Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 13)

Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana

“بیا نور اور کتنی دیر ہے آجاؤ ۔۔۔” اسماء کب سے ان کو بولا رہی تھی مگر وہ دونوں تو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔آج ہانی کی مہندی تھی ۔۔۔

“آگئی ۔۔اتنی بھی کیا جلدی ہے “نور نے روم سے نکلتے ہوے کہا نور نے گولڈن رنگ کی کرتی اور گرین رنگ کا لہنگا پہنا تھا

“میں بھی آگئی ۔۔”بیا نے بھی روم سے نکلتے ہوے کہا ۔۔۔

بیا نے گرین رنگ کی کرتی اور پرپل رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا ۔۔۔۔ بیا نے اپنے بالوں کو کھولا ہوا تھا جو اس کی کمر تک آرہے تھے ۔۔۔۔ بیا نظر لگنے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔

“bia you lookin gorgeous…” نور نے اس کو دیکھتے ہوے کہا

“سچی بیا تم بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔” اسماء نے بھی اس کا تعریف کی ۔۔

“اچھا بس کرو اب دیر نہیں ہو رہی ۔۔۔”بیا نے مسکراتے ہوے کہا

“دیکھا اسماء ہماری لڑکی کو اپنے سسرال جانے کی کتنی جلدی ہے”

نور نے اسماء کو آنکھ مار کر کہا

“اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔” بیا نے شرماتے ہوے کہا

اسماء اور نور دونوں اس کو دیکھ کر ہنس پڑی

“ویسے بیا میں بہت خوش ہو کہ تم جس مقصد کے لیے تم پاکستان آئ تھی وہ پورا ہو گیا ۔۔۔” نور نے مسکرا کر کہا

“نہیں نور ابھی بھی مقصد پورا نہیں ہوا ۔۔۔ابھی بابا کو بھی واپس لے کر آنا ہے ۔۔۔۔” بیا نے کہا

“اچھا اب بس کرو ہمیں دیر ہو رہی ہے اور بیا بھائ جان بھی تمہارا انتظار کر رہے ہو گے ۔۔۔۔”اسماء کہہ کر باہر بھاگ گئی ۔۔۔۔

بیا اور نور منہ کھولے اس کو دیکھتی رہ گئی

★★★★★★★★

“کب آے گی وہ ” اسال نور کے انتظار میں ادھر ادھر چکر کاٹ رہا تھا اس نے سفید رنگ کا کرتا پہنا ہوا تھا اور بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔

“کس کا انتظار ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔” مان نے پیچھے سے آکر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

“کیسی کا بھی نہیں ۔۔۔”اسال فورا بولا

“نور کا انتظار ہو رہا ہے ۔۔۔۔”مان شرارت سے بولا

“بھائ ۔۔۔۔۔!”اسال منہ بنا کر بولا

“ہاہاہا ۔۔”مان اس کی شکل دیکھ کر ہنس پڑا

“بھائ مجھے چھوڑے خود آپ بھی تو بیا اہ سوری بھابی کا انتظار کر رہے ہو “اسال بھی شرارت سے بولا

“ہاں تو بیوی ہے میری ۔۔۔” مان بھی ڈھٹائی سے بولا

“ویسے بھائ کتنے مزے کی بات ہے نا میری دوست ھے میری بھابی ہے اور تو اور ہماری کزن بھی ہے ۔۔۔” اسال خوش ہو کر بولا

“اوئے پاگل ۔۔” مان نے اس کی کمر پر مکا مارا

“بھائ کیا ہے ۔۔۔” مان چلاتے ہوے بولا

“مان ” مایا نے آواز دی

مان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو مایا کھڑی تھی گولڈن رنگ کی کرتی اور پرپل رنگ کا لہنگا زیب تن کیا ہوا تھا اپنے شولڈر کٹ بالوں کو کھولے کھڑی تھی ۔۔۔۔

مان نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

“کیا مان تم تو مجھے بھول ھے گئے ۔۔۔۔ ” مان کے قریب ہو کر بولی

اسال نے مان کو کہنی ماری اور سامنے کی طرف اشارہ کیا ۔۔

★★★★★★★★★★

“چلو بھائ آگیا گھر ۔۔۔۔” گاڑی کے روکتے ہوے بولی

وہ سب گاڑی سے باہر آئ اور اندر کی طرف جانے لگی ابھی وہ گیٹ کے اندر گئی ہی تھی کہ نور نے سامنے دیکھ کر بیا کو کہنی ماری

“کیا ہے ۔۔۔” بیا اس کی طرف دیکھتی ہوئی بولی

“وہ دیکھ ۔۔۔”اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا

جب بیا نے سامنے کی طرف دیکھا تو مایا کو مان کے قریب دیکھ کر اس کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا ایسی وقت مان نے بیا کو دیکھا

مان نے جھٹکے سے مایا کو الگ کیا

“کیا باتمیزی ہے یہ ۔۔۔” مان غصے سے بولا

“مان کیا ہوا اتنا غصہ کیوں کر رہے ہو ۔۔۔” مایا پھر اس کے قریب ہوتے ہوے بولی

مان ایک نظر اس کو دیکھا اور پھر بیا کو بیا وہاں سے جا چکی تھی ۔۔۔ مان اس کو سائیڈ پر کرتے ہوے بیا کے پیچھے چلا گیا ۔۔۔

“بھائ تو گیا آج ۔۔۔” اسال خود سے بولتا ہوا ان کے پیچھے چل پڑا

مایا بھی اپنا کام کر کے وہاں سے چلی گی

“بیا ۔۔۔۔بیا روکو پلیز ۔۔”اسماء اور نور اس کے پیچھے بھاگ رہی تھی لیکن وہ تو رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی

“کہاں ہے بیا ۔۔۔” مان بھی ان کے پیچھے آیا اور نور سے پوچھا

“تم لوگ روکو میں جاتا ہوں ۔۔۔۔۔۔” مان نے انہیں کہا اور خود بیا کے پیچھے چلا گیا

“بیا ۔۔۔۔بیا پلیز روکو ۔۔۔۔بیا۔ ۔۔”مان اس کو آواز دے رہا تھا مگر وہ سن ھے نہیں رہی تھی ۔۔۔۔

مان جلدی سے اس کے پاس گیا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر پاس ہی روم میں چلا گیا ۔۔۔اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔۔۔

“یہ کیا باتمیزی ہے ہاتھ چھوڑے میرا ۔۔۔۔” بیا اپنا ہاتھ مان سے چھڑوانے لگی

“یہ ہاتھ چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا ۔۔۔” مان شوخی سے بولا

“پلیز ۔۔”بیا روتے ہوے بولی

بیا کے آنسوں مان کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔ بیا کی ناک رونے کی وجہ سے لال ہو گئی تھی ۔۔۔۔ مان اس کے قریب گیا بیا جانے ہی لگی تھی کہ مان نے دونوں طرف دیوار پر اپنے ہاتھ رکھ دیے

“باربی ۔۔۔” مان نے بیا کو پکارا

بیا نے مان کو دیکھا اسے اس کی آنکھوں میں اپنا ہی عکس نظر آیا

“تم نے وہاں جو دیکھا وہ ۔۔وہ نہیں تھا اور ۔۔۔”ابھی وہ کچھ بولتا بیا نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی ۔۔۔۔۔اور بولی

“مجھے پتا ہے وہ مایا ہی آپ کے پاس آئ تھی ۔۔۔”

“آگر تمھیں پتا تھا تووہاں سے کیوں بھاگ آئ ” مان نے حیرانگی سے پوچھا

“کیونکہ میں آپ کو کیسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔ ” بیا نے اپنا چہرہ نیچے کر کے کہا

مان کو اس وقت اس پر بہت پیار آیا مان نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا اور بولا

“اوہ ۔۔تو میری جان میرے لیے اتنی پوزیسیو ہے ۔۔”

بیا نے اپنا چہرہ نیچے کر لیا

“ویسے آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔” مان نے اس کو دیکھتے ہوے کہا

“صرف آج ” بیا نے مصنوعی خفگی سے کہا

“آگے بھی خوبصورت لگتی ہو مگر آج ۔۔آج کی بات ہی الگ ہے ” مان مسکرا کر بولا

مان کی نظر اس کے تل پر تھی وہ تھوڑا جھکا اور اس کے کان کے پاس جا کر بولا

یہ جو ہونٹ کے پاس تل ہے

اسی میں میرا دل ہے

اور اس کی کان کی لو کو چوم لیا ابھی وہ کوئی اور گستاخی کرتا دروازہ بجنے لگا

مان اک دم پیچھے کو ہوا اور بولا

“ایک تو یہ ظالم سماج ” اور جا کر دروازہ کھولا سامنے نور اسماء اور اسال کھڑے تھے ۔۔۔

مان نے ان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا

“کیا بھائ جان ہم مہندی کے فنکشن کے لیے اے ہیں ۔۔۔” نور بولی

“ہاں تو ۔۔۔؟؟” مان نے کہا

“آگر آپ بیا کو چھوڑے گے تو ہم فنکشن آٹینڈ کرے گے نا ۔۔۔”نور معصومیت سے بولی اور خود اندر جا کر بیا کو باہر لے آئ

“بھائ جلدی چلیں کہ اس سے پہلے کی امی آجائے ” اسال جلدی سے بولا

“کیوں امی کیوں اے گی ۔ ۔۔۔؟” مان نے حیرانگی سے پوچھا

“کیوں کہ بھائ آج منہدی ہے اور دلہن کے بھائ ہی غائب ہیں سب پوچھ رہے ہیں ۔۔۔۔جلدی چلو ۔۔۔” وہ مان کے عقل پر ماتم کرتا اس کو اندر لے گیا ۔۔۔۔

پیچھے پیچھے وہ لوگ بھی اندر چلی گی

★★★★★★★★★★

“چلو بھی لڑکیوں گانا شانا شروع کرو ۔۔۔” کلثوم بیگم نے مسکرا کر کہا

“میں بھی ساتھ گاؤ گا ۔۔۔ آخر اس آفت کی مہندی ہے ۔۔۔ ” اسال نے ہانی کی طرف اشارہ کر کے کہا

“امی ۔۔۔۔” ہانی نے رونی صورت بنا کر کہا

“اسال ۔۔۔” کلثوم بیگم نے اس کو ڈانٹا

“اچھا امی ۔۔۔”اسال بس اتنا ہی بولا

اور لڑکے بھی آگئے تھے

سب آپس میں ہلا گلا کر رہے تھے ۔۔۔ کبھی لڑکے آگئے تو کبھی لڑکیاں آگئے

نور اسماء بیا بھی آکر اب بیٹھ چکی تھی

نور کو دیکھ کر اسال کو شرارت سوجی

اور بولا

“اب میں سناتا ہو ۔۔۔”

نور اور اسماء اس کے سامنے بیٹھی تھی

“چھلا میرا جی وے ڈھولا سنپ چھڑ گیا سوٹی تے

دونوں پینا اک او جایئ میں عاشق چھوٹی تے ۔۔۔”

اسال کو اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ اچھا نہیں لگا اپنی فیلنگس بتانے کا ۔۔۔

نور اس کو منہ کھولے دیکھنے لگی ۔۔۔

اس کو ٹپے آتے ہی نہیں تھی کیونکہ کبھی لندن میں انہوں نے گاۓ ہی نہیں تھے ۔۔۔

ہانی اس کے قریب ہوئی اور کچھ اس کے کان میں بولی

اس کی بات سن کر نور کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور وہ بولی

“چٹے چاولاں دی پچھ ماہیا

میں کڑی ریشم جئی تو جنگلاں دا ریچھ ماہیا “

اس کے اس طرح کہنے سے سب ہنس پڑے

اور اسال تو صرف اس کو دیکھتا رہ گیا

پھر سب نے مل کر ڈانس کیا ۔۔۔ اور ایک اچھی حسین رات اختتام پذیر ہوئی ۔۔

لیکن کون جانے کل کا دن کیا قیامت لانے والا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *