Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeena Hi Tu Hai by Zaroom

صادان نے شاہ میر کی دیکھ بھال کے لئے بوا رکھ لی تھی ، نرمین نے آنے سے صاف انکار کر دیا تھا وہ بچیوں کو میرب کے گھر سے لے آیا تھا ، اُسکے بھائیوں نے صادان کو فون کر کے لے جانے کا کہا تھا ، خود وہ آفس جانے کے بجائے گھر سے ہی کام کر رہا تھا ، پہلے اُسکی ماں ساتھ رہتی تھی تو نرمین اور وہ اکثر ہی باہر گھومنے جایا کرتے تھے مگر پچھلے سال اُنکی وفات کے بعد اُسے بچیوں کو لے کر تشویش رہتی تھی ، ماں کی خواہش اور اپنی مرضی سے ہی بیٹے کی لیے اُس نے دوسری شادی ضرور کی تھی مگر بیٹیوں سے کبھی غافل نہیں ہوا تھا نابی جو چھوٹی تھی ماں کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی اُسکا خرچہ باقاعدگی سے میرب کو دیتا تھا اور نابی کو ملنے کے لئے اپنے پاس بھی لایا کرتا تھا ،
صادان کے تین اور بہن بھائی تھے ایک بھائی اور دو بہنیں سب اپنے گھروں میں خوش رہ رہے تھے ، بیٹا نہ ہونے پر جن سب نے اُس کو شادی کے لیے زور دیا تھا ، شاہ میر کی پیدائش کے بعد اور نرمین کے نہ ہونے کے باوجود بھی اُسکی مدد کرنے کوئی نہیں آیا تھا ۔
بابا کھانا لگ ہے آپ آ جائیں ،، نور کی آواز پر خیالوں سے نکلا اور حقیقت کی دنیا میں آیا
اوکے بیٹا آپ اور آمنہ شروع کریں میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں ،،۔
ٹھیک ہے بابا ہم انتظار کر رہی ہیں ،، کہتی ایک نظر شاہ میر پر ڈالتی باہر نکل گئی
اُس بچے نے نہ اپنا جنس خود چنا تھا نہ ہی اس گھر میں پیدا ہونا مگر اس کے ساتھ کیسا سلوک ہو رہا ہے ، دس سالہ وہ لڑکی اُس ان چاہے بچے کے لئے بُرا محسوس کر رہی تھی اُسکا تو قصور نہیں تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *