Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 11)

Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana

ہانی نے اسماء اور نور کو دیکھ کر چینختے ہوئے کہا

وہ سب لوگ گارڈن میں بیٹھے تھے ساتھ ان کے دادا جی بھی بیٹھے تھے

“السلام علیکم “اسماء نے آکر سب کو سلام کیا

سب اس کو اور نور کو دیکھ کر بہت خوش ہوے

“ارے واہ آج تو بڑے بڑے لوگ آئے ہیں “اسال نے نور کو دیکھ کر کہا

تم چپ رہو لنگور “نور ترخ کر بولی ۔۔۔۔۔۔۔

“چڑیل “اسال نے بھی اس کو چڑایا

مان کی نظریں بیا کو ڈھونڈ رہی تھی

“بیٹا یہ کون ہے ۔۔۔”دادا جی نے ہانی سے پوچھا

“دادا جی یہ بیا کی دوستیں ہیں اور اب ہماری بھی ہیں ” ہانی خوش ہو کر بولی

داداجی نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا

اور بولے

“بیٹا بیا نہیں آئ “

ان کی بات سن کر نور اور اسماء نے ایک دوسرے کو دیکھا اور اسماء بولی

“یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔بیا ہمارے ساتھ کیوں ہو گی ۔۔۔۔”

“کیوں مطلب کیا بیا تمہارے ساتھ ہو گی ۔۔۔”اسال حیرانگی سے بولا

“اب بس بھی کرو تم پلیز بیا کو بلوا دو ہم بیا کے لیے یہاں آئے ہیں اور وہ میڈم ہمیں ٹائم ہی نہیں دے رہی ہے ۔۔۔” نور منہ بنا کر بولی

“تم کیا کہ رہی ہمیں کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا ہے صاف صاف بتاؤ بیا کہاں ہے ۔۔۔۔” مان پریشانی سے بولا

“ہم یہاں بیا کو لینے آئے ہیں وہ آپ کے ساتھ یونیورسٹی سے آئی تھی نا ” اسماء بھی پریشانی سے بولی

“ہمارے ساتھ ۔۔۔نہیں ہمارے ساتھ تو وہ نہیں آئ ” اب کی بار ہانی بولی

“تم لوگ کیا کہہ رہے ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔۔” نور بھی پریشانی سے بولی ۔۔۔

“ایک منٹ ریلکس نور ۔۔۔ مجھے بتاؤ ہوا کیا ہے بیا کہاں ہے ۔۔۔اور تم یہ کیوں کہ رہی کہ بیا یہاں ہے ۔۔۔”مان پریشانی سے بولا

“وہ جب ہم یونیورسٹی آئے تھے بیا کو لینے تو گارڈ نے کہا کہ وہ تم لوگوں کے ساتھ چلی گئی ہے ۔۔۔” نور نے کہا

“ہمارے ساتھ ۔۔۔۔۔نہیں بیا ہمارے ساتھ نہیں آئ ۔۔۔”اسال جلدی سے بولا

“کیا ۔۔۔ پھر گارڈ نے ہمیں یہ کیوں کہا ” نور کی آنکھوں میں آنسوں آگئے

“تم رو مت نور ہم ۔۔۔۔ہم ابھی پتا کرتے ہیں ” اسال نے اس کو روتا دیکھ کر فورا بولا

کلثوم بیگم اور آسیہ بیگم بھی آواز سن کر باہر آگئی

“اسال چلو ہم دیکھتے ہیں ” مان اس کو کہتا جلدی سے چلا گیا ۔۔

“میں بھی ساتھ جاؤ گی ” نور نے اسال کا ہاتھ پکڑ کر کہا

اسال نے پہلے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر نور کو

اور نور کے آنسوں صاف کیے اور بولا

” یقین کرو بھائ بیا کو کچھ بھی نہیں ہونے دیں گے ۔۔۔۔۔”

وہ بھی مان کے ساتھ کار میں بیٹھ گیا ۔۔۔

بیا اور اسماء دونوں ہی رو رہی تھیں

“بیٹا مت رووُں تم کچھ نہیں ہو گا بیا کو اللّه سے دعا کرو چلو آؤ ” کلثوم بیگم بولی

