Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 07)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 07)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
گھر آنے کے بعد بیا سیدھا اپنے کمرے میں گئی غصے سے بیگ بیڈ پر پھینکا
” سمجھتا کیا ہے وہ اپنے آپ کو شکل دیکھی ہے کبھی اس نے اپنی ” بیا خود ہی بولی جا رہی تھی
اتنے میں اس کا فون بجا لائف لائن کالنگ لکھا تھا بیا نے جلدی دے کال پک کی
” السلام علیکم my life line ” بیا نے مسکراکر کہا
” تم نے تو قسم کھا لی ہے کہ تم نے یاد نہیں کرنا ” نور نے منہ بنا کر کہا
” نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے یہاں کے کام ہی نہیں ختم ہو رہے ہیں ” بیا نے اس کو آج والا واقعہ بھی بتایا
” اوووو ۔۔۔۔ مطلب کوئی آگیا ہے ” نور نے شرارت سے کہا
” نور آج تو تم نےکہہ دیا آئندہ مت کہنا ” بیا نے غصے سے کہا
“بیا تم کب تک اس کا انتظار کرو گی کیا پتا اسے کوئی اور پسند ہو ” نور اسے سمجھاتی ہوئی بولی
“آگر ساری زندگی بھی انتظار کرنا پڑا تو کرو گی ۔۔۔ مجھے اپنے رب پر پورا یقین ہے کہ آج تک اس نے میرے دل میں کیسی اور کی محبت نہیں ڈالی
تو اس کے دل میں بھی نہیں ڈالی ہو گی ” بیا نے جذبات سے بھرپور الفاظ میں اپنے دل کی بات کہی ۔۔۔۔۔۔
“اچھا بس چھوڑو ان باتوں کو اور تم ہمیں کچھ اور بتاؤ ” نور نے بات ٹلنے والے انداز میں کہا
“بیا مجھے کچھ بتانا ہے تمہیں ” اسماء بولی جو کافی دیر سے چپ تھی
“ہاں بولو ” بیا نے اسے مسکرا کر کہا
ابھی وہ کچھ بولتی نور نے اس کہ منہ پر ہاتھ رکھ لیا
“بیا تم سے پھر بات ہو گی ہم دونوں کو ایک کام یاد ہو گیا ہے ۔۔۔۔” نور نے جلدی سے کہہ کر کال کاٹ دی
اور بیا آرے آرے کر کے رہ گی
“عجیب پاگل لڑکی ہے بات بھی نہیں کرنے دی خود اتنی دیر سے لگی ہوئی تھی ” بیا نے اپنے آپ کو ہی کہا
اور سر جھٹک کر فریش ہونے چلی گی
“کیا کرنے جا رہی تھی تم “نور نے اسما کے منہ سے ہاتھ اٹھا کر کہا
“وہ میں ۔۔۔میں تو بیا کو بتانے جا رہی تھی کہ ” اسماء کھانستے ہوے بولی
“چپ کرو کہا تھا نا سرپرائز دے گے سارا پلین خراب کر دیتی وہ تو اچھا ہوا کہ میں نے صہیح وقت پر ہاتھ رکھ دیا ” نور اسے دیکھتی ہوئی بولی
“اچھا اب بس ” اسماء نے ہاتھ اٹھا کر کہا
اس کے بعد دونوں کا وہی کام شروع ہو گیا جس کے بنا ان کا دن نا مکمّل تھا یعنی لڑائی ۔۔۔۔
******* *******
مان یونیورسٹی سے آنے کے بعد سیدھا اپنے روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔
اسے علی پر اتنا غصہ آرہا تھا کہ اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ علی کا قتل ہی کر دیتا ۔۔۔۔
گلابوں بھی کافی دفعہ اس کے روم کی طرف آیا مگ دروازہ بند تھا
کلثوم بیگم بھی پریشان تھی آج تک انہوں نے مان کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا
“اسلام علیکم امی ” اسال نے آکر کلثوم بیگم کو سلام کیا اس کے بعد ہانی نے بھی کیا
“کیا ہوا امی آپ پریشان دیکھ رہی ہیں ” اسال نے کلثوم بیگم کو کہا جو پریشانی کی حالت میں ادھر ادھر چکر لگا رہی تھی
“بیٹا آج کچھ ہوا ہے کیا یونیورسٹی میں ” ان کے سوال پر وہ دونوں چونکے ۔۔۔
“کیوں ۔۔کیا ہوا امی ” اسال ذرا ڈر کر بولا
کلثوم بیگم مان کے واپس آنے اور روم میں بند ہونے کا سارا واقعہ بتایا
“بری امی وہ علی نے ۔۔۔” ابھی وہ کچھ بولتی اسال نے اس کے پاؤں پر اپنا پاؤں مارا
ہانی نے زور سے چلائی
“کیا ہوا ۔۔ اور علی کیا ۔۔؟؟” کلثوم بیگم اس کی طرف بڑھی
اسال نے اسے آنکھیں دکھائی
“وہ شاید کیسی چیز نے کاٹ لیا ہے ” ہانی بولی
“امی اس کو چھوڑو اور علی کا تو آپ کو پتا ہے وہ کیسا ہے بس ایسے ہی آپس میں جھگڑا ہو گیا ” اسال جلدی سے بولا
” ایک تو یہ علی میرے بچے کے پیچھے پڑ گیا ہے پتا نہیں کب سدھرے گا ” کلثوم بیگم غصے سے بولی ۔۔۔
“اچھا امی کھانا لگا دے بہت بھوک لگی ہے ” اسال نے رونی صورت بنا کر کہا
کلثوم بیگم کے جانے کے بعد اسال ہانی کی طرف موڑا اور بولا
“کیا کرنے چلی تھی تم ۔۔۔۔پاگل تو نہیں ہو گی تم “
“میں تو صرف مان بھائ کا بتانے لگی تھی ” ہانی منہ بنا کر بولی
“پاگل ہو کیا امی نے ابھی شور ڈال لینا تھا تمھیں پتا تو ہے امی بھائ کے لیے مایا کو پسند کرتی ہے امی نے ابھی نکاح پڑھوا دینا ہے ۔۔۔ اور ویسے بھی ابھی بھائ نے کنفرم نہیں کیا ہے ۔۔۔” اسال اس کو سمجھا تے ہوۓ بولا
“ٹھیک ہے ۔۔۔” ہانی منہ بنا کر بولی
“اچھا چلو ابھی اس سے پہلے کہ امی آجاے ۔۔۔اور تمھیں یاد ہے نا جو میں نے کہا تھا ۔۔۔”
ہانی نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔اور وہ لوگ چلے گئے
*****************
“وہ آئے گی تو نا ” اسال نے ہانی سے پوچھا جو خود بیا کا انتظار کر رہی تھی
“آگئی بیا ” ہانی کو بیا آتی ہوئی نظر آئ
“السلام علیکم ” بیا نے آکر سب کو سلام کیا
“بڑی دیر کر دی مہرباں آتے آتے ” اسال نے شرارت سے کہا
بیا ہنس پڑی
“اچھا چلو بیا آگے ہی بہت دیر ہو گئی ہے ہمارے پاس صرف آج کا ہی دن ہے ” ہانی نے جلدی مچاتے ہوے کہا
“ہاں چلو ” بیا ان کے ساتھ چل پڑی
گھر کی پیچھلی سائیڈ پر گئے ۔۔۔ گھر کا بیک سائیڈ بلکل کیسی کھیل کے میدان کی طرح بنایا تھا
“بیوٹیفل ۔۔۔۔۔یہ جگہ تو بہت ہی پیاری ہے یہ تو بلکل ایسا ہے جیسے بنایا صرف سپورٹس کے لیے گیا ہے ” بیا نے ستائشی نظر سے دیکھی
“ہاں ہمارے چاچو کو بہت شوق تھا سپورٹس کا انہوں نے ہی بنوایا ہے ” ہانی نے مسکرا کر کہا
“اچھا ۔۔۔مجھےتو پھر ضرور اپنے چاچو سے ملوانا ” بیا خوش ہو کر بولی
“اچھا پھر کبھی ملوے گے ابھی کھیلنا تو سٹارٹ کرو ٹائم کم ہے تم لوگوں کے پاس ۔۔۔اور میں بھی کھیلو گا ” اسال نے بات پلٹنے کے انداز میں کہا
“اچھا جی۔۔۔۔۔” بیا نے جی کو کھینچ کر کہا
“ہان جی جی ” اسال نے بھی ایسی کے انداز میں کہا
اس کے بعد بیا ہانی اور اسال نے کھیلنا شروع کر دیا ۔۔۔
ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ بیا کی چینخ کی آواز آئ ہانی اور اسال نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے
************
مان اپنے روم بیٹھا کام کر رہا تھا جب اس کو گھر کے بیک سائیڈ سے شور کی آواز آنے لگی مان نے نے ونڈو کھولی
جو بیک سائیڈ پر کھولتی تھی
بیا کو دیکھ کر مان حیران رہ گیا اسے لگا کے اس کا وہم ہے بیا اس وقت سپورٹ ڈریس میں تھی ۔۔آج بھی بالوں کو باندھا ہوا تھا ۔۔۔
مان چیک کرنے کے لیے کے بیا واقعی میں ہے یا صرف اس کا وہم ہے نیچے گیا
مان اپنے ہی خیال میں آگے کو جا رہا تھا کہ بیا جو پیچھے آرہی تھی مان کو دیکھ نا سکی اور اس کے ساتھ ٹکرا گی
بیا کے منہ سے فلک شگاف چینخ نکلی
