Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 02)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 02)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
گاڑی تیز رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی ، پاس سے گزرتی چیزیں دندھلی دکھائی دے رہی تھی وجہ اُس کی آنکھوں میں موجود آنسو تھے ، بظاھر تو شیشے کے پار موجود چیزوں کو تک رہی تھی مگر دماغ میں مختلف سوچیں گردش کر رہی تھیں جب وہ سب ساتھ رہتے تھے اور اُن کی زِندگی میں کوئی دوسری ماں نہیں آئی تھی ،،
دماغ کے پردے پر ایک منظر نمایاں ہوا ،،
نور آمنہ جلدی کرو مجھے آفس کے لئے دیر ہو رہی ہے ،، ناشتا کرتے صادان نے آواز لگائی
آ رہی ہیں صادان ، تیار ہو رہی تھیں آپ تو ہوائی گھوڑے پر ہی سوار رہتے ہیں ہر وقت ،، میرب ہاتھ میں نور اور آمنہ کا بیگ لیے اُس کے پاس آتی بولی پیچھے ہی وہ دونوں بھی آنکھیں رگڑتی اندر داخل ہوئی
آؤ میرا بیٹا آپ کا پسندیدہ آملیٹ بنایا ہے میں نے آج ،، آمنہ کو اٹھا کر کُرسی پر بٹھاتی میرب نے بچکایا
صادان نے بھی میرب کو اپنے ساتھ والی کُرسی پر بیٹھا کر بریڈ کے سلائس پر جام لگا کر دیا ،،
ایک آنسو بہ کر نیچے گرا اور منظر بدلا
نہیں آمنہ تُم غلط کلر کر رہی ہو ، چھ سالہ نور اپنے سے چار سال چھوٹی بہن کو کلر کرنا سیکھا رہی تھی ،،
نوووو ، آمنہ کو اُسکا ٹوکنا پسند نہیں آیا تھا
مما اِسے دیکھیں ناں ،، پاس بیٹھی میرب کو اُسے سمجھانے کے لیے پکارا ،تبھی دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور صادان گھر کے اندر داخل ہوئے دونوں ہی بابا بابا کہتی اُنکی طرف لپٹی صادان نے دونوں کو باری باری پیار کیا اور سب چلتے میرب کے پاس آ گئے ،،
آپی ،، آمنہ کے ہلانے پر وہ حال میں آئی اُنکا گھر آ گیا تھا جہاں وہ اپنے باپ اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہ رہی تھیں ، زندگی کے بدلتے رنگ اُس دس سالہ لڑکی نے باخوبی جان لیے تھے ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
واؤ آپی اٹس اے بگ اچیومینٹ بہت مبارک ہو آپ کو ،، فون کی دوسری جانب موجود اپنی بہن کی خوشی کا اندازہ شاه نور بغیر دیکھے سے بھی لگا سکتی تھی ، دونوں نے بہت کچھ سہا تھا ماضی میں اب تو ہر چھوٹی بڑی چیز پر خوش ہو جاتی تھی اور مل کر ہر مُشکل کو حل کر لیتی تھیں ، چودہ سال پہلے زندگی بدل گئی تھی بہت سی آزمائشوں سے گذرنے کے بعد زندگی میں سکون آیا تھا اور اب اُس سب کا سلہ بھی مل رہا تھا ۔
بہت شکریہ، مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کے ہمیں لوگوں نے موقع دیا ہے اور ہمارے کام کو پسند کیا ہے ،، خوشی سے آواز میں نمی واضح تھی
یہ سب آپکی محنت کا ثمر ہے آپی ، بریحہ آپی کو بھی مبارک دینا میری طرف سے ،،
ہاں ضرور تُم بتاؤ تمھارے ایگزیم کب سے شروع ہیں ،،
نیکسٹ ویک سے ،،
پھر تُم پاکستان آ رہی ہو ناں ،،
کچھ پتا نہیں ہے ابھی مہروز کی چھٹی پر ڈپینڈ کرتا ہے ،،
تو تم اکیلی آ جانا ناں ،،
ابھی تو کچھ نہیں کہا جا سکتا ، ساس میری مانے تب ،،
وہ تمہیں کیوں روکیں گی بھلا تُم بھی کمال کی بات کر رہی ہو ، آنٹی تو اتنی سویٹ ہیں ،،
آپی آپکو لگتا ہے ناں ایسا ، ہے تو ساس ہی ،،
یہ باتیں کہاں سے سیکھی ہیں تُم نے ساس کے خلاف ، تمھارے شوہر کی ماں ہیں وہ کتنے چاہ سے تمہیں بیاہ کر لے کر گئی ہیں وہ اور تُم ایک سال میں ہی اُن کے خلاف ہو چکی ہو میں آئندہ تمھارے منہ سے غلط بات نہ سنوں اپنی پڑھائی گھر اور شوہر پر اپنی اینرجی لگاؤ ،، اُسے تنبیہ کی
اچھا ناں آپ ناراض نہ ہوں مجھے بتائیں تیاری ہو گئی ایگزیبیشن کی ،، اُس کی بات پر نادم ہوئی تھی اس لیے بحث کے بجائے بات بدل دی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
صادان نے شاہ میر کی دیکھ بھال کے لئے بوا رکھ لی تھی ، نرمین نے آنے سے صاف انکار کر دیا تھا وہ بچیوں کو میرب کے گھر سے لے آیا تھا ، اُسکے بھائیوں نے صادان کو فون کر کے لے جانے کا کہا تھا ، خود وہ آفس جانے کے بجائے گھر سے ہی کام کر رہا تھا ، پہلے اُسکی ماں ساتھ رہتی تھی تو نرمین اور وہ اکثر ہی باہر گھومنے جایا کرتے تھے مگر پچھلے سال اُنکی وفات کے بعد اُسے بچیوں کو لے کر تشویش رہتی تھی ، ماں کی خواہش اور اپنی مرضی سے ہی بیٹے کی لیے اُس نے دوسری شادی ضرور کی تھی مگر بیٹیوں سے کبھی غافل نہیں ہوا تھا نابی جو چھوٹی تھی ماں کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی اُسکا خرچہ باقاعدگی سے میرب کو دیتا تھا اور نابی کو ملنے کے لئے اپنے پاس بھی لایا کرتا تھا ،
صادان کے تین اور بہن بھائی تھے ایک بھائی اور دو بہنیں سب اپنے گھروں میں خوش رہ رہے تھے ، بیٹا نہ ہونے پر جن سب نے اُس کو شادی کے لیے زور دیا تھا ، شاہ میر کی پیدائش کے بعد اور نرمین کے نہ ہونے کے باوجود بھی اُسکی مدد کرنے کوئی نہیں آیا تھا ۔
بابا کھانا لگ ہے آپ آ جائیں ،، نور کی آواز پر خیالوں سے نکلا اور حقیقت کی دنیا میں آیا
اوکے بیٹا آپ اور آمنہ شروع کریں میں ہاتھ دھو کر آتا ہوں ،،۔
ٹھیک ہے بابا ہم انتظار کر رہی ہیں ،، کہتی ایک نظر شاہ میر پر ڈالتی باہر نکل گئی
اُس بچے نے نہ اپنا جنس خود چنا تھا نہ ہی اس گھر میں پیدا ہونا مگر اس کے ساتھ کیسا سلوک ہو رہا ہے ، دس سالہ وہ لڑکی اُس ان چاہے بچے کے لئے بُرا محسوس کر رہی تھی اُسکا تو قصور نہیں تھا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ہاں جگر کہاں تک پہنچی تمھاری تیاریاں ،، حسنین کو ملتے زایان نے کہا دونوں ایک ریسٹورینٹ میں کوفی پینے آئے تھے ۔
بس یار لگا ہوا ہوں ،، تھکا تھکا سا جواب آیا
چل ہو جائے گا سب سیٹ ، میں نے ہوٹل منیجمنٹ کو بتا دیا تھا ایگزیبیشن کا وینیو اور سٹ اپ کی بلکل ٹینشن نہیں لینی تُم نے ،،
تھینک یو یار اتنا بوجھ بھی ہلکا کرنے کے لئے ،،
اپنے پاس رکھ یہ تھینکس اپنا ، ہم ساری زندگی کے پارٹنرز ہیں تو بوجھ تو بانٹیں گے ہی ناں ،،،
ہاں یہ بھی ہے ،، ہنستے کہا
ہاں یاد آیا ، ایک انٹریپرینیر ہیں بریحہ اس ایگزیبیشن کے لیے اُنہوں نے مجھے کانٹیکٹ کیا تھا اُن کے پاس بہت سی انٹیک چیزیں موجود ہیں اور پینٹنگ کلیکشن بھی بہت زبردست ہے تمھارے کام کی چیزیں ہیں یہ اس لیے ایگزیبیشن سے پہلے آ کر دیکھ لینا بعد میں گلہ نہ كرنا ،،
یہ تو بہت اچھی بات بتائی دوست ، ورنہ میں بھی سوچ رہا تھا یہ کپڑے ڈیکوریشن اور جویلری کے لیے میں کدھر آتا ایگزیبیشن میں مگر پینٹنگز اور انٹیک کے لیے تو آنا پڑے گا ،،
بلکل ،، حسنین نے ہنستے ہوئے کہا
دونوں نے اسکول اور کالج ساتھ پڑھا تھا ،اُنکا ساتھ بہت پرانا تھا ، دونوں ایک دوسرے کے مُشکل وقت کے ساتھی اور غمگسار تھے ، ایک دوسرے کی مدد کے لیے ہر دم تیار ، دوسرے کے کہنے سے پہلے ہی مدد کے لیے سرگرم ، سچے دوست اور ساتھی ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
بیگ پیک لے آئیں بابا اندر پڑا ہے ، عدیلہ ایک ادھیڑ عمر ملازم کو زین کا بیگ لانے کا بولتی خود دادی کے ساتھ لگے روتے زین کی طرف چل دی
زین بیٹا اُٹھیں گاڑی تیار ہے ڈرائیور آپکو چھوڑ آئے ہوسٹل، اسکول کی چھٹی ہو گئی تو ٹیچر آپ کو سزا دیں گے ،، اُس کے پاس آتی اپنی ساس کو مکمل نظرانداز کرتی بولی
دادو مجھے نہیں رہنا ہوسٹل ، وہاں سب اچھے نہیں ہیں ،، ہچکیوں کے درمیان بولا
کیوں نہیں جانا تُم نے ، ہاں مجھے بتاؤ ،، اُسے دادی سے الگ کرتی چلائی
مجھے آپ سب کے ساتھ رہنا ہے مجھے یشفع لوگ یاد آتی ہیں وہاں ،، اُسی کا بیٹا تھا اور اپنی بات پر بضد تھا
زین تُم چھوٹے نہیں ہو جو يوں ضد لگائی ہوئی ہے ، آپ کے بہتر مستقبل کے لیے ہی آپ کو بھیجا ہوا ہے ناں وہاں ،،۔
نہیں ، نہیں جانا مجھے وھاں کوئ اچھا نہیں ہے ، ، اُس کے سمجھانے پر وہ چیخا تھا ،،
کیوں بچے پر زبردستی کر رہی ہو عدیلہ ، نہیں جانا چاہتا تو چھوڑ دو ادھر پاس ہی کسی اچھے اسکول میں ڈال دو ناں بلال نے بھی تو ادھر سے ہی پڑھا تھا ،، زین کو غصے سے جھنجھوڑتے دیکھ کر شگفتہ بیگم نے کہا
آپ میرے اور میرے بچے کے معاملات سے دور رہیں سمجھی آپ ، دُشمن نہیں ہوں اِس کے بہتر مستقبل کے لیے کر رہی ہوں یہ سب سہارا بننا ہے اسے میرا مظبوط بننا ہے اسے ،، اُنکی بات پر غصے سے ایک بار دوبارہ چلائی وہ اس کی بات پر ادھر سے اُٹھتی اپنے کمرے میں چلی گئی
تُم زرا میری بات کان کھول کر سن لو تمہیں ہاسٹل میں ہی رہنا ہوگا جانتی ہوں میں جو دادی کی محبت میں یہاں رہنا ہے تمہیں ، میں کسی صورت یہ نہیں ہونے دونگی ،، اُسکی بات پر زین خاموش ہو چکا تھا دس سال کی عمر سے ہی اُسے اچھی تعلیم کے لیے ہاسٹل بھیج دیا گیا تھا جب بھی وہ چھٹیوں پر آتا تھا یہی ضد ہوتی کے اُسے واپس نہیں جانا ، مگر سامنے بھی عدیلہ تھی ضد کی پکی ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
یہ ایک چھوٹی سی بستی تھی جہاں بریحہ اور شاہ نور کاریگروں سے ملنے آئی تھیں تاکہ مل کر لائے عمل تیار کیا جا سکے ۔
پہلے کپڑوں کا آرڈر کر آتے ہیں ، بریحہ نے کہا
ہاں وہ قریب ہی پڑے گا ، گاڑی چلاتی شاہ نور بولی
اچھا شاہ نور میں سوچ رہی تھی کہ ہم ابھی تک کی اپنی کلیکشن کے سارے ڈیزائنز بنوائیں گے ایگزیبیشن کے لئے تو کیسے بنے گا اتنے کم وقت میں ،،
ہم اُنکی مقدار کم رکھوا لیں گے ناں تاکے کوالٹی مینج رہے جتنا ہم ذیادہ کرنے کی کوشش کریں گے ہم پر بوجھ ہی بڑھے گا ،،
یہ اچھا آئیڈیا ہے ، پینٹنگز ہم مل کر شورٹ لسٹ کر لیں گے اور آج سے ہی کام شروع کریں گے اُن پر ، سب سے زیادہ مانگ اُنہی کی ہے ، بریحہ بولی
ہاں میں بھی یہی سوچ رہی تھی ،، مسکراتے کہا
اُنکا کام ہینڈ میڈ چیزیں خرید کر اُسے نکھار کر آگے بیچنا تھا ، ہینڈ میڈ کپڑے ہوں یہ ڈیکوریشن ، پینٹنگ ہو یہ انٹیک جویلری سب ہی ان کے پاس موجود تھے ، اُنکی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ کاریگر کو اجرت وقت پر دیتی تھیں ۔
