Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana NovelR50697 Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 16)
Rate this Novel
Kesa Yeh Ishq Hai (Episode 16)
Kesa Yeh Ishq Hai by Anam Sana
“اسلام علیکم ۔۔” اسال اونچی آواز میں سب کو سلام کیا ۔۔۔ وہ لوگ اگلی صبح ناشتہ لے کر گئے تھے ۔۔۔۔اس وقت سب ہال میں بیٹھے تھے
“وعلیکم اسلام ۔۔۔” آمنہ بیگم مے مسکرا کر کہا
“آؤ بیٹھو “عامر کی دادی ماں نے کہا
وہ سب لوگ وہیں بیٹھ گئے ۔۔۔
“ویسے آنٹی ہماری دلہن کہاں ہے ۔۔۔” بیا نے پوچھا
بیا اور نور بھی ان کے ساتھ۔ آئ تھی اسماء کی طبیعت خراب تھی اس لیے وہ نہیں آئ ۔۔۔
“وہ ۔۔۔۔وہ آگئی ۔۔۔” آمنہ بیگم نے نے ہانی اور عامر کو نیچے آتا دیکھ کر کہا ۔۔۔
ہانی نیچے آکر سب سے ملی اس کے چہرے پر شرمگاہ مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔
نور اور بیا ہانی کو چھیڑ رہے تھے ۔۔۔۔ ادھر اسال عامر کو تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
اتنے میں مایا بھی آگئی ۔۔وہ آکر مان کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔۔ مان نے پہلو بدلا ۔۔۔۔
بیا نے کن آنکھیوں سے مایا کو دیکھا جو مان کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔ مان بھی مایا کے پاس ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔بیا تو بنا پانی کے مچھلی بن گئی ۔۔۔۔۔۔۔
مان بیا کو جلا کر لطف اٹھا رہا تھا
“چلو بچو آجاؤ ناشتہ کر لو ۔۔۔ “آمنہ بیگم نے باقی سب کو بھی ناشتے پر بلایا ۔۔،۔۔۔
سب نے مل کر ناشتہ کیا ۔۔۔
کلثوم بیگم اور آمنہ بیگم دونوں کھڑی ہو گئی اور بولی
“ہمیں آپ سب کو ایک خوش خبری سنانی ہے ” سب ان کی طرف متوجہ ہوے
“جی جی امی بولے ۔۔۔” اسال فورا بولا
“آپ کے گھر میں ایک اور شادی ہونے والی ہے” آمنہ بیگم خوشی سے بولی
“مطلب ۔۔۔” اسال کو کچھ سمجھ نہیں آیا اس لیے فورا بولا
“مطلب یہ کے ہم نے مان اور مایا کا رشتہ طے کر دیا ہے “۔۔۔کلثوم بیگم خوشی سے بولی
مگر یہ خوشی کس کس پر بجلی بن کر گری ان کو معلوم نہیں تھا ۔۔۔لیکن مایا خوش ہوئی کیونکہ یہ ہی تو اس کی دلی مراد تھی
اسال جو خوش تھا حیرانگی سے اپنی ماں کو دیکھنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
مان ایک جھٹکے سے اٹھا اور باقی سب بھی کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔۔
“یہ کیا کہ رہی ہو ۔۔۔” آفتاب شاہ رعب دار آواز میں کہا ۔۔۔
“یہ نہیں ہو سکتا “مان غصے سے بولا
“کیوں کیوں نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔کیا کیا کمی ہے مجھ میں ۔۔۔۔”مایا اس کی بات سن غصے میں بولی
عقیل شاہ اور اکرم شاہ بھی حیرانگی سے کھڑے تھے انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا بولے ۔۔۔۔۔
“میں نے کہہ دیا نا نہیں مطلب نہیں ۔۔۔” مان بولا
“کیوں بیٹا کیا کمی ہے ۔۔۔۔” کلثوم بیگم نے پرشانی سے پوچھا
“امی مایا سے کیا کیسی سے بھی شادی نہیں کر سکتا کیونکہ ۔۔۔۔میں پہلے سے ہی شادی شدہ ہو ۔۔۔” مان رک رک کر بولا
مایا کو لگا چھت اس کے اوپر آگری ہے ۔۔۔ کلثوم آسیہ اور آمنہ بیگم کی بھی یہ ہی حالت تھی ۔۔۔۔۔
“بیٹا یہ کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔” کلثوم بیگم نے حیرانگی سے پوچھا
“یہ بلکل سہی کہ رہا ہے بہو ۔۔۔” آفتاب شاہ رعب دار آواز میں بولے ۔۔۔۔
“لیکن یہ بابا کب ۔۔۔۔؟؟” اب کی بار آمنہ بیگم نے پوچھا
“جب تمہاری امی ہوسپٹل میں تھی ۔۔۔۔” آفتاب شاہ بولے
★★★★★★★★★★
“بیٹا مرزا کو بولا دو ۔۔۔” آصفہ بیگم بولی
“یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں جانتی ہے نا ہم نے اس سے سب رشتے توڑ دیے ہیں ۔۔۔۔” آفتاب شاہ غصہ کنٹرول کرتے ہوے بولے ۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ اس وقت ہوسپٹل میں تھے
“میں سب جانتی ہو لیکن میں آخری وقت میں اپنے بیٹے سے ملنا چاہتی ہو ۔۔۔۔” اصفہ بیگم اداس ہو کر بولی
“امی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔ ۔۔۔ امی ایسا مت کہے ۔۔۔۔۔” اکرم شاہ فورا بولے
عقیل شاہ بھی تڑپ کر آگے اے اور بولے
“امی ٹھیک ہے میں ۔۔۔میں ابھی بھائ کو بولاتا ہو ۔۔” عقیل شاہ بولے
“لیکن ۔۔۔” آفتاب شاہ کچھ بولتے اکرم شاہ بولے
“پلیز ابو امی کی حالت بہت خراب ہے ۔۔۔آپ اپنی ناراضگی ختم کر دے ۔۔۔ “
“ٹھیک ہے ۔۔۔۔” آفتاب شاہ بس اتنا ہی بولے بیٹے سے ملنے کے لیے وہ بھی بےچین تھے مگر آگے ان کی انا آجاتی تھی اس لیے نہیں بولتے تھے ۔۔۔
تھوڑی ہی دیر بعد مرزا شاہ اپنی بیوی اور اپنی 6سال کی بیٹی کے ساتھ وہاں تھے ۔۔۔
“امی یہ آپ نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے ۔۔۔ آپ ۔۔”ان سے زیارہ بولا ہی نہیں گیا اور وہ رو پڑے
“نا بیٹا ایسے روتے نہیں ہے سب نے اس دنیا سے جانا ہے ۔۔۔۔اور یہ ۔۔۔؟”انہوں نے بیا کی طرف اشارہ کیا
“امی یہ آپ کی پوتی ہے ابیحہ شاہ ۔۔۔” مرزا صاحب بولے
انہوں نے بیا کو پیار کیا انہیں یہ گڑیا جیسی بچی بہت پیاری لگی ۔۔۔
“میں نہیں جانتی میرا۔۔۔۔ اور کتنا وقت ہے لیکن میری ایک آخری خواہش ہے۔۔۔۔۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ پوری کر دے ۔۔۔” اصفہ بیگم رک رک کر بولی ۔۔
“امی آپ ایسا نا کہے آپ کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔آپ جو چاہیے گی وہ ہی ہو گا ۔۔۔آپ بس ٹھیک ہو جائے ۔ ۔۔” اکرم شاہ بولے ۔۔۔
“میں چاہتی ہو کہ مرزا اپنی بیٹی کو اکرم کی بیٹی بنا دے ۔۔۔۔” وہ بولی
“امی یہ آپ سب کی ہی بیٹی ہے ۔ ۔۔۔” مرزا صاحب بولے
“اکرم ۔۔۔مرزا ۔۔” پھر انہوں نے ایسی بات کہی کہ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگ گئے ۔۔
“بیٹا بس یہ ہی میری آخری خواہش ہے ۔۔۔۔” وہ بولی
مرزا صاحب اپنی بیوی کے پاس آئے
کچھ کہنے ہی لگے تھے کہ انسا بیگم بول پڑی
“شاہ جیسا آپ چاہے ۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔”وہ مسکرا بولی ۔۔
تھوڑی ہی دیر میں نکاح خوا بھی آگئے
اکرم شاہ نے اپنے بارے بیٹے ارمان شاہ کو بھی گھر سے بولا لیا مگر گھر میں کیسی کو کچھ بھی نہیں بتایا ۔۔۔۔۔
مان پہلے مرزا صاحب سے ملا اور اپنے چاچو کو دیکھ کر بہت خوش ہوا ۔۔
اس کے بعد دونوں کا نکاح پڑھوا دیا گیا ۔۔۔
“بیٹا آپ دونوں باہر چلے جائے ۔۔۔”انسا بیگم نے دونوں کو کہا
مان بیا کا ہاتھ پکڑ باہر چلا گیا
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کے اندر سے رونے کی آوازیں آنے لگی ۔۔۔اصفہ بیگم اس دنیا سے جا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
★★★★★★★★★★
یہ سب بتاتے ہوے آفتاب شاہ کی آنکھیں نم ہو چکی تھی ۔۔۔۔
“آپ نے ہمیں کیوں نہیں بتایا یہ سب ۔۔۔۔” اسماء بیگم روتے ہوے بولی ۔۔۔
انہیں دکھ اس بات کا بھی تھا کہ وہ پہلی دفعہ اپنی بیٹی کی فرمائش پوری نا کر سکی
“بس یہ سب بتانے کا موقع یہ نہیں ملا مرزا بھی لندن چلا گیا اس کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر ہی نہیں دیکھا ۔۔۔” عقیل شاہ بولے
“تو وہ لڑکی ۔۔۔یعنی مان کی بیوی بھی لندن میں ہے ۔۔۔” کلثوم بیگم بولی ۔۔۔ان کے تو سارے خواب ہی ٹوٹ گئے انہوں نے مایا کو اپنی بہو میں دیکھا تھا ہمیشہ مگر اب ۔۔۔اب تو حالات ہی بدل گئے تھے ۔۔۔
“نہیں وہ ادھر ہی ہمارے درمیان ہے ۔۔۔” مان بولا
سب نے اس کو حیران ہو کر دیکھا ۔۔۔
“ک۔۔۔کون ہے ۔۔۔؟” آفتاب شاہ بولے ۔۔۔
مان بیا کی طرف گیا جو اپنا چہرہ جھکاے اپنے آنسوں کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ مان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور آگے لے کر آیا اور بولا
“یہ ہے ابیحہ ارمان شاہ ۔۔۔۔”
“ابیحہ ۔۔۔۔میری بچی “آفتاب شاہ آگے کی طرف بھڑے اور اس کو اپنے ساتھ لگا لیا
بیا اب اور اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکتی تھی ۔۔۔وہ بھی رو پڑی ۔۔۔ کلثوم بیگم کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ بیا ہی اس کے بیٹے کی بیوی اور اس کی بہو ہے ۔۔۔۔
آسیہ بیگم تو بہت خوش ہوئی وہ تو پہلے ہی بیا کو پسند کرتی تھی ۔۔۔۔
“انکل ۔۔۔۔” نور چلا کر بولی
سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سامنے مرزا صاحب کھڑے تھے اور ساتھ ان کے اسماء بھی تھی ۔۔۔
“بیا بھاگ کر گئی اور ان کے گلے لگ گئی۔ ۔۔
“ابیحہ ۔۔۔” وہ پکارے
بیا حیران ہوئی کیونکہ آج تک انہوں نے بیا کو کبھی بھی ابیحہ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔تو پھر آج کیوں ۔ ۔ ۔
“تم اتنی بڑی ہو گئی ہو کہ مجھے بنا بتاے کام کرنے لگ گئی ہو ۔۔۔مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔۔” مرزا صاحب غصے سے بولے ۔۔۔۔
“مرزا ۔۔۔۔ہماری پوتی کو کچھ مت کہو ۔۔۔” آفتاب شاہ رعب دار آواز میں بولے ۔۔۔
“لیکن ابو ۔۔۔۔” مرزا صاحب کچھ بولتے آفتاب شاہ بول پڑے
“لیکن کیا ۔۔۔جو تم نا کر سکے وہ تمہاری بیٹی نے کر دیا
“ابو میں سہی وقت کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔” مرزا صاحب آہستہ سے بولے
“سہی وقت کب آنا تھا ۔۔۔جب میں بھی تمہاری امی کی طرح اس دنیا سے چلا جاتا ۔۔۔” وہ بولے
مرزا صاحب تڑپ کر آگے اے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر بولے
“ابو ایسا نا کہے ۔۔۔۔”
آفتاب شاہ نے انہیں گلے لگا لیا ۔۔۔اکرم شاہ اور عقیل شاہ بھی آگے اور وہ بھی ان کے ساتھ گلے لگ گئے ۔۔۔ ماحول اچانک ہی خوشگوار ہو گیا
وہ سب ایک دوسرے سے مل ہی رہے تھے کہ اسماء چلائ
“بیا ۔۔۔۔۔۔۔”
سب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے ۔۔۔۔
مایا نے بیا کی گردن پر چھوڑی رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
“مایا یہ کیا پاگل پن ہے چھوڑو بیا کو ۔ ۔۔” مان چلا کر بولا
“واہ بہت فکر ہے اس کی ۔۔۔اور میری ۔۔۔میری کوئی فکر نہیں ۔۔۔” مایا بھی چلا کر بولی
“بیٹا ۔۔۔یہ کیا کر رہی ہو چھوڑو اس کو ۔۔” آمنہ بیگم بولی
“واہ امی آپ کو بھی اس کی فکر ہے میری کوئی فکر نہیں ہے ۔۔۔۔اور تم ۔۔۔۔”مان کی طرف اشارہ کر کے بولی
“تمھیں میرا پیار نظر نہیں آیامیں نے بچپن سے تمھیں صرف تمھیں چاہا ہے کیسی کو دیکھا بھی نہیں صرف تمہارے علاوہ ۔۔۔اور تم ۔۔۔تم نے مجھے یہ صلہ دیا ۔۔۔”
“دیکھو مایا میں نے تمھیں صرف اپنی کزن اور دوست کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھا ۔۔۔ اور چھوڑ لگ جائے گا ۔۔۔۔”مان نے آہستہ آہستہ آگے ہو کر کہا ۔۔۔اور اس سے چاقو چیھنا مگر شاید بہت دیر ہو چکی تھی ۔۔۔ چاقو اپنا کام کر چکا تھا ۔۔ سب کے سانس جیسے رک چکے تھی
“مان ” بیا صرف اتنا بولی وہ گرتی مان نے اسے تھام لیا ۔۔۔۔۔اور ۔
