Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 12)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 12)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
کہاں تھی یار نابی تُم ؟ میں نے تمہارا اتنا انتظار کیا آئی کیوں نہیں ؟؟ اُسے ڈپارٹمنٹ کی طرف آتا دیکھ کر ایشل فوراً جھپٹی
السلام وعلیکم کیسی ہو ؟ ملتے کہا
میں تو ٹھیک ہوں تُم بتاؤ کہاں تھی کل ؟ نروٹھے پن سے بولی
یار طبیعت کچھ اپ سیٹ تھی تو اس لیئے نہیں آئی ،،
دیکھا میں نے کہا تھا ناں بارش میں نہ جاؤ بیمار پڑ جاؤ گی ،، دونوں کلاس روم کی طرف جا رہی تھیں
یس میم میں نے آپ کی بات نہیں مانی تبھی بیمار پڑ گئی صیح امیوں کی طرح ڈانٹ رہی ہو ،، ہنستے ہوئے بولی
کیوں کے تمھاری حرکتیں ہی ایسی ہیں ،،
اچھا اب نمبر ایکسچنج کر لیں آئندہ بتا دوں گی جب نہ آنا ہوا میں نے ، کہتی فون نکالنے لگی
تمہیں پتہ ہے کل ایک نئی لڑکی آئی تھی کلاس میں اتنا میک اپ کیا ہوا تھا اس نے رکو مجھے نظر آئے بتاتی ھوں ، اور اُس نے میم سے اتنی روڈلی بات کی تھی کوئی بگڑی ہوئی لڑکی تھی بہی ،،
اب تو دیکھنا پڑے گا کون ہے بابا کی پرنسز ،، ہنستے کلاس میں داخل ہونے سے پہلے ہی تصادم کسی چیز سے ہوا
اندھی ہو کیا ،، سامنے کھڑی لڑکی ڈارک میک اپ ، بلو ڈرائے بال ، لمبے ناخنوں پر لگا گہرے نیلے رنگ کا کپڑوں سے ملتا نیل آرٹ کے ساتھ چیختی ہوئی دکھائی دی
نہیں ،، کندھے اچکا کر عام سے لہجے میں کہتی مقابل کو سلگا گئی
یو بِچّ ،، پھنکاری
بیہیو یور سیلف یو مس ایکس واے زی ،، زبان میرے پاس بھی ہے ،، لہجہ سخت تھا
میں بیہیو کروں ، سمجھتی کیا ہو تُم خود کو دو ٹکے کی اوقات ہے تمھاری ،، آپے سے باہر ہوئی
کیا ہو رہا ہے یہاں کس لہجے میں بات کر رہی ہیں آپ ان سے اسی لمحے اپنے پیچھے ٹیچر کی آواز آئی تو زنابیا نے خود کو کچھ کہنے سے باز رکھا اب اُس میک اپ کی دکان کو ایچ او ڈی کے آفس لے جا رہے تھے مگر اُسکی بحث ابھی بھی جاری تھی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
کیا ہوا میرے بچے کو ایسے کیوں بیٹھا ہے ؟ صادان لان میں شاہ میر کو چپ بیٹھا دیکھ کر اُسکی طرف آتے بولا ،،
نتھنگ بابا ،،
نرمین کی وجہ سے اپ سیٹ ہیں ؟ اُنہیں نور مال میں ہوئی نرمین سے مُلاقات کا بتا چُکی تھی
اُنہوں نے ایسا بیہیو کیوں کیا کہا بابا ؟ اُسے دیکھتے معصومیت سے بولا
بیٹا کچھ سچائیاں ہم کبھی نہیں بدل سکتے اور نہ اعتراض اٹھا سکتے ہیں کیوں کے وہ سچائیاں اللہ کے حکم سے وجود میں آتی ہیں ، اور نرمین کی بات کو دل پر مت لو اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا کچھ لوگ اور چیزیں ہم کبھی نہیں بدل سکتے ، اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے جیسا کیا ہے ، جیسے کیا ہے اُسی کی دین ہے ، اُس پر ناشکرے ہو کر ہم صرف اپنا سکون برباد کرتے ہیں اور کچھ نہیں ،، اُس نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا
میر یاد رکھنا یہ بات جب کوئی حد سے بڑھ جائے تو خاموش نہ رہنا کبھی کوئی بھی ہو جب آپ کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو تو خاموش نہ رہنا ، جب اپنے لیے آواز اٹھانے کا وقت ہو تو خاموش نہ رہنا ڈٹے رہنا ، جب بات آپکے زہنی سکون کی ہو تو خاموش نہ رہنا ،، نرمی سے اس کے گالوں پر ہاتھ پھیرتے وہ بول رہے تھے
اپنے صبر کی حد کو نہ آزمانا جب بھی بات بڑھے اپنے لیے آواز اٹھاتے ہوئے دیر نہیں کرنی ۔ دوسروں سے کسی نظریہ پر اتفاق نہیں ہو تو خاموش نہ رہیں بات کریں کیا معلوم آپکا نظریہ ہی درست ہو ۔
جب زندگی میں ایسا وقت آئے کے آپ کے دوسروں سے کوئی اختلاف ہوں ، عزت نہ مل رہی ہو ، قدر نہ کی جا رہی ہو ، آپکی توجہ کو سراہا نہ جا رہا ہو تو بھی بات کریں اُن سے ۔ لڑائی نہیں بات ہر رشتے میں ایک اپنی عزت اور جگہ ہوتی ہے آپکو اپنی قدر خود معلوم ہونی چاہیئے اور یہ بھی پتا ہونا چاہیے کے دوسروں سے اپنی قدر کیسے منوانی ہے اس کے لئے آرام اور تحمل سے بات کرنا بہترین حل ہے، اگر بات سے مسئلہ حل نہیں ہو رہا تو اُنہیں اُن کے حال پر چھوڑ دیں مگر اپنے لیے بولنا ضرور ہے آپ نے ،
آپکی زندگی، آپکی کامیابی، آپکا ذہنی سکون ہر چیز صرف آپکے اپنے زمہ ہے جس طرح اچھے طریقے سے کھانا کچھ دن نہ کھایا جائے تو کمزوری ہونے لگ جاتی ہے ۔ اسی طرح اگر ہم سٹریس اور ٹینشن میں زیادہ ٹائم رہیں تو یہ ہمارے ذہنی سکون اور صحت کو بہت نقصان پہنچاتی ہے ۔ آپکو کہیں بھی کسی بھی رشتے میں کوئی بھی مسئلہ درپیش ہے تو اُسکا حل بھی ساتھ ہی ہے آپ کو بس تلاش کرنا ہے اپنے لیے اور اپنے سے جُڑے ہم سب کے لئے ، سمجھے ؟؟
جی بابا ٹھیک اب میں پریشان نہیں ہونگا ،، مسکراتے بولا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ارے پڑھا جا رہا ہے ،، ایشل کو لیپ ٹاپ پر کام کرتے دیکھ کر زایان اُسکی طرف آیا
جی بھائی ، مسکرا کر کہا وہ بھی اُس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا
بھائی آپ کو پتا ہے آج ایک لڑکی نے میری فرینڈ سے بہت بدتمیزی کی ،، لیپ ٹاپ سائڈ پر رکھتی اُسے آج ہوئے واقعہ کی روداد سنانے لگی ،،
اتنی سی بات پر اتنا کیوں بیہیو کیا ،، حیران ہوا
دیکھو گڑیا ایک بات یاد رکھنی ہے آپ نے ہمیشہ خود کو ویلیو کرنا قدر کرنا ایک الگ چیز ہے مگر خود پسندی میں اس حد تک چلے جانا کے آپکو کوئی نظر ہی نہ آئے مطلب آپ کی نظر میں دوسروں کی کوئ ویلیو نہ ہو آپ باقی سب کو ڈیگریڈ کرنا شروع کر دیں یہ غلط ہے ۔ آہستہ آہستہ بول رہا تھا
ہر کسی میں الگ الگ خوبیاں ہوتی ہیں اگر آپ میں ہیں تو اُن میں بھی موجود ہیں آگر آپ اچھی فیملی سے ھیں تو دوسرے کو اس بات پر ڈی گریڈ نہ کریں ۔ضروری نہیں کے ہر کوئی ہنڈرڈ پرسنٹ پرفیکٹ ہو۔ نہیں ہر کسی کی خامیاں اور خوبیاں الگ ہوتی ہے
جیسے آپ کو لگتا ہوگا کے آپ سب سے الگ اور بہترین ہیں اسی طرح باقی لوگوں کو بھی یہی لگتا ہے ، کوئی اچھا پکاتا ہوگا ،کوئی پڑھائی میں بہت قابل ہوگا، کسی کا اچھا گھر ہوگا ۔ غرض ہر کسی کے پاس فخر کرنے کے لیے خوبیاں موجود ہوتی ہے۔
یہ صرف ہم نہیں ہیں اللہ سب سے پیار کرتے ہیں انہوں نے یہ نہیں کہا کے میں فلاں اور فلاں کی مدد کروں گا اُسکا خیال رکھوں گا نہیں اُنہوں نے سب کو بہت پیار سے خود بنایا اور خاص بنایا ۔
ہمیں اپنی ایگو کو اتنا اوپر نہیں لے کر جانا چاہے کے باقی سب کمتر لگیں ایسے نعمتیں چھین بھی لی جا سکتی ہیں۔ جو اللہ آپکو دینے پر قادر ہے وہ لے بھی سکتا ہے۔ بڑی بات کر دینے سے کسی کا دل دکھانے سے ڈرنا چاہیئے ہمیں ،
جی بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اللہ بس اُسے بھی ہدایت دے ،، دل سے کہا تھا
آمین چلو اب کام کرو اپنا ،، کہتا اُٹھ کر چلا گیا
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
بابا کو بلاؤ میر بتاؤ پھوپھو آئیں ہیں ،، لائنچ میں بیٹھی صادان کی بہن آج بڑے اہتمام سے آئی تھی آمنہ کی شادی اور نور کے کام کے بعد اب اُنکا خاندان آنے جانے شروع ہو چُکا تھا
کیسی ہو ، ایک عرصے بعد آنا ہوا ؟ اندر آتے صادان نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے کہا
بس بھائی کیا بتاؤں اتنے کام ہوتے ہیں وقت ہی نہیں ملتا ،، بچیاں کہاں ہیں نظر نہیں آ رہی ،، آس پاس نظر دہراتے بولی
زنابیہ یورنیورسٹی گئی ہے اور نور آفس ،، مختصراً کہا
اوہ اچھا نور کا کام کیسا جا رہا ہے بھائی بتا رھے تھے اُس نے آفس کے لئے جگہ خرید لی ہے ؟
ہاں ما شاء اللہ ،، مسکرائے تھے
یہ تو بڑی بات ہے بہی اتنی مہنگائی کا دور ہے اب تو خرچے پورے کرنا بھی اتنا مشکل ہے ،،
ہاں یہ تو ہے میری تو ما شاء اللہ چاروں اولادوں نے مل کر سب اچھے سے چلایا ہوا ہے تُم بتاؤ بھائی کا کام کیسا جا رہا ہے ؟
ہاں یہ بات تو ہے ، بچوں کے بابا کا کام بس گزارا ہی ہے ،،
اچھا میں نے بتانا تھا میری بڑی والی کا ما شاء اللہ سے رشتا ہو گیا ہے اگلے مہینے شادی کا بول رہے ہیں ،،
ارے مبارک ہو اللہ بچی کے نصیب اچھے کریں ،،
آمین بس بھائی آپ لوگوں نے ہی کروانی ہے بھانجی کی شادی میرا تو آپ ہی ہے سہارا ،، بغیر لگی چپٹی بولیں
ہاں میں کہوں گا نور سے ،، بس اتنا ہی بول سکے اور افسوس ہوا اُنہیں ان خون کے رشتوں نے کیسے بیماری کے وقت میں منہ پھیرا تھا اب جب وقت ان کا ہوا تھا تو یہ سب بھی اپنے بن گئے ،، چائے آ گئی تھی وہ پیتی اُنکی بہن کافی کُچھ کہتی رہی مگر اُنکا دل اُٹھ چکا تھا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
کہاں ہے فائل اللہ اِدھر بھی نہیں ہے ، دراز کھولتے وہ مسلسل فائل ڈھونڈ رہا تھا جو وہ کہیں رکھ کر خود ہی بھول گیا تھا ،،
یہ کیا ہے ،، پیچھے ریپ ہوا کچھ نظر آیا اُسے نکال کر دیکھا ،،
بابا کا فون ،، افسردگی سے دیکھا یہ وہی فون تھا جو مرڈر کے وقت بلال کے پاس تھا انویسٹیگیشن کے بعد یہ زایان نے اپنے پاس رکھ لیا تھا
الٹ پلٹ کر دیکھا اور پھر کچھ سوچتے فون چارج پر لگا دیا ، آج کل وہ اپنے ایک دوست آفیسر کے ساتھ مل کر بلال کے قتل کی فائل پر کام کر رہا تھا ، قاتل جو پکڑا گیا اُسے رہا کروا دیا گیا تھا اُس کے بعد کبھی وہ نظر نہیں آیا تھا ٹھکانہ یہ شناخت بدل چکا تھا ،،
تھوڑی دیر فائل ڈھونڈنے کے بعد ہی اُسے آفس سے میسج ملا تھا کہ فائل مل گی ہے آفس میں تھی گھر لائ ہی نہیں تھی ،،
ٹینشن اُتری تو موبائل کا خیال آیا اور اُسے آن کرنے لگا کچھ ہی لمہوں میں وہ موبائل پر اپنی ڈیٹ آف برتھ کا پین کوڈ ڈال کر آن کر چُکا تھا ، اب ایک ایک ایپ کھول کر چیک کر رہا تھا ،،
تبھی ایک میسج پر رکا اُسے اس فارورڈیڈ میسج میں کچھ بے ربط سا لگا کافی دیر غور کرنے بعد وہ اب حیرانی سے سکرین کو دیکھ رہا تھا ،،
اِس لمبے میسج کے شروع کے الفابیٹس کو ملا کر اُسے ڈیکوڈ کیا گیا تو اسکی آنکھیں اعتبار کرنے کو تیار ہی نہیں تھی ،،
مجھے آپ سے ملنا ہے ! اپنا موبائل نکالتا انویسٹیگیشن آفیسر کو میسج بھیجا خود سر کرسی کی پشت سے لگا دیا زخم ہرے ہو گئے تھے جہاں اُن کی سوچ نہیں پہُںچ سکتی تھی وار اُدھر سے کیا گیا تھا ،،