دراصل ان کو بھی بیا کی فکر ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

*******************

“پلیز ۔۔۔۔۔”بیا روتے ہوے بولی

“پلیز بےبی رو مت تمھرے آنسوں یہاں (اس نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا ) پر گرتے ہیں” ۔۔۔

“تم ہو کون ۔۔۔کیوں کر رہے ہو ایسے ۔۔۔کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا “بیا روتے ہوے بولی

“چلو تمھیں بتا ہی دیا جائے کہ میں کون ہوں ” یہ کہہ کر نقاب پوش نے اپنا نقاب اتارا ۔۔

“تم ۔۔۔۔۔۔۔۔!”بیا چلائی

*********

وہ لوگ جلدی سے یونیورسٹی پونچھے

اور گارڈ کے پاس گئے ۔۔۔۔۔

مگر وہ گارڈ تو کوئی اور ہی تھا

“وہ صبح والا گارڈ کہاں ہے جو ڈیوٹی پر ہوتا ہے ۔۔۔” مان نے جلدی سے پوچھا

“صاحب وہ تو اپنے کواٹر میں ہے ۔۔۔”گارڈ بولا

مان اور اسال جلدی سے اس کے کواٹر کی طرف گئے ۔۔۔وہ گارڈ باہر نکل ہی رہا تھا کہ مان نے اس کو پکڑ لیا ۔۔۔۔۔

“کہاں بھاگ رہے تھے ” مان نے اس کو گریبان سے پکڑ کہا

“صاحب چھوڑئیے ” وہ اپنے آپ کو اس سے چھڑوانے لگا

مان نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر رسید کیا

“جو پوچھا ہے اس کا بتاؤ پہلے ” مان نے غصے سے کہا

اتنے میں پولیس بھی آگئی مان نے پولیس کو دیکھا اور پھر اسال کو

“وہ بھائ ۔۔۔میں نے ہی پولیس کو کال کی تھی ۔۔۔”اسال بولا

پولیس نے آکر مان سے گارڈ کو چھڑویا

“اس سے پوچھو کے بیا کہا ہے اس کو پتا ہے “مان غصے سے بولا ۔۔

پولیس انسپکٹر نے اس کو تھپڑ مارا اور پوچھا

“بتا لڑکی کہاں ہے ۔۔۔۔؟”

گارڈ تو پہلےمان کو دیکھ کر ڈر گیا تھا اور اور اب پولیس ۔۔۔ اس نے سب بتا دیا کہ کیسے علی نے اس کو پیسے دیے اور بیا کو اسٹور روم میں بجھنے سے لے کر نور وغیرہ کو جھوٹ بولنے تک سب بتا دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔

“آگر میری بیا کو کچھ بھی ہوا تو جان لے لوں گا تمہاری بھی اور اس کی بھی ” مان غصے سے کہہ کر اس کی طرف بڑھا

لیکن اسال نے روک لیا اور بولا

“بھائ یہ وقت غصے سے نہیں ہوش سے کام لینے کا ہمیں جلدی چلنا چاہیے یہ نا ہو کے وہ بیا کے ساتھ کچھ کر دے ۔۔۔۔”

“نہیں ۔۔۔۔میرے ہوتے ہوے میری بیا کو کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔” مان چلا کر بولا

“سر ہمہیں چلنا چاہیے ۔۔۔” پولیس انسپکٹر بولا

وہ سب لوگ یونیورسٹی چل پڑے

***************

“تم ۔۔۔۔!!”بیا چلا کر بولی

“ہاں میں ۔۔۔۔۔”علی ہنس کر بولا

“تم ۔۔۔تم مجھے یہاں کیوں لاے ہو ۔۔۔” بیا نے چلا کر بولی

“واہ ۔۔۔بڑی نادان بن رہی ہو ۔۔۔۔جیسے کچھ معلوم نہیں ہے ۔۔۔” علی آنکھیں سیکھڑ کر بولا

“پوری یونیورسٹی کے سامنے میری انسلٹ کی اور پھر اس دن سپورٹ ڈے والے دن بھی اور وہ مان

وہ مان جو کبھی کیسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا ۔۔۔۔

تمہاری وجہ سے میرے ساتھ لڑا ۔۔۔اور پرنسپل نے مجھے یونیورسٹی سے نکال دیا ۔۔۔۔۔یہ سب صرف اور صرف تمہاری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔” وہ بیا کی طرف اشارہ کرتے ہوے بولا ۔۔۔

“ویسے وہ لگتا کیا ہے تمہارا ۔۔۔ بوئے فرینڈ ہے تمہارا” علی اس کی طرف جھکتے ہوے بولا

“بکواس بند کرو ۔۔۔کچھ بھی نہیں ہے ہمارے درمیان ۔۔۔۔۔اور پلیز دور رہو مجھ سے ۔۔۔۔۔” بیا چلا کر بولی ۔۔۔

علی کچھ سوچتے ہوے پیچھے کو ہوا اور پھر کال پر کیسی سے بات کی ۔۔۔۔

اور پھر بیا کے پاس آیا اور اس کی رسیاں کھولی

بیا اس کو حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ رسی کھلتے ہی بیا جلدی سے کھڑی ہوئی اور بھاگنے ہی لگی تھی کہ علی نے اس کو پکڑ لیا

“اتنی بھی کیا جلدی ہے بےبی ۔۔۔ابھی تمھیں محسوس تو کرنے دو ۔۔۔۔”علی خباثت سے کہتا اس کے اوپر جھکا ۔۔۔

بیا نے اپنا منہ سائیڈ پر کر لیا ۔۔۔

“بیا تمھیں پتا ہے آج میں نے تو شراب بھی نہیں پی کیونکہ جو نشہ تم میں ہے وہ شراب میں کہاں ۔۔۔۔”علی مدہوش سا بولا

“پلیز جانے دو مجھے ۔۔۔”بیا روتے ہوے بولی اور اس کو سائیڈ پر کرنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔

کھنچا تانی میں بیا کے آستین بھی اوپر سے پھٹ چکے تھے ۔۔۔۔۔

علی نے ایک زور دار تھپڑ بیا کے چہرے پر مارا

کہاں بیا اور کہاں وہ مردانا ہاتھ بیا سمبھل نا سکی اور نیچے گر گئی ۔۔۔

تھپڑ کی وجہ سے بیا کے منہ کی سائیڈ سے خون بھی نکلنے لگا ۔۔۔۔۔

علی نیچے اس کے پاس بیٹھا اور اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر بولا

“دیکھو بےبی ۔۔ خون بھی نکلنے لگ گیا ۔۔۔۔ تم مجھے پریشان نا کرو اور آرام سے میری بات مان لو ۔۔۔۔صرف ایک ہی رات کی بات ہے ۔۔۔۔ اگر تم میری بات مان لو گی تو میں تمھیں زیادہ تکلیف نہیں دو گا ۔۔۔۔۔۔”

بیا اس وقت صرف اپنے اللّه کو اور اپنی محبت کو پکار رہی تھی ۔۔۔۔

“مجھے مرنا قبول ہے مگر اپنی عزت پر آنچ تک نہیں آنے دے گی ۔۔۔۔” بیا روتے ہوے بولی

اس کی بات سن کر علی ہنس پڑا اور بولا

“bia my Darling

ایسی باتیں صرف فلمز اور ڈراموں میں اچھی لگتی ہے ۔۔۔۔رئیل لائف میں تو یہ بیکار ہے ۔۔۔” وہ اپنی ہی دھن میں لگا ہوا تھا

کہ بیا کو پاس ہی پڑی شراب کی بوتل نظر آئ

بیا نے وہ اٹھائی اور علی کے سر پر دے ماری

علی اس حملے کے لیے تیار نہیں تھا اور اپنا سر پکڑ کر نیچے گر گیا ۔۔۔۔۔

بیا موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوے وہاں سے بھاگ گئی

بیا یہاں سے جلد سے جلد نکل کر جانا چاہتی تھی اسے اپنی جان کی پرواہ نہیں تھی اسے اس وقت صرف اپنی عزت کی پرواہ تھی ۔۔۔۔۔

ابھی وہ تھوڑی دور گئی تھی کہ کیسی سے ٹکرا گئی ۔۔۔ بیا کو اپنی آنکھوں کے سامنے آندھیر نظر آنے لگا ابھی وہ بیہوش ہو کر گرتی کیسی نے اس کو تھام لیا ۔۔۔

**************

مان اور اسال یونیورسٹی کے اندر داخل ہو چکے تھے۔۔۔۔۔ ان کے ساتھ پولیس بھی تھی وہ جلد سے جلد بیا کے پاس پوھنچانا چاہتے تھے ۔۔۔۔

مان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیسی طرح بیا کے پاس اڑ کر پونچھ جائے ۔۔۔۔۔

مان اس وقت اللّه سے صرف یہ ہی دعا کر رہا تھا کہ اس کی بیا سلامت ہو ۔۔۔۔

وہ لوگ ابھی اسٹور روم کی طرف بھر ہی رہے تھے کہ انہیں کیسی کی چلانے کی آواز سنائی دی ۔۔۔

آواز سن کر وہ لوگ جلدی بھاگے ابھی تھوڑا ہی آگے گئے تھے کے کوئی آکر مان سے ٹکرایا

مان نے جب دیکھا تو وہ بیا تھی اس سے پہلے کے بیا گرتی۔ مان نے اس کو تھام لیا ۔۔۔

مان نے جب بیا کی حالت دیکھی تو اس کا دل کیا کہ جا کر علی کو جان سے مار دے ۔۔۔۔

علی بھی جلدی سے بیا کے پیچھے آیا لیکن مان کو دیکھ کر حیران رہ گیا

ابھی وہ وہاں سے بھاگتا اسال نے اس کو دیکھ لیا اور چلا کر بولا

“سر وہ رہا پکڑو ۔۔۔۔”

پولیس اس کی طرف لپکی اور اس کو پکڑ لیا ۔۔۔۔۔۔۔

“سر اس کو لے کر جائے … میں بیا کو ہوسپٹل لے کر جاتا ہوں ۔۔۔ پھر آکر میں اس کو دیکھتا ہوں ۔۔” مان چبا چبا کر بولا

پولیس علی کو لے گئی اسال بھائ کی طرف آیا اور آنکھیں نیچے کر کے بولا

“بھائ بیا کو اس طرح لے کر جانا ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔”

مان نے بیا کو دیکھا تھا اس کی آستین پھٹی ہوئی تھی اور اس کا چہرے پر انگلیوں کے نشان تھے ۔۔۔۔

مان نے بیا کو قرب سے گلے لگا لیا ۔۔۔۔۔

مان نے بیا کو اپنے باؤں میں اٹھا لیا اور گاڑی میں لے کر آیا

“بھائ گاڑی میں ڈرائیو کرتا ہوں ۔۔۔”اسال بولا

مان نے گاڑی میں موجود شال بیا کو اڑھائ اور بیا کو اپنے ساتھ لگا لیا

*******************

ہانی پلیز کال کر کے پوچھو کہ بیا کا کچھ پتا لگا ہے کیا ۔۔۔” نور نے روتے ہوے ہانی سے کہا

“بیٹا تم پریشان نا ہو مان گیا ہے نا بیٹا وہ لے کر ہی اے گا ” آفتاب شاہ بولے

“نور میں نے کال کی ہے مگر وہ اٹینڈ نہیں کر رہے ” ہانی بولی

اتنے میں نور کے سیل بجا

اسماء نے دیکھا تو بولی

“نور انکل کا فون ہے ۔۔۔”

“میں ۔۔۔۔میں انکل کو کیا کہو اگر انہوں نے بیا کے بارے میں پوچھا ۔۔۔” نور نے صاف مانا کر دیا

“نہیں بیٹا تم۔ بات کر لو نہیں تو انہیں اور پرشانی ہو گی ” کلثوم بیگم بولی

نور نے کال اٹینڈ کی اور انہیں سلام کیا

“بیٹا بیا کہاں ہے میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ” وہ بولے

“وہ انکل ۔۔۔ وہ بیا ۔۔۔۔”نور کو سمجھ نہیں آئ کہ وو کیا بولے

ہانی نے اس کی حالت دیکھتے ہوے اس سے فون لیا اور بولی

“انکل میں ہانیہ بول رہی ہوں بیا کی دوست ۔۔۔اور بیا ابھی فریش ہونے گئی۔ ہے جب وہ اے گی تو آپ کی بات کروا دے گیں ۔۔۔۔”

“ٹھیک ہے بیٹا ۔۔۔۔۔” انہوں نے کال بند کر دی

نور پھر سے جائے نماز پر بیٹھ گی اور الله سے اپنی دوست کی حفاظت کی دعا کرنے لگی ۔۔۔۔

*************

ہوسپٹل لاتے ہی ڈاکٹر فاطمہ نے اس کل ایڈمٹ کر لیا وہ انکی فیملی ڈاکٹر تھی اس لیے زیادہ پرشانی نہیں ہوئی ۔۔۔۔

ڈاکٹر باہر آئ مان فورا ان کے پاس گیا اور بولا

“ڈاکٹر بیا کیسی ہے ۔۔۔۔” ڈاکٹر نے پہلے اس کو دیکھا اس کی خود کی حالت بہت خراب ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“زیادہ پریشانی کی بات نہیں ہے وہ صرف گھبراہٹ کی وجہ سے بیہوش ہو گئی تھی ۔۔۔۔” ان کی بات سن مان تھوڑا ریلکس ہوا ۔۔۔۔۔

“میں مل سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔”

“جی ضرور ” ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا

“بھائ آپ بیا سے مل لے میں گھر کال کر دیتا ہوں سب پریشان ہو گے ۔۔۔۔ اور ہاں بھائ یہ انسپکٹر نے دیا ہے ۔۔۔۔۔” اسال اس کے ہاتھ میں کچھ دیتا ہوا بولا ۔۔۔

مان نے جب اپنے ہاتھ میں دیکھا تو اس کو زور سے دھچکا لگا وہ فورا اندر گیا ۔۔۔۔

********************

بیا بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اچانک اٹھ کر بیٹھ گئی جیسے کیسی بڑے خواب سے جاگی ہو

وہ لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔۔۔ اچانک اس کا ہاتھ اس کی گردن کی طرف گیا وہ پریشان ہو گئی

“یہ ۔۔۔۔۔یہ کہاں گیا ۔۔۔” بیا چاروں طرف دیکھتے ہوے بولی ۔۔۔۔۔۔

اتنے میں کوئی اندر آیا اور بولا

“یہ ڈھونڈ رہی ہو ۔۔۔باربی ۔۔۔۔!” بیا کی پہلے تو نظریں اس کے ہاتھ پر تھی جس میں لوکٹ تھا لیکن اس کے باربی کہنے پر بیا نے اس کو دیکھا اور دیکھتے ہی حیران رہ گئی ۔ ۔ ۔

بیا اس کے گلے لگا گئی ۔۔۔۔اور مان نے اس کو قیمتی متاع کی طرح اپنے بازؤں میں چھپا لیا ۔۔۔۔۔۔”

*************

علی اندر جیل میں تھا جب کوئی اس کے پاس آیا

علی نے منہ اٹھا کر دیکھا ہی تھا کہ کیسی نے اس کو زور سے تھپڑ مارا علی ابھی سمبھل ہی نہیں پایا تھا کہ سامنے والے نے اس زور دار تھپڑ مارا اور ایک کے بعد ایک مارتا گیا

“تیری ہمت کیسے ہوئی بیا کو ہاتھ لاگنے کی ۔۔۔” وہ چلا کر بولا ۔۔۔۔۔

اور پھر مارنے لگا مار مار کر علی کو ادھ مو کر دیا

“لگتی کیا ہے وہ تیری ۔۔۔۔”علی بھی چلا کر بولا

سامنے والے نے اس کو گریبان سے پکڑا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا

“وہ میرے جینے کی وجہ ہے وہ میری محبت ۔۔۔میرا سب کچھ ہے ۔۔۔۔۔وہ میری بیوی ہے ۔۔۔۔” مان نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *