Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 17)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 17)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
“ڈاکٹر بیا کیسی ہے ۔۔۔” ڈاکٹر روم سے باہر اے تو مان جلدی سے ان کی طرف لپکا ۔۔۔باقی سب بھی جلدی سے آگے اے ۔۔وہ سب لوگ کل سے ہوسپٹل میں تھے۔ ۔۔۔۔ بیا کے بیہوش ہونے کے فورا بعد ہی بیا کو ہوسپٹل لے اے تھے ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے ایک نظر مان کو دیکھا جو اس وقت بھکری ہوئی حالت میں تھا ۔۔۔ اور بولے
“وہ اب ٹھیک ہیں ۔۔۔ ان کا کٹ زیادہ گھیرا نہیں تھا اور آپ انہیں جلدی ہوسپٹل لے اے تھے ۔۔اس لیے وہ بچ گئی ۔۔۔۔”
“شکر اللّه کا ۔۔۔”مان نے فورا اللّه کا شکر ادا کیا
باقی سب نے بھی اللّه کا شکر ادا کیا
“ڈاکٹر کیا ہم مل سکتے ہیں ۔۔۔” مان نے پوچھا ۔۔
“جی لیکن ایک ایک کر ملے زیادہ رش مت کرے ان کے پاس ۔۔۔” ڈاکٹر بولے اور چلے گئے ۔۔۔
“جاؤ بیٹا مل لو بیا سے ۔۔۔”آفتاب شاہ اس کی حالت دیکھتے ہوے بولے ۔۔۔
مان فورا اندر گیا سامنے دشمن جاں دنیا سے بےخبر لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔ مان آہستہ آہستہ اس کے پاس گیا اور پاس ہی چیئر پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
ایک ہی دن میں اس کا سرخی مائل رنگ زرد پر گیا تھا ۔۔۔۔ گلابی ہونٹ بھی نیلے پر گئے تھے ۔۔۔
مان نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔اور اپنے ہونٹ دھیرے سے ہاتھ پر رکھے اور بولا
“باربی ۔۔۔۔یہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی ۔۔۔۔تم جانتی ہو نا میں تمہارے بنا کچھ نہیں ہو ۔۔۔۔ اپنے شاہ کی حالت تمھیں نہیں دیکھتی ۔۔۔۔باربی پلیز لوٹ آؤ ۔۔۔۔”
بیا کی پلکیوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی ۔۔۔
“باربی ۔۔۔۔۔” مان نے فورا اس کو پکارا
بیا نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولی ۔۔۔۔اور سامنے وہ چہرہ نظر آیا جس کی اس نے تمنا کی تھی ۔۔۔
“شا ۔۔۔۔۔شاہ ۔۔” بیا ہکلاکے بولی
“جی شاہ کی جان ۔۔۔” مان فورا بولا
ابھی وہ کچھ بولتی درد کی ایک لہر اٹھی ۔۔۔اور وہ بول نا سکی ۔۔۔
“بس جان اب تم نا بولو ۔۔۔۔ جو بات کرنی ہے اپنے ٹھیک ہونے کے بعد کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔” مان نے اس کے گال کو ہاتھ سے چھو کر بولا
بیا ہلکا سا مسکرائ۔۔۔۔
“تمھیں پتا ہے باربی جب تم بیہوش ہوئی اور تمہارے گلے سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔مجھے لگا کہ میری دنیا یہیں رک گئی ہے ۔ ۔۔۔آگر تمھیں کچھ ہو جاتا تو ۔۔۔اس سے آگے سوچتے ہوے میری روح کانپ جاتی ہے ۔۔۔۔۔” مان بولا
اس کا ایک ایک الفاظ بیا کو اپنے دل میں اترتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
“بس باربی اب بہت انتظار کر لیا جیسے ہی تم ٹھیک ہوتی ہو دادا جی کو کہہ کر رخصیتی کروانی ہے ۔۔۔۔ “وہ شوخ ہو کر بولا
اس کی بے باک باتوں سے بیا کے گال دہکنے لگے ۔۔۔۔
اور پلکے خود با خود جھک گئی ۔۔۔
“شا۔۔۔۔شاہ ۔۔ما ۔۔۔مایا ۔۔” بیا نے آہستہ سے وہ پوچھا جس اس کو ابھی بھی خوف تھا
“نام مت لو اس کا ۔۔۔۔” مان ضبط سے بولا ۔۔۔
ابھی وہ کوئی اور بات کرتے ڈاکٹر اندر اے اور مان سے مخاطب ہوے ۔۔۔
“ینگ مین ان کے انجکشن کا وقت ہو رہا ہے ۔۔۔سو آپ کو باہر جانا ہو گا ۔۔۔۔”
“اوکے ڈاکٹر ۔۔۔” مان بیا پر نظر ڈالتے ہوے باہر چلا گیا ۔۔۔۔
★★★★★★★★
after 6 months
“ابو جی اب تو ان کی یونیورسٹی بھی ختم ہو گئی ہے اور ماشااللہ مان نے آفس بھی جوائن کر لیا ہے ۔۔۔تو پھر کیا خیال ہے ۔۔۔۔” اکرم شاہ بولے ۔۔۔
باقی سب لوگ ان کی بات پر متوجہ ہوے
کچھ دنوں بعد ہی بیا کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔۔۔۔ بیا کو شاہ والا ہی لے کر اے تھے ۔۔۔ ان 6 مہینوں میں سب نے اس کا بہت خیال رکھا ۔۔ جس کی وجہ سے وہ بہت جلد صحت یاب ہو گئی تھی ۔۔۔
نور اور اسماء واپس لندن چلی گئی تھی ۔۔۔ واپس آنے کا وعدہ کر کے ۔۔۔جس سے اسال تھوڑا اداس تھا ۔۔اور خوش بھی کہ وہ واپس اے گی ۔۔۔۔
“بہت ہی نیک خیال ہے ۔۔۔۔”آفتاب شاہ مسکرا کر بولے ۔۔۔
مان ان کے پاس ہی بیٹھا تھا
“اب ماشااللہ بیا بیٹا بھی ٹھیک ہو گئی ہے اور مان نے آفس جوائن کر لیا ہے تو ۔۔۔ ایسی ماہ بیا کی رخصتی ہو گی ۔۔۔۔”
بیا جو اس وقت ہانی کے پاس بیٹھی اس کو چھیڑ رہی تھی ۔۔۔ ہانی امید سے تھی ۔۔۔سب گھر والے یہ خبر سن کر بہت خوش ہوے تھے آخر اتنے سالوں بعد شاہ والا میں کوئی ننا مہمان آنے والا تھا ۔۔۔۔
اپنی شادی کی خبر سن کر اچانک سے مان کی طرف دیکھا مان بھی اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ مان نے جب بیا کو اپنی طرف تکتے پایا سب سے نظر بچا کر بیا کو آنکھ مار دی ۔۔۔۔ بیا کا تو منہ کھولا کا کھولا ہی رہ گیا ۔۔۔
آفتاب شاہ مان کی طرف متوجہ ہوے اور بولے
“برخودار آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔”
“دادا جی بھائ کو کیا اعتراض ہو گا وہ تو کب سے یہ ہی چاہتے تھے بس بیا کی وجہ سے رکے ہوے تھے ۔۔۔۔۔” اسال فورا بول پڑا جو اس وقت بیٹھا نور نے سے واٹس اپپ پر بات کر رہا تھا
مان نے اس کی کمر پر ایک چپت لگائی اسال ایک دم اچھلا اور اس کے ہاتھ سے موبائل فون دور جا گرا ۔۔۔۔۔
“بھائ۔۔۔۔۔۔” وہ چلا اٹھا ۔۔
“بھائ کے بچے بیٹھ ادھر ۔۔۔۔” مان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھنچا ۔۔۔۔
“اور بیا بیٹا تمھیں۔ ۔۔۔۔۔” آفتاب شاہ نے شرمای بیٹھی بیا سے پوچھا ۔۔
“دادا جی ۔۔۔وہ ۔۔”نہیں ۔۔۔” بیا نے کہتے ہی اندر دوڑ لگا دی ۔۔۔
بیا کی اس حرکت پر سب نے مشترکہ قہقہہ لگایا ۔۔
★★★★★★★★
بیا ونڈو کے پاس کھڑی چاند کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ وہ چاند دیکھنے میں اتنی محو تھی کہ اس کو مان کے آنے کا پتا ہی نہیں چلا گیا ۔۔۔
پتا تب چلا جب مان اس کو اپنے بازؤں کے احصار میں لے چکا تھا ۔۔۔
“آخر آج کدھر دھیان ہے جو میرے آنے کا پتا بھی نہیں چلا ۔۔۔۔” مان اس کے کان کے پاس ہو کر بولا ۔۔۔
“چاند ۔۔۔” بیا نے چاند کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
مان نے ناسمجھی کی حالت میں بیا کو دیکھا ۔۔۔۔
“شاہ آپ کو پتا ہے جب بھی مجھے آپ کی یاد آتی میں چاند کو دیکھتی تھی ۔۔۔” بیا مسکرا کر بولی
“ہممممم اس کا مطلب ہے تمھیں اب میری یاد آرہی تھی ۔۔۔۔ تو تم آجاتی میرے پاس ۔۔۔اب تو دور نہیں ہو میں ۔۔۔” مان نے اس اپنے سامنے کرتے ہوے کہا ۔۔۔
وہ جو اپنے ہی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی اچانک چونکی ۔۔
“شاہ ۔۔۔آپ ۔۔آپ یہاں۔ ۔۔۔۔” بیا جلدی سے بولی
“تو اور کیا ۔ ۔۔ ۔ ” مان مسکرا کر بولا
“شاہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ کیسی نے دیکھ لیا تو ۔۔۔تو کیا سوچے گا ۔۔۔” بیا پرشانی سے بولی ۔۔۔
“تو کیا یہی سوچے گا میاں بیوی میں بہت پیار ہے اس لیے زیادہ دور رہا نہیں جاتا ۔۔۔۔”مان اس کو ہونے احصار میں لیتے ہوے شرارت سے بولا ۔۔۔۔
“شاہ پلیز جائے نا ۔۔۔ کوئی آجائے گا ۔۔۔” بیا اپنے آپ کو اس کے احصار سے چھوڑاتے ہوے کہا ۔۔۔
“باربی ۔۔۔۔۔” شاہ کہہ کر اس پر جھکا ۔۔۔
“بابا ۔۔۔” بیا نے کہا مان۔ نے فورا بیا کو چھوڑ دیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا اور جب واپس آگے دیکھا تو وہاں بھی کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔
بیا واشروم میں گھس گئی تھی ۔۔۔اور دروازہ بند کر لیا تھا ۔۔۔۔
“باربی ۔۔۔۔” مان چلایا
“ہاہاہا شاہ اب یہ دروازہ آپ کے جانے کے بعد ہی کھولے گا ۔۔۔۔” بیا ہنس کر بولی
“ایک بار میری دسترس میں آجاؤ پھر بتاتا ہو ۔۔۔” مان نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر کہا
اور وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
★★★★★★★★★★
“اسال تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔ باہر جا کر دیکھو کوئی کام رہ تو نہیں گیا ۔۔۔۔۔” کلثوم بیگم نے اسال سے کہا جو ادھر ادھر چکر لگا رہا تھا ۔۔
“ج۔۔۔جی امی ۔۔۔” وہ کہہ کر باہر چلا گیا اب وہ انہیں کیا بتاتا کہ وہ نور کا انتظار کر رہا ہے ۔۔۔
آج مان اور بیا کی مہندی تھی ۔۔۔ بیا اپنے گھر تھی اور نور اور اسما بھی اپنے والدین کے ساتھ کل ہی لندن سے آگئی تھی ۔۔۔ وہ دونوں بھی ادھر ہی تھی ۔۔۔
آفتاب شاہ نے تو صاف کہہ دیا کہ سارے فنکشن شاہ والا میں ہی ہو گے ۔۔۔۔ چونکہ نکاح پہلے ہوا تھا اس لیے کیسی کو اعترض نہیں تھا ۔۔۔
آج پورا شاہ والا برقی قمقوں سے جگماگا رہا تھا ۔۔۔ باہر لان کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔۔۔۔
مان بھی باہر اپنے کزنز کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔۔ مان مے آج وائٹ رنگ کا کرتا اور شلوار پہنی ہوئی تھی ۔۔۔ اوپر بلیک رنگ کی واسکٹ پہنی تھی ۔۔۔۔کلثوم بیگم نے اپنے بیٹے کی نظر اتاری ۔۔۔۔ وہ بھی اس رشتے کو قبول کر چکی تھی ۔۔۔کیونکہ بیا ان کو بھی بہت پسند آی تھی ۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد گاڑی شاہ والا میں آئ جس میں فرنٹ سیٹ پر مرزا صاحب بیٹھے تھے ۔۔۔ ۔
نور اسماء اور بیا پیچھے بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
سب سے پہلے مرزا صاحب باہر اے اور پھر اسماء ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
اس کے بعد بیا باہر آئ ۔۔۔ بیا نے آج پیلے اور پرپل رنگ کا لہنگا اور کرتی پہنی ہوئی تھی ۔۔۔ اور ڈوپٹے کو اچھے طریقے سے سیٹ کیا ہوا تھا ۔۔۔۔
مان نے آگے ہو کر بیا کا ہاتھ تھاما اور اسٹیج کی طرف لے کر چل پڑا ۔۔۔۔۔
اسال اپنی دشمن جاں کو دیکھنے کے لیے بےچین تھا ۔۔۔ مگر وہ تو شاید اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی
سب سے آخر میں نور نکلی ۔۔۔ اسال تو اس کو دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔۔ نور نے گرین اور پیلے رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ شولڈ کٹ بالوں کو کھولا چھوڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
“بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے ۔۔۔” اسال اس کے پاس جا کر بولا ۔۔۔ وہ جو گاڑی میں سے سامان نکلنے میں مگن تھی اسال کی آواز سن کر اچانک مڑی اس کا پاؤں لہنگا میں اٹک گیا اور وہ گرتی اسال نے فورا اس کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔۔۔۔۔
“تم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب بھی مجھے ملو گی تم نے گرنا لازمی ہے ۔۔۔۔۔” اسال شرارت سے بولا
“نہیں ۔۔وہ تو میں ۔۔۔” نور کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کہے آج کل تو وہ ویسے بھی
چھوئی موئی بنی رہتی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔اسال تو حد سے زیادہ بےباک تھا ۔۔۔ کبھی کبھی وہ نور سے ایسی بات کہہ دیتا کہ وہ شرم سے لال ہو جاتی ۔۔۔۔۔
“کیا میں ۔۔۔” اسال اس کی حالت سے حیظ اٹھا رہا تھا
“کچھ نہیں ۔۔۔” نور نے اسال کو دھکا دیا اور وہاں سے بھاگ گئی ۔۔۔ اسال اس کی حرکت پر ہنس پڑا ۔۔۔۔
“یار کیا ہے آج کیوں گھونگٹ لیا ہے مجھ سے کیا پردہ ہمارا تو نکاح ہوا ہوا ہے ۔۔۔ ۔ ۔
“جیجو تھوڑا صبر کرے اتنی بھی کیا بےصبری ۔۔۔” نور مسکراتی ہوئی بولی
“مجھے پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا ایسا کام تمہارے سوا کون کر سکتا ہے ۔۔۔۔” مان بھی مسکرا کر بولا ۔۔۔
اسال نور کے پاس آیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسٹیج سے نیچے لے آیا ۔ ۔
اتنے میں ابرالحق کا گانا چلا
ساتھ ہی اسال کا ڈانس سٹارٹ ہوا
Oye asaan teri gull kerni
Oye assan teri gull kerni
Gull kerni aye dady nal
Assan teri gull kerni
Gull kerni aye dady nal
Assan teri gull kerni
Ghall kerni hai dady nal
Assan teri gull kerni
اسال اکرم شاہ اور نور کے والد کی طرف اشارہ کر کے ڈانس کر رہا تھا اور نور تو شرم سے اپنی جگہ سے ہی نہیں ہل پائی
oye
اسال پھر اس کے سامنے آیا اور پھر ڈانس سٹارٹ کیا
Ankhiyan day wich ni gulabi teray doray nain Ni
chaiti ghar aja baray chungay teray soray nain
اسال کلثوم بیگم اور اکرم شاہ کی طرف اشارہ کر رہا تھا اور ساتھ ہی نور کی آنکھ ماری نور کا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
jitho saada yaar langay jagah main khareed laan
Mall Road, Jail Road kung kay khareed laan
Mall Road, Jail Road kung kay khareed laan
Choto moti road ton barat nai langani
Asan jana malo mal
Assan teri gull kerni
Gull kerni aye dady nal
Assan teri gull kerni
Gull kerni hai dady nal
Assan teri gull kerni
Oye
ڈانس کے ینڈ پر سب ینگ پارٹی نے ہوٹینگ کی ۔۔۔ نور تو شرم سے لال ہو رہی تھی ۔۔۔ نور سے تو اپنا سر ہی نہیں اٹھیا جا رہا تھا ۔
باقی لوگ بھی ہنس رہے تھے ۔۔۔۔
“برخودار ۔۔۔کچھ زیادہ جلدی نہیں ۔۔۔” آفتاب شاہ بولے
“دادا جی بھائ کے بعد میری ہی باری ہے ۔۔۔ میں نے سوچا امی کو تکلیف نا دو ۔۔۔ یہ کام میں خود ہی سرانجام دے دو ۔۔۔” اسال شرما کر بولا
“شرم تو نہیں آتی اپنے دادا سے ایسی بات کرتے ہوے ۔۔۔” آفتاب شاہ بولے
“لو آپ تو میرے دوست ہیں ۔۔۔” اس کے اس طرح کہنے سے سب کا مشترکہ قہقہ لان میں گونجا ۔۔۔
“اب تو دیکھا دو اپنا چہرہ ۔۔۔”مان نے بیا کے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔۔۔
بیا نے نا میں سر ہلایا ۔۔۔
“یار ۔۔۔۔۔۔”مان تنگ آکر بولا
“ابھی ڈانس کی باری مان بھائ اور بیا بھابی کی ہے ۔۔۔” اسال بولا
منہدی کی رسم ہو چکی تھی اس لیے سب بڑے اندر کی طرف چلے گئے تھے ۔۔۔۔
اب یہاں صرف ینگ پارٹی ہی رہ گئی تھی ۔۔۔ بیا نے منا کیا مگر کیسی نے اس کی نہیں سنی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں نیچے اے عاطف اسلم کی آواز میں خوبصورت گانا سٹارٹ ہوا
مان نے بیا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے طرف کھنچا اور بیا کیسی گڑیا کی طرح اس کی طرف کھنچتی چلی آئ
O karam Khudaya hai
Tujhe mujhse milaya hai
Tujhpe marke hi toh
Mujhe jeena aaya hai
مان نے ہاتھ سے اس کا گھونگھٹ اٹھا دیا مان مہبوت رہ گیا اس کو دیکھ کر
O tere sang yaara…
Khushrang bahara
Tu raat deewani
Main zard sitaara
O tere sang yaara
Khushrang bahara
Main tera ho jaaun
Jo tu karde ishara
مان اب اس کوگول گول گھما رہا تھا
Kahin kisi bhi gali me jaaun main
Teri khushboo se takraaun main
Har raat jo aata hai mujhe
Woh khwaab tu…
مان نے بیا کا ہاتھ پکڑ اپنے نزدیک کیا اور ایک ہاتھ اس کی کمر کے گرد اور ایک اس کے ہاتھ میں۔ دیا
Tera mera milna dastoor hai
Tere hone se mujhme noor hai
Main hoon soona sa ek aasmaan
Mehtaab tu…
O karam Khudaya hai
Tujhe maine jo paaya hai
Tujhpe marke hi toh
Mujhe jeena aaya hai
O tere sang yaara
Khushrang bahara
Tu raat deewani
Main zard sitaara
O tere sang yaara
Khushrang bahara
Tere bin ab toh
Na jeena gawara
Maine chhode hain baaki saare raste
Bas aaya hoon tere paas re
Meri aankhon mein tera naam hai
Pehchaan le…
بیا نے مان کو دیکھا جو اس کو دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کا عکس تھا
Sab kuch mere liye tere baad hai
Sau baaton ki ik baat hai
Main na jaunga kabhi tujhe chhod ke
Yeh jaan le
O karam Khudaya hai
Tera pyar jo paaya hai
Tujhpe marke hi toh
Mujhe jeena aaya hai
O tere sang yaara
Khushrang bahara
Tu raat deewani
Main zard sitaara
O tere sang yaara
Khushrang bahara
Main behta musafir
Tu thehra kinara
آخر میں مان نے اس کی پیشانی پر اپنے پیار کی مہر مثبت کی ۔۔۔۔
سب نے ہوٹینگ کی بیا نے شرما کر منہ نیچے کر لیا ۔۔
اس طرح ایک خوبصورت رات کا اختیام ہوا ۔۔۔۔۔
