Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 02)

Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana

اداس راتوں میں تیز کافی کی تلخیوں میں

وہ کچھ زیادہ ہی یاد آتا ہے سردیوں میں

مجھے اجازت نہیں ہے اس کو پکارنے کی

جو گونجتا ہے لہو میں سینے کی دھڑکنوں میں

وہ بچپنا جو اداس راہوں میں کھو گیا تھا

میں ڈھونڈتا ہوں اسے تمہاری شرارتوں میں

اسے دلاسے تو دے رہا ہوں مگر یہ سچ ہے

کہیں کوئی خوف بڑھ رہا ہے تسلیوں میں

تم اپنی پوروں سے جانے کیا لکھ گئے تھے جاناں

چراغ روشن ہیں اب بھی میری ہتھیلیوں میں

جو تو نہیں ہے تو یہ مکمل نہ ہو سکیں گی

تری یہی اہمیت ہے میری کہانیوں میں

مجھے یقیں ہے وہ تھام لے گا بھرم رکھے گا

یہ مان ہے تو دیے جلائے ہیں آندھیوں میں

ہر ایک موسم میں روشنی سی بکھیرتے ہیں

تمہارے غم کے چراغ میری اداسیوں میں

****************

وہ رات کو اپنے کمرے کی بلکونی میں بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی آج چاند پہلے سے زیادہ ہی روشن تھا موسم بھی اچھا تھا ۔۔۔۔۔ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں ۔۔۔۔۔

اکھیاں اُداس،،،انج دید واسطے

لبے کوئ چَن جیویں،،، عید واسطے

اتنے میں اس کے بابا آئے اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پاس ہی اس کے بیٹھ گئے اور بولے

“کیا ہوا بیٹا کیا سوچ رہی ہو …..؟؟” بیا نے اپنے بابا کو دیکھا جو اس کی کُلِ کائنات تھی ۔۔۔

جو اسکا بہت خیال رکھتے تھے ۔۔۔۔۔جن کے لئے وہ پاکستان جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

“کچھ نہیں بابا بس تھوڑی اداس ہو کبھی آپ کو اکیلا نہیں چھوڑا اور اب اتنی دور پاکستان جا رہی ہو وہ بھی آپ کے بنا ” اس نے اداس ہو کر اپنے بابا کو کہا

“اہ میرا بچہ میرا بھی دل نہیں کر رہا تمہں بیھجنے کا مگر بیٹا پاکستان میں پڑھنے کا فیصلہ تمہارا اپنا ہے ” بیا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ انہوں نے کہا ۔۔۔وہ خود بھی اداس تھے اس کے پاکستان جانے سے ایک انجان خوف ان کوستا رہا تھا مگر آج تک ان کی بیٹی نے ان کی ہر بات مانی تھی ۔۔۔۔۔۔اب ان کی باری تھی ۔۔۔۔۔وہ ویسے بھی اپنی بیٹی کو خوش دیکھنا چاہتے تھے اس لئے وہ اس کی بات مان گئے ۔۔۔۔۔۔

“اچھا بیٹا سو جاؤ تمہاری صبح جلدی کی فلائٹ ہے ” انہوں نے بیا کو پیار سے کہا

“ٹھیک ہے بابا آپ بھی سو جائے رات بہت ہو گئ ہے ” بیا نے اپنے بابا کے ہاتھ چومتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بابا کے جانے کے بعد کتنی ہی دیر بیا سوچتی رہی کہ اس کی زندگی ڈائری ملنے سے پہلے کیسی تھی اور اب اس کی زندگی کیا ہو گئ ہے ۔۔۔۔۔۔۔ بس یہ ہی سوچتے سوچتے وہ کب نیند کی وادی میں چلی گی پتا ہی نہیں چلا ۔۔

چند لمحوں کا.. ہوا کرتا ہے خوابوں کا سفر..

آنکھ کھلتی ہے تو, صدیوں کی تھکن ہوتی ہے.

****************

“یار مان ” اسال نے مان کو پکارا جو اپنے نوٹس بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔

“ہوں” مان نے بس اتنا ہی کہا

” آگے چڑیل اور بھوت رات کے 12 بجے آ کر لوگوں کو ڈراتے تھے ۔۔۔۔مگر اس واٹس اپپ اور فیس بک نے ان کا کاروبار چھین لیا ہے ” اسال نے یہ بات اتنی سنجیدگی سے کہی کہ مان اس کو گھورنے پر مجبور ہو گیا ۔۔۔

اس سے پہلے کے مان بولتا ہانیہ بول پڑی

“تمہارے دماغ میں اسی باتیں آتی کہاں سے ہے ۔۔۔ اتنا ٹائم ان باتوں میں لگاتے ہو پڑھائی میں بھی لگا لیا کرو ” ہانیہ نے اس کی کمر پر ٹھپر مارا ۔۔

