Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeena Hi Tu Hai (Episode 09)

Jeena Hi Tu Hai by Zaroom

آپی جو چیزیں آپ نے کہیں تھیں میں نے رکھ لی ہیں اب میں گھر سے نکلنے والی ہوں کچھ اور چاہیے تو ابھی بتائیں ،، فون کان سے لگائے تیز تیز چیزیں بیگ میں ڈالتی آمنہ نے کہا

نہیں آمنہ تُم لوگ جلدی جاؤ اب ، مما بار بار پوچھ رہی ہیں تُم لوگوں کا ،، دھیمی آواز میں کہا وجہ سامنے غنودگی میں لیٹا وجود تھا ، میرب تھوڑے ہی دنوں میں برسوں پُرانی مریضہ لگ رہی تھی ، ہاتھ اور بازؤں پے جگہ جگہ سوئیوں کے نشان اُسکی تکلیف چیخ چیخ کر بتا رھے تھے ، دشمن بھی دیکھتا تو اُسکا دل پگل جاتا مگر اُس کے بھائی بھابھی ایک بار ہی جو آئے تھے دوبارہ شکل نہیں دکھائی ، وجہ مہنگے علاج پر متوقع خرچہ تھا ،،

ماں کے بیڈ کے سامنے رکھی کرسی سے ٹیک لگائے نور بہُت غور سے اپنی ماں کے نقوش دیکھ رہی تھی ،، جو کتنے تھکے تھکے سے معلوم ہوتے تھے ،،

پانی ،، میرب کی آواز پر ہوش میں آئی اور اُٹھ کر اس کے منہ میں پانی ڈالا

آمنہ نابی نہیں آئیں ابھی تک ،، حلق سے بمشکل آواز نکالتی نور سے مخاطب ہوئی

پہنچنے والی ہونگی مما ابھی تھوڑی دیر پہلے بات ہوئی تھی گھر سے نکل گئی تھیں ،، دفعتاً دروازہ نوک ہوا اور وہ اندر داخل ہوتی دکھائی دیں

یہ لیں آ گئ آپ کی شہزادیاں مسکراتے اٹھ کھڑی ہوئی ،،

مما آپ کیسی ہیں ؟ قریب آتے دونوں نے باری باری اُس کے ہاتھ چومے اور خریت دریافت کی

تکلیف میں ہو ،، نور کی نظروں نے حیرانی سے اُس چہرے کو دیکھا جس نے اتنے عرصہ چپ چاپ صبر سے تکلیف برادشت کی آج پہلی بار کہا کہ تکلیف میں ہے تینوں ماں کی طرف لپٹیں

مما آپ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گی ،، آنسوں سے آمنہ نے کہا

میری بات سنو آپ تینوں ، باری باری تینوں کے چہروں کو ہاتھ سے چھو کر محسوس کرتی اُس نے کہا

مانا کہ میرے نصیب کے لکھے دُکھ تُم لوگوں کو بھی جھیلنے پڑے ہیں ، یہ دنیا ، یہاں کے لوگ پل پل تمہیں آزماتے رہے تھے ، اس چھوٹی سی عمر میں تُم تینوں نے بہت کچھ سہا ہے ، زندگی بہت مُشکل رہی ہے مگر یاد رکھنا سب کچھ ایسا نہیں رھے گا ہمیشہ ،، دھیمی آواز میں مُشکل سے بول رہی تھی

مما ایسے نہیں کہیں پلیز ،، نور فوراً بولی

تُم لوگوں نے ہمیشہ ثابت قدم رہ کر مجھے اور اپنے باپ کو مان بخشا ہے ، ہم دونوں کے دل سے دعائیں لی ہیں میرے بچو بسترے مرگ پر پڑی تُم لوگوں کی ماں دعا دیتی ہے تُم لوگ مٹی میں بھی ہاتھ ڈالو سونا بن جائے ،،

ایسے نہیں بولیں پلیز آپ کو درد ہو رہی ہے ڈاکٹر کو بلاؤں ؟ آمنہ فوراً بولی

مجھے پتا ہے میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے مگر مجھے ہمیشہ افسوس رھے گا کہ میرے نصیب کے کانٹے تُم لوگوں کو بھی چننے پڑے ہیں ،،

نفی میں سر ہلاتی اُسکی بیٹیاں اُسے بار بار آرام کرنے کا کہہ رہی تھیں ،،

کبھی اپنے باپ سے بدظن نہ ہونا اُسے مجبور کیا گیا تھا مجھے چھوڑنے اور دوسری شادی کے لیے اُس کی ذندگی بھی ہماری طرح نامکمل رہی ،

بس یہ یاد رکھنا تمھارے راستے میں چاہے جتنی بھی دشواریاں آئیں تُم لوگوں کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا ، اپنا حق کبھی نہیں چھوڑنا اور اپنی ماں کے نام پر داغ نہ آنے دینا ،، بمشکل الفاظ ادا کرتی بولے جا رہی تھی

آپ ایسے نہ کہیں مما پلیز ہمیں تکیلف ہو رہی ،، نور نے روتے ہوئے کہا

میں تُم لوگوں سے بہت پیار کرتی ہوں اگر ہم اس جہان میں اکٹھے نہیں رہ سکے تو کیا ہوا اگلے جہاں میں مل لیں گے ،،

میری قبر ابّا کی قبر کے پاس بنوانا ، کفن میری الماری کے اوپر کے خانے میں پڑا ہے اور دفنانے کے اخراجات کے لیے میرے اکائونٹ میں رقم موجود ہے ، میرے لیے صدقۃ جاریہ بننا اللہ ک ے حوال ے لا الٰہ اللہ محمد الرسول اللہ ،، وہ تینوں اُسے جنجوڑتی رہ گئی

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

میرب کی وصیت کے مطابق کسی کا بھی احسان نہ لیا گیا اُس کے اکائونٹ سے رقم نکلوا کر قل اور تدفین کا بند و بست کیا گیا تھا ،، تین دن دنیا داری کے لیے اُن کی ممانیوں نے اُنہیں برداشت تو کیا تھا مگر روئیہ درست کرنے کی زحمت نہ کی تھی ،،

مما بہت تکلیف میں تھیں بابا ،، گھر واپس آ کر اب وہ سب صادان کے کمرے میں بیٹھے اپنا حال دل بیان کر رہے تھے ،،

بیٹا تمھاری ماں بہت صابر خاتون تھی ساری زِندگی اتنی تکالیف اٹھائی مگر کبھی گلہ نہیں کیا تھا ، میرا اُن کے ساتھ جتنا وقت گزرا تھا بہت خوبصورت تھا ، پتا نہیں کیوں میں لوگوں کی باتوں میں آ گیا تھا مجھے معاف کر دو آپ لوگ میری وجہ سے کتنے ہی لوگوں کو سفر کرنا پڑا ہے ،، آنسو چھپانے کی کوششں نہیں کی گئی تھی ،،

بابا آپ ایسے نہیں کہیں ہمیں آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے یہ سب ایسے ہی ہمارے نصیب میں لکھا گیا تھا اور ویسے بھی یہ سب نہ ہوتا تو کیا ہمیں لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات کی قدر دلوانا آتا ؟؟

آپ شرمندہ نہ ہوں پلیز ،، اُس کے پاس آتی نور نے نرمی سے کہا ،،

آپ نے اور مما نے کبھی اپنے پیار میں کمی نہیں آنے دی آپ گلٹی نہ ہوں ہماری زندگیوں میں خلا نہیں ہے ، ماں کی کمی اب تو کوئی چیز پوری نہیں کر سکتی مگر ہمیں ماضی کو لے کر کوئی گلہ نہیں ہے ،، آمنہ نے پُرنم آنکھوں سے کہا ،،

آؤ مير نابی میرے پاس دونوں کو خود سے لگاتے چھوٹے دونوں کو بھی پاس بلایا ، بڑی دونوں اولادوں نے چھوٹے بہن بھائیوں کو ماں بن کر پالا تھا اُنہیں اچھے برے کی تمیز سکھائی تھی جو عموماً خود ماں باپ سیکھانا بھول جاتے ہیں ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

زین نے باپ کا کاروبار سمبھال لیا تھا ، جواد نے اُسکی پوری طور پر مدد کی تھی سب کچھ بہتر ہو رہا تھا سوائے اس کے دل کی حالت کے ، فوراً ہی زمہ داریاں پڑ جانے کی وجہ سے اُسے باپ کی جدائی کا غم منانے کا کسی سے شیئر کرنے کا موقع ہی نہیں ملا یہی وجہ تھی کہ وہ خود کو اکیلا محسوس کرتا تھا ، حلقہ احباب بھی بس قریبی لوگوں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا ،،

آج بھی جمعہ کی نماز کی غرض سے مسجد آیا تھا مگر ہمیشہ کی طرح روح کو سکون دلاتے ماحول سے اٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا ، گھنٹہ بھر بیٹھنے کے بعد چلتا باہر نکل گیا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

بابا آپ فارغ ہیں ،، صادان کے کمرے کا دروازہ نوک کرتی نور نے کہا

جی بیٹا آؤ ،، عینک اتار کے کتاب سائڈ پر رکھتے کہا

مجھے آپ سے بات کرنی ہے ،، اُن کے ساتھ آ کر بیٹھتے کہا وہ یونیورسٹی کے تیسرے سال میں تھی آمنہ لندن جا چُکی تھی ماں کے جانے کا غم ہی تھا جو سادگی سے رخصتی اور ولیمہ پر ہی یہ شادی مشتمل رہی

میں اور بریحہ چاہ رہے ہیں کے کاروبار شروع کریں ، بات کا آغاز کیا

اچھی سوچ ہے ،، حوصلا افزائی کی

کیا پلان ہے؟

ہمیں کچھ ہنر مند خواتین کا معلوم ہوا ہے جو ہاتھ سے چیزیں بنا کر بیچتی ہیں ہم اُن سے خرید کر آگے آنلائن بیچنے کا سوچ رہے ہیں، آپ کیا کہتے ہیں

آئیڈیا اچھا ہے اللہ تمہیں کامیاب کرے اور یاد رکھنا ہم جو کام بھی شروع کرتے ہیں اچھے اور برے رویے دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ثابت قدم رہنا ہمت نہ ہارنا اور یاد رکھنا ہر قدم پر اپنے باپ کو اپنے ساتھ پاؤ گی ،، مُسکرا کر نور کو ہمت بخش رھے تھے

تھینک یو بابا ،، اُن کے ساتھ لگتے کہا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

السلام وعلیکم دوست کہاں غائب ہو آج کل کہیں کوئ چکر وکر تو نہیں چل رہا جو اتنے مصروف ہو ،، حسنین افس ڈور دھکیلتا اندر داخل ہوتے ہی بولا

نہیں یار ایسے ہمارے نصیب کہا ،، بغل گیر ہوتے زایان نے مصنوئی آہ بھری

ارے ارے اتنے ہی ارمان ہیں تو ہمیں بتاؤ بندہ بشر خود جا کر شاہ نور مادام سے رابطہ کر کے آپ کی سیٹنگ کرواتا ہے ،، آنکھ دباتے کہا

بکواس نہ کر او ،، کہیں دل کا بھید نہ کھل جائے فوراً بولا

جی ،، نہ خود اپنی سیٹنگ کرنا نہ میرے بارے میں سوچنا ،، آه بھری

نہیں تمھارے بارے میں تو سوچ سکتا ہوں اب اتنا ظلم نہیں ہے ،، آفر دی

اچھا تو صاحب نے نور سے بات کی بریحہ کے لیے ،، عام سے لہجے میں کہا

میں پھر پوچھ رہا ہوں نین سیریس ہے تو ؟ تصدیق چاہی

یار میں نے بہت سوچا اس بارے میں ،، ٹانگ پر ٹانگ رکھتے کسی ماہر بزنس مین کی طرح بات کا آغاز کیا

جی پھوٹیں غلام منتظر ہے ،، اُسکی اوور ایکٹنگ پر جل کر کہا

جی تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے سوچا کہ لڑکی اچھی ہے اور میں نے شادی بھی تو کرنی ہے تمھاری طرح گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام تو نہیں لکھوانا شادی نہ کر کے تو بریحہ سے کر لیتے ہیں شادی ،، بھرپور اوور ایکٹنگ کا مظاہرہ کیا گیا

مجھے پہلے ہی شک تھا اچھا چل میں کرتا ہوں نور سے بات ، ہلکے پھلکے لہجے میں کہا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں مما ،، فون کے اسپیکر سے یشفع کی چیخنے کی آواز آئی

ایسا کیا کہہ دیا ہے میں نے جو تُم ایسے چلا رہی ہو ،، زرا سخت لہجے میں کہا

آپ نے بھائی سے پوچھا؟

ارے میرا بیٹا ہے وہ میری بات رد نہیں کر سکتا ، اترائی تھی

ڈونٹ ٹیل می مما آپ نے بھائی کو بتایے بغیر ہی رشتے کی بات کر دی آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں ،،۔

کیا مطلب کیسے کر سکتی ہوں ماں ہوں تُم لوگوں کی اور پورا حق رکھتی ہوں تُم لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے کرنے کی ،،

اچھا پھر تو دادی بھی بابا کی ماں تھی ناں آپ نے کبھی اُن کو تو نہ بولنے دیا بابا کی کسی بات کر ،، ترکی بے ترکی جواب آیا

میں اپنے بچے کی بہتری کے لیے کر رہی ہوں زیادہ ماں بننے کی ضرورت نہیں ہے ، گڑبڑا کر فون ہی کاٹ دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *