Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 11)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 11)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
گاڑی سے اترتے اُس نے رُک کر ایک نظر آس پاس چلتے لوگوں پر ڈالی پھر پر اعتماد قدم اٹھاتی اندر داخل ہوگئی ،،
ایکسکیوز می ،، اپنے پاس سے کسی کی آواز سنائی دی چونک کر پکارنے والے کو دیکھا سامنے ایک مسکراتی لڑکی ہاتھ میں برانڈڈ بیگ پیش قیمت فون لیے اُسے یوں خود کا ایکس رے کرتا دیکھ رہی تھی ،،
یس ،، مُسکرا کر کہا
مجھے آئی آر ڈیپارٹمنٹ کا راستہ بتا دیں گی کانڈلی ،، لڑکی نے کہا تو وہ پہلے ہنسی پھر ذرا اُس کے پاس آتی بولی ،،
یار آپس کی بات ہے میں بھی اُسے ہی ڈھونڈ رہی ہوں میرا بھی پہلا دن ہے یہاں ،،
اوہ اچھا ،، وہ بھی ہنس دی
بائے دا وے ، زنابیا صادان اینڈ یو؟ ہاتھ آگے بڑھا کر اپنا تعارف کروایا
ایشل بلال ،، ہاتھ تھام کر جواب دیا
اوکے تو مس ایشل مل کر اپنا ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈتے ہیں اِس سے پہلے کے سینئر ہمیں ڈھونڈ کر ریگنگ شروع کر دے ، آگے چلتی بڑی سمجھداری سے بولی
یس پلیز ،، دونوں ساتھ چل دیں
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
واؤ یار بارش ،، کلاس روم سے باہر آئیں تو سامنے برستی بارش دیکھ کر زنابیا بچوں کی طرح چہکی
آؤں بارش میں جائیں ،، ایشل کا ہاتھ پکڑتی اُسے بھی گھسیٹا
ارے نہیں پاگل ہو گئی ہو کیا ، موسم دیکھو کتنا ٹھنڈا ہو رہا ہے ایسے میں بارش میں گئی تو بیمار پڑ جاؤ گی میں تو نہیں جا رہی ، تُم بھی نہ جاؤ سمجھانے والے انداز میں کہا
کُچھ نہیں ہوتا بدھو دیکھو ناں کتنا پیارا موسمِ ہو رہا ہے اچھا تُم یہ میرا بیگ اور فون پکڑو اور کیفے میں پہنچو میں پچھلی سائڈ سے بارش سے ہوتی ہوئی بس پانچ منٹ میں تمہارے پاس پہنچ گئی مل کر پکوڑے کھائیں گے ،، اُسے بیگ پکڑا کا تیز تیز کہا
تھوڑی ہی دیر کینٹین پر اپنی نئی دوست کا انتظار کرتے گزری تھی جب وہ گیلی ہوئی اُس کی طرف آتی دکھائی دے رہی تھی ،، مگر خود کو چادر سے کور کر رکھا تھا ،،
مزا آیا کہہ رہی تھی ناں بارش میں نہ جاؤ ٹھنڈ ہے اب کیسا فیل ہو رہا ہے ، اُسے سردی سے کامپتا دیکھ کر جلانے کے لیے بولی
اچھا اب ایسی بھی بات نہیں ہے چلو آرڈرکریں،، تنک کے کہا
تُم بتاؤ کچھ اپنا گھر میں کون کون ہوتا ہے ؟ پکوڑوں كو مزے لے لے کر کھاتے وہ بولی
گھر میں دادی مما بھائی اور میں ، مختصراً کہا اور تمہارے گھر میں ؟
میری ایک آپی بابا اور بھائی ، ایک آپی اور ہیں اُنکی شادی ہو گئی وہ لندن میں ہوتی ہیں اور مما کی ڈیتھ ہو گئی ،، مُسکرا کر بتاتی آخر میں مما کے ذکر پر ہونٹوں پر سے مسکراہٹ ھٹ چُکی تھی
اوہ ریلی تمھیں پتا ہے میری آپی بھی میریڈ ہیں پر وہ امریکہ میں ہوتی ہیں ،، سیم سیم ،، ہنسی
ارے دیکھو کتنی چیزیں ملتی ہیں ہماری ،، اُس نے بھی ہنس کر کہا
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
نور ہر کچھ دنوں بعد ماں کی قبر پر ضرور آتی تھی سارا ہفتہ کیا کیا ایسے اُنہیں سناتی تھی جیسے اُس کے سامنے بیٹھی ہوں ، ابھی بھی اُن کی قبر کے پاس دو زانوں ہو کر بیٹھی آہستہ آہستہ بول رہی تھی ،،
لاہور والا ایگزیبیشن بہت اچھا ہو گیا ہے آپ کو پتا ہے یہاں سے بھی اچھا اب تو نئے آئٹمز بھی ڈال رہے ہیں اسٹاک میں ،، مٹی سے کھیلتے کہا
میں سوچ رہی ھوں ابھی جو کمشن ہوا ہے اُس سے کوئی جگہ خرید لوں آفس کے لئے اور اسٹاک اِدھر سے ہی بنواوں ابھی پیسے خرچ ہو گئے تو یہ کام رہ جائے گا ،،
ارے میں نے تو آپ کو بتایا ہی نہیں زنابیا کا آج یونیورسٹی میں پہلا دن تھا اُسکی مرضی کا سبجیکٹ رکھ کر دیا ہے اللہ کرے اب یہ لڑکی سیریس ہو جائے پڑھائی کے لئے ،، سر پر ہاتھ مارتی بولی
آمنہ کا بھی آخری سال ہے پڑھائی کا شکر ہے خیر سے ہو گئی بہت خیال رکھتی ہیں آنٹی اُسکا بلکل آپ کی طرح ،، ہلکی مسکراہٹ نے ہونٹوں کو چھوا
کتنی ہی دیر اُدھر بیٹھی آس پاس کو بلائے بیٹھی باتیں کرتی جا رہی تھی ، کوئی نہیں کہہ سکتا تھا یہ معصوم لڑکی اپنی ایک ایمپائر کھڑی کر چکی ہے ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
میر تُم اِدھر دیکھو ڈریسز میں یہ کال اٹینڈ کر کے آئی ، نور کہتی شاپ سے باہر نکل گئی دونوں اس وقت مال میں موجود تھے میر کو کچھ بوکس اور سامان چاہیے تھا ،،
وہ کپڑوں کو اٹھا کر دیکھ رہا تھا جب سامنے کسی کا عکس شیشے میں نظر آیا پہلے تو اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک گیا مگر غور کیا تو سامنے نرمین کو اپنے شوہر کے ساتھ کھڑا پایا اُس نے نرمین کو تصویروں میں دیکھ رکھا تھا پہلی بار سامنے اپنی ماں کو دیکھ کر آس پاس سے بیگانہ ہو چُکا تھا ،،
ارے لڑکے کیا ہوا ،، نرمین شائد اُسے پہچان چُکی تھی تبھی اُس کی طرف آتی بولی ،،
میں لڑکا نہیں شاہ میر ہوں ،، سادگی سے بولا
ہاں لڑکے تو تُم واقعی میں نہیں ہو ،، لہجہ مزاق اڑانے والا تھا وہ خاموش رہ گیا پہلی بار ماں کو دیکھا اور اس طرح کا روپ دیکھ کر چپ لگ گئی اُسے تو ہمیشہ میرب صادان شاہ نور آمنہ اور زنابيا نے عزت دی تھی
اچھا تمہارا وہ فالج زدہ باپ مر کھپ گیا یہ زندہ ہے ابھی ،،
اکسکیوز می بیہیو یور سیلف ،، یہاں اُسکے برداشت کی حد تھی
کیا کہا اُس آپائج اور اپنے جنس کو دیکھا ہے کیا غلط کہا میں نے اور یہاں اتنے بڑے مال میں کیا کر رہے ہو چوری کرنے آئے ہو یہاں ؟؟ غرائی تھی اس روپ کے انسان سے پہلی بار ملا تھا تب ہی پہلے چونک گیا تھا اب تک اُس کا اعتماد بحال ہو چُکا تھا
نہیں آپ جیسا تو نہیں ہوں ،، نہایت سکون سے کہا جملہ سامنے کھڑی عورت کو سلگا گیا اُس کی طرف جھپٹی
ارے مادام کیا کر رہی ہیں ،، کاؤنٹر پر کھڑا شخص بھاگ کر اُنکی طرف آیا اور دور کیا تب تک نور بھی واپس آ چکی تھی
کیا ہوا ہے میر ،، اس آواز پر نرمین نے بولنے والی لڑکی کو دیکھا برانڈڈ کپڑے پہنے پر اعتماد کھڑی لڑکی دیکھ کر ٹھٹھکی
نتھنگ آپی کوئی ان نون ہیں مینٹل ایشوز ہیں ان کے ساتھ ائی تھینک اٹیک آیا تھا ،، ہیں ناں ؟ کیا معصومیت تھی یہ سب کہتے اُس کے چہرے پر
ایم سوری میم شاہ نور ،، سیلز مین ایسے ہی شرمندہ ہو رہا تھا وہ نور کو اُسکے کام کی وجہ سے جانتا تھا
ارے کوئی بات نہیں میر نے بتایا ہے ناں مینٹل ایشوز ہیں ان کے ساتھ ایسے میں انسان کو نہیں پتا ہوتا کچھ ،، مسکراتے کہا
آپ پلیز انہیں گھر میں رکھا کریں اب ہر کوئی شاہ میر صادان کی طرح خود کو پروٹیکٹ کرنا جانتا تو نہیں ہوگا ناں چلیں میر ،، نرمین کے شوہر کو کہتی اُسے بہت کُچھ باور کرواتی میر کا ہاتھ پکڑتی لمبے لمبے ڈگ بھرتی باہر نکل گئی ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
السلام وعلیکم زایان ،، کھڑکی کے پاس کھڑی نیچے پودوں میں پانی ڈالتے صادان کو مسکراتی آنکھوں سے دیکھتی بولی
وعلیکم السلام کیسی ہیں مادام بڑی مصروف چل رہی ہیں آپ کوئی اتا پتا ہی نہیں اتنے دنوں سے ،، اسپیکر سے آواز آئ
کیا بتاؤں اتنا مصروف تھی وقت ہی نہیں ملا تُم بتاؤ کیسے ہو دادی کیسی ہیں ،،
میں ٹھیک ٹھاک اور دادی بھی بہتر ہیں ، انکل سے میری کل ہی بات ہوئی تھی ،، مطلع کیا
ہاں بتایا تھا اُنھوں نے اچھا مجھے تُم سے مشورہ چاہیے بابا نے کہا ہے اُنکے چہیتے یعنی آپ جناب سے پوچھوں ،، منہ بنا کر کہا
ہاں دیکھو میری قابلیت کا معترف ہے زمانہ کیا سمجھ رکھا ہے تُم نے ،، اترایا
اچھا اب اوور نہ ہو اور بتاؤ میں سوچ رہی ھوں کوئی جگہ خرید لوں آفس کے لئے تو اب مجھے پراپرٹی ڈیلنگ کا تو نہیں پتا تمھاری نظر میں اگر کسی اچھی جگہ پر کوئی پلاٹ یہ بنی ہوئی اچھی جگہ اگر ہے تو بتاؤ ،،
ارے یہ تو بہت اچھی بات ہے ، اور مزے کی بات یہ کے میرے ایک رشتے دار ہیں اُنکا گھر ہے یہاں جسے وہ بیچنا چاہ رہے ہیں کے بازار سے جڑتا ہے تُم میرے ساتھ جا کر دیکھ لینا اچھا لگے تو وہی خرید لینا ،،
تھینک یو زایان تُم نے تو میری مُشکل حل کر دی ، کل تُم فری ہو ہم چلے چلیں ،،
ہاں ہاں آپ کے لیے تو ہر وقت فارغ ہی ہوں حکم تو کریں صبح میں پک کر لوں گا تمہیں گھر کے باہر سے ،،
محترم جناب زایان بلال صاحب ذیادہ اوور اور شوخا ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو کل میں تیار رہوں گی ٹائم سے آ جانا اللّٰہ حافظ ،، کھٹاک سے کل ڈسکنکٹ کر دی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
اُس کے کمرے سے نکلنے تک وہ اپنے حقیقی دوست محترم شاہ میر اور صادان کے ساتھ بیٹھے رہے بھاری دل سے اُنہیں خدا حافظ کرتے شاہ نور کے ساتھ سائٹ دیکھنے نکل گئے ،،
سنو ایک بات کرنی ہے تم سے ،، باریحہ کے گھر کے راستے پر گاڑی رواں تھی اس تک پہنچنے سے پہلے زایان نے بات کرنے کا سوچا ،،
ہاں بولو ، فون پر بریحہ کو نکلنے کا بتاتی اُس کی طرف متوجہ ہوئی ،،
حسنین نے کہا ہے کہ میں تُم سے بات کروں ،، ایسے ہی کنفیوز ہو رہا تھا
کیا بات ،، آئ برو اوپر کر کے حیران سی اُسے دیکھتی بولی
وہ بریحہ کو پسند کرتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ میں تم سے بات کروں اور تُم بریحہ سے کہو ،، ٹھہرے لہجے میں بات مُکمل کی
اچھا یہ تو مجھے پتا تھا ،، کندھے اُچکا کر کہا جیسے کوئی غیر اہم بات ہو
کیسے ؟ صرف اتنا ہی بول سکا
ارے بھئی جیسے تمہارا دوست اُسے دیکھتا ہے سب کو پتا چل جائے ، اُسے کہو رشتا بھیجے اچھا خاصا ہے مامو منع نہیں کریں گے اور بریحہ سے میں بات کر لوں گی ،، عام سے لہجے میں کہا
ارے یہ تو گڈ ہو گیا ، مسکرا کر بولا
