Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Last Episode)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Last Episode)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
ہر عمل کا بدلہ ہوتا ہے ، عمل اچھا ہو تو بدلے اُس وقت ملتے ہیں کے انسان خود حیران رہ جاتا ہے ، اور برائی کا انجام بھی جلد یہ بدیر ضرور مکافات عمل کی صورت میں ہوتا ہے اور ضرور ہوتا ہے ، تھا انسان ہی ہے جو بھول جاتا ہے وہ جو اوپر بیٹھا ہے وہ دل کے حال جانتا ہے اور کسی سے زیادتی نہیں کرتا ،
میر جوگنگ سے واپس آ رہا تھا جب اپنے گھر کی طرف جاتی ایک خاتون کو دیکھ کر ٹھٹھکا ایک کمزور وجود ، بے جان قدم اٹھاتا اُنکے گھر کے دروازے پر رکا ،،
اتنے سال شادی کے گزر جانے کے بعد بھی نرمین کے ہاں کوئی اولاد نہیں پیدا ہوئی تھی جس کو وجہ بنا کر اسکا شوہر دوسری شادی کر چُکا تھا ، تاریخ نے خود کو دہرایا اور شادی کے کچھ ہی دنوں بعد دوسری خاتون نے ٹھیک اُسی طرح اُسے طلاق کے بعد گھر سے نکلوایا جیسے کچھ سالوں پہلے صادان سے میرب کو نکلوایا گیا تھا ،،
مُجھے شاہ میر سے ملنا ہے ،، جس گھر اور اُسکے مکینوں کو ٹھوکر مار کر گئی تھی اتنے سالوں بعد اُسی میں ایک سوالی کی حیثیت سے کھڑی چوکیدار کو کہہ رہی تھی ،،
آپکا نام ،،
نرمین شاہ میر کی ماں ،، تب تک میر وہاں پہنچ چکا تھا
مگر میری مما تو اتنے سالوں پہلے فوت ہو گئی تھیں ،، دفعتاً میر کی آواز سنائی دی
میرا بچہ ،، اُسکی طرف لپکی
ایکسکیوز می ،، اُن سے دور ہوتے بولا
مجھے معاف کر دو میر ، اپنی ماں کو معاف کر دو ،، روتے ہوئے بولی
جیسا کہ میں نے پہلے بتایا میری مما فوت ہو چکی ہیں تو آپ خود کو میری ماں نہ کہیں اور دوسری بات معافی کی ،،
تو جان لیں کے آپ کے جانے میں میرے لیے مصلحت تھی اگر میں آپ کے ساتھ ہی رہ رہا ہوتا تو میں آج شاہ میر صادان نہ ہوتا جس کو اپنے وجود پر پورا اعتماد ہے جس کی پہچان اُنکا فخر ہے ،، مُجھے آپ سے شکایت نہیں ہے بلکہ احسان مند ھوں کہ آپ نے مجھے اپنانے سے انکار کیا تبھی میں صحیح ہاتھوں میں گیا ، اُسکی باتوں پر نرمین نے آنکھیں مینچ لی یہی سچائی تھی جسے اُسنے جھیلنا تھا
اجازت دیں ،، کہتا گھر کے اندر داخل ہو گیا پیچھے وہ بس اُسکی پیٹھ تکتی رہ گئی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کے تمہارے بھائی کی شادی ہو گئی ہے ،، ایشل کیفے میں بیٹھی زنابیہ کا انتطار کر رہی تھی جب کہیں سے ہانیہ نمودار ہوئی
ہمارے درمیان ایسا کوئ رشتا نہیں ہے جو میں تمہیں اپنی گھر کی باتیں بتاتی ،، اُسکی آنکھوں میں دیکھتی اطمینان سے بولی
تُم سمجھتی کیا ہو خود کو ،، بھڑکی
ایشل بلال ،، اطمینان سے گویا ہوئی
ارے تمہارا وہ نیا دوست کہاں ہے ہانیہ ،، اپنے پیچھے سے نابی کی آواز پر چونکی
کون سا دوست ؟ انجان بنی
وہی جس پر تمہارا لیٹسٹ کرش ہے ؟ تُم ایسا کرو جا کر اُسے ڈھونڈو ہمیں تھوڑا کام ہے ،، ساتھ ہی ایشل کو اٹھنے کا اشارہ کیا ،
اور ہاں ایک بات یاد کروا دوں تمہیں ، واپس مڑتے بولی
یہ ایک یورنیورسٹی ہےجہاں پڑھنے آتے ہیں ہم سب اور یہ وقت بہت قیمتی ہے اسے ان چیزوں میں ضائع نہ کرو ،،
جو بھی تمہارے نصیب میں ہوا اُسے پانے کے لئے تمہیں کسی کے آگے نہ جھکنا پڑے گا نہ ہی خوار ہونا پڑے گا ، اس وقت جس کام کے لئے تُم یہاں اس جگہ روز آتی ہو صرف اُس پر فوکس رکھو ،دھیمی آواز میں کہتی وہ تو چلی گئی تھی مگر اسے بہت کُچھ سیکھا گئی تھی کتنی ہی دیر اس جگہ کو دیکھتی رہی جہاں سے وہ دونوں گئی تھیں ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
حال میں مدھم روشنیاں تھی ، اسٹیج پر نصب پروجیکٹر پر ایک وجود موجود خود اعتمادی سے دھیمی رفتار سے بول رہا تھا ، حال میں موجود ہر نفس غور سے اُسے سن رہا تھا ،،
آپ وہ ہیں جس نے آپکو بچانا ہے ، جس نے آپکا خیال رکھنا ہے ، مشکل میں آپکی مدد کرنی ہے ۔ جی ہاں ! آپ ہی وہ ایک انسان ہیں جس نے آپکو بہتری کی طرف لے کر جانا ہے کیوں کے آپ کے اندر وہ قابلیت اور خصویات اللہ نے ڈالی ہیں ۔
انسان افضل مخلوق ہیں جسے اللہ نے تمام مخلوق سے بہتر خصوصیات دے کر بھیجا ہے اُس نے تو تفریق نہیں کی تو زمین پر موجود وجود کیوں خود کو بہتر سمجھیں ۔ اس بات کو سمجھیں کے تمام تر خصوصیات آپ کے اپنے اندر موجود ہیں جو آپکی مدد کریں گی ایک بہتر انسان بننے میں ،
آپ وہ ہیں جسے اللہ نے اس دنیا میں بھیجا ہے اپنے آپ کو پہچانیں آپ جب یقین رکھیں گے اپنی قابلیتوں پر خود پر تو کوئی بھی طاقت آپکو کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی ۔ کوئی بھی آپکو نہیں روک سکتا کے آپ وہ سب حاصل کریں جس کی آپکو خواہش ہے ۔یاد رکھیں، آپکی مدد کے لئے ہر بار کوئی نہیں آئے گا ، آپکو اپنے لیے خود کھڑا ہونا ہوگا ۔
خود کو کسی بھی دوسرے انسان سے کم نہ سمجھیں اور جلد باز نہ ہوں ہر کام کا وقت ہوتا ہے اور وہ طہ شدا وقت بہترین ہوتا ہے ۔
شاہ میر نے بات ختم کی تو سکتہ ٹوٹا اور حال تالیوں سے گونج اٹھا ، آج ایک سیمینار میں وہ بطور اسپیکر مدعو کیا گیا تھا ، پرائیویٹ پڑھائی کے ساتھ اُس نے ڈیجیٹل کی دنیا میں ایک نام بنا لیا تھا اس کامیاب شخص کو دیکھنے کے بعد بہت سے لوگ اپنی محرومیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کھڑے ہو چُکے تھے ،،
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
بابا آپ کو کیسا فیل ہو رہا ہے آپ کی اولاد ایک مقام پر پہُںچ چکی ہے اپنا نام اپنی پہچان بنا لی ہے ،، زنابیہ ہاتھ کا مائیک بنا کر ایک رپورٹر کی طرح بولتی ساتھ بیٹھے صادان کو جانب مڑی سب لان میں بیٹھے شام کی چائے پی رہے تھے ساتھ ہی اُنکیطرف متوجہ تھے،،
اتنا اچھا کے الفاظ نہیں ہے بیان کرنے کے لیے ،، چائے کا سپ لیتے مسکراتے گویا ہوئے
کیا آپ ہمارے دیکھنے والوں کو کوئی میسج دینا چاہیں گے ،، مسکراہٹ دباتے اگلا سوال آیا
بلکل میں اپنے بچوں کو کہنا چاہوں گا کے ،،
دکھاوا گناہ ہے ، ہمارے اعمال کا انحصار نیت پر ہوتا ہے اپنی نیت صاف رکھیں ، چاروں اولادوں کو دیکھتے پیار سے گویا ہوئے
یہ بات اہم نہیں ہونی چاہئے آپ کے لیے کے لوگ کیا کہیں گے ، میری تعریف ہوگی یہ نہیں ۔ آپکی نیت اچھی اور صاف ہونی چاہیے اور آپکے عمل میں دوسروں کے لئے بہتری ہو ، اور یہ بغیر کسی غرض کے نظر آنا چاہیے ،
دکھاوا کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہے ، لوگ آج اگر آپکی تعریف کر رہے ہیں کیا معلوم کل وہی آپ میں نقص نکال رہے ہوں آپ ہر کسی کو خوش نہیں کر سکتے ۔ اور آخر کو انسان ان ریسوں سے تھک کر جب بیٹھتا ہے اُسے خود بھی احساس ہوتا ہے کے میں نے خود کو اور اپنے فرائض کو پیچھے چھوڑ کر جو دنیا میں واہ واہ کے لئے کیا غلط کیا ۔
اس لیے اپنا زہنی سکون اہم رکھیں چھوڑ دیں واہ واہ کو ،، کہتے دوبارہ چائے کا کپ اٹھا لیا چائے اب ٹھنڈی ہو چکی تھی ،،
وی لو یو ڈیڈ آپ نے ہمیں پر پھیلا کر آزادی سے اڑھنا سکھایا ہے ہمیں ہمیشہ سپورٹ کی ہے ہمیں بنانے کا شُکریہ ،، نور نے مسکراتے کہا دور اُفق پر غروب ہوتا سورج گواہ رہا تھا ،،
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ہمارے ہاں زیادہ تر گھروں میں کمبائنڈ فیملی سسٹم ہے ، ماں باپ بہن بھائی کے رشتے کے ساتھ گھر میں نند بھابھی ، ساس بہو جیسے رشتے بھی ہوتے ہیں ۔ جو رشتے بچپن سے بنے ہوتے ہیں اُن میں تو پیار ، دوستی ، لڑائی جگڑے ہوں بھی تب بھی سب ایک دوسرے کی نیچر سے واقف ہوتے ہیں ، خوب سمجھتے ہیں ایک دوسرے کو مگر کچھ رشتے جو بعد میں بنتے جب ایک لڑکی شادی ہو کر دوسرے گھر جاتی ہے ادھر اُسے ایک نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے کے ساتھ باقی رشتوں کی نزاکت کو بھی سمجھنا ہوتا ہے ، اور پتا نہیں کیوں کچھ رشتوں میں تضاد قدرتی طور پر رہتا ہے ، نندوں سے ساس سے مگر اُنکو حل کرنا کم ہی سمجھ آتا ہے مگر مزید بدگمانیاں بنتی ہیں اور اندازہ نہیں ہوتا ان سارے معاملات میں جو تماشائی اپنی اولاد ہوتی ہے اُنکی پرسنالٹی پر کتنا غلط اثر پڑتا ہے ۔ کیا ہم ان بدگمانیوں کا حل نہیں نکال سکتے کیا ہم دوسروں کو بُرا سمجھنا بند نہیں کر سکتے ہر بات پر الزام تراشیوں سے باز نہیں آ سکتے ؟
ہر رشتے کو آئیڈیل بنانے کے لیے بہت کچھ کمپرومائز کرنا ہوتا ہے ، اور دونوں طرف کے لوگوں کو کرنا ہوتا ہے تو ہم کیوں ہٹدھرم بنے ،،
مما آپ مجھ سے ناراض ہیں لائنچ میں بیٹھی عدیلہ کو دیکھ کر اُن کی طرف آتے کہا ،،
تمہیں فرق پڑتا ہے ؟
نہ پڑتا ہوتا تو پوچھتا ؟ بتائیں کیا بات ہے کیوں ایسے اُداس ہیں آپ ؟؟
میں کیسے رہوں گی تمھارے بغیر ؟
