Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 06)

Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana

“آپ نے اسے مان کے ساتھ جانے کیسے دیا ” مایا نے غصے سے کلثوم بیگم سے پوچھا

“کچھ نہیں ہوتا بیٹا ” انہوں نے کھوئے ہوئے جواب دیا وہ ابھی تک بیا کے حسن کے زیراثر تھی

“مامی ۔۔۔” مایا زور دے کر بولی

“ہاں ۔۔۔ہاں کیا ہوا ” کلثوم بیگم ایسے بولی جیسے ابھی خواب سے جاگی ہو

ابھی مایا کچھ بولتی آسیہ بیگم ان کے پاس آئ اور خوش ہو کر بولی

“بھابی میں نے کہا تھا نا یہ لاکھوں میں ایک ہے “

“ہاں تم ٹھیک کہ رہی ہو یہ واقعی ہی بہت خوبصورت ہے ۔۔۔” وہ مسکرا کر بولی

“ہانی بیٹا یہ بچی کون تھی ۔۔۔” اب کی بار دادا جی بولے

“دادا جانی یہ لندن سے آئ ہے پاکستان اسٹڈی کے لیے ۔۔۔” ہانی جلدی سے بولی

“لندن ۔۔۔” لندن کا نام سن کر آفتاب شاہ کو کچھ ہوا

“کیا ہوا دادا جانی ” ہانی نے جب انھیں منہ میں بولتے دیکھا تو پوچھ بیٹھی

“کچھ نہیں ” انہوں نے بس اتنا ہی جواب دیا

“میں دیکھ رہی ھو آپ سب کو مجھ سے تو کسی نے بھی کچھ نہیں پوچھا وہ بیا جب سے یہاں سے ہو کر گئی ہے سب اس کے دیوانے ہی ہو گئے ہیں ” مایا جل کر بولی کیونکہ سب ہی اس کا تعریف کر رہے تھے

“وہ ہے بھی اسی کے لائق ” اسال نا جانے کب آیا اچھل کر ہانی کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔

“کیا باتمیزی ہے “ہانی چلا کر بولی

“بیٹا آرام سے کتنی بار کہا ہے پر تم نے تو قسم کھا رکھی ہے نا ” کلثوم بیگم بولی

اور بیٹا تم وہاں کیوں کھڑے ہو ” انہوں نے مان سے کہا جو اپنی ہی سوچوں میں مصروف تھا

“جی امی بس لیٹ ہو رہا ہے چلو سب ” مان جلدی سے بولا کیونکہ اسال کی آنکھوں میں اسے شرارت نظر آرہی تھی

“امی وہ بیا نے ۔۔” ابھی وہ کچھ اور بولتا مان جلدی سے بول پڑا

“اٹھو دیر ہو رہی ہے ” مان اس کو اٹھاتے ہوئے بولا

اسال ہنس کر چل پڑا ساتھ ہانی اور مایا بھی چل پڑی

**************

گھر پہنچنے کے بعد بیا کو اپنے آپ پر غصہ آ رہا تھا

“ایسا بھی کیا ہوا تھا اس نے تھوڑی مجھے کاٹ لینا تھا ۔۔۔” بیا خود ہی منہ میں بولتی جا رہی تھی ۔۔

” بی بی آپ کہاں چلی گی تھی میں آپ کو پارک میں دیکھنے بھی گیا تھا پر آپ نہیں تھی وہاں آپ کو تو راستے بھی سہی نہیں معلوم ۔۔ ۔ ” خان بابا پریشانی کی حالت میں اس کے سامنے آکر بول رہے تھے

“سوری خان بابا میں تھوڑا سا آگے چلی گی تھی ۔۔۔ ” بیا بولی

“بیا بیٹا آپ نے ناشتہ بھی نہیں کیا آپ کو دیر ہو رہی ہے ” مائی بھی کچن سے بولتی ہوئی آئ

” مائی میں ناشتہ نہیں کرو گی بس ایک گلاس جوس دے دیں ۔۔۔۔” بیا جلدی میں بولی

اور اپنے روم میں چلی گی روم میں جانے کے بعد جب بیا نے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھا تو اسے کچھ دیر پہلے کا واقعہ یاد آگیا

بیا کا چہرہ پھر سے لال ہو گے مگر اس بار شرم سے نہیں غصے سے

“سوری مجھے پتا ہے آپ مجھے ایسے دیکھ لیتے تو آپ کو اچھا نہیں لگنا تھا ” بیا تصویر کو دیکھتے ہوے بولی

“مجھے معاف کر دے میں وعدہ کرتی ہو۔۔۔ بیا صرف آپ کی ہے اور آپ کی ہی رہے گی ” بیا نے تصویر پر اپنے لب رکھتے ہوے کہا

“بی بی آجائے ” خان بابا نے بیا کو آواز دی

“جی آئی ” بیا نے آواز دی اور تصویر کو ایک بار پھر دیکھا اور چلی گی

**************

“علی تم نے ہمیں کچھ کرنے کیوں نہیں دیا ہم اسے بتا دیتے کہ ہم کیا ہیں ” وہ لوگ ہوٹل میں بیٹھے تھے

“ہاں علی یہ ٹھیک کہہ رہا ہے تم نے ہمیں کیوں روکا ” اب کی بار دوسرا بولا

” نو بےبی بو ویٹ کرو سہی وقت کا ابھی اس کو بہت تو پتا لگنا چاہیے نا کہ اس نے پنگا کس سے لیا ہے ۔۔

علی شیطانی مسکراہٹ سے کچھ سوچتے ہوئے بولا

اس کی بات سن کر باقی سب بھی ہنس پڑے

*************

“السلام علیکم مس ابیحہ ” کلاس کر ایک لڑکے نے بیا کو مخاطب کیا بیا کب سے اسال والوں کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ آ ہی رہے تھے

“جی ” بیا نے مختصر سے جواب دیا

“کیا آپ مجھ سے دوستی کرے گی ” اس نے منہ پر مسکراہٹ سجا ئے اپنا ہاتھ اگے کیا

ابھی بیا کچھ بولتی مان نے آکر اس کو پیچھے کیا اور اس لڑکے سے مخاطب ہوا

“آئندہ سے اس سے دور رہنا ” بیا اور اس لڑکے نے حیران نظروں سے مان کو دیکھا

مان کو معلوم تھا کہ بیا اس کو دیکھ رہی ہے مگر وہ پھر بھی پیچھے نہیں موڑا

اور یہی حال اسال ہانی عامر اور مایا کا تھا

“پر ۔۔۔” ابھی وہ لڑکا کچھ بولتا اسال بول پڑا

” تمہیں ایک باری کی بات سمجھ نہیں آتی جب بھائ نے کہہ دیا کہ بیا سے دور رہو مطلب دور رہو “

وہ لڑکا تو ویسے بھی بھی مان کو دیکھ کر ڈر گیا تھا فورا ہی وہاں سے چلتا بنا

“اور تم ” مان نے بیا کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور غصے سے بولا

“تم میں اتنی عقل بھی نہیں ہے کیا کرنے جا رہی تھی “

” یہ کیا باتمیزی ہے ہاتھ چھوڑیی ” بیا نے بھی غصے سے کہا ابھی وہ صبح والی اپنی جلد بازی نہیں بھولی تھی

“ریلیکس بھائ ” اسال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

مان نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اور اپنی جلد بازی پر غصہ آرہا تھا

“سوری ” مان نے بیا سے معافی مانگی

مایا یہ سب دیکھ کر غصے سے کلاس میں چلی گئی

“اٹس اوکے ” بیا صرف اتنا ہی بولی

“لیکن آئندہ سے خیال رکھنا ” مان بولا

” میں اپنی حفاظت خود کر سکتی ہوں ” بیا منہ بنا کر بولی

مان کو ہنسی تو بہت آئ مگر وہ ہنس نہیں سکتا تھا ورنہ بیا سے کیا تھپڑ ہی مار دے ۔۔

“اچھا اب آپ لوگ سٹارٹ مت ہو جانا چلے کلاس میں آگے ہی بہت دیر ہو گی ہے “

اسال جلدی سے بولا اور کلاس میں چلا گیا

” اب تم بھی تو چلو ” عامر نے ہانی کا ہاتھ پکڑ کر کہا

” ہاں ۔۔۔ کیا ہوا ۔۔۔” ہانی نے سوالیہ نظروں سے عامر کو دیکھا

” میڈم آپ کو ہیرو ادھر ہے آپ کا دھیان کدھر ہے ” عامر شرارت سے بولا

” شرم کرو کچھ ” ہانی نے اس کے ہاتھ پر ہلکی سے چپت لگی اور ہاتھ چھڑوا لیا

” لو اپنی ہونے والی بیوی سے کیوں شرم کرو ” عامر شرارت سے بولا

اس کے اس طرح کہنے پر ہانی بلش کر گی

اور اپنے ہاتھ چھڑوا کر کلاس میں بھاگ گی

اور وہ روکو روکو کرتا رہ گیا

___________

کلاس میں آنے کے بعد سب اپنی اپنی سیٹس پر بیٹھ گئے کچھ ٹائم بعد ہی سر نواز کلاس میں آگے

” السلام علیکم بچوں ” انہوں نے سب کو سلام کیا اور سب نے جواب دیا

” تو جیسے کے بچوں آپ سب کو معلوم ہے کہ اس ہفتے سے آپ کا سپورٹس ویک سٹارٹ ہو رہا ہے تو اس بار آپ لوگوں نے اپنی یونیورسٹی کا نام روشن کرنا ہے ” انہوں نے سب کو اطلاع دی

” جیسے کے آپ سب کو معلوم ہے مان اور اسال ہمیشہ کرکٹ میں ہماری یونیورسٹی کو ہمیشہ جیتاتے ہیں اس بار بھی مجھے پوری امید ہے کہ اس بار بھی ٹرافی ہماری ہی ہو گی ” انہوں نے مان اور اسال کو دیکھ کر کہا

” جی سر اس بار بھی ٹرافی ہماری ہو گی ” اسال جوش سے بولا

“سر ان لڑکیوں کا کیا جو ہر بار ہمیں ہرا دیتی ہیں ” پیچھے سے علی بولا

سب کلاس نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور سب علی کو کلاس میں دیکھ کر حیران رہ گئے حیران تو سر بھی رہ گئے تھے ۔

“نہیں اس بار مجھے پوری امید ہے کہ اس بار لڑکیاں ون کرے گیں ۔۔۔” سر پر امید سے بولے

” کیوں اس بار ان لوگوں کے پاس آلہ دین کا چراغ آگیا ہے

” علی کے اس طرح کہنے سے سب لڑکے ہنس پڑے

” تم دیکھنا اس بار تو ہم جیتے گی ” ہانی غصے سے

بول پڑی جو کافی ٹائم سے اس کی فضول باتوں کو سن رہی تھی

غصہ تو بیا کو بھی آرہا تھا مگر وہ خاموش تھی ۔۔۔اور مایا کو تو اس سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا

” لڑکیاں گھر کے کچن میں اچھی لگتی ہیں بس ” علی بولا

“اور تم جیسی سوچ رکھنے والے بھی گھر میں ھی اچھے لگتے ہیں باہر نہیں ” بیا آخر بول پڑی جو کافی ٹائم سے ضبط کر رہی تھی

“لڑکیاں سب کچھ کر سکتی ہیں ” اب کی بار مان بولا ابھی کوئی اور بولتا سر درمیان میں بول پڑے

” اسٹاپ اٹ بچوں کیا لڑکیاں کے بارے میں بات کر رہے ہو اور علی تم تمہاری سوچ ایسی ہو گی سوچا نہیں تھا میں نے ۔۔۔

اور for your kind of information ہمارے درمیان فٹ بال کی چیمپئن بیٹھی ہوئی ہے “

ساری کلاس ادھر ُادھر دیکھنے لگ گئ

علی بھی حیران ہوا۔۔

” کون ہے وہ ۔۔؟ اسال نے پوچھا

” ابیحہ شاہ ” سر نے مسکرا کر نام لیا اور بیا کو اپنے پاس بلایا ۔۔

مان نے حیران ہو کر بیا کو دیکھا بیا سر کے پاس جا کر کھڑی ہو گی

” آپ سب کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ بیا لندن میں اپنے کالج کی فٹ بال ٹیم کی کپٹن تھی اور اب ہماری یونیورسٹی کی فٹ بال ٹیم کی کپٹن ہے ۔۔۔” سر مسکرا کر بولے

اس کے بعد انہوں نے سب۔ کو گائیڈ کیا اور چلے گئے

کلاس ختم ہونے کے بعد وہ سب لوگ باہر آگئے

” بیا تم نے مجھے بتایا نہیں کہ تم فٹ بال بھی کھیلتی ہو ۔۔۔” اسال نے پوچھا

” ہاں مجھے اچھا لگتا ہے فٹ بال کھیلنا ” بیا مسکرا کر بولی

” اس بار تو پکا ہی ہماری یونیورسٹی جیتے گی ” ہانی جوش سے بولی

” ایسے کہتے ہیں بیگانے کی شادی میں عبدالله دیوانہ ۔۔۔ خود کو تو کچھ آتا نہیں ہے اور بات کر رہی ہو ۔۔۔” اسال نے شرارت سے کہا

مان ان کی باتیں سن کر مسکرا رہا تھا اور نظر بیا پر تھی

” کوئی بہت ہی ٹھرکی ٹائپ کا انسان ہے یہ ” بیا نے اپنے منہ میں ہی بربڑایا

” کیا کہا ” اسال نے اس سے پوچھا

” میں نے ۔۔۔میں نے تو نہیں ” بیا صرف اتنا ہی بولی

” بیا کیا تم مجھے فٹ بال کھیلنا سکھا دو گی ” ہانی نے بیا کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

” ہاں کیوں نہیں ضرور سکھا دو گی ” بیا مسکرا کر بولی

” اور مجھے ۔۔۔؟” اسال نے اپنی مسکراہٹ کو چھپا کر پوچھا

” تمھیں کیا ضرورت ہے ” عامر نے پوچھا

” ہنہ ۔۔۔ سب کو اپنا دیوانہ کر لیا اس نے ” مایا منہ بنا کر بولی

” میں تو میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ کب اتنی خوبصورت ٹیچر ہو تو کوئی اندھا بھی فٹ بال سیکھ جائے ” اسال نے شرارت سے کہا

ابھی بیا کچھ بولتی علی اس کے ساتھ آکر بیٹھ گے سب نے اسے حیران نظروں سے دیکھا

اور مسکرا کر بولا

” ہمھیں بھی سکھا دیجئے ” کہہ کر بیا کا ہاتھ پکڑ لیا

مان کا تو خون ہی خول اٹھا آگے بڑھ کر علی کو بیا سے دور کیا اور گریبان پکڑ لیا اور بولا

“تیری ہمت کیسے ہوئی بیا کا ہاتھ پکڑنے کی ” علی کے دوست آگے کو بڑھے لیکن مان کا غصے کو دیکھ کر پیچھے ہو گئے

ساری یونیورسٹی اکھٹی ہو گی اسال آگے کو بڑھا اور بولا

” بھائ چھوڑو اس کو ” سر بھی آگئے

“کیا ہو رہا ہے یہاں اور چھوڑو ” سر نواز چلا کر بولے

“اور مان مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی “

“سر اس نے بیا کے ساتھ باتمیزی کی ہے ” مان نے غصے سے کہا

“علی تم پرنسپل کے آفس چلو “

” دیکھ لو تم لوگوں کو میں ” وہ غصے سے کہتا ہو چلا گیا

” مان ایسا بھی کیا ہو گیا تھا صرف ہاتھ ہی تو پکڑا تھا ” مایا نے منہ بنا کر کہا مان نے اس کو دیکھا اور غصے سے بولا

“ہاتھ تو دور کی بات کوئی اس کو دیکھا گا بھی تو جان نکال لو گا ” اور کیسی کو دیکھ بنا چلا گیا

بیا تو ابھی بھی شوک کی حالت میں تھی اسے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ ابھی کیا ہوا ہے ۔۔

“بیا تم ٹھیک تو ہو ” ہانی نے پوچھا

“ہاں ۔۔۔ہاں میں ۔۔۔۔وہ میں ” بیا کو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے وہ بھی وہاں سے چلی گی

سب ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگ گئے

” مجھے تو پہلے ہی شک تھا کہ کوئی کیمسٹری چل ہے ان کے درمیان ” ہانی کچھ سوچتے ہوۓ بولی

” تمہارا مطلب ہے کہ بھائ اور بیا کو ۔۔۔

oh my god “

اسال کو تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیسے ریکٹ کرے

“کبھی بھی نہیں مان صرف مایا کا تھا اور مایا کا ہی رہے گا ” مایا غصے سے بولی اور چلی گی

“میں تو صرف ” ہانی نے عامر کو دیکھ کر کہا کہ کہیں اس کو برا نا لگا ہو

عامر نے اس کی آنکھوں میں سوال پڑھ لیا اور پیار سے بولا

” ہانی میری جان مجھے بلکل بھی برا نہیں لگا جو جس کی قسمت میں ہے اس کو کوئی چرا نہیں سکتا “

“اللّه اللّه لوگ تو رومینس کرتے وقت ادھر ادھر دیکھتے ہی نہیں ہے ۔۔۔ ویسے قسم سے میں نے کچھ بھی نہیں دیکھا ۔۔۔” اسال نے شرارت سے

بولا

اس کے اس طرح کہنے سے ہانی کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا اور عامر نے اس کی کمر پر چپت لگئی

“ہائے اللّه ” اسال زور سے چینخا

“اوے ڈرامے باز چلو ” عامر اس کا ہاتھ پکڑ کر چل پڑا

“میں بھی ہوں ” ہانی پیچھے سے بولی

“میری جان آپ کو ہم چھوڑ کے جا سکتے ہیں ” اس نے ہانی کے کان میں بولا

اور ہانی بلش کر گی اور اسال کھانسے لگا

اور سب ہی ہنس پڑے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *