Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 10)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 10)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
“best of luck bia ” مان نے بیا کو کہا
“thnxx” بیا صرف اتنا ہی بولی
“لڑکیوں آج تم نے جیت کر آنا ہے اور ہمارا نام روشن کرنا ہے ” اسال بوڑھی عورت کی طرح بولا
اس کے اس طرح بولنے پر سب ہنس پڑے
“ذرا بچ کے رہنا بہت تیز ہیں وہ “اسال ان کی سمجھتا ہوا بولا
“ارے بابا سمجھ گئے ہم “ہانی اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی
“چلو بچو ” سر نواز نے آکر کہا
وہ لوگ میدان میں آگئے میدان پورے کا پورا بھرا ہوا تھا ۔۔۔آج تک ان کی یونیورسٹی فٹ بال میچ نہیں جیتی تھی ۔۔۔۔آج ان سب کی امید بیا کے ساتھ تھی ۔۔۔۔
دونوں ٹیم میدان میں آگئی میچ شروع ہوا
سٹارٹ میں تو دونوں ٹیم ہی کوئی گول نہیں کر سکی ۔۔۔۔
تماشائی بیٹھے اپنی اپنی ٹیم کو سپورٹ کر رہے تھے تھے ۔۔۔
اسال مان نور اسماء بھی اپنی ٹیم کا حوصلہ بھرا رہے تھے ۔۔۔۔۔
کرن کے پاس فٹ بال تھا اس کوئی بھی چھین نہیں پا رہا تھا بیا نے ہانی کی طرف اشارہ کیا اور ہانی کرن کے سامنے گئی کرن کا دیھان اس کی طرف ہوا بیا نے اس سے فٹ بال چھین لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے گول کر دیا
سارے میدان شور سے گونج اٹھا
اس کے بعد کرن نے ایک گول کیا
ہانی کو تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کے وہ کیا کرے اس نے ایسے ہی فٹ بال کو زور سے ٹانگ ماری اور وہ گول ہو گیا
ہانی خوشی سے جھوم اٹھی اسال تو بیہوش ہوتا ہوتا رہ گیا
“بھائ ذرا مجھے چٹکی کاٹنا سچ میں ہانی نے ہی گول کیا ہے ” اسال جلدی سے بولا
مان کی جگہ نور نے اس کو چٹکی کاٹی
“بھائ ۔۔۔۔۔۔۔۔اتنی زور سے نہیں کہا تھا “اسال چلا کر بولا جب اس نے مان کی طرف دیکھا تو وہاں مان۔ نہیں نور بیٹھی تھی اور اس کو دانت دیکھا رہی تھی ۔۔۔۔
“چڑیل “اسال نے منہ میں بولا اور اپنا ہاتھ سہلنے لگ گیا
میچ بریک کے بعد دوبارہ سٹارٹ ہوا
بیا ابھی گول کرنے ہی لگی تھی کہ کرن نے چالاکی سے اپنا پاؤں اگے کر کے بیا کو گرا دیا
میچ روک دیا گیا ۔۔۔
بیا سے اٹھا ہی نہیں جا رہا تھا بیا کے پاؤں میں موچ آئ تھی
مان بھی بھاگ کر بیا کے پاس آیا اور بولا
“بیا تم ٹھیک ہو “
“میرا پاؤں ۔۔۔”بیا روتے ہوے بولی ۔۔۔۔سر بھی سارے بیا کے پاس آگئے
“میں کچھ کرتا ہو “اسال نے بیا کا پاؤں پکڑا
“نہ نہ نہیں ” بیا اپنا پاؤں پیچھے کرتے ہوے بولی ۔۔۔
“بیا کچھ نہیں ہو گا میں ہو نا تمہارے پاس۔۔۔۔یہاں دیکھوں میری آنکھوں میں ۔ ۔ “مان نے اس کے ہاتھ پکڑ کر بولا
بیا نے جب اس کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کی آنکھوں کے سحر میں کھو گئی ۔۔۔۔۔ہوش تو تب آیا جب اسال بولا
“ہو گیا “
بیا نے جلدی سے اپنا ہاتھ مان کے ہاتھ سے چھڑوایا
مان کو لگا جسے کیسی نے اس کی زندگی اس کے ہاتھ سے کھنچ لی ہو
“تم ٹھیک ہو بیا “سر قمر نے پوچھا
“جی سر “بیا کھڑے ہوتے ہوے بولی
اس کے بعد میچ دوبارہ سٹارٹ ہوا
اور اب بیا کرن سے ذرا سمبھل کر رہی ۔ ۔
آخری 2منٹ رہ گئے تھے دونو ٹیم۔ کے گول برابر تھے ۔۔۔صرف ایک گول کی ضرورت تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اچانک ہی بیا نے گول کیا اور گول ہو گیا ۔۔۔۔
پورا گراؤنڈ ہی خوشی سے جھوم اٹھا ۔۔۔ کیونکہ بہت ٹائم بعد ان کی یونیورسٹی جیتی تھی ۔۔۔۔۔۔
سب ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے ۔۔۔۔
مان اور اسال نے بھی آکر ان کو مبارک دی
“مجھے تو پہلے ہی پتا تھا کہ بیا تم ہی جیتو گی ۔۔۔”نور خوش ہوتے ہوۓ بولی
“کیونکہ تم کوئی نجومی بابا ہو جو مستقبل کا حال پہلے جان لیتی ہو ” اسال شرارت سے بولا
اس کے اس طرح کہنے سے سب ہی ہنس پڑے
“تم تو میرے منہ مت لگو ” نور تڑ خ کر بولی
“وہ تو میں ابھی تک لگا ہی نہیں “کہہ کر اسال وہاں سے بھاگ گیا
جب تک اس کو بات سمجھ آئ وہ وہاں سے جا چکا تھا اور وہ دانت پیس کر رہ گئی ۔۔۔۔
****************
“مما آج ہم لوگ جیت گئے اور آپ کو پتا ہے میں نے بھی آج گول کیا ۔۔۔”ہانی نے خوش ہو کر آسیہ بیگم کو کہا
“اور میرا تو بتاؤ ” اسال جلدی سے بولا
“ہاں ماما اسال نے آج winning shot لگایا ۔۔۔”
“چھوٹی امی اس نے جب گول کیا مجھے تو یقین ہی نہیں ہویا کہ یہ ۔۔۔یہ ہماری ہانی ہے ” اسال شرارت سے بولا ۔۔۔
“ویسے یہ سب بیا کی وجہ سے ہوا ہے اس نے مجھے سیکھایا تھا ” ہانی خوش ہو کر بولی
“ہاہاہا “اسال دانت نکال کر ہسنے لگا ۔۔۔
ہانی نے پاس پڑا کشن اٹھا کر اس کو مارا
اسال نے بھی وہی کشن اٹھا کر اس کو مارا
مان وہاں پاس بیٹھا ان کی بچوں والی باتوں پر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
“ان کو چھوڑو بیٹا تم بتاؤ کیسا رہا آج کا میچ “کلثوم بیگم نے اس سے پوچھا
“الحمداللّه امی سب اچھا رہا ۔۔۔” مان مسکرا کر بولا ۔۔۔
“بیٹا ہمیشہ خوش رہو ۔۔۔”انہوں نے دل سے دعا دی ۔۔۔۔۔
وہ آج بہت خوش تھی کہ ان کے بچے خوش ہیں ۔۔۔۔لیکن کافی دفعہ ہماری خوشی کی میعاد بھی کام ہوتی ہے لیکن ہم یہ نہیں جانتے ہیں ۔ ۔۔۔کیونکہ ہم اپنے آنے والے دن کے لیے صرف اچھا سوچتے ہیں ۔۔۔ برا نہیں ۔۔۔ لیکن اچھا اور برا وقت تو زندگی کا حصہ ہے
*************
“کوئی ہے یہاں پر ۔۔۔ پلیز میری مدد کرو ۔۔۔” بیا چلا کر بولی ۔۔۔ بیا کو اس جگہ سے خوف آرہا تھا ۔۔
اتنے میں کوئی دروازہ کھول کے اندر آیا اس کے منہ پر نقاب تھا
“کون ہو تم ۔۔۔۔؟ کیوں لائے ہو مجھے یہاں ۔۔۔؟ پلیز مجھے چھوڑ دو ۔۔۔کیا بگاڑا ہے میں نے تمہارا ۔۔۔۔”بیا کی آنکھوں میں آنسوں آگاۓ ۔۔۔
“اوہو تم تو ابھی سے رونے لگ گئی ۔۔۔ ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے ۔ ۔ ” سامنے والا خباثت سے ہنسا ۔۔ اور بیا کے آنسوں صاف کیے
“دور رہو مجھ سے ۔۔۔”بیا چلا کر بولی
“نو بےبی نو آگر تم جیسا قیامت خیز حسن ہو تو اس سے دور رہنا بہت مشکل ہے ۔۔۔۔”سامنے والے نے بیا پر جھک کر کہا
اس کی بات سن کر بیا کے جسم میں کرنٹ سا دوڑا
بیا کو اس سے خوف آرہا تھا ۔۔۔وہ اس وقت اللّه سے اپنی عزت کی حفاظت کی دعا کر رہی تھی