دیکھیں مما ،، اُنہیں اپنی طرف متوجہ کرتے بات شروع کی ،،
میں یہاں اسی گلی میں رہوں گا روز جتنی بار ہماری مُلاقات ہوتی ہے تب بھی ویسے ہی ہوگی مگر پلیز سمجھیں اس بات کو کے میں کوئی بدلہ نہیں لے رہا آپ سے بس آگے کی زندگی پرسکون بنانے کی کوشش کر رہا ہوں ، نور اگر میری بیوی ہے تو آپ میری ماں ہیں میری جنت ہیں میں آپ دونوں میں سے کسی ایک کو بھی خفا کرنے کہا سوچ بھی نہیں سکتا مگر یقین جانیں اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے میں ایک اور زین ایشل عرشمان اور یشفع بنتے نہیں دیکھ سکتا ،، نرمی سے اُنکا ہاتھ تھامے کہتا جا رہ تھا ،
یہ تو طہ ہے کے ان نازک دو رشتوں میں بیلنس رکھنا اُسی ایک مرد کا کام ہے جو بیٹا اور شوہر ہے وہی جو گھر کا سربراہ ہے ۔
کچھ ماہ بعد ،،
نہیں زین یہاں دادی کی پکچر اچھی لگے گی وہاں نہیں ،، دونوں سامنے ڈھیروں فریمز لیے گھر کی گلکسی وال ڈیکور کر رہے تھے ،،
نہیں یہاں میں نے میرب آنٹی کی پک لگانی ہے۔ ،، وہ اپنی بات پر ڈٹا تھا ،،
تھوڑی ہی دیر میں بحث و تکرار کے بعد وال تیار تھی
جس کے وسط میں نور اور زین کی تصویر آویزاں تھی ،، ساتھ ہی شگفتہ بیگم اور زین کے دادا کی ،، میرب اور صادان کی ،، یشفع کی شادی پر لی جانے والی گروپ فوٹو ، بلال کے ساتھ بیٹھے سارے بہن بھائیوں کی تصاویر ، آمنہ کے نکاح پر لی گئی فیملی فوٹو اور دونوں کے بہت سے اعزازات لیتے وقت کی تصاویر آویزاں تھی ، غرض دونوں کی پوری دنیا وہاں بسی تھی ، خوبصورت دُنیا ۔
کبھی کبھی ہمیں لگتا ہے کہ ہماری زندگی بہت مشکِل ہے ، کبھی ایک پریشانی تو کبھی کوئی مصیبت ، سکون تو جیسے نصیب ہی نہیں۔ اور ایسا وقت ذیادہ تر تب آتا ہے جب ہم ہوں بھی حق پر ، تب ہم سوچتے ہیں اپنے اعمال کو کے کیا غلط ہوا مجھ سے کے یہ اسکی سزا ہے ، اور جب آپ کو کوئی ایسا معاملہ نظر نہیں آتا اُس وقت سمجھ جائیں یہ آزمائش ہے ، آپ نے اِسے پار کرنا ہے ، یہ ہمیشہ نہیں رھے گی مگر اسکا اثر رہے گا ۔ آپ کو کبھی کچھ قربان بھی کرنا پڑ جاتا ہے ، یہ دراصل آپ کا امتحان ہوتی ہے حب الہٰی کا ، کے آپ کے لیے دنیا کی یہ آسائشیں زیادہ اہم ہیں یہ اللہ کی رضا ، جب بھی ایسا کچھ ہو اُس پر صبر شکر اور استقامت رکھیں ، صرف اللہ سے مدد مانگیں اور ساتھ شکر بھی ادا کریں ۔ اور یاد رکھیں صبر یہ ہوتا ہے کے آپ آزمائشیں کے پہلے لمحے سے ہی اُس پر صابر رہیں ، یہ نہیں کہ شروع میں گلے کرنا اور پھر خاموش ہو جانا ، اور اس بات کو سوچیں کے اللہ کے پیارے لوگوں کو آزمایا جاتا ہے ورنہ بہت سے لوگ اپنی زندگی خوشیوں اور مسرتوں میں گزارتے ہیں۔ آپ ہیں وہ خوش نصیب جسے اپنی غلطیاں اور گناہوں کو سنوارنے کا موقع ملا ہے ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر رہیں
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ختم شد
