Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 03)

Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana

“اسّلام علیکم مائی “بیا نے کچن میں آکر سلام کیا ۔۔۔۔

“وعلیکم سلام چھوٹی بی بی ۔۔۔۔۔آپ ادھر کیوں آگئ ۔۔۔ میں آپ کا ناشتہ باہر ہی لے کر آرہی تھی ۔۔۔۔۔۔” مائی نے بیا کو کہا جو ان کے پاس شیلف پر بیٹھی تھی ۔۔۔۔

“کوئی بات نہیں مائی ” بیا نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔۔۔۔۔

بیا نے ناشتہ کیا اور اپنا بیگ لے کر باہر آگئ۔ ۔۔

“خان بابا چلے “بیا نے خان بابا کو مخاطب کیا جو اس کے ہی انتظار میں بیٹھے تھے جلدی سے کار میں بیٹھے اور بیا بھی کار میں بیٹھ گی ۔۔۔۔۔۔۔

گاڑی انجان راستوں پر روا دوا تھی ۔۔۔۔

بیا اپنی ہی سوچوں میں غرق تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔

“خان بابا آپ مارکیٹ چلے مجھے کچھ سامان لینا ہے ” بیا نے خان بابا کو کہا

“جی چھوٹی بی بی ” خان بابا نے گاڑی کا رخ مارکیٹ کی طرف موڑ دیا ۔۔۔۔۔

مارکیٹ پہنچنے کے بعد بیا گاڑی سے اتری اور اندر جانے ہی لگی تھی کسی کی اس سے ٹکر ہو گی ۔۔۔۔۔

************

“چھوٹی امی کتنی دیر اور ہے “اسال نے آسیہ بیگم کو کہا جو کافی ٹائم سے اس کو گھما رہی تھی

“ہاں چلو ہو گیا سارا کام ” آسیہ بیگم نے اس کی رونی شکل دیکھ کر کہا

“اچھا میں جا کر یہ سامان رکھ کر آتا ہو آپ بھی گاڑی میں آجائے ۔۔۔” اسال نے ان سے کہا اور جلدی سے چلا گیا ۔۔۔۔۔

آسیہ بیگم بھی جانے لگی ابھی باہر جانے ہی لگی تھی کے کسی کی ان سے ٹکر ہو گی شاید وہ انسان کچھ زیادہ ہی جلدی میں تھا

“نظر نہیں آتا “آسیہ بیگم نے کہہ کر جیسے ہی منہ اوپر اٹھیا ۔۔ تو وہ دیکھتی ہی رہ گی ۔۔۔

ان کے سامنے کھڑی لڑکی حسن میں بے مثال تھی۔ ۔۔۔۔ نیلی آنکھیں، گلابی گال ، پتلے ہونٹ

سفید رنگ کی فراک پہنے ہوے گلابی رنگ کا دوپٹے کو مفلر کی طرح گلے میں ڈالے ہوۓ تھی ۔۔۔۔ بالوں کو باندھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ دو تین شرارتی لٹیں بار بار اس کے چہرے پر آرہی تھی جس کو وہ ہاتھ کی مدد سے پیچھے کر رہی تھی ۔۔۔۔۔

“آنٹی آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔” بیا نے ان کو پکارا جو اس کو دیکھنے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔ بیا ان کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔۔

“ہاں ۔۔۔۔” آسیہ بیگم جسے ابھی خواب سے جاگی ہو ۔۔۔۔۔۔

“سوری آنٹی “بیا نے ان سے معزرت کی ۔۔۔۔

“کوئی بات نہیں بیٹا ہو جاتا ہے کبھی کبھی ۔۔۔ ویسے تم نئی آئ ہو یہاں پہلے کبھی دیکھا نہیں ” آسیہ بیگم نے اس کو دیکھتے ہوے کہا

“جی میں نئی ہو یہاں ابھی کل ہی لندن سے آئ ہو ۔۔۔ اسٹڈی کے لیے ۔۔” بیا نے مختصر جواب دیا ۔۔۔۔۔۔

“بیٹا ہر کوئی پاکستان سے باہر جاتے ہیں پڑھائی کے لئے اور تم یہں آئ ہو ۔۔۔” آسیہ بیگم نے اسے حیرانگی سے کہا ۔۔

” آنٹی ہر فیصلے کے پیچھے کوئی مقصد ہوتا ہے ۔۔۔!!” بیا نے کھوئے کھوئے سے جواب دیا ۔۔۔۔

“مطلب ۔۔۔۔؟؟” آسیہ بیگم کو اس کی سمجھ نہیں آئ

“کچھ نہیں آنٹی میں کسی دن ضرور آؤ گی آپ کے گھر آپ کہاں رہتی ہیں ۔۔”بیا نے بات پلٹ دی ۔۔۔۔۔۔

“بیٹا ادھر پاس میں ہی رہتی ہوں ۔۔۔۔” آسیہ بیگم نے اپنے گھر کا ادریس بتایا ۔۔۔

اتنے وہ کار تک پہنچ چکی تھیں ۔۔۔ اس سے پہلےکے وہ کچھ اور بولتی اسال گاڑی میں سے نکل کر بول پڑا

“چھوٹی امی کہاں تھی آپ…. میں کب سے آپ کا ۔۔۔۔۔” اس کی باقی بات منہ میں ہی رہ گی جب اس نے بیا کو دیکھا

اس نے پہلی دفعہ اتنا مکمل حسن دیکھا تھا مایا بھی تھی خوبصورت مگر وہ اس کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔

“چھوٹی امی یہ ۔۔۔۔!”اس نے بیا کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔

“یہ میری نئی دوست ہے ۔۔۔” انہوں نے بیا کو اپنے ساتھ لگا کر کہا ۔۔۔

بیا کو وہ بہت اچھی لگی ۔۔۔

“اچھا چلو اب دیر نہیں ہو رہی ۔۔۔ ” آسیہ بیگم نے اسال کو کہا جو بیا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“ہاں ۔۔۔ جی چلے ” اسال اسے جواب دیا جیسے ابھی خواب سے جاگا ہو ۔۔۔

اسال گاڑی میں بیٹھ گیا آسیہ بیگم بھی بیٹھنے لگی تو کچھ یاد آنے پر واپس بیا کے پاس آئ ۔۔

“بیٹا اپنا نام تو بتا دو “

“بیا ” اس نے صرف اتنا ہی کہا

“چھوٹی امی چلے ” اسال کی آواز آئ اور وہ گاڑی میں بیٹھ گی اور وہ چلے گئے

“اہ میں بھی نا اپنا اصل نام تو بتایا نہیں ۔۔۔بیا بتا دیا ۔۔۔۔ چلو کوئی نہیں دوبارہ ملی تو بتا دو گی ۔۔۔۔بہت دیر ہو گی ہے اب یونیورسٹی کے پہلے ہی دن دیر سے نہیں جانا ۔۔” بیا نے سوچا

بیا واپس کار میں آکر بیٹھ گی ۔۔۔۔۔اور کار یونیورسٹی کی طرف چل پڑی ۔۔۔

*****************

“ہاہاہا ابھی تک نہیں آیا بڑا آیا تھا ۔۔۔میں جلدی اؤ گا ۔۔۔ہاہاہاہا “ہانیہ دانت نکال کر بول رہی تھی

“یار وہ بھی تو نہیں آئی ابھی ۔۔” مایا بولی

“مجھے تو لگتا ہے کہ وہ اسال کے ساتھ اے گی ۔۔۔” عامر بولا

جبکہ مان ان کی باتیں سن کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔

اس کی مسکراہٹ پر ساری لڑکیاں مرتی تھیں ۔۔۔

وہ تھا بھی اتنا ہندسم ۔۔۔ تو کیوں نا لڑکیاں مرتی ۔۔ لڑکیاں اس سے دوستی کرنے کے لئے خود آتی تھیں ۔۔۔۔مگر یہ لڑکیوں سے دور رہتا تھا ۔۔۔۔ مایا اور ہانیہ واحد لڑکیاں تھیں جن سے یہ بات کر لیتا تھا کیونکہ دونوں اس کے قریب تھیں ۔۔۔۔

