Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 12)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 12)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
“کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔۔وہ اور تمہاری بیوی ۔۔۔۔ہاہاہا ” علی ہنس کر بولا
“ویسے چلو اگر بیوی بھی ہے تم بہت لکی ہو کے وہ تمھیں ملی ہے ہے وہ ۔۔۔۔۔۔”ابھی علی کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ مان نے اس کو تھپڑ دے مارا
“ایک لفظ اور نہیں ۔۔۔۔جان نکال لو گا میں تمہاری ۔ ۔۔”اس کو نیچے گراتے ہوے مان نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا
اتنے میں پولیس انسپکٹر اندر آیا اور بولا
“سر آپ رہنے دے ہم سمبھال لے گے ۔۔۔”
مان نے اس کو ٹانگ ماری اور وہاں سے چلا گیا ۔۔
___________
“ابھی اسال کی کال آئ تھی اور وہ کہہ رہا تھا کہ بیا بلکل ٹھیک ہے اور کچھ ہی دیر میں ہمارے ساتھ ہو گی
۔۔۔” ہانی نے خوش ہو کر بتایا
نور اور اسماء یہ سب سنتے ہی الله کے حضور سجدے میں چلی گئیں باقی سب کی بھی حالت ایسی ہی تھی
مایا جو اپنی ہی دھن میں اندر آرہی تھی بیا کا سنتے ہی کہ وہ ٹھیک ہے واپس الٹے قدم اپنے گھر کو چلی گئی
گھر آکر وہ اپنے روم میں چلی گئی اور غصے سے سارا سامان پھینک دیا
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے بیا تم ۔۔۔۔۔تم کیسے بچ سکتی ہو ۔۔۔۔” ڈریسنگ ٹیبل کا سارا سامان نیچے پھینک دیا ۔۔۔
“نہیں بیا ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔۔”وہ چلائی
پاس پڑے شیشے کے ٹکڑوں پر جب اس کی نظر پڑی تو اس نے جلدی سے ایک ٹکڑا اٹھایا اور اپنے ہاتھ پر کٹ لگا لیا
آمنہ بیگم شور سن کر اندر آئ ۔۔۔۔اور اندر آئ اور اندر کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئی ۔۔۔۔۔
وہ جلدی سے مایا کے پاس آئ اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بولی
“یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔۔؟؟ پاگل ہو گئی ہو “
“ہاں ۔۔۔ہاں ہو گئی ہو میں پاگل مان کے لیے ۔۔۔۔۔مان کے پیار کے لیے ۔۔۔” مایا چلا کر بولی ۔۔۔
“بیٹا مگر یہ سب ۔۔۔۔۔” انہوں نے اس کے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا
“یہ تو کچھ بھی نہیں ہے ماما ۔۔۔۔اگر وہ مجھے نہیں ملا تو جان لے لو گی اپنی میں ۔۔۔۔” وہ دیوانگی سی حالت میں بولی
آمنہ بیگم اس کے اس طرح کہنے سی گھبرا گئی اور فورا بولی
“بیٹا جو تم چاہو گی وہی ہو گا ۔۔۔۔مان تمہارا ہے اور تمہارا ہی رہے گا ۔
“وعدہ ۔۔۔۔”مایا نے ان کی طرف اپنا ہاتھ بھڑایا
“پکا وعدہ ۔۔۔۔”انہوں نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوے کہا
“you world best mama”
مایا ان کے گلے لگ گئی
★★★★★★★★★★
“بھائ پونچھ گئے ۔۔۔۔” اسال نے گھر کے سامنے گاڑی روکتے ہوے کہا
“ٹھیک ہے “
مان جو پیچھے بیا کے ساتھ بیٹھا تھا بس اتنا ہی بولا
مان نے ایک نظر بیا کو دیکھا جو ابھی بھی اس کے احصار میں تھی ۔۔۔۔ مان نے اس کے بال چہرے سے ہٹاھے جو اس کے چہرے پر آرہے تھے ۔۔۔اور اس کے لیے رکاوٹ بن رہے تھے ۔۔۔۔۔
“بیا ۔۔۔۔!”مان نے ہلکے سے اس کو پکارا
بیا نے سر اٹھا کر مان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا
مان اس کا مطلب سمجھتے ہوے بولا
“چلو آؤ بیا گھر آگیا ہے ۔۔۔۔” مان نے اس کو اپنے آپ سے الگ کرتے ہوے بولا
بیا ایک دم تڑپی جیسے کیسی نے اس کی روح کو بدن سے جدا کر دیا ہو اور دوبارہ مان کے گلے لگ گئی ۔۔۔۔
مان اس کی حالت سمجھ رہا تھا
مان اس کی کمر سلہاتے ہوے بولا
“بیا ڈرو مت میں ہو نا تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔مجھ پر یقین ہے نا ۔۔۔
بیا نے ہاں میں سر ہلایا
“تو بس پھر چلو ۔۔۔” مان بولا
وہ لوگ گاڑی سے باہر آئے ۔۔۔۔
مان کا گھر دیکھ کر بیا نے مان کو دیکھا
“اب یہ ہی تمہارا گھر ہے ۔۔۔” مان نے شرارت سے بولا
“مگر ۔۔۔”بیا ابھی کچھ بولتی مان بول پڑا
“مجھے پتا ہے ابھی کیسی کو کچھ نہیں بتانا ۔۔۔۔لیکن ابھی تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ایسی لیے تمھیں یہاں ہی رہنا ہے ۔۔
پھر وہ لوگ اندر چلے گئے ۔۔۔
★★★★★★★★
اسال جب اندر گیا تو نور بھاگ کر اس کے پاس آئ ۔۔۔اور ہاتھ پکڑ کر بولی
“کہاں ہے بیا ۔۔۔۔؟وہ تو تمہارے ساتھ آنے والی تھی نا ۔۔۔بولو میں تم سے بات کر رہی ہوں ۔۔
اسال اس وقت وہ اپنے دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔
“وہ آرہی ہے بھائ کے ساتھ ۔۔۔۔۔” وہ صرف اتنا بولا
اتنے میں بیا مان کے ساتھ اندر آتی نظر آئ
نور نے اپنا ہاتھ چھڑوا کر بیا کی طرف بھاگی اور اس کے گلے لگ گئی ۔۔۔۔
باقی سب بھی بیا کی طرف بھڑے
اسال اپنی دلی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔۔
“بیا کہاں چلی گئی تھی تم ۔۔۔۔” نور روتے ہوے بولی ۔
اسماء بھی ساتھ ہی اس کے گلے لگ گئی ۔۔۔
باقی سب ان کے پیار پر مسکرا دیے
“لڑکیوں جان لینی ہے کیا ” بیا ہنس کر بولی ساتھ ہی سب ہنس پڑے ۔۔۔
“بیا یہ ۔۔۔۔۔” اسماء نے اس کے چہرے پر موجود نشانوں کی طرف اشارہ کیا ۔
“بیا ۔۔۔ اس کمینے نے تم پر ہاتھ اٹھایا ۔۔۔”نور غصے سے بولی
“اچھا اب بس بھی کر چڑیل ۔۔ اس کو آرام کرنے دے ۔۔۔۔۔۔” اسال شرارت سے بولا
“لنگور ۔۔۔۔!!!” نور منہ بنا کر بولی
اس کے بعد سب ایک ایک کر کے بیا سے ملے ۔
“بیٹا تم ٹھیک ہو ۔۔۔” آفتاب شاہ نے پوچھا
“جی دادا جی ۔۔۔۔۔۔” بیا بولی
“مجھے اچھا لگا کہ تم نے مجھے دادا کہا ۔۔۔۔” انہوں نے بیا کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے کہا
اس کے بعد سب بیا کو لے کر روم میں چلے گئے
★★★★★★★★
“تم اور یہاں ۔۔۔۔!”علی مایا کو دیکھ کر بولا
“ہاں میں ۔۔۔ایک کام تو تم سے ہو نہیں سکتا ۔۔۔۔
کیا ضرورت تھی بیا کو یونیورسٹی میں ہی رکھنے کی ۔۔۔۔لاہور شہر میں جگہ کم پر گئی تھی کیا ۔۔۔۔” مایا غصے سی بولا
“مجھے کیا پتا تھا وہ (گالی ) وہ آجائے گا ۔۔۔۔”علی بھی غصے سے بولا
“اچھا اب بس کرو تم نے جو کرنا تھا وہ کر لیا ۔۔۔اب جو بھی کرو گی میں کرو گی ۔۔۔۔” مایا کچھ سوچتے ہوے بولی ۔۔
“پہلے مجھے یہاں سے نکلوا ۔۔۔” علی بولا
“میں ۔۔۔۔میں کیسے اگر کیسی کو یہ بھی پتا چل گیا کہ میں یہاں آؤ گی تو تم جانتے بھی نہیں ہو کہ میرے ساتھ ہو گا کیا ۔۔۔۔۔” مایا ڈرتے ہوے بولی
“تم ۔۔۔۔تم بس میرے دوست کو کال کر دو باقی وہ کر لے گا ۔۔۔
“ٹھیک ہے ۔ ۔۔” مایا کچھ سوچتے ہوے بولی
___________
“شاہ “بیا نے مان کا آواز دی جو روم سے باہر جانے لگا تھا
مان نے پیچھے مڑ کر بیا کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کیا ہوا ۔۔۔؟
بیا نے نہیں میں سر ہلایا مان مسکرایا اور بیا کے پاس آیا اور اس کے پاس بیڈ پر ہی بیٹھ گیا
“کیا ہوا باربی ۔۔۔؟ مان نے بیا کے ہاتھ پکڑ کر کہا
“شاہ ۔۔وہ آپ کو ۔۔۔وہ ۔۔۔” بیا کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے مان سے پوچھے ۔
“تم یہ جاننا چاہتی ہو نا کہ مجھے تمہارے بارے میں کیسے پتا لگا کہ تم ۔۔۔۔۔ میری باربی ہو ۔۔۔” مان مسکرا کر بولا
بیا نے ہاں میں سر ہلایا
“جب پہلی بار تمہارا نام کلاس سنا ۔۔۔۔ یہ نیلی آنکھیں اور یہ” اس نے تل پر اپنی انگلی پھیڑتے ہوے کہا
“یہ دونوں تمہارے سوا کس کے پاس ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ اس پر جھکا بیا نے اپنی آنکھیں بند کر لی مان نے اپنے ہونٹ تل پر رکھے ۔۔۔
بیا نے زور سے اس کی شرٹ پکڑ لی ۔۔۔
مان پیچھے کو ہوا بیا نے ابھی بھی آنکھیں بند کی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ بیا کا چہرہ شرم سے لال ہو رہا تھا۔۔۔۔
مان نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں لیا ۔۔۔۔بیا نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولی اور مان کو دیکھا
مان بھی اس کو دیکھ رہا تھا دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے جہاں ان دونوں کو اپنا عکس نظر آیا
“اور رہی سہی کسر اس نکاح رنگ والے لاکٹ نے پورا کر دیا اور بیا بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا اور دیکھنا چاچو کو بھی واپس لے کر آئے گے
بیا اب بھی مان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ بلیو کلر کی شرٹ پہنے ۔ اس کے کسرتی بازؤں ہاف سیلیوز سے نظر آرہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے آپ میں ایک خوبصورت مردوں میں شامل تھا ۔۔۔۔ وہ اپنی قسمت پر جتنا ناز کرتی کم تھا۔۔۔
مان نے جب اس کو اپنے آپ کو تکتا پایا تو شرارت سے بولا ۔
“ایسے مت دیکھو پیار ہو جائے گا
بیا اس کے اس طرح کہنے سے ہنس پڑی ۔۔۔۔۔۔
مان تو اس کی ہنسی میں ہی کھو گیا ۔۔۔۔۔
مان بے اختیار ہو کر دوبارہ بیا پر جھکا ۔۔۔۔ابھی وہ کوئی گستاخی کرتا نور کی آواز آئ
مان فورا سے پیچھے ہٹا ۔
“بیا وہ ۔۔۔ ” نور اپنی ہی دھن میں بولتی آرہی تھی ۔۔۔۔ لیکن مان کو دیکھ کر خاموش ہو گئی
“آپ یہاں ۔۔۔؟”نور نے مان سے پوچھا
“ہاں وہ میں بیا سے اس کی طبیعت پوچھنا آیا تھا ۔۔ میں ۔۔۔میں چلتا ہوں ۔۔۔۔۔” مان فورا کہہ کر روم سے باہر چلا گیا ۔
“ایسے کیا ہوا ۔۔۔۔؟”نور نے بیا سے پوچھا جو منہ نیچے کر کے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
“اور تم یہ کیا لال ٹماٹر بنی ہوئی ہو ۔۔۔۔کیا ہوا ہے ۔
“وہ نور ۔۔۔۔۔وہ یہ ۔۔۔یہ ہی شاہ ہیں ۔۔۔” بیا نے نور کو ساری بات بتا دی
“oh my god “
نور چلا کر بولی
“بیا مجھے تو یقین ھی نہیں ہو رہا ۔۔۔۔۔۔ ویسے بیا بھائ جان ہیں بہت ہینڈسم ۔۔۔” نور نے بیا کو آنکھ ماری ۔۔
بیا نے اس کی کمر پر چپت لگائ
“تم لوگ کیا بات کر رہے ہو ۔۔۔” اسماء اور ہانی روم میں آئ تو ان کو باتیں کرتے ہوے دیکھ کر پوچھا ۔
“اسماء وہ نا مجھے ۔۔۔ بھائ جان کا پتا لگ گیا ۔۔۔” بیا خوش ہو کر بولی
“کیا ۔۔۔۔!!”اسماء جلدی سے نور کے پاس آئ اور بولی
ہانی ان کو ہونق بنی کی طرح دیکھ رہی تھی بول ھے پڑی
“مجھے بھی بتاؤ آخر بات کیا ہے ۔۔۔۔ کون بھائ جان ہے ۔
نور نے ان دونوں کو مان اور بیا کے رشتے کے بارے میں بتایا دونوں نے حیرانگی سے بیا کو دیکھا ۔۔۔
بیا نے اپنا چہرہ نیچے کر لیا
“ہائے اللّه ۔۔۔بیا تم میری کزن اور تم میری بھابی بھی ہو۔ ۔۔!!” ہانی حیرانگی اور خوشی کی حالت میں بولی
اور اس کو گلے لگا لیا ۔۔۔
“میں ابھی جا کر سب کو بتاتی ہو ” ہانی جانے ھے لگی تھی کہ بیا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی
“ابھی نہیں ہانی ابھی سہی وقت نہیں ہے ۔۔۔جب تک سارے حالت ٹھیک نہیں ہو جاتے تب تک کیسی کو بھی نہیں بتانا ۔۔۔”
“ٹھیک ہے ۔۔۔۔” ہانی نے مسکرا کر کہا
اس کے بعد وہ تینوں بیا کو چھیڑنے لگ گئی ۔۔۔
★★★★★★★★
“یہ مجھے کیا ہو رہا ہے کیوں میں اسکی طرف کھینچا جا رہا ہوں ۔۔۔” اسال اس وقت کھڑا ونڈو سے باہر چاند کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
“کہیں میں اس سے ۔۔۔۔۔
oh my god i am in love…!!”
اسال خوشی اور حیرانگی سے بولا
“مجھے بھی پیار میں پڑنا تھا وہ بھی اس چڑیل کے ۔۔۔” اپنی سوچ پر اسال خود ھے ہنس پڑا ۔
“اچھا بچو ۔۔میرا چھوٹا اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اس کو پیار ہو گیا ہے ۔ ۔۔۔” مان نجانے کب آیا اور اس کی باتیں سن لی ۔
“نہیں بھائ وہ میں تو۔ ۔۔۔میں تو۔ ۔۔”اسال کو تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا بولے
مان نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی روکی ضبط کرنے کے باوجود وہ ہنس پڑا
“کیا بھائ ۔۔۔” اسال منہ بنا کر بولا
“اچھا ویسے یہ کب ہوا ۔۔۔۔” مان شرارت سے بولا
“بھائ پتا نہیں کب ہوا لڑتے لڑتے کب پیار ہو گیا پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔” اسال بولا
“کیا وہ بھی تم سے پیار کرتی ہے ۔۔۔۔؟” مان نے نور کے بارے میں پوچھا
“پتا نہیں بھائ وہ کرتی ہے یا نہیں ۔۔۔” اسال رونی صورت بنا کر بولا
“ویسے تم لوگوں کی جوڑی انڈیا اور پاکستان جیسی ہے۔۔۔۔۔۔” مان ہنس کر بولا ۔
“بھائ ۔۔۔۔۔۔”اسال چلایا
مان نے اس کو گلے لگا لیا اور دونوں ھے ہنس پڑے
★★★★★★★★★
“اسلام علیکم آنٹی ” بیا نور اور اسما نے نیچے آتے ھی سب کو سلام کیا
مان نے نظر اٹھا کر بیا کو دیکھا جو اس وقت بلیک کلر کی ڈریس میں تھی مان کو اپنے دل میں اترتی محسوس ہو رہی تھی
نور نے بیا کو کہنی ماری
“کیا ہے ۔۔۔؟”بیا نے اس سے پوچھا
نور نے سامنے کی طرف اشارہ کیا جہاں مان بیٹھا اسی کو دیکھا رہا تھا
بیا نے مان کو دیکھ کر اپنی نظریں نیچے کر لی
بیا جا کر کلثوم بیگم کے پاس کھڑی ہو گئی ۔
نور نیچے آرہی تھی اسال کو دیکھ نا سکی اور اس سے ٹکرا گئی اس سے پہلے کے وہ گرتی اسال نے اس کو تھام لیا اور بولا
“چڑیل تمھیں گرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے ۔۔۔ ویسے میں ساری زندگی یہ کام سرانجام دینے کو تیار ہو
“ہنہ ۔۔۔ شکل دیکھی ہے اپنی ۔۔۔۔۔” نور جلدی سے اپنے حواسوں پر قابو پا کر بولی ۔۔۔
اور جلدی سے الگ ہوئی
“بیٹا کسی طبیعت ہے تمہاری ۔۔۔” کلثوم بیگم نے بیا سے پوچھا
“آنٹی ٹھیک ہے ۔۔۔۔” بیا نے مسکرا کر کہا
عامر اور مایا بھی آچکے تھے ۔۔۔۔
“آؤ بیٹھا ناشتہ کر لو ” آسیہ بیگم نے کہا
دادا جی نے بیا سے اس کی طبیعت کے بارے میں پوچھا
بیا مان کے ساتھ والی ھے سیٹ پر بیھٹی تھی
اور نور کو اسال کے ساتھ والی سیٹ ملی تھی
ابھی بیا نے کھانا کھانے ہی لگی تھی کے مان نے بیا کا ہاتھ پکڑ لیا بیا نے فورا مان کو دیکھا جو کھانا کھانے میں مصروف تھا ۔۔
“کیا ہوا بیا تم کھانا نہیں کھا رہی ہو ۔۔۔؟” کلثوم بیگم نے اسے کھانا نا کھاتے ہوے پوچھا
“نہیں آنٹی ۔۔۔میں کھانے لگی ہوں ۔۔۔”بیا بس اتنا ہی بولی
“بچو آپ سب کے لیے گڈ نیوز ہے ۔۔۔” آفتاب شاہ بولے
“کیا دادا جی ۔۔۔۔” ہانی فورا بولی
“اے لڑکی صبر کر جتنی جلدی تجھے پوچھنے میں ہے نیوز سننے کے بعد اتنی جلدی ہی یہاں سے بھاگنے کی ہو گی ۔۔۔” اسال فورا بولا
اسال کو پتا تھا کہ کیا نیوز ہے کیونکہ وہ ان سب کی باتیں پہلے سن چکا تھا ۔
“کیوں میری شادی ہونے والی ہے ۔۔۔۔۔” ہانی مزے سے کھانا کھاتی ہوئی بولی
“جی بیٹا آپ کی شادی ہی ہو رہی ہے ۔۔۔۔” کلثوم بیگم مسکرا کر بولی
ہانی کا نوالہ ہلک میں ھے پھنس گیا اور وہ کھانسے لگی
اسماء نے جلدی سے اس کو پانی دیا
“امی ۔۔۔” ہانی نے آسیہ بیگم کی طرف دیکھ کر کہا
“جی بیٹا آپ کے دادا جی نے فیصلہ کیا ہے کہ اب منگنی نہیں سیدھی شادی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔” آسیہ بیگم مسکرا کر بولی
اسماء اور نور نے اٹھ کر ہانی کو مبارک باد دی
بیا نے بھی اس کو مبارک باد دی ۔
ہانی تو شرم سے سر ہی نہیں اٹھا سکی
“ویسے یار عامر تو نے گھاٹے کا سودا کیا ہے ۔۔۔۔”اسال اس کو دیکھتے ہوے بولا
عامر نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
“کہاں تو شہزادہ اور کہاں یہ چھپکلی ۔۔۔” اس نے آنکھ دبا کر کہا
اس کے اس طرح کہنے سے سب ھے ہنس پڑے
“امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ہانی رونی صورت بنا کر بولی
“شیریر کہیں کے ۔۔۔۔۔” کلثوم بیگم نے اس کو چپت لگائ
مایا ان سب سے دور خاموش بیٹھی تھی ۔۔ کون جانے اس کی خاموشی کون سا طوفان لانے والی تھی ۔