“تم تو جلتی ہو میری سوچ سے ” اسال نے اپنی کمر کو سہلاتے ہوۓ کہا

“میں کیوں جلو “ہانیہ نے دانت پیس کر کہا

“کیوں کے میں اتنا زہین جو ہو ” اس سے پہلے کے ان کی لڑائی اور بھرتی مان غصے سے بولا

“اٹھو اور نکلو یہاں سے ” مان نے دونوں کو غصے سے کہا جو اس کو ڈر کر دیکھ رہے تھے ۔۔۔

“یہاں سب جلتے ہیں مجھ سے ” اسال منہ بنا کر بولا اور نا چاہتے ہوۓ بھی مان کو ہنسی آ گی ۔۔۔۔

مان کوہنستا دیکھ کر ہانیہ کو بھی تھوڑا حوصلہ ہوا ۔۔۔اس سے پہلے کے ہانیہ بولتی مایا ہیلو کرتے ان روم میں آگئی اس کے ساتھ عامر بھی آیا تھا مان نے اس کو ناگواری سے دیکھا ۔۔۔

جو اس وقت جینز اور ٹی شرٹ میں تھی بالوں کی پونی بنائی ہوئی تھی اور ڈوپٹے سے بے نیاز تھی ۔۔۔۔

“کیا ہو رہا ہے ….؟؟” مان کو نظر میں رکھتے ہوۓ مایا بولی

“ڈانس” اسال منہ بنا کر بولا ۔۔۔

“کیا….!!” مایا حیرانگی سے بولی ۔۔۔۔۔۔

“میری اماں کچھ نہیں کر رہے …..” اسال نے اس کو غصے دلوانے کے لئے اماں بولا اور واقع مایا کو غصہ آ گیا ۔۔۔۔۔۔۔

“تم ہو گے بڈھے ۔۔۔” مایا نے اس کو غصے سے سے کہا ۔۔۔۔۔۔

اس سے پہلے کے ان کی بحث بھڑتی عامر درمیان میں بول پڑا ۔۔۔۔۔۔۔

“کیسے ہو مان ۔۔۔؟؟” اس نے مخاطب تو مان کو کیا پر نظر ہانیہ پر تھی ۔۔۔۔۔

“کہیں پر نظریں کہیں پر نشانے ۔۔۔” اسال نے اس کو ہانیہ کو دیکھتے ہوۓ دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے بول پڑا ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی سب ہنس پڑے ۔۔۔۔

اس کے اس طرح کہنے پراور سب کے ہسنے پر عامر تھوڑا خجل ہوا ۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کے کوئی نئی بحث شروع ہوتی ہانیہ بول پڑی ۔۔۔۔

“میں نے سنا ہے کے اپنی یونی میں نئی لڑکی آ رہی ہے وہ بھی لندن سے اور ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔”ہانیہ نے سب کو تفصیل سے بتایا مان کو اس کی ان باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لئے دوبار اپنے نوٹس بنانے لگ گیا ۔۔۔۔۔۔۔ مایا بھی اس کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئ۔ ۔۔۔ مان نے پہلو بدلا ۔۔۔۔۔

عامر نے ہانیہ کو اپنی نظروں کےحصار میں لیا ہوا تھا ۔۔۔۔

عامر ہانیہ کو پسند کرتا تھا ۔۔۔۔اور یہ بات ان سب کو معلوم تھی ۔۔۔۔اور گھر والوں کو بھی ۔۔۔۔۔۔

اس لئے گھر والوں نے ان کا رشتہ طے کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ ٹائم کے بعد ان کی منگنی کی رسم ہونی تھی ۔۔۔۔۔

“یار کیسی ہو گی وہ “اسال خیالوں میں سوچتا ہوا بولا ۔۔۔۔۔۔

“جیسی بھی ہو گی پر مجھ سے زیادہ خوبصورت نہیں ہو گی ۔۔۔۔۔مایا بولی اس کے لہجے میں غرور تھا ۔۔۔ جو سب نے محسوس کیا ۔۔۔۔

” میں تو یونی جلدی جاؤں گا ۔”اسال جلدی سے بولا

“واہ بچو آج تک تو کبھی بھی یونی جلدی نہیں آیا ” ہانیہ جلدی سے بولی وہ اس کے یونی جلدی آنے کا کہنے سے حیران ہوئی اور باقی سب بھی شاک میں تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

“کیوں میں یونی جلدی نہیں آ سکتا “اسال منہ بنا کر سب کو دیکھ کر بولا ۔۔۔۔۔ جو شاک کی حالت میں اس کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔

“نہیں تم کبھی جلدی آے نہیں ہو نا اس لئے ” اب کی بار مایا بولی

“ہاں ۔۔۔تو آگے کبھی یونی میں لندن سے لڑکی آئ ہے ” وہ مصومیت سے بولا

اس سے پہلے کے کوئی اور شروع ہوتا مان نے سب کو اپنے روم سے باہر نکال دیا ۔۔۔

اور خود دوبار اپنے نوٹس بنانے لگ گیا ۔

___________

“بیا اپنا خیال رکھنا ۔۔” نور نے بیا سے گلے ملتے ہوے کہا ۔۔۔ نور اسماء اور بیا کے بابا اس کو ائیرپورٹ پر چھوڑنے اے تھے ۔۔۔۔

“تم بھی اپنا خیال رکھنا ۔۔۔” بیا نے اسے کہا اور پھر اسماء سے ملی آخر میں اپنے بابا سے ملی

“بابا اپنی میڈیسن ٹائم پر لینی ہے آپ نے اور کوئی بھی پریشانی ہو مجھے کال کر دینا ۔۔۔” اپنے بابا سے گلے ملتے ہوۓ اس کی آنکھیں نم ہو گی ۔۔۔۔۔ جو بھی تھا وہ کبھی ان سے دور نہیں ہوئی تھی ۔۔۔

“بیٹا تم بھی اپنا خیال رکھنا اور کیسی بھی چیز کی ضرورت ہو مجھے کال کر دینا ۔۔۔۔۔۔

اور میں نے خان بابا کو کہہ کر گھر دوبارہ اوپن کروا دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور وہاں مائی بھی ہو گی وہ تمہارا خیال رکھے گی ۔۔۔۔۔۔

ان سب سے ملنے کے بعد بیا اندر چلی گی۔۔۔۔

جہاز میں بیٹھی بھی وہ اپنے آنے والے کل کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

ربا میرے حال دا محرم توں

اندر وی توں باہر وی توں..

******************

“تمہں کیسی لڑکی چاہیے اسال” ہانیہ نے اسال سے پوچھا ۔۔۔۔ آج چھٹی کا دن تھا اور سب ہی باہر لان میں بیٹھے تھے ان کے دادا ان کے ساتھ بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔

“مجھے ایسی لڑکی چاھئے

جو کرکرے کی طرح ٹیڑھی ھو پرمیری ھو” اسال نے شوخی سے جواب دیا ۔۔۔۔ اور ساتھ ہی سب ہنس پڑے ۔۔

“مان بھائ آپ کو کیسی لڑکی پسند ہے ۔۔۔؟ ہانیہ نے مان سے پوچھا جو دادا کے پاس بیٹھا چائے پی رہا تھا

“مجھے ان فضول باتوں سے دور رکھو” مان نے مایا کو دیکھ کر کہا جو اس کو اشتیاق سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

“ہاں مان بتاو نا تمھے کیسی لڑکی پسند ہے ۔۔۔؟ مایا نے بھی پوچھا

اسال بھی بولا “ہاں بتاو بھائ کیسی لڑکی پسند ہے ۔۔۔؟

“دادا جی ” مان نے مدد طلب نظروں سے اپنے دادا جی کو دیکھا ۔۔۔

دادا جی نے اپنے کندھے اچک دئے بولے” بیٹا یہ تمہارا اپنا مسئلہ ہے ۔۔۔۔”

آخر ہار مانتے ہوۓ مان بولا

“مجھے ایسی لڑکی پسند ہے جو اپنے آپ کو چھپا کر رکھتی ہو اپنی نمائش کرتی نا ہو ۔۔۔۔ جیسے محرم اور نا محرم میں فرق پتا ہو ۔۔۔” اور آخری بات اس نے مایا کو دیکھ کر کہی جو اب بھی ڈوپٹے سے بے نیاز بیٹھی تھی ۔۔۔۔

“بھائ وہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں جو آپ نے مجھے بتایا تھا ” اسال آخر بول پڑا جو کافی ٹائم سے چپ تھا ۔۔۔

“کیا ” مایا جلدی سے بولی ۔۔۔ کیوں کو مان کی پہلی کوئی بھی بات اچھی نہیں لگی تھی ۔۔۔۔

“وہی نیلی آنکھیں ہونٹ کے پاس تل ” اسال شرارت سے بولا

“اسال۔ ۔۔۔۔۔۔۔” مان غصے سے بولا

اور اسال زبان چرا کر بھاگ گیا ۔۔۔۔۔

“بیٹا یہ کیا کہہ رہا تھا “دادا جی نے مان سے پوچھا ۔۔۔۔۔مان کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے ۔۔۔ وہ بھی اس کے پیچھے بھاگ گیا ۔۔۔

مایا اور ہانیہ اس کو دیکھ کر رہ گی کیوں کے ان دونوں کو کچھ بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔۔۔۔

******************

“اسلام علیکم چھوٹی بی بی ” خان بابا نے اس کو مخاطب کیا

“آپ ۔۔۔۔؟؟؟؟” بیا نے ان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔

“میں خان بابا ہوں چھوٹی بی بی آپ کو لینے آیا ہو ۔۔۔ صاحب نے پہلے ہی فون کر کے ہم کو بتا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

“اوہ اچھا آپ ہیں خان بابا ۔۔۔” بیا نے اان کو کہا ۔۔۔

“جی ” خان بابا نے بس اتنا ہی کہا

خان بابا نے اس کا سامان کار میں رکھا اور بیا کار میں بیٹھ گی ۔۔۔۔۔

تھوڑے ہی وقت کے بعد بیا گھر پہنچ چکی تھی سب ملازمین نے اس کا استقبال کیا ۔۔۔۔

بیا یہ سب دیکھ کر بہت خوش ہوئی ۔۔۔۔

بیا گھر کے اندر آئ تو بہت اداس ہوئی کیوں کے یہاں اس کا بچپن گزرا تھا ۔۔۔۔۔ وہ اور اس کی ماما اور بابا کتنے سکون سے رہتے تھے ۔۔۔۔۔ ایک حادثے نے ان کی زندگی بدل دی ۔۔۔۔

“چھوٹی بی بی کھانا کھائیں گی “مائی نے بیا کو کہا

“ہاں ۔۔۔۔”بیا نے اسے جواب دیا جیسے ابھی خواب سے جاگی ہو ۔۔۔

“آپ ابھی کھانا کھائے گی” مائی نے دوبارہ پوچھا ۔۔

“نہیں ابھی میں کمرے میں جا کر آرام کرو گی ۔۔۔ “

“ٹھیک ہے چھوٹی بی بی ” اس کے بعد بیا اپنے روم میں چلی گی ۔۔۔۔۔۔

وہ واش روم گی اور فریش ہو کر واپس آگی اور آکر بیڈ پر لیٹ گی ۔۔۔

بیا تھکی ہوئی تھی اس لئے جلدی سو گی اور صبح یونیورسٹی بھی جانا تھا ۔۔۔۔

‏ہم بارگاہِ عشق میں مقبول یوں ہوئے

خود سے بچھڑ گئے تیری قربت کے شوق میں

******************

“امی جلدی کھانا لا دے “اسال زور زور سے بول رہا تھا ۔۔۔۔

“بیٹا آرام سے ” دادا جی نے اس کو ٹوکا

“آج تم اٹھ اتنی جلدی اٹھ گئے ہو اور یونیورسٹی جانے کے لئے بھی اتنے بے تاب ہو رہے ہو آخر چکر کیا ہے ” کلثوم بیگم نے اسال کو ناشتہ دیتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔۔۔

“بڑی امی آج لندن کی لڑکی آرہی یونی ۔۔۔ اس لیے یہ یونی جلدی جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔” ہانیہ ناشتہ کرتی ہوئی بولی ۔۔۔۔

“ہیں کون آرہا ہے ۔۔” دادا جی بولے

“شرم تو نہیں آتی لڑکی کے لئے جلدی اٹھ گیا آگے ماں اٹھا اٹھا کر رہ جاتی ہے جب تو بات سننی نہیں ہے ۔۔۔” کلثوم بیگم نے اس کی کمر پر چپت لگائی ۔۔۔۔۔

“کیا امی ۔۔۔۔!!” اسال رونی صورت بنا کر بولا ۔

اور ہانیہ اس کی درگت بنتے دیکھ رہی تھی اور اپنی ہنسی روکی

“میں نے مارکیٹ جانا ہے اسال چلو ” آسیہ بیگم نے کہا

“کیا ۔۔۔۔۔۔!!!” اسال کو تو جیسے چار سو چالیس واٹ کا جھٹکا لگا ۔۔۔۔۔

“آج ہی سب نے مجھے کام کہنے ہیں ” وہ منہ بنا کر بولا آج تو اس کو یونیورسٹی جلدی جانا تھا ۔۔۔۔۔۔

“پر چھوٹی امی آج مجھے جلدی جانا ہے ۔۔۔” وہ بولا

“شرم تو نہیں آرہی ماں کے کام آے تو یونیورسٹی سی دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔۔ بعد میں مل لینا یونیورسٹی والی ماں سے ۔۔۔” کلثوم بیگم نے غصے سے کہا

“اچھا امی ۔۔۔۔!!” اسال منہ بنا کر بولا اس کو رونا آرہا تھا اتنی درگت بنے پر وہ بھی ہانیہ کے سامنے ۔۔۔۔۔

“اچھا امی میں چلتی ہوں مان بھائ تو پہلے ہی چلے گئے ہیں ۔۔۔” ہانیہ اس کو انگوٹھا دیکھا کر چلی گی ۔۔۔۔۔۔

اور وہ صرف اپنی جگہ ہی بدلتا رہ گیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *