ۔۔۔وہ آج بہت خوش تھی ایک تو اس کے بھائ کی شادی تھی اور دوسرا اس کو اس کی محبّت ملنے والی تھی ۔۔۔۔
لڑکے والے جیسے جیسے اندر آرہے تھے لڑکیاں ان پر پھول برسا رہی تھی ۔۔۔۔۔
بہت اچھے طریقے سے ان کا استقبال کیا گیا ۔۔۔۔
دولہے کو اسٹیج پر بیٹھایا گیا ۔۔۔
“ویسے عامر ابھی بھی ٹائم ہے بھاگ جا نہیں تو ساری عمر قید میں رہنے کے لیے تیار ہو جا ۔۔۔”اسال منہ پر بلا کی سنجیدگی لاے بولا
“ہم تو ساری عمر اس قید میں رہنے کے لیے تیار ہیں ۔۔۔” عامر بھی شرارت سے بولا
“یہ دیکھو جورو کا غلام شادی ہوئی نہیں اور ابھی سے بیوی کی طرف داری کرنے لگا ۔۔۔” اسال فورا بولا
“او ہیلو ۔۔تم کیوں جل رہے ہو ۔۔۔” نور نجانے کہاں سے آگئی اور اس کی باتیں سن کر فورا بولی ۔۔۔۔
“جلتی ہے میری جوتی ۔۔” اسال بھی فورا بولا
“ہنہ ۔۔۔جل ککڑا ۔۔۔” نور بھی فورا بولی
پھر اس کے بعد نکاح پھڑوایا گیا سب نے دولہا اور دلہن کو مبارک بعد دی ۔۔۔۔
ہانی کو عامر کے ساتھ لا کر بیٹھایا گیا ۔۔۔ عامر کی بار بار نظر ہانی پر جارہی ہے ۔۔۔ عامر نے سب کی نظر سے بچا کر ہانی کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔
مگر یہ سب نور کی نظر سے نا بچ سکا ۔۔ وہ شرارت سے بولی
“صبر جیجا جی صبر آپ کی ہی ہے ۔۔۔”
جہاں عامر سب کے سامنے اس کے اس طرح کہنے خجل ہوا وہاں ہی ہانی نے شرم سے اپنا چہرہ نیچے کر لیا ۔۔۔۔
“ہانی سجدے میں جانا ہے ۔۔۔۔۔” اسال بھی سجدے میں بولا
“ویسے سجدے میں جانا پڑتا ہے اتنا شہزادہ جیسا دولہا ملا ہے ۔۔۔۔” وہ پھر بولا
“ہماری ہانی بھی کسی شہزادی سے کم ہے ۔۔۔” بیا بھی بول پڑی ۔۔۔۔
“اچھا بچو چلو جو رسم کرنی ہے جلدی کر لو ” کلثوم بیگم نے آکر کہا
“جی آنٹی ۔۔۔” سب لڑکیاں کہہ کر چلی گئی
تھوڑی ہی دیر بعد وہ سب دودھ کا گلاس لے کر آئ
“دیکھ جی ہانی کی کوئی بہن تو ہے نہیں اور ہم سب اس کی دوستیں ہیں اس ناتے ہم آپ کی سالیاں ہوئی تو یہ رسم ہم کرے گے ۔۔۔۔”
“چلے جیجا جی پیسے نکالے ۔۔۔” نور بولی
“کس بات کے ۔۔۔۔”اسال فورا بول پڑا
“تم لڑکی کی طرف ہو یا لڑکوں کی طرف ۔۔۔”بیا انگلی اٹھ کر بولی
“بھائ اب تو میں لڑکوں کی طرف ہو کیونکہ مجھے پتا ہے تم لوگوں نے مجھے پھوٹی کوڑی نہیں دینی ۔۔۔” اسال بولا
“پہلے تو ہم سوچ بھی لیتے لیکن اب تو بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔”نور بھی چٹاخ سے بولی
“اچھا کتنے پیسے چاہیے ۔۔۔” عامر بولا
سب نے ایک دوسرے کی۔ طرف دیکھا اور مسکرائ اور نور بولی
“بس 1 لاکھ ۔۔۔”
“بس 1 لاکھ ۔۔۔۔۔!!!” اسال چلا کر بولا
“تم کیوں چلا رہے ہو تم سے مانگی ہے ۔۔۔” نور بھی فورا بولی
“اس دودھ کی قیمت 1 لاکھ ہے ۔۔۔”اس نے گلاس میں موجود دودھ کی طرف اشارہ کیا
نور نے ہاں میں سر ہلایا
“بھائ تو رہنے دے 1 لاکھ میں تو خود بھینس آجائے اور یہ نا بابا نا ۔۔۔” اسال صدمے سے بولا
“کوئی بات نہیں میں دے دیتا ہو ۔۔۔”مان بولا جو کافی ٹائم سے خاموش تھا ۔۔۔
“نہیں بھائ آپ نہیں دے گے ۔۔۔۔” اسال ان سے پیسے چیھنتے ہوے بولا
“تمھیں کیا مسلہ ہے تم سے مانگے ہیں ۔۔۔” نور غصے سے بولی ۔۔۔
“پر میرے پاس سچی میں اتنے پیسے نہیں ہیں “عامر میسنی صورت بنا کر بولا ۔۔
“جی جی پتا ہے جیجا جی ہم نے دیکھی ہے آپ کی سپورٹ بائیک دیکھی ہے ۔۔۔” بیا بھی کہاں پیچھے رہنے والی تھی فورا بولی ۔۔۔
“شرم نہیں آتی دوسروں کی چیزوں پر نظر رکھتے ہوے ۔۔۔۔” اسال بولا
“انکل آپ دیکھیں نا اسال کیا کر رہا ہے ۔۔۔” نور نے پاس کھڑے اکرم شاہ کو کہا
“سوری بیٹا میں اس میں کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ “وہ اپنا پہلو بچا کر نکل گئے ۔۔۔۔۔
کافی لڑ جھگڑ کر 50ہزار پر بات فائنل ہوئی ۔۔۔
وہ لوگ پیسے لے کر نیچے اتر گی ۔۔۔۔۔
ایک دم سب لائٹ بند ہوئی ۔۔۔ سب حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
جب ہی سپوٹ لائٹ جلی اور اسال کھڑا نظر آیا
“ویسے چڑیل تو اس کے لائق نہیں ہے ۔۔۔ چل تو بھی کیا یاد رکھے گی ۔۔۔۔ “وہ بولا
پھر پیچھے میوزک سٹارٹ ہوا
اسال اور مان نے ڈانس کرنا سٹارٹ کیا
بیا تو مان کو ڈانس کرتے دیکھ کر بیہوش ہوتی ہوتی رہ گئی
ساتھ ہی ان کی بچپن کی تصویروں کی سلائڈ شو چلنا سٹارٹ ہوئی ۔۔۔
Taaron ka chamakta gehna ho…(2)
Phool ki mehekthi vaadi ho
Us ghar mein khushaali aaye
Jis ghar mein tumhaari shaadi ho
Taaron ka chamakta gehna ho
Phool ki mehekthi vaadi ho
Us ghar mein khushaali aaye
Jis ghar mein tumhaari shaadi ho
اب وہ اس کے سامنے جا کر ڈانس کر رہے تھے
Yeh phool tumhaare zevar hai
Yeh chaand tumhaara aaina
Tum jab aise sharmaati ho
Dulhe ka dhadakta hai seena
Har aaina tumko dekhe
Tum to aisi shehzadi ho
Us ghar mein khushaali aaye
Jis ghar mein tumhaari shaadi ho
اب وہ ہانی کو اسٹیج سے نیچے لے اے ایک ہاتھ مان نے پکڑا ہوا تھا اور دوسرا اسال نے ۔۔۔
عامر بھی ان کے ساتھ نیچے آگیا ۔۔۔
Meri behna hai phool baharon ka
Meri behna hai noor nazaron ka
Meri behna ke jaisi koi behna nahin
Bina iske kahin bhi mujhe rehna nahin
Jaise hai chaand sitaron mein
Meri behna hai ek hazaron mein
Hum jaise bhole bhaalo ki
Yeh duniya to hai dilwalo ki…(3)
Taaron ka chamakta gehna ho
Phool ki mehekthi vaadi ho
Us ghar mein khushaali aaye
Jis ghar mein tumhaari shaadi ho
باقی سب لوگ بھی ان کے پاس آگئے اور وہ اب وہ سب لوگ دائرے میں ڈانس کر رہے تھے اور درمیان میں ہانی اسال مان اور عامر تھے ۔۔۔۔
ہانی کی آنکھوں میں آنسوں آگئے ۔۔۔
وہ ان کے گلے لگ گئی ۔۔
“پاگل چپ کرو ۔۔۔ یہ سب تمھیں رلانے کے لیے نہیں تھا ۔۔۔۔”مان پیار سے اس کے آنسوں صاف کرتا بولا
“ہاں چڑیل ۔۔۔میں تمھیں یاد نہیں کرو گا ” اسال شرارت سے بولا ہلانکہ وہ اداس تھا اس کے جانے سے مگر ظاہر نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔
“بٹ میں تمھیں یاد کرو گی ۔۔بندر ۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔۔۔
آخر وہ وقت آہی پوھنچا جب ایک لڑکی اپنا گھر چھوڑ کر پیا سنگ سہدار جاتی ہے ۔۔۔
ہانی رخصیتی کے وقت سب سے مل کر بہت روی ۔۔۔۔۔۔۔ اسال اور مان نے اس کو قرآن کے سائے میں گاڑی میں بیٹھایا
اور وہ چلی گئی ۔۔
