Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 08)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 08)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
“یہ مجھے کیا ہو جاتا ہے جب جب میں اس کے سامنے جاتی ہوں ۔۔۔ کیوں میرا دل اس کی طرف کھنچا جا رہا ہے ۔۔۔ کیوں میں اس کے سامنے بے بس ہو جاتی ہوں ۔۔۔۔۔آج تک میرے دل تک کوئی رسائی نہیں کر سکا سوائے ایک ایک کے ۔۔۔۔تو پھر آج کیوں ۔۔۔۔یا اللّه آپ تو سب جانتے ہیں نا ۔۔۔۔ پھر کیوں ایسا ہو رہا ہے میرے ساتھ ۔ ۔۔۔۔۔” بیا رات کے پہر جائے نماز پڑ بیٹھی اللّه سےرو رو کر دعا کر رہی تھی
وہ اپنے اور مان کے بارے میں سوچ رہی تھی جو بار بار اس کا دل مان کی طرف کھنچا جا رہا ہے ۔۔۔
جب وہ دعا مانگ کر پرسکون ہوئی اٹھی اور اپنی الماری سے تصویر نکلای ۔۔کافی دیر وہ خاموشی سے تصویر کو دیکھتی رہی اور پھر اپنے بیڈ پڑ آکر لیٹ گئی ۔۔۔
“بیا آج تک آپ کی رہی ہے اور آپ کی ہی رہی گی ” اور کل اس کو کیا کرنا ہے سوچتے ہوے سو گئی ۔۔۔
*************
“ایک تو پتا نہیں امی کو میں ہی کیوں ملتا ہوں میری عمر میرے بچے سمبھالنے کی ہے اور میں یہ سمبھال رہا ہو (اس نے شاپنگ بیگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا “
“یا اللّه آپ میری بھی سن لے نا اب تو بھائ کو بھی مل گئی ہے ۔۔۔ “اس نے آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا
“کہیں عامر سہی تو نہیں کہتا کہ میں نے کنوارہ مرنا ہے ۔۔۔۔نہیں نہیں “اس سے اپنی گردن جلدی سے نہیں میں ہلائی ۔۔
ابھی وہ پیچھے موڑا ہی تھا کہ کوئی اس سے ٹکرا گیا ٹکرانے والا گرتا اسال نے جلدی سے تھام لیا ۔۔۔
گرنے والے نے چینخ ماری اور آنکھیں بند کی ہوئی تھی ۔۔۔
اسال نے گرنے والے کو دیکھا تو اس کو دیکھتا ہی رہ گیا
******************
“میں نے تو پہلے ہی کہا تھا بیا کو بتا دیتے ہیں مگر نہیں تم نے تو میری بات سننی ہی نہیں ہے ” اسماء غصے سے نور کو کہہ رہی تھی جو ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
وہ لوگ پاکستان آئے تھے بیا سے ملنے ۔۔۔وہ لوگ بیا کو سرپرائز دینے چاہتے تھے مگر ادھر آنے کے بعد مشکل میں پھنس گئے ۔۔۔ انھیں تو راستہ ہی نہیں معلوم تھا ۔۔۔وہ تو پہلی بار پاکستان آئے تھیں ۔۔۔۔
“اچھا اب بس بھی کرو ہو گئی غلطی ” نور نے بھی غصے سے کہا ۔۔۔اس کو بھی پرشانی ہو رہی تھی وہ تو راستے سے بلکل ہی انجان تھیں ۔۔۔
نور ادھر ادھر دیکھ رہی کے سامنے والے کو نا دیکھ سکی اور اس ٹکرا گئی
ابھی وہ گرتی کہ کیسی نے اس کو تھام لیا
نور نے ڈر سے اپنی آنکھیں بند کر لی
“آپ ٹھیک ہیں ” کیسی نے اس کو کہا
نور نے اپنی آنکھیں کھولی تو اپنے اوپر کیسی کو جھکے پایا ۔۔ نور سامنے والے کو دیکھتی رہ گی ۔۔۔ نور کی ایک بیٹ مس ہوئی ۔۔۔
نور اس کو دیکھ ہی رہی تھی کہ سامنے والا شرارت سے بولا
“مانا کے میں ہینڈسم ہوں مگر اس طرح دیکھتے رہنا اچھی بات نہیں ۔۔۔نظر لاگنے کا ارادہ ہے ۔۔۔مجھے نظر بہت جلدی لگ جاتی ہے ۔۔۔۔اور میری امی تھک گئی ہیں میری نظر اتار اتار کر “
اس کے اس طرح کہنے پر نور ہربڑا کر جلدی سے پیچھے ہوئی ۔۔۔
اس نے جلد ہی اپنے اوپر قابو پایا اور سامنے کھڑے انسان کو دیکھا ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ ۔ ۔۔۔۔
“انسان کو خوش رہنا چاہیے مگر خوش فہمی میں نہیں ” وہ بھی آخر نور تھی کب کیسی کو پورا آنے دیتی ۔۔۔۔۔
“اچھا جی ” سامنے والا شاید اس کی حالت سے محضوظ ہو رہا تھا ۔۔۔۔
“پاگل ڈفر کمینہ ” نور غصے سے کہا
اور اسال اس کی اس طرح کہنے پر ہنس پڑا
“مانا کہ آپ اچھا ٹوتھ پیسٹ استعمال کرتے ہیں
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اپنی باتیسی دکھائے ” نور کے اس طرح کہنے پر اسال کے مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہو گئی ۔۔۔
“چل اسماء ” نور اسماء کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑی ۔۔
**************
“اس کو کیا ہوا ہے ۔۔۔” مان نے اندر آتے ہی ہانی سے اسال کے بارے میں پوچھا جو منہ سوجا کر بیٹھا تھا ۔۔۔۔
“ایک لڑکی اس کی بزتی کر گئی ” پھر ہانی نے تھوڑی دیر والا واقعہ بتایا ۔۔۔ دراصل ہانی بھی وہی تھی جب نور نے اسال کو اتنا کچھ سنایا ۔۔۔۔۔۔
“اوہو چل کوئی نہیں ہوتی رہتی ہے تیری کون سی آج نئی ہوئی ہے ۔۔۔” مان نے مسکراہٹ روک کر کہا
“بھائ آپ بھی “اسال منہ بنا کر بولا
اس کے اس طرح کہنے پر سب ہنس پڑے ۔۔۔
“اچھا اب بس بھی کرو یونیورسٹی بھی جانا ہے پتا ہے نا آج میچ ہے ۔ ۔ ” مان نے جلدی مچاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
“بھائ پکا نا یونیورسٹی میچ کے لیے ہی جانا ہے نا ۔۔۔۔”
مان نے اس کو آنکھیں دکھائی اور وہ ہنس پڑا
“بھائ کیوں نا ہم بیا کو اپنے ساتھ ہی لے چلے “اسال نے معصومیت سی آنکھیں جھپکا کے کر پوچھا
“ہاں بھائ یہ ٹھیک ہے اس بہانے میں بھی بیا کا گھر دیکھ لو گی ۔۔۔” ہانی خوش ہوتے ہوے بولی
“ٹھیک ہے چلو لیکن جلدی ” مان ان کو کہہ کر جلدی سے باہر چلا گیا
“بھائ ابھی کبھی بھی مانا نہیں کرنا تھا ۔۔۔” اسال آنکھ مار کر کہا ۔۔۔
وہ لوگ ہنس کر باہر چل پڑے لیکن پیچھے کسی کو جلتا چھوڑ کر ۔۔۔۔۔
“بیٹا کہاں جلدی جا رہے ہو ۔۔۔” دادا جی نے ان۔ سے پوچھا وہ باہر لان میں بیٹھے تھے
“جی آج ہمارا میچ ہے ۔۔۔آپ دعا کرنا ۔۔۔۔” مان نے مسکرا کر کہا
“ضرور بیٹا انشاءلله تم لوگ ہی جیتو گے ۔۔۔” انہوں نے مسکرا کر ان کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
“بیٹا آج کل تمہاری دوست نہیں آتی کیا نام تھا ۔۔۔ہاں ۔۔۔بیا ۔۔۔بڑئ ہی اچھی بچی ہے ۔۔۔۔” بیا کا نام لیتے ہی ان کے لبوں پر مسکراہٹ آگی ۔۔۔
“دادا جی ہم سب بیا کے گھر ہی جا رہے ہیں ۔۔۔اس کو لے کر ساتھ جائے گے ۔۔۔۔ اور آپ کو پتا ہے بیا نے بے سپورٹس میں حصہ لیا ہے ۔۔۔۔” اسال ان کو بتایا
“اچھا یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔۔اللّه کامیاب کرے اس کو ۔۔۔۔” انہوں نے بیا کو دعا دی ۔۔۔
اس کے بعد وہ سب لوگ بیا کے گھر کو نکل پڑے ۔۔۔
*************
“تم لوگ مجھے کال کر سکتی تھی نا ….لیکن نہیں تم لوگوں کو۔ تو اپنی ہی کرنی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آگر کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔۔ تم لوگ تو پاکستان کے راستوں سے بھی واقف نہیں ہو۔ ۔۔۔” بیا دروازہ کھول کر اندر آئ اور غصے سے نور اور اسماء کو کہا جو اس کے ساتھ اندر آئ تھیں ۔۔۔۔۔
“اچھا آب سوری نا ۔۔ ہمیں کیا پتا تھا ایسا ہو جائے گا ۔۔۔۔۔ ۔۔” نور نے بچارگی سے کہا اسماء نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی
“وہ تو اچھا ہوا بابا کا جنہوں نے مجھے بتا دیا ۔۔۔ ورنہ پتا نہیں کیا ہوتا ۔۔۔۔۔” بیا نے ان کو دیکھتے ہوے کہا ۔۔۔۔
“اچھا آب ڈانٹتی ہی رہو گی یا کھانے کا بھی پوچھو گی ۔۔۔۔مجھے سچ میں بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔” نور نے بچارگی سے کہا
اور بیا نا چاہتے ہوے بھی ہنس پڑی
“اچھا تم لوگ ایسا کرو فریش ہو جاؤ ۔۔۔ میں تم لوگوں کے لیے آج کھانا خود بناتی ہوں۔ ۔۔” بیا نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
ان کی دوستی تھی ہی اسی ہی پل میں تولہ پل میں ماشہ ۔۔۔
وہ لوگ ایک دوسرے سے زیادہ دیر ناراض رہ ہی نہیں سکتے تھیں ۔ ۔۔۔۔
وہ دونوں فریش ہونے چلی گئی اور بیا ان کے لیے کچن میں کھانا بنانے چلی گئی ۔۔۔۔
“مائی آج میں کھانا بناؤ گی ۔۔۔” بیا نے مائی کو کہا جو کھانا بنانے لگی تھی۔ ۔۔
“لیکن چھوٹی بی بی ” انہوں نے کچھ کہنا چاہا مگر بیا نے انھیں روک دیا
“دراصل میری دوست آی ہیں ان کے لیے بنا رہی ہوں۔ ۔۔۔۔” بیا نے مسکرا کر کہا
نور اور اسماء فریش ہو کر آگئی
ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ دروازہ کھولنے کی آواز آئ ۔۔۔
انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو آنے والے کو دیکھ کر حیران رہ گی ۔۔۔
“تم ۔۔۔۔۔!!” نور چلا کر بولی
************
“اور کتنی دیر ہے۔۔۔۔” ہانی اکتا کر بولی
“بس پہنچ گئے ۔ ۔۔۔”مان نے گاڑی بیا کے گھر کے آگے آکر روکی ۔۔۔۔
کیونکہ مان پہلے بھی آچکا تھا اس لیے گارڈ نے انھیں اندر جانے دیا ۔۔۔۔۔
ابھی وہ لوگ اندر گئے ہی تھے کہ انھیں دو لوگ بیٹھے نظر آئے ۔۔۔
جب ان لوگوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہانی اور اسال حیران رہ گئے کیونکہ یہ وہ دونو ہی تھی جو ان کو صبح ملی تھی۔ ۔۔۔
اتنے میں ان میں سے ایک چلائی
“تم ۔۔۔۔۔!”اسال بھی چلا کر بولا
“تم ۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ۔ ۔۔۔ ہو ۔۔۔۔او اچھا ہمارا پیچھا کر رہے تھے ۔۔۔۔ روکو تم ابھی میں ابھی پولیس کو کال کرتی ہوں۔ ۔۔۔۔۔” نور غصے سے بولی ۔ ۔
آواز سن کر بیا بھی باہر آگی ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اے روکو ۔۔۔۔۔” اسال نے اس سے فون چھین لیا ۔۔۔اس کا کیا پتا سچی میں ہی کر دے ۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوے میرا موبائل دو۔ ۔۔۔۔یہ کیا باتمیزی ہے ۔۔” نور چلا کر بولی ۔ ۔
باقی سب حیران نظروں سے ان کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔
“ہوا کیا ہے کیوں بچوں کی طرح لڑ رہے ہو “بیا کی ہمت جواب دے گئی اس لیے چلا کر بولی
“بیا یہ ۔۔۔یہ صبح والا انسان ہے جس نے مجھے۔ ۔۔۔۔” نور کی بولتی زبان کو بریک لگ گئی ۔۔۔ بیشک وہ کسی سے نہیں ڈرتی تھی ۔۔۔بولڈ تھی مگر اسی بھی نا تھی کہ کچھ بھی بول دے ۔۔۔۔
“ہاں ۔۔۔۔ہاں پوچھو اس سے بیا کہ میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔؟” اسال بھی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولا ۔۔
“بیا اس نے میرے ساتھ باتمیزی کی تھی ۔۔۔” نور رونی صورت بنا کر بولی ۔ ۔
“بیا تمہیں میں ایسا لگتا ہوں ۔۔۔” اسال معصوم صورت بنا کر بولا
“اسال ایسا نہیں ہے ۔۔۔تمہیں ضرور غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔۔” بیا نے نور کو کہا
“تم تو ایسے کہ رہی ہو جیسا یہ تمہارا دوست ہو ۔۔۔۔۔ایک منٹ کیا یہ سچ میں یہ لنگور تمہارا دوست ہے ۔۔۔۔”نور نے بیا کو دیکھ کر کہا جو اس کو اور اسال کو۔ دیکھ رہی تھی ۔۔ بیا نے ہاں میں گردن ہلائی ۔۔۔۔
“Oh my God bia”
اس کے اس طرح کہنے پر سب ہنس پڑے ۔۔۔
“میں بتاتی ہوں آخر بات کیا ہے ۔ ۔۔”اسماء بول ہی پڑی جو کافی ٹائم سے خاموش تھی ۔۔۔۔پھر اس نے ساری بات بتائی ۔۔۔۔ نور نے شرم کے مارے منہ ہی نیچے کر لیا ۔۔۔۔
اسال کو یہ چھوٹی سے لڑکی بہت پسند آئ ۔۔۔۔
“بریانی کی خوشبو آرہی ہے ۔۔ “اسال نے سونگھتے ہوے بولا
“ہاں میں نے بنائی ہے آؤ آپ لوگ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ ۔۔۔” بیا نے مسکرا کر کہا
“تم نے بنائی ہے تو آب تو کھانی ہی پڑے گی ۔۔۔”
اس کے بعد سب آکر بیٹھ گئے مائی اور بیا نے کھانا لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بیا کو مان کے ساتھ والی سیٹ ملی ۔۔۔
بیا کے اپنے پاس بیٹھ جانے سے مان کو ایک انجانی سی خوشی ہوئی ۔۔۔
“بیا تمہارے ہاتھ میں تو جادو ہے جادو ۔۔۔” اسال نے کھانا کھاتے ہوے کہا ۔۔۔۔
ہانی بھی اس کا تائید کی ۔۔۔۔
“شکریہ ۔۔۔” بیا مسکرا کر بولی ۔۔۔
مان کھا تو کھانا رہا تھا ۔۔۔ مگر دھیان بیا کی طرف تھا ۔۔۔۔
بیا اپنے اوپر نظروں کی تاپش محسوس کر رہی تھی ۔۔۔وہ جان کر بھی انجان بنی رہی ۔۔۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد ہانی بولی
“بیا مجھے تمہارا گھر دیکھنا ہے “
“ایک تو یہ لڑکی بھی نا “اسال منہ بنا کر بولا
“تمہیں کیا مسئلہ ہے “نور بولی
اتنے سے وقت میں ہانی نے نور اور اسماء سے بھی دوستی کر لی ۔۔۔ وہ تھی بھی ایسی ۔۔۔ پل بھر میں سب کی اپنا دوست بنانے والی ۔۔۔۔
“کوئی بات نہیں ہانی تم دیکھ لو اور اسال تم چپ رہو ” مان آخر بول ہی پڑا ۔۔۔
نور نے مان کو دیکھا اور پھر بیا کو بیا نے اپنا سر جھکا لیا ۔۔۔
اس کے بعد سب گھر دیکھنے چلے گئے
