Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 13)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 13)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
بلال کے قتل سے ایک رات پہلے ![]()
بلال کو ایک دفعہ پھر فون کر کے پتا کر لے کے صبح کس وقت نکلے گا ،، کمرے میں کل پانچ نفوس بیٹھے تھے سربراہی کُرسی پر بیٹھے شخص نے دائیں جانب بیٹھے وجود سے کہا اگلے ہی لمحے وہ فون کان سے لگائے بات کر رہا تھا
اچھا بلال بھائی ٹھیک ہے میں نے کہا پتا کر لوں میں آفس آؤں آپ ہو ہی نہ ؟ لہجہ شہد سے زیادہ میٹھا تھا ۔
ہاں کیا کہتا ہے ،، دائیں جانب دوسرے نمبر پر بیٹھے شخص نے فون بند ہوتے ہی عجلت سے کہا ،،
وہی کے سات بجے نکلے گا یہاں اور دس سے پہلے آفس میں ہوں میں ،، فون کرنے والے شخص کا لہجہ اب کے زہر سے کڑوا تھا
چلو تو پھر اپنی اپنی جگہ دوبارہ دیکھ لو غور سے غلطی نہ ہو نشانہ خطا نہ ہونے پائے ،، سربراہی کُرسی پر براجمان شخص نے دوبارہ لب کشائی کی
تُم یہاں گلی کے کونے پر کھڑے ہوگے اور گاڑی کے نکلتے اشارہ دو گے ،،
بائیں جانب پہلے نمبر پر بیٹھے شخص کو کہا ،،
راجر بوس ،، سر کو خم دیتے بولا
تُم گاڑی لے کر روڈ کو جڑتی گلی میں کھڑے ہوگے شوٹ کے فوراً بعد بیک اپ کے لئے ،، دوسرے نمبر والے شخص کو کہا
اوکے ،،
میں مین روڈ پر گھر آنے والے راستے پر کھڑا ہونگا ہم ساتھ اُسکی موت کی خبر سن کر افسوس کرنے پہنچے گے ،، خباثت سے بولا
اور تو صبح نکل جانا اُس کے آفس کے لئے ہم پر کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہئے ،، فون کرنے والے شخص کو کہا
ہاں ٹھیک ہے ،، وہ بولا
مجھے تو بہت نیند آ رہی ہے اور صبح بھی جلدی اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے پانچواں شخص کھڑا ہوا اور منہ کے زاویے بگاڑ کر بولا ان کا پلان سننے کے لیے اُس نے بمشکل خود کو یہاں بیٹھے رہنے کے لئے روکا تھا اب اُسکی برداشت ختم ہو گئی تھی ،
اچھا چل شیر تو آرام کر ویسے بھی ابھی تیرا بڑا بھائی زندہ ہے تجھے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ،، سربراہی کُرسی پر بیٹھے شخص نے مُسکرا کر کہا
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
یار وہ دیکھو میک اپ کی دکان ،، سامنے سے آتی لڑکی کو دیکھتی نابی نے ایشل کے کان میں کہا
اشارہ نہ کرو وہ ادھر ہی آ رہی ہے ،، ایشل نے فوراً ٹوکا تبھی وہ انہی کے پاس آ کر رکی ،،
ہائے گرلز ،، مسکرا کر کہا جس کی توقع انہوں نے تو بلکل نہیں کی تھی جواباً اُنہوں نے بھی مسکرا کر استقبال کیا ،،
وہ اُس دن کے لئے سوری میں اوور ریکٹ کر گئی تھی ،، بولنا شروع کیا
کوئی بات نہیں ہماری بھی غلطی تھی ہم نے دیکھا نہیں تھا تبھی ٹکر ہو گئی تھی ،، ایشل نے نابی کے چہرے کے بدلتے تاثرات دیکھ کر بروقت اپنی طرف متوجہ کیا
میرا نام ہانیہ ہے آپکا ،، اپنا تعارف کروایا
میں ایشل اور یہ میری دوست ہے زنابیہ ،، اب کے بھی ایشل بولی نابی نے لب کشائی کی ضرورت نہیں سمجھی تھی
نائس نیم اچھا ایشل کل آپ کو میں نے دیکھا تھا یورنیورسٹی سے واپسی پر کس کے ساتھ جا رہی تھیں آپ ،، عام سے لہجے میں بولی
وہ ، میرے بھائی تھے زایان بھائی ،، مُسکرا کر کہا
ہی از ہینڈسم ،، ہانیہ نے کہا اُسکی آنکھوں کی چمک نابی کو ٹھٹھکی
تھینک یو ہانیہ اچھا لگا آپ سے مل کر ہمیں اپنے نوٹس کمپلیٹ کرنے ہیں تو آپ سے پھر بات ہوگی نابی نے کہا اور ایشل کا ہاتھ پکڑے چل دی
تمہیں کیا ضرورت تھی اُس سے مراسم بڑھانے کی ،، تھوڑا آگے آ کر ایشل پر برسی
وہ خود آئی تھی بات کرنے تو میں اُسے جواب بھی نہ دیتی ،، منہ بناتے گویا ہوئی
ایشل تُم نے غور نہیں کیا وہ تُم سے صرف تمھارے بھائی کا پوچھنے آئی تھی ، ٹکر تو مجھ سے ہوئی تھی ناں اصولاً اُسے برائے راست مجھ سے بات کرنی چاہئے تھی مگر اس نے تُم سے ہی بات کو تول دی ؟؟ اُسے لیے اب وہ لائبریری کے باہر لے آئی تھی
ہاں میں نے تو غور ہی نہیں کیا اس بات پر ،، دماغ کام کرنے لگ گیا تھا متفق ہوئی
جی شُکر ہے بدھو سمجھ آئ اب اُس سے دور رہنا اور بھائی کا ذکر دوبارہ نہ کرنا اُس کے سامنے ،، اب اسے سمجھا رہی تھی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ہاں زین کہو کیا بتانا تھا تمہیں ،، آفیسر نے کہا دونوں اس وقت ایک پرائیویٹ اپارٹمنٹ میں موجود تھے
یہ بابا کا فون ہے جو مرڈر کے وقت ان کے استعمال میں تھا آج میری نظر پڑی ہے تو میں نے دیکھا یہ ایک نمبر ہے جس سے اس صبح بار بار ایک ہی فارورڈڈ میسج آ رہا تھا اور دیکھیں اس میسج کو غور سے ،،
اس کے شروع کے الفاظ جوڑیں تو بنتا ہے ۔۔
” آج صبح باہر نہ نکلنا خطرہ ہے “
ہاں یہ تو کسی نے مرڈر سے پہلے میسج بھجا ہے ،، یہ کون ہو سکتا ہے آفیسر سوچ سوچ کر بول رہا تھا
پتا نہیں اِس نمبر کی ڈیٹیل نکلوا کر دیکھا جا سکتا ہے ،، زین بولا
ہاں ٹھیک ہے میں آج ہی یہ کام کرتا ہوں ہمیں یقیناً کوئی سراغ ضرور ملے گا ،، کھڑے ہوتے کہا
ان شاء اللہ ،، دل سے بولا آخر اتنے سالوں بعد اُسے اپنے دشمنوں کے ملنے کی امید ملی تھی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
مما دادی کو تیار کروایا ؟ گھر میں داخل ہوتے ہی زین نے پہلا سوال کیا
وہ سو رہی تھیں میں نے ملازمہ کو بھیجا تھا ،،
کیا مطلب آپ نے اُنہیں نہیں جگایا آپ کو پتا ہے اُنکی حالت کیسی ہے اور ڈاکٹر کے جانا ہے روز ہی یہ باتیں ؟ کہاں ہے ملازمہ ابھی تیار کروائیں اُنہیں ! غصے سے کہا
زین تُم کیوں غصہ ہو رہے ہو کل لے جانا ،،
مما پلیز اپنے اندر سے اس بُغض کو نکال دیں بیمار ہیں وہ دیکھا ہے آپ نے کیا حالت ہو گئی ہے اُنکی کھانا پینا اُنکا چھوٹ چکا ہے ، باتیں وہ بھول جاتی ہیں ، بولنا اُنہوں نے چھوڑ دیا ہے اب تو کچھ رحم کریں اُن پر ،، غصے میں بولے جا رہا تھا
ہاں ہاں میں ہی بری ہوں وہ سب تو اچھی ہیں ناں جو تمہیں اپنی انگلیوں پے نچاتی ہیں کر دی ہو گی کسی پھپھی نے چغلی ، بھر دیے ہیں ناں ماں کے خلاف کان میں تو اُنہیں جب سے شادی کر کے ادھر آئی ہوں تب سے نہیں پسند ، جو یہاں میں نے اتنے سال گزارے ہیں اپنی اولاد کے لیے اپنے زور پر گزارے ہیں اور آج میری اولاد بھی اُنکی زبان بول رہی ہے ،، نادید آنسو صاف کرتے وہ کہہ رہی ہیں
میں خود دیکھ لیتا ہوں دادی کو ،، زین اُٹھتا شگفتہ بیگم کے کمرے میں چلا گیا تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک ضعیف عورت کو ویل چیئر پر گھسیٹتے کمرے سے باہر نکل رہا تھا ،،
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
نور اُس کے پیرنٹس آئے ہوئے ہیں ہمارے گھر ،، کال کنیکٹ ہوتے ہی بولی
کس کے ،، مصروف سی آواز آئی
حسنین کے ،، آواز دھیمی تھی
اوہ ، تو کیا مسئلہ ہے تمہیں میں نے بتایا جو تھا اس کا تمہیں اعتراض نہیں تھا تو میں نے زین سے کہا تھا پروپوزل کا تمہیں بتانا یاد نہیں رہا تھا اور اتنی جلدی تمہارے گھر ہونگے مجھے اندازہ نہیں تھا ،،
یار اب کیا کروں بابا غصہ نہ ہوں کے کیسے جانتے ہیں حسان مجھے ،، پریشانی سے بولی
بریحہ کیا ہو گیا ہے کیوں پریشان ہو رہی ہو تم ، کچھ نہیں کہیں گے تمہارا تو کوئ ہاتھ نہیں ہے تُم لوگ ایگزیبیشن پے ملے تھے جو سچ ہے وہ لوگ اُسی کا حوالہ دیں گے تُم ابھی بس تیار ہو اچھا سا اور جاؤ اپنے ہونے والے سُسرال والوں کو ملنے ،، آخر میں لہجہ شوخ ہوا
اچھا مما بولا رہی ہیں میں فون رکھتی ھوں ،، باہر سے آتی آواز پر فون بند کیا اور تیار ہو کر ماں کے ساتھ مہمانوں کی طرف چل دی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ہمارے بارے میں کیا خیال ہے آپکا ،، نور کسی مہمان کو مل کر مڑی تھی جب اپنے پیچھے زین کی آواز پر چونک کر اُسے دیکھا آج بریحہ اور حسنین کی منگنی کی تقریب تھی
کس کے بارے میں ؟؟ ناسمجھی سے بولی
میرے اور تمہارے بارے میں اوفكورس ،، منہ بنا کر کہا
ہاں ناں ہمارے کس بارے میں زین ؟؟
یار میری اور تمہاری شادی کے بارے میں ،، چڑ کر بولا
واٹ ؟؟ اُسکا منہ کھلا تھا
کیا کہہ دیا ہے میں نے جو آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی ہو ؟ مزاق میں اڑایا
زین تم سٹھیا گئے ہو جا کر اپنا کام کرو اپنا ،، دانت پیس کر کہا
کیا ہے نور مجھے اچھی لگتی ہے تمھاری کمپنی ، اس میں کیا برائی ہے کے ہم شادی کر لیں ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں میرے خیال میں ہم ساتھ خوش رہ سکتے ہیں ،، اُسکی آنکھیں پڑھنے کی کوششں کرتا بول رہا تھا
زین تُم تھکے ہوئے لگ رہے ہو آرام سے نیند پوری کرنا ہم پھر بات کرے گیں اس معاملے پر ، میں بریحہ کو دیکھ لوں ،، سنجیدگی سے کہتی اسٹیج کی طرف چل دی
میں منتطر ہوں ،،زین نے ہنکار لگائی وہ ان سنی کرتی چلی گئی