بیا کی چینخ سن کر مان ہوش میں آیا اور اس سے پہلے کے بیا گرتی مان نے اس کو تھام لیا
جب کافی ٹائم تک بیا نیچے نہیں گری تو اس نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو اپنے آپ کو مان کے حصار میں پایا
مان کی تو نظر ہی نہیں ہٹ رہی تھی گرنے کی وجہ سے بیا کے بال بھی کھل گئے تھے جو وہ ہر وقت بندھے رکھتی تھی
دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھنے لگے
مان کی آنچ دیتی نظروں نے بیا کو اپنی آنکھیں جھکانا پڑ گی ۔۔۔
اسال اور ہانی یہ دیکھ کر ایک دوسرے کو آنکھ سے اشارے کر رہے تھے ۔۔۔اور مسکرا رہے تھے جب ہی کیسی کے چلانے کی آواز آئ
“کیا ہو رہا ہے یہاں ۔۔۔؟”
**********
مایا جو مان سے ملنے آئ تھی مان کو نیچے آتا دیکھ کر اس کی طرف بڑھی لیکن وہ تو گھر کی بیک سائیڈ میں جانے لگا مایا بھی اس کے پیچھے چل پڑی
جب وہ گھر کی پیچھلی سائیڈ پڑ گی تو ادھر کا منظر دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا
بیا اور مان کی باہوں میں ۔۔۔۔
مان پڑ صرف میرا حق ہے اور اس کی باہوں میں بیا
وہ جلدی سے آگے گئی اور چلا کر بولی
اس کے اس طرح بولنے پڑ مان اور بیا ہوش میں آے
اور جلدی سے الگ ہوے
“کیا ہو رہا تھا ” مایا نے پھر سوال پوچھا
اسال کو بہت غصہ آیا مایا کے اس طرح آنے پڑ اس لیے منہ بنا کر بولا
“تمہیں دیکھ نہیں رہا بھائ نے بیا کو گرنے سے بچایا ہے ۔۔۔”
“وہ تو میں دیکھ ہی رہی ہوں کہ کون کہاں گر رہا ہے ” اس نے طنز کیا
“کیا مطلب ہے تمہارا ” بیا نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوے کہا
“ہنہ ۔۔۔اب اتنا بھی نہیں پتا کہ میں کیا کہنا چاہتی ہوں ۔۔ “مایا ذرا سا ہنس کر بولی
بیا ابھی بولتی مان بول غصے سے پڑا
“اپنی زبان بند رکھا کرو جب کچھ معلوم نا ہو “
مان کے اس طرح بولنے پر وہ وہاں سے رو کر چلی گئی
” یہ تو ۔۔۔” بیا صرف اتنا ہی بولی وہ بھی مایا کو روتا دیکھ چکی تھی
“کچھ نہیں ہوا اس کو ۔۔۔روز کا کام ہے اس کا ” اسال نے منہ بنا کر کہا
ہانی اور اسال کو مایا پڑ بہت غصہ آیا جس نے آکر ان کا سارا پلین خراب کر دیا
“مجھے اب جانا چاہیے ” بیا نے کہا
“نہیں ابھی تو تم آئ ہو تم تھوڑی دیر اور رک جاؤ ” مان جلدی سے بولا
ابھی تو اس نے محسوس ہی نہیں کیا تھا اور وہ جانے کی بات کر رہی ہے
“ہاں بیا بھائ کہہ رہے ہیں نا تو رک جاؤ ” اسال شرارت سے بولا
ہانی بھی ہنسے لگی
مان نے اسال کو آنکھیں دکھائی وہ اسال ہی کیا جس پڑ اثر ہو جائے فوراً بولا
“بھائ میں جانتا ہو آپ کی آنکھیں بہت پیاری ہے اس لیے مجھے مت دکھایا کرے کیسی اور کو دیکھائے ۔۔”
“بیا ان کو چھوڑو تم ایسا کرو میرے ساتھ میرے روم میں چلو ” ہانی نے بیا کو کہا جو نا سمجھی کی حالت میں دونوں کو دیکھ رہی تھی
دونوں کے جانے کے بعد مان نے اسال کی گردن پکڑ لی اور بولا
“کیا بول رہے تھے ۔ ۔ ذرا دوبارہ بولنا “
“میں ۔۔میں تو کچھ بھی نہیں بول رہا تھا “اسال گھبرا کر بولا کیونکہ مان کے ارادے اچھے نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں یاد کرواتا ہوں ” مان ذرا سا ہنس کر کہا
“نہیں بھائ ۔۔۔اچھا سوری نا ” اسال رونی صورت بنا کر بولا
اس کو دیکھ کر مان کو ہنسی آی ۔ ۔ مان کو ہنستا دیکھ کر اسال کو سکون ہوا اور وہ مان کے گلے لگ گیا ۔۔۔۔۔۔اور دونوں ہی ہسنے لگے