اتنے میں ایک لڑکا آیا اور مان سے بولا

“آپ کو سر قمر بولا رہے ہیں ۔۔”

“اوکے میں آتا ہوں ۔۔” مان بولا

اور وہ چلا گیا اب مایا کا بھی یہاں بیٹھنا بیکار تھا وہ ان کو کہ کر کلاس میں چلی گی۔۔۔

اب صرف عامر اور ہانیہ رہ گی ۔۔۔۔

عامر ہانیہ کو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ہانیہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی

“میں بھی کلاس میں جا رہی ہو “

عامر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا

ﺑﻮﺳﮧ ﻧﮧ ﺳﮩﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺗﻮ ﺩﮮ ____

ﯾﮧ ﮨﺎﺗﮫ ﮬﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﺎﺧﻦ ﮨﯽ ﭼﺒﮭﻮ ﺩﮮ __

اور ہانیہ شرم سے لال ہو رہی تھی جلد ہی اپنے آپ پر قابو پاتے ہوۓ بولی

“شرم تو نہیں آتی سرعام لڑکی کو چھیڑ رہے ہو ۔۔۔۔” اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھنچ کر بولی ۔۔۔۔

“شرم ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو نہیں البتہ تمہں ضرور اس وقت آرہی ہے ۔۔۔۔اور ویسے بھی کوئی عام لڑکی نہیں ہے منگیتر ہے میری ۔۔۔۔” عامر شرارت سے بولا ۔۔۔

“پلیز عامر ۔۔۔” ہانیہ بے بسی سے بولی ۔۔۔

“اوکے ” عامر نے آس پاس دیکھا سٹوڈنٹس سب ان کو ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔

“آؤ کلاس میں چلتے ہیں ۔۔۔”

اور وہ دونوں کلاس میں چلے گئے

************

“چھوٹی بی بی یونیورسٹی آگئ ہے”خان بابا نے اس کو پکارا جو نجانے کن سی سوچ میں غرق تھی ۔۔۔۔

وہ کار سے اتر گی اور یونیورسٹی کے اندر چلی گی ۔۔۔۔۔

************

“یار آج کل تو کوئی خوبصورت لڑکی ہی نہیں آرہی ہے یونی “عثمان نے اپنے پاس بیٹھے علی اور عمر سے کہا

یہ تینوں یونیورسٹی کے بدمعاش لوگوں میں شامل ہوتے تھے ۔۔۔۔

لڑکیوں کو تنگ کرنا مار پیٹ کرنا ان کا روز کا کام تھا ۔۔۔کوئی ان کے خلاف بول کر اپنی جان مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔

کیوں کے علی بہت بارے وزیر کا بیٹا تھا ۔۔۔اس لئے لوگ ڈرتے تھے ۔۔۔

“یار میں نے سنا ہے کہ لندن سے لڑکی آرہی ہے ۔۔۔۔” عمر بولا

“ہاں میں بھی سنا ہے اور وہ بھی آج ” عثمان نے معلومات میں اضافہ کیا ۔۔۔

“وہ رہی ” علی نے سامنے گیٹ سے آتی لڑکی کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔

“تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو ۔۔۔!!” عمر بولا

“میری نظر دھوکھا نہیں کھاتی ۔۔۔”علی نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔

“چلو ذرا ویلکم کر کے آے میڈم کا۔۔۔” علی ہنس کر بولا

اور وہ لوگ بیا کی طرف چل دیا ۔۔۔۔

“لندن تو آئ لگدی آ

جس حساب نال چل دی آ ” ان کے گروپ نے بیا کو دیکھ کر گانا گیا ۔۔۔ بیا نے ان کو اگنور کیا اور آگے چل کو دی ۔۔

“ہیلو بیوٹیفل لیڈی ۔۔۔” بیا ابھی تھوڑی ہی اندر آئ تھی کہ ایک لڑکے نے سامنے آکر راستہ روک لیا ۔۔۔۔ بیا نے اس کو غصے سے دیکھا

علی نے اپنا ہاتھ آگے کو بھڑیا ۔۔۔ پیچھے کھڑے عثمان اور عمر اپنے دانت نکال رہے تھے ۔۔۔۔

بیا نے ان کو اگنور کیا اور آگے کو جانے لگی کیوں کہ وہ پہلے ہی دن کوئی سکینڈل نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔

علی نے جلدی سے بیا کا ہاتھ پکڑ لیا

بیا کو تو جیسے کرنٹ لگا آج تک کسی بھی نا محرم نے اس کو ہاتھ نہیں لگایا اور اس نے ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔

“اتنا بھی کیا نخرہ۔۔۔!” علی نے ہنس کر کہا ۔۔۔

“میرا ہاتھ چھوڑو “بیا نے غصے سے کہا

اور علی اور اس کا گروپ بیا کی بات سن کر ہنس پڑے ۔۔

میں آخری بارکہہ رہی ہوں کہ میرا ہاتھ چھوڑو” بیا نے اپنے سامنے کھڑے لڑکے کو کہا جس نے اس کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

“اگر نا چھوڑو تو ” سامنے کھڑے لڑکے نے ہنس کا کہا

بیا نے اؤ دیکھا نا تاؤ رکھ کے ایک ٹھپر جڑ دیا ساری یونیورسٹی کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا اسال بھی وہاں کھڑا ساری کاروائی دیکھ رہا تھا ۔۔

“چھیلے ہوۓ آلو کی طرح تمہاری شکل ہے ” بیا نے اس کی کلین شیو پر چوٹ کی…

اسال کا ہاتھ اچانک اپنے چہرے پر گیا جہاں ہلکی ہلکی ڈارھی تھی ۔۔۔۔۔

“super women”

اسال نے اس کو خطاب دیا ۔۔۔۔

اور مسکرا دیا ۔۔

___________

“تیری یہ ہمت کے تو نے مجھے علی کو تھپڑ مارا ۔۔۔” علی ڈھارکر بولا ۔۔۔ پہلی دافعہ کسی نے اس پر ہاتھ اٹھا یا اور وہ بھی پوری یونیورسٹی کے سامنے ۔۔۔ اور وہ بھی ایک لڑکی نے ۔۔۔

اس کے پیچھے کھڑے اس کے گروپ نے بھی شوک سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔

“ہمت کی تو بات ہی نا کرو ۔۔۔ ابھی تو صرف تھپڑ مارا ہے آئندہ اسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش بھی کی تو دیکھ لینا ۔۔۔” بیا نے انگلی اٹھا کر ورن کیا ۔۔

“تم نہیں جانتی میں کون ہوں ۔۔۔؟” علی غصے سے بولا ۔

اسال پاس کھڑا سارے واقعےسے لطف اٹھا رہا تھا ۔۔۔

“اُوووووو۔۔۔۔”بیا نے تھوڑا کھنچ کر کہا اور بولی

“تم بھی نہیں جانتے تم کون ہو ۔۔۔۔”بیا نے ااپنی نیلی نیلی آنکھیں بڑی کر کے مصنوعی حیرانگی سے پوچھا

“اس کا تو صرف ایک ہی حل ہےکہ مسجد میں جا کر اعلان کروا آؤ ۔۔۔۔ کہ ایک بچہ اُپس ایک 22 سال کا بچہ جس کو یہ بھی نہیں پتا کے وہ کون ہے کھو گیا ہے جس کو ہو پنجاب یونیورسٹی آکر لے جائے ۔۔۔” بیا مذاق سے بولی ۔

ساتھ ساری یونیورسٹی ہنسے لگی

“اب آئ ہے کوئی ٹکر کی ۔۔۔” اسال بولا ۔

“دیکھ لو گا ۔۔۔۔”علی غصے سے بولا ۔۔۔۔ اس کو اس وقت بہت غصہ آ رہا تھا جو لوگ اس کے سامنے بولتے نہیں تھے ۔۔آج کھڑے ہنس رہے تھے ۔۔۔۔۔

وہ صرف سامنے کھڑی لڑکی کی وجہ سے ۔۔۔۔ علی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی کا قتل کر دے ۔۔۔۔

“دیکھ لینا میں روزانہ ادھر سے ہی آؤ گی ۔۔۔ ” بیا اس کا غصے سے لال منہ دیکھ کر بولی ۔

اور اس کو وہیں چھوڑ کر آگے کو چل دی۔ ۔۔

اسال جوابھی تک خواب کی حالت میں تھا ۔۔۔ اچانک جاگا اور بیا کے پیچھے بھگا ۔۔

بیا کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔ ۔۔۔۔۔وہ سوچ رہی تھی کہ اسے بھی لوگ ہوتے ہیں ۔

“ایکسکیوزمی ” بیا ابھی سوچوں میں مصروف تھی کہ کسی نے اس کو پکارا

بیا نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔

تو سامنے ایک ہینڈسم لڑکا کھڑا تھا لمبا قد شفاف رنگت

“جی ۔۔۔” بیا بس اتنا بولی

“لگتا ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں ” بیا کی آنکھوں میں پرشانی دیکھ کراسال بولا ۔۔

“میں ان کے ساتھ ہی تھا جن کو آپ نے صبح اپنی دوست بنایا ہے ۔۔۔

“او اچھا ۔۔۔آپ وہ آنٹی کی بات کر رہے ہیں بہت ہی اچھی آنٹی تھی ۔۔۔”بیا نے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔

“پر آپ یہاں….؟؟”بیا حیرانگی سے بولی

“میڈم یہ یونیورسٹی ہے ۔۔اور سب یہاں پڑھنے آتے ہیں ۔۔۔” اسال شوخی سے بولا ۔۔۔۔۔ اور بیا مسکرا دی

“ویسے آپ کا نام ۔۔؟”اسال نے پوچھا

“ایک اجنبی لڑکی سے ڈائریکٹ نام پوچھنا اچھی بات نہیں ہے ۔۔۔” بیا نے ہنس کا جواب دیا ۔۔۔

میری زندگی کے دو اصول ہیں “اسال نے بیا کو دیکھتے ہوے کہا

“اچھا اور وہ کیا ” بیا بولی

“میں اجنبی لڑکی سے بات نہیں کرتا” اسال بولا

“اچھا اور دوسرا ” بیا بولی

“میں کسی لڑکی کو اجنبی نہیں سمجھتا” اسال شوخی سے بولا ۔۔۔

“کیا ۔۔۔۔۔”بیا بس اس کو دیکھتی رہ گی

“پاگل” بیا نے ہنس کر کہا ۔۔۔

“ویسے تم کہاں سے ہو۔ ۔۔” اسال نے اس سے پوچھا جو ہنس رہی تھی ۔۔۔

“آپ سے سیدھا تم ۔۔۔۔۔!!” بیا بولی

“ہاں نا ہم اب دوست بن گئے ہیں ۔۔۔” اسال شوخی سے بولا ۔۔۔

“کب ۔۔۔۔!!!”بیا حیرانگی سے بولی

“ابھی ۔۔۔ جب تم مجھ سے بات کر رہی تھی جب دو اجنبی آپس میں بات کرتے ہیں تو وہ دوست بن جاتے ہیں “اسال سے بولا ۔۔۔

“یہ کس نے کہا ۔۔۔”بیا نے اسال کو دیکھ کر کہا جو کھڑا مسکرا رہا

“میں نے ۔۔۔” بولا اور مسکرا دیا ۔۔۔

“ہاہاہاہا ۔۔۔ پاگل ۔۔۔” بیا ہنس پڑی

“اچھا تمہارا ڈیپارٹمنٹ کون سا ہے ۔۔۔” اسال نے پوچھا

“بزنس اسٹڈی “بیا بولی

“واو مطلب ہم دونوں ایک ہی کلاس سے ہیں ۔۔” اسال جوش سے بولا ۔۔۔ اس کے بعد دونوں کلاس کی طرف چل پڑے ۔۔۔۔

***************

“ابھی تک نہیں آیا “ہانیہ بولی جو کافی ٹائم سے اسال کا انتظار کر رہی تھی ۔۔

“آجاے گا فکر نا کرو تم ۔۔ اور کتنا کھاؤ گی ۔۔۔”عامر شرارت سے بولا ۔

ہانیہ اسال کے انتظار میں اب تک 3 لیز کے پیکٹ ختم کر چکی تھی ۔۔۔

“تمھے کیا ہے ۔۔۔۔” ہانیہ غصے سے بولی ۔

“اچھا اب تم لوگ سٹارٹ نا ہو جانا ۔۔۔” مایا بولی وہ کب سے مان کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ ہے کہ آ ھی نہیں رہا تھا ۔۔

اتنے میں اسال ایک لڑکی کے ساتھ ہنستے ہوۓ کلاس میں داخل ہوا ۔۔۔۔ ہانیہ کا چپس کھانے کے لئے منہ کے پاس جاتا ہاتھ رک گیا ۔

“کیا ہوا ۔۔۔؟؟؟”مایا نے اس سے پوچھا اس نے شوک کی حالت میں سامنے کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔ جہاں اسال اور وہ لڑکی آ رہی تھی ۔۔

جب مایا نے سامنے دیکھا تو اس کا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔ وہ لڑکی اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھی ۔۔۔۔

باقی کلاس کی بھی یہ ھی حالت تھی ۔۔۔۔۔ اسال اور لڑکی یہ ناممکن بات تھی ۔۔۔۔ مگر اس لڑکی نے تو سب کو پیچھے چھوڑ دیا

“تجھے کیا ہوا “اسال نے ہانیہ کو کہا جو ابھی تک شوک کی حالت میں تھی ۔۔۔

“ہاں ۔۔۔۔۔ کک۔۔۔ کک ۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔یہ کون ہے ۔۔۔”ہانیہ نے ہکلاتے ہوے کہا ۔۔۔

اسال نے ایک نظر اس کو دیکھا اور پھر پاس بیٹھی مایا کو اور پھرساری کلاس کو جو کسی شوک کی حالت میں تھی ۔۔۔۔” اسال ان کی حالت سے لطف اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔ ۔ وہ جانتا تھا کہ سب اسے کیوں ری یکٹ کر رہے ہیں۔ ۔۔۔

“یہ میری دوست ہے ۔۔۔” اسال نے بیا کو دیکھ کر مسکرا کر کہا ۔۔۔۔

“دوست۔۔۔۔۔۔۔۔” ہانیہ تقریباً چلا کر بولی ۔۔۔

بیا اچانک ہانیہ کے چلانے پر ڈر گی اور پیچھے کو ہوئی

“آرام سے لڑکی ۔۔۔ میری دوست کو ڈرا دیا ۔۔۔۔” اسال مصنوعی خفگی سے بولا ۔۔ جبکہ اندر ھی اندر خوش ہو رہا تھا ۔۔۔

ابھی وہ کچھ اور کہتا سر کامران کلاس میں آگے ۔۔۔

بیا اسال کے ساتھ ہی بیٹھ گی جبکہ ہانیہ ابھی بھی بیا کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

ہانیہ کیا ساری کلاس بھی بیا کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جس سے بیا کنفیوز ہو رہی تھی ۔۔۔۔ سر کامران نے بیا کو اپنے پاس بلایا اور ساری کلاس سے مخاطب ہوے

“یہ اُبیحہ شاہ ہے لندن سے پاکستان آی ہے یہ یہاں اسٹڈی کے لئے آی ہیں ۔۔۔۔” سر نے ساری کلاس کی پرشانی دور کی ۔۔

جبکہ کلاس میں آتا مان اس کے نام پر جیسے رک ہی گیا آگے جیسے اس کو کچھ سنا ھی نہیں ۔۔

جب سر نے مان کو دیکھا تو بولے

“مان وہاں کیوں کھڑے ہو اندر آؤ اور ان سے ملو ۔۔۔” سر نے بیا کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔

مان اندر کلاس میں آگیا ۔۔۔

“اُبیحہ یہ ارمان شاہ ہیں ۔۔۔۔بہت ہی برائٹ سٹوڈنٹ ہے ۔۔ آپ کو کوئی بھی مشکل ہو تو ان سے پوچھ لینا

“جی سر ” بیا نے جواب دیا ۔۔۔

” اس کے بعد دونوں اپنی سیٹ پر چلے گیے اور سر نے پڑھانا سٹارٹ کر دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *