Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 08)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 08)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟ ٹیسٹ کی رپورٹ کو ویران نظروں سے دیکھتی میرب نے خود کو کہتے سنا تھا ،،
حوصلا رکھو میرب ابھی اس بیماری کا علاج ممکن ہے اگر اللہ نے چاہا تو تُم بلکل ٹھیک ہو جاؤ گی ،، اُسکی کولیگ نے کہا جس کے کہنے پر ہی اس نے اپنے ٹیسٹ کروائے تھے
پچھلے کُچھ عرصے سے اُسے سانس لینے میں ، کھانا نگلنے میں ، سونے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ساتھ ہی تھکاوٹ اور کمزوری محسوس ہو رہی تھی ، پہلے تو والد کی بیماری پھر وفات میں اُسے محسوس نہ ہو سکا اب ایک کولیگ کے خدشہ ظاہر کرنے پر ٹیسٹ کروائے تو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی ، اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کس سے اپنے دُکھ کا اظہار کرے اپنی تکلیف بتائے ، تھکے تھکے سے قدموں کے ساتھ ہی کلینک سے نکل کر ڈاکٹرز کے سائڈ روم میں آ گئی ، بہن اُسکی کوئی نہیں تھی جسے چیخ چیخ کر اپنی تکلیف بتاتی ، بھائی پہلے ہی اس سے نالاں تھے ، شوہر اُسکا ساتھ نہیں تھا ایک دوست تھی قریبی وہ بھی شادی کر کے دوسرے دیس چلی گئی تھی وقت مختلف ہونے کی وجہ سے قربت اُتنی نہیں رہی تھی ، ایک اُسکی اولاد ہی تھی جس سے وہ بات کر سکتی تھی ایک لمحے کو دل نے کہا نور کو بتا دے ، دماغ نے کہا کیوں بچی کو اور پریشان کرتی ہو پہلے ہی اُس نے بہت کچھ دوسروں کے نصیب کا سہا ہے مگر دل کی بات مانتی رپورٹس کی تصویر لیتی نور کے نمبر پر واٹس ایپ کر دی اور آنکھیں موند کر صوفے کی پشت سے لگا دیے ،
مما کا میسج ، نور جو ابھی کلاس لے کر آفس آئی تھی میسج رنگ ٹون پر چونکی ،، رپورٹس کو پہلے تو ناسمجھی سے دیکھتی رہی پھر کچھ سمجھنے لگی باقی کی مدد گوگل سے لینے کے بعد جب بات پوری سمجھ آ گئ تو اُسکا دل چاہا کہ وہ ابھی اکیلی ہوتی اور دھاریں مار کر روتی قسمت نے ایک اور امتحان تیار کر لیا تھا ابھی ہی تو صادان صحت یاب ہوا تھا ،،ہمت کرتی میرب کو فون ملاتی اکیڈمی سے نکل گئی اب اُسکی اور کلاس نہیں تھی
کیسی ہیں آپ ،، آواز نم تھی
زندہ ہوں ، تھکی ہوئی ہو جیسے۔
ایسی باتیں نہ کریں مما پلیز آپ ٹھیک ہو جائیں گی ، اُس کو ہمت دی یہ خود کو تسلی واضح نہیں تھا
ہاں دعا کرو ،، بس اتنا کہا
ڈاکٹر کیا کہتے ہیں ؟ مدھم اُمید کے ابھی زیادہ نہیں پھیلا ہو سرطان
علاج کیا جا سکتا ہے مگر اُمید کم ہے ،،
ہاں تو علاج اگر ممکن ہے تو پریشان نہ ہوں آپ ٹھیک ہو جائیں گی ،، چلتی ہوئی بس سٹاپ کی طرف جا رہی تھی دور سے بس آتی دکھائی دی تو رک گئی
اپنی بہنوں کا خیال رکھنا نور ، تُم بہت ہمت والی ہو بیٹا ،،
مما آپ رویں نہیں پلیز سب ٹھیک ہوگا ان شاء اللہ آپ پلیز علاج شروع کروائیں میں آمنہ نابی کو لے کر صبح آپ سے ملنے آؤں گی ،، بس آ چُکی تھی الوداعی کلمات کہتی اندر بیٹھ گئی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
نہیں مہروز ایسی بات نہیں ہے کیان اپنا ہی بچہ ہے ہماری آنکھوں کے سامنے بڑا ہوا ہے مگر آمنہ ابھی چھوٹی ہے ،، صادان نے کہا
میں یہی تو کہہ رہا ہوں کے ابھی نکاح کر لیتے ہیں بچوں کا کاغذات بننے تک آمنہ بیٹی کے امتحان ہو چُکے ہونگے باقی کی پڑھائی وہ ادھر آ کر کر لے گی ، کیان کی اچھی جوب ہے اور وہ یہ زمہ داری لینے کو بھی تیار ہے تو ہم كيوں روڑھے اٹکایں ، تم بچیوں سے بات کرو میرب سے پوچھو اور ہمیں جواب دو اگلے ہفتے ہم آ رہے ہیں پاکستان تو نکاح کر دیا جائے ،، فون سکرین پر نظر آنے والے شخص نے کہا
اچھا اب فون رکھو میں بات کرتا ہوں سب سے اگر اُنہیں اعتراض ہوا تو میاں نہ ہی ہے رشتے کو ،، جان چھوڑانے والے انداز میں کہا
ہاں تُم بات کرو بچیوں سے میرب سے ہم خود بات کر لیں گے سب مان جائیں گے اور خیر سے سب ہو جائے گا ،، عزم سے کہا صادان نے اچھا اچھا کہتے فون کاٹ دی اور پاس بیٹھے شاہ میر کو دیکھا جو بظاھر کتاب پر نظریں جمائے اُسکی باتیں سن رہا تھا ،،
میر آپ نے کچھ سنا ؟
نہیں ڈیڈ کچھ خاص نہیں بس اتنا پتا ہے کہ آمنہ آپی کا کیان بھائی کے لئے رشتا آیا ہے اور میں یہ بات سب کو بتا کر آیا ،، کہتا بھاگ کر کمرے سے نکل گیا۔
میر رکو میں خود بتاؤں گا ، وہ کہتے رہ گئے مگر میر کی سب کو اونچی آواز میں بتانے کی آوازیں بخوبی اندر سنائی دے رہی تھیں ،،
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
مہروز اور اُسکی بيوی میرب اور صادان کے کالج کے وقت کے دوست تھے ، دونوں کی محبت کی شادی پھر طلاق اور صادان کی بیماری اور اب میرب کی بیماری سب اُنکے سامنے ہوا تھا ، مہروز پڑھائی ختم ہوتے ہی نوکری ملنے پر فیملی سمیت لندن منتقل ہو گیا تھا اُسکا ایک ہی بیٹا تھا کیان جو اب اپنی پڑھائی مُکمل کر کے ایک اچھی نوکری پر تھا ، انکی آنکھوں کے سامنے ہی اُسکا سارا بچپن اور جوانی تھی ، رشتا اچھا تھا اور پھر شادی کے بعد آمنہ اپنی آگے کی پڑھائی لندن سے مُکمل کر لے گی اس لیے ہاں کر دی گئی ،،
مہروز کی فیملی ایک ہفتہ پہلے پاکستان آ گئی تھی اُنکا قیام پندرہ دن کے لئے ہی تھا ، شروع کے دن تیاریوں میں مصروف رہے اب بلآخر وہ دن آ گیا تھا جب اُنکا نکاح ہونا تھا تقریب گھر کے لان میں ہی تھی دونوں خاندانوں کے قریبی لوگوں نے ہی شرکت کرنی تھی صادان کے بہن بھائیوں نے رشتے سے انکار کے بعد جو بائیکاٹ کیا تھا اس اچانک شادی پر جاسوسی رگ کی وجہ سے اُنہیں نکاح میں شریک ہونا ہی تھا یہی حال میرب کے بھائیوں کا بھی تھا البتہ بریحہ میرب کے بھائی کی بیٹی ہر چیز میں پیش پیش تھی ،، ایجاب وقبول کے بعد نور اور نابی کے ساتھ چلتی آمنہ کیان کے ساتھ لا کر بیٹھائی گئی ،،
چلو ایک فیملی فوٹو ہو جائے اب ،، میرب مما آپ بھی آئیں ڈیڈ کھسکنا نہیں ادھر سے ،، میرب کو پکارتے میر نے ، صادان کو بھی مخاطب کیا آپی آئیں ناں ،،
فوٹوگرافر کے اشارے پر ایک ہی اسپاٹ کو دیکھتے سب نے مُسکرا کے تصویر بنائی ایک مُکمل خاندان کی طرح جس کو ٹوٹے برسوں بیت چُکے تھے مگر زخم ابھی بھی نہیں بھرے تھے ، زبردستی بیٹھے صادان اور میرب تصویر کے بنتے ہی فوراً اٹھ کر الگ جگہوں پر چلے گئے ،، مسز مہروز کے ساتھ آ کر بیٹھتی میرب نے آنکھوں کے کنارے سے آنسو صاف کیے ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
میرب کی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی سرطان خون میں پھیل چکا تھا ، کیمو تھیراپی کی طرف جایا گیا ، آمنہ کے سسرال سے آئے مہمان واپس چلے گئے تھے اور میرب کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، ایکیڈمی سے چھٹیاں لیتی نور اُن کے پاس ہسپتال میں ہی رہ رہی تھی یورنیورسٹی میں آج کل سیمسٹر بریک تھا ۔
آپی ؟؟ آمنہ کچن میں برتن سمیٹ رہی تھی جب نابی نے اُسے پُکارا ،،
جی ،، کام میں مصروف بولی
مما ٹھیک ہو جائیں گی ناں ؟ تسلی چاہی کام کرتی آمنہ کے ہاتھ ایک لمحے کو رکے
جی ان شاء اللہ ، آپ اُن کے لیے دعا کرنا تو وہ بلکل ٹھیک ہو جائیں گی ، اُس کی طرف دیکھتی نرمی سے کہا
مگر میں نے فون پر دیکھا تھا کے کینسر ٹھیک نہیں ہوتا ،، افسوس بھری آواز تھی
نہیں ایسے نہیں کہتے ، ہم سب اللہ سے دعا کریں گے ناں تو ٹھیک ہو جائیں گی مما دیکھو پہلے بابا بھی تو بیمار تھے ناں ہم سب نے دعا کی تھی اب وہ ٹھیک ہو گئے ہیں مما بھی ٹھیک ہو جائیں گی ، ائس کریم کھانی ہے ؟ بات بدلی
نہیں میرا دل نہیں چاہ رہا ،
تو کیا دل کا چاہ رہا ہے ؟
میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں آپ آپی میر مما اور بابا ایک ساتھ رہیں اور بابا بھی بیمار نہ ہوں اور مما بھی ، سادگی سے کہا
نابی گڑیا آپ پریشان نہ ہوں ڈاکٹر اُنکا ٹریٹمنٹ کر رہے ہیں تو وہ ٹھیک ہو جائیں گی ہمیں ابھی اللہ سے دعا کرنی ہے کے وہ ہماری مما کو ٹھیک کر دیں ،، اللہ میاں دعائیں سنتے ہیں ،،
پر آپی میں جب نانا کے گھر رہتی تھی میرا دل کرتا تھا کہ آپ آئیں اور بابا بھی تو میں دعا کرتی تھی پر آپ نہیں آتی تھیں ،،
کیوں کے ہمارا گھر تو یہاں تھا ناں ، ابھی چھوڑو اُنہیں بس مما کے لیے دل سے دعا کرو ہمیں اُنکی ضرورت ہے کرو گی ناں دعا؟
جی ، ہلکا سا کہا
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
کیا ہوا میر آج خاموش ہو ،، شاہ ویر نے اسٹڈی میں آتے ہی وہاں بیٹھے میر سے پوچھا اُنکی اچھی دوستی ہو گئی تھی
ایسے ہی بس میری مما بیمار ہیں اُن کے لیے پریشان ہوں؟
کون نُور میم ؟
ارے نہیں وہ تو میری آپی ہیں مما بیمار ہیں ،،
اوہ اچھا کبھی دیکھا نہیں تھا ناں اُنہیں تب ،،
کیسے دیکھیں گے وہ ہمارے ساتھ نہیں رہتی تھیں ،،
اچھا کیا ہوا ہے اُنہیں ،
کینسر ،، اُس نے خود کو کہتے سنا
اوہ ، اتنا ہی کہہ سکا آنکھوں کے سامنے ایک مسکراتا چہرہ نمودار ہوا
کیا ہوا آپ کیوں چپ ہو گئے ؟
میرے بابا کو بھی کینسر ہوا تھا ؟
تو وہ اب ٹھیک ہیں ،، اُمید سے پوچھا
نہیں اُنکی ڈیتھ ہو گئی تھی ،
ایم سوری ، کب ہوئی ،،
جب میں نے پڑھانا شروع کیا تھا تب ، گھر کو چلانے والے صرف وہ ہی تھے اچانک ہی کچھ دن بیمار ہوئے اور فوت ہو گئے پھر بہنیں تھیں مما تھیں اُن کے لیے مجھے پڑھائی کے ساتھ ہی جوب کرنی پڑی تھی ،، آنکھوں میں نمی واضح تھی
آپ نے کبھی پہلے ذِکر نہیں کیا تھا ،،
ہاں کبھی آپ نے پوچھا ہی نہیں ،، زبردستی مسکرا کر کہا
اللہ آپ کو صبر دیں یہ پانی پئیں ،، پانی کا گلاس اُسکی طرف کیا جسے اس نے تھام لیا
