Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 04)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 04)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
مری ہستی عبادت ہو گئی ہے،
مجھے اُن سے محبّت ہو گئی ہے۔
سکونِ دل سے اس کا واسطہ کیا،
تری جس پر عنایت ہو گئی ہے۔
سراغِ زندگی بخشا ہے جس نے،
اسی غم سے عقیدت ہو گئی ہے۔
نہیں ہے دخل کچھ تیری جفا کا،
یونہی رونے کی عادت ہو گئی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ واصفؔ مر چکا ہے،
مبارک ہو شہادت ہو گئی ہے۔
*****************
کلاس ختم ہونے کے بعد سب لوگ کینٹین آگے۔۔۔
بیا بھی ان کے ساتھ آئی تھی ۔۔۔۔۔
“تم مجھے اب بتاؤ کے یہ ابیحہ تمہاری دوست کب بنی اور تم اس کو بیا کیوں کہ رہے ہو ۔۔۔” ہانی نے آتے ہی اسال سے پوچھنا شروع کر دیا ۔۔
“صبر لڑکی بتاتا ہوں ۔۔اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔۔۔”اس نے کہا اسال نے سب کی نظروں میں سوال پڑھ لیے تھے ۔۔۔۔ اسال نے بیا کو آگے کیا
“یہ ہے ابیحہ شاہ لندن سے اسٹڈی کرنے آئی ہے ۔۔۔”اسال نے جواب دیا ۔۔
“وہ تو ہمیں سر نے بھی بتا دیا ۔۔۔ تم یہ بتاؤ کے یہ تمہاری دوست کب بنی ۔۔” ہانی نے دانت پیس کر جواب دیا۔۔۔
“بتا رہا ہوں نا ۔۔۔ بات دراصل یہ ہے کہ میں تمہارا تھنکس کرنا چاہتا ہوں۔ ۔۔۔”اسال نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔
“وہ کیوں ۔۔۔؟” ہانی بولی
اسال نے صبح کہ سارا واقعہ بتا دیا اور بولا
“دیکھ لو تم نے تو کتنی کوشش کی مجھے روکنے کے لیے ۔۔۔ لیکن دیکھو کہتے ہیں نا جیسے شدت سے چاہو تو ساری کائنات آپ کو اس سے ملانے میں لگ جاتی ہے ۔۔۔۔” اس کی بات پہ سب ہنس دیے اور ہانی نے منہ بنایا ۔۔ سب ہی بیا کو دیکھنے لگ گئے ۔۔۔
بیا ان سب کی نظروں سے کافی کنفیوز ہو رہی تھی۔ ۔۔ خاص کر مان کی نظروں سے اس نے کلاس میں بھی اپنے اوپر نظروں کی تپش محسوس کی تھی ۔۔۔جب دیکھا تو مان اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔اس کے دیکھتے ہے مان نے اپنے نظرے جھکا لی ۔
۔۔
اور اب بھی مان اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
“ہیلو میں ہانیہ ہوں پیار سے مجھے ہانی کہتے ہیں اور میں اس پاگل کی کزن ہوں ۔۔”ہانیہ نے بیا سے ملتے ہوے اپنا تعارف کروایا ۔۔۔
اس کے بعد عامر ملا اور پھر مایا ۔۔
جب بیا نے مان کی طرف دیکھا تو اس سے پہلے کہ مان کچھ کہتا اسال بول پڑا ۔۔
“ان کے بارے میں بتاتا ہو ۔۔یہ میرا دوست میری جان میرا بھائ ہے ۔۔۔”
“بہت پیار کرتے ہو اپنے بھائ سے ۔۔”بیا بولی
“ہاں اتنا کہ میں ان کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہوں۔ ۔۔” اسال جوش سے بولا ۔۔۔
کافی دفعہ ہمارے الفاظ ہی ہمارے لیے وبال جان بن جاتے ہیں اور یہ تب ہوتا ہے جب ان الفاظ کو عمل میں لانا ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور اسال بھی نہیں جانتا تھا کہ جو وہ اپنے بھائ کے پیار میں کہ رہا ہے وہ ہی اس کے لیے وبال جان بنے گا ۔۔۔۔
اور اس کی بات سن کر بیا مسکرا دی ۔۔
“آج سے تم بھی ہمارے گروپ میں شامل ہو ۔۔۔ کسی کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے ۔۔”اسال نے سب سے پوچھا ۔۔
“نہیں مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔”ہانی اور عامر ایک ساتھ بولے ۔ اور ہنس پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے اعتراض ہے “مایا بولی ۔۔۔
“پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے “مان بیا کوش دیکھتے ہوے بولا ۔۔۔۔
“یاہو ۔۔۔۔۔۔ بس بھائ کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔” اسال خوشی سے بولا
مان کے اسطرح بولنے پر مایا کو اور غصہ آیا ۔۔وہ پہلے بھی مان کی نظریں بیا پر دیکھ چکی تھی اور اس کو بیا سے حسد محسوس ہوا ۔۔۔
اس کے بعد سب نے کولڈ ڈرنک پی اور ساتھ پیزا بھی کھایا ۔۔۔۔
بیا سب کو اپنی دوستوں اپنی فیملی کے بارے میں بتا ہے رہی تھی کہ علی اپنے دوستوں کے ساتھ کینٹین میں آیا ۔۔۔
علی کی نظر سیدھا اندر بیا پر پڑی ۔۔۔اسال نے علی کو دیکھ لیا ۔۔۔ جب علی ان کے پاس سے گزرا تو وہ میز سے ٹکرا گیا اسال اپنی مسکراہٹ کو چھپا کر بولا
“ذیادہ زور سے تو نہیں لگا “
علی اس کی طرف غصے سے بڑھا مگر اس کے دوستوں نے اس کو روک لیا ۔۔۔
وہ ایک نظر بیا پر ڈال کر کینٹین سے ہے باہر چلا گیا ۔۔۔
ہانی نے علی کے بارے میں پوچھا تو اسال نے سارا واقعہ بتا دیا ۔۔۔
اسال کی بات سننے کے بعد ہانی اور عامر نے اس کو داد دی مان بھی داد دیے بغیر نا رہ سکا ۔۔۔اور مایا حسد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد ان لوگوں بے آپس میں کافی باتیں کی ۔۔۔ اور یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد اپنے گھر کو چلے گئے ۔ ۔۔۔۔
***********
گھر آنے کے بعد اسال کے پاؤں تو زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔ اس جا کرآسیہ بیگم کو جا کر سارا واقعہ بتایا ۔۔اور یہ بھی کہ وہ ہماری ہی کلاس کی ہے ۔۔۔
“کس کی بات کر رہے ہو ۔۔۔؟اب کی بار کلثوم بیگم بولی جو اس کو خوش دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔
“بڑی امی وہی لندن والی ۔۔۔” ہانی شرارت سے بولی ۔۔۔۔
“جب ہی میں کہوں اتنا خوش کیوں ہے شرم تو نہیں آئی اسے آتے ہی میرے بیٹے کو پھنس لیا ۔۔۔” کلثوم بیگم غصے سے بولی ۔۔۔
“جی مامی آپ ٹھیک کہ رہی ہیں ۔۔۔آج اسال سارا دن اس کے ساتھ تھا ۔۔۔” مایا بھی جلدی سے بولی کیونکہ آج اس کو بیا سے بہت جلن محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
“جلنے کی بو آرہی ہے ۔۔۔۔” اسال کہاں چپ رہنے والوں میں سے تھا جلدی سے بول پڑا ۔۔
“مامی ۔۔۔۔۔” مایا زور سے بولی
“چپ کر میری بیٹی کیوں جلے میری بیٹی خود بہت خوبصورت ہے کیا کمی ہے میری بیٹی میں ۔۔۔”کلثوم بیگم نے مایا کو گلے لگایا ۔۔وہ پہلے ہی مایا کو مان کے لیے پسند کرتی تھی اور یہ بات مان اور مایا اور باقی گھر والے بھی جانتے تھے ۔۔۔
“بڑی امی مایا تو کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ وہ اتنی خوبصورت ہے ہے کہ ۔۔۔”
“مایا اس کے سامنے بندری لگتی ہے ۔۔۔”ہانی ابھی بول ہی رہی تھی کہ اسال بول پڑا
مایا نے غصے سے پاس پڑا کشن اٹھیا اور اسال کو مارا مگر وہ جلدی سے سائیڈ پر ہو گیا ۔۔۔
اور اوپر بھاگ گایا ۔۔ کیونکہ اب اس کی امی نے مایا کی تعریف میں دن رات ایک کر دینے تھے جو وہ سننا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
“ویسے ایک بات ہے باجی ہے تو وہ بہت خوبصورت ۔۔۔” آسیہ بیگم خواب سی حالت میں بولی ۔۔۔
“تم بھی ملی ہو اس کب ۔۔۔۔؟؟”کلثوم بیگم نے اس سے پوچھا ۔۔۔
آسیہ بیگم نے صبح والا سارا واقعہ بتا دیا ۔۔۔
“اچھا اب بس بھی کرو کھانا کھانا بھی ہے یا نہیں ۔۔۔”کلثوم بیگم کو بیا کی تعریف پسند نہیں ای اس لیے بول پڑی
“امی مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔”اسال اوپر سے بولا “آجاؤ پھر کس نے کہا تھا کہ اس لندن والی کی باتیں کرو “
“مان بیٹا تمھیں کیا ہوا ۔ ۔۔۔؟”کلثوم بیگم نے مان کو پکارا جو کافی ٹائم سے خاموش بیٹھا تھا ۔۔۔۔
“نہیں امی کوئی بات نہیں ہے بس آج تھوڑا تھک گایا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔” مان پیار سے بولا
“ہاں ٹھیک ہیں نا کھانا کھا لو اور آرام کر لو۔ ۔” اس کے بعد سب نے کھانا کھایا ۔۔اور سب اپنے روم میں چلے گئے ۔۔
**********
گھر آنے کے بعد بیا نے کھانا کھایا اور اپنے روم میں چلی گی ابھی وہ واشروم سے فریش ہو کر آئ ہی تھی کہ اس کے بابا کی کال آگئی
“اسلام علیکم بابا “بیا نے مسکرا کر سلام لیا
“وعلیکم اسلام بابا کی جان ۔۔۔ کیسی ہو ۔۔؟۔ میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا ۔۔۔” اس کے بابا نے ایک ساتھ ہی کتنے سوال کر دیے
” آرام سے بابا آرام سے میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں ۔۔۔ اور میڈیسن تو ٹائم پر لے رہے ہیں نا ۔۔۔”بیا بولی
“وہ جو تم اپنے دو چیلے چھوڑ کر گی ہو نا مجال ہے کہ تھوڑا سا ٹائم ادھر ادھر کر دے ۔۔۔۔
وہ منہ بنا کر بولے
“ہاہاہا بابا ۔۔۔ ” بیا ہنس پڑی
“لو آگئی ہیں یہ دونوں بھی ” نور اور اسما ان کو آتی ہوئی دکھائی دی اس لیے بول پڑے ۔
۔
“اسلام علیکم ۔۔۔کیا حال ہے ۔ ۔۔؟بیا ان کو دیکھ کر پیار سے بولی
“انکل اس سے کہے ہم سے بات نا کرے بےوفا ہے یہ وہاں جا کر بھول گی ہے نا کال نا مسیج لگتا ہے وہاں نیو فرینڈز بنا لیے ہیں جو ہمیں یاد نہیں کیا ۔۔
دوست دوست نا رہا ” نور نے اپنے نقلی آنسو صاف کیے ۔۔
بیا اس کے ڈرامے کو دیکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول کر رہی تھی ۔۔۔ باقی سب بھی اپنی ہنسی کو کنٹرول کر رہے تھے ۔۔۔ اسماء سے اپنی ہنسی کنٹرول نا ہوئی تو وہ ہنس پڑی ۔۔۔اس کے ساتھ ہی سب ہنس پڑے ۔۔۔
“ہاں دوست تو بنا لیے ہیں میں نے ۔۔”بیا کچھ سوچتی ہوئی بولی
“دیکھا میں نے نا کہا تھا کہ بیا نے نیو دوست بنا لیے ہیں “نور چلا کر بولی
“اچھا اچھا بس کر جا میڈم ڈرامہ کوئین ” بیا نے ہنس کر کہا
“اچھا بیٹا تم لوگ بات کرو میں ابھی آتا ہوں ۔۔”بیا کہ بابا بولے
“بابا آپ کہاں جا رہے ہیں “بیا جلدی سے بولی کیونکہ ابھی تو اس کی بات ہی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔
“بیٹا اس کے ساتھ بات کر لو ورنہ اس نے تمھیں کچا کھا جانا ہے ۔۔”وہ مسکرا کر بولے
“ہاہاہا انکل ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ بات کر لے یہ تو ہے ہی پاگل “اسماء نے نور کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
“کیا بولا دوبارہ بولنا ” نور نے غصے سے پاس پڑا کشن اٹھا کر اسماء کو مارا اور اسماء بس اہ کر کے رہ گی
“اچھا اب تم دونوں مت سٹارٹ ہو جانا بابا آپ جائے میں آپ سے بعد میں بات کر لوگی “بیا اپنے بابا کو پریشان ہوتا دیکھ کر جلدی سے بولی
“کیا ہوگیا ہے کیوں بچوں کی طرح لڑ رہی ہو “بیا غصے سے بولی
وہ دونوں بھی جلدی سے الگ ہو گی جو آپس میں لڑ رہی تھی ۔۔۔۔
“نہیں ہم تو وہ ۔۔۔”اسماء کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا بولے اس لیے نور جلدی سے بول پڑی
“ہم لڑ کب رہے تھے یہ ہمارا پیار کرنے کہ سٹائل ہے ۔۔”
“ہاہاہاہا “بیا ہنس پڑی کیوںکہ اب اس سے ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گی تھی
“بیا ۔۔۔۔۔۔”دونوں ایک ساتھ چلائی
“اچھا اب بس کرو ۔۔”بیا نے ہاتھ اٹھا کر ایک ادا سے کہا
“ویسے میں تم سے ابھی بھی ناراض ہو “نور بولی
“کیوں”بیا نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
“کیونکہ تم نے جا کر نا کال کی اور نا مسیج “نور منہ پھلا کر بولی
بیا نے صبح کہ سارا واقعہ بتایا کہ کیسے علی نے اس کو تنگ کیا اور پھر اسال اور اس کے گروپ سے دوستی ۔۔۔ سارا کچھ بتا دیا
“بیا تم بچ کے رہنا ایسے لوگ خطرناک ہوتے ہیں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور ۔۔۔۔”اسماء کچھ اور بولتی نور جلدی سے بول پڑی
“اوے تم چپ کرو ۔۔بیا تم نے جو کیا بلکل ٹھیک کیا ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے ۔”
“ہمم تم ٹھیک کہہ رہی ہو “بیا بولی
اس کہ بعد وہ لوگ آپس میں بات کرتی رہیں ۔۔۔
***************
روم میں آنے کے بعد مان صبح والی اپنی حرکت کہ بارے میں سوچ رہا تھا اور اس کو اپنی بے خودی پر غصہ آرہا تھا
ایسا کیا ہے اس میں جو میں اس کی طرف کیھنچا جا رہا ہوں
“مجھے اپنے پر کنٹرول رکھنا ہو گا ۔۔۔”مان خود ہی سوچتے ہوے بولا
“بھائ کیا بول رہے ہو ۔۔۔”اسال نجانے کہاں سے آگیا
“تم کب اے “مان ونڈو سے ہھٹے ہوے بولا
“جب آپ کسی کے خیال میں کھوے ہوے تھے “اسال شرارت سے بولا
مان نے اپنی آئی برو اٹھای اور اس کی گردن کو پکڑا تو اسال جلدی سے بول پڑا
“کیا بھائ میں تو مذاق کر رہا تھا آپ بھی نا سیریس ہو جاتے ہو “اسال اپنی گردن چھوڑاتے ہوے بولا”
مان اس کی حالت دیکھ کر لطف اٹھا رہا تھا
“بھائ آپ اپنے پانچ منٹ بڑے ہونے کہ فائدہ اٹھاتے ہو ” اسال رونی صورت بنا کر بولا
“ہاہاہاہا “مان نے زور دار قہقه لگایا ۔۔۔
“اچھا بھی ویسے ایک بات ہے بیا میں ۔۔ بوٹیفل ہے زہین ہے ۔ ۔۔ اور ۔۔”وہ بولتا بولتا رک گیا
“اور کیا “مان جلدی سے بول پڑا
اسال نے اپنے بھائ کو دیکھا جو لڑکیوں کی باتوں سے دور بھاگتا تھا
“اور وہ آپ کی چوائس کے مطابق ہے
نیلی آنکھیں ہونٹ کے پاس تل ۔۔”اسال شرارت سے کہتا ہوا پیچھے کو ہٹا کہ مان دوبارہ پکڑ کر اس کی درگت نا بنا دے ۔۔۔
“کیا بولا ۔۔۔”مان غصے سے کہتا ہوا اس کی طرف لپکا لیکن وہ پہلے ہی بھاگ گیا
***********
بیا سب سے بات کرنے کے بعد اچھا فیل کر رہی تھی ۔۔۔
“بیا سونے کے لیے لیٹ گی لیکن نیند اس کی آنکھوں سے دور تھی ۔۔۔
“آخر کیوں ستا رہے ہیں آپ مجھے ۔۔کیا آپ کو نہیں پتا کہ میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی ۔۔”بیا تصویر سے ہمکلام ہوئی
پلیز اب مجھے اور نا ستائے آ جائے نا پلیز واپس ۔۔ دیکھا نا آپ کی بیا کتنی اکیلی ہے آپ کے بنا ۔۔۔”اور بات کرتے ہوے کب اس کو نیند آگی اس کو پتا ہی نہیں چلا
اگر آپ کہتے ہیں تو مان لیتے ہیں ۔۔!!!
یہی کہ بس فرشتے ہی جان لیتے ہیں ۔۔۔!!!
