Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeena Hi Tu Hai (Episode 03)

Jeena Hi Tu Hai by Zaroom

نرمین آج ایک مہینے بعد گھر واپس آئی تھی ، مگر ایک نظر بھی شاہ میر پر ڈالنا گوارہ نہیں کیا تھا ،،

صادان مجھے لگتا ہے ہمیں بات کرنی چاہیے ، وہ بے مقصد فون پر سکرولنگ کر رہا تھا جب اپنے پیچھے نرمین کی آواز آئی ،،

ہممم مجھے بھی یہی لگتا ہے ، آؤ بیٹھو ،،

تُم اس بچے کو چھوڑ کیوں نہیں آتے کسی فلاحی ادارے میں ،، بات شروع کی

نرمین تُم پاگل تو نہیں ہو گئی اولاد ہے ہماری ، ہم ماں باپ ہیں اُس کے کیسے اُسے کسی فلاحی ادارے میں چھوڑ سکتے ہیں ،، اُسے لگا تھا نرمین تھوڑے وقت میں سمجھ جائے گی مگر وہ غلط تھا

میں ایسے بچے کو نہیں پال سکتی صادان تُم کیوں پاگلوں جیسی باتیں کر رہے ہو ہمارا ایک سوشل سرکل ہے ہمیں سو لوگوں سے ملنا ہوتا ہے اور میں كمذکم اس بچے کی وجہ سے باتیں نہیں سن سکتی ،،

ٹھیک ہے تمہارا جو دل چاہتا ہے وہ کرو مگر ایک بات یاد رکھنا میں شاہ میر کو کسی ٹرسٹ کے نہیں چھوڑوں گا ،، وہ تنگ آ چکا تھا نرمین کی بے جا ضد سے ،،

ٹھیک ہے تمہیں پالنا ہے اس بچے کو تو شوق سے پالو مگر میں کسی صورت نہیں لٹکاوں گی تُم دونوں کو اپنے ساتھ ، مجھے طلاق دو اور رہو اپنی اولادوں کے ساتھ ،، چلائی تھی

مجھے افسوس ہے اُس وقت پر جب میں نے تُم جیسی عورت سے شادی کی اور میرب کو چھوڑا ، زندگی بھر کا پچھتاوا ہے یہ ،،

ہاں میں تو بری لگوں گی ہی ناں تمھارے دل سے تو وہ عورت کبھی نکلی ہی نہیں تھی ، ہر وقت بیٹیوں کے پیچھے لگے رہتے تھے اب یہ ایک اور منہوس آ گیا ہے اب تمہیں میری کہاں ضرورت ،،

میری اولاد کے لیے اب ایک لفظ بھی اور کہا تو مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا ،،

تُم سے بُرا کوئی ہے ہی نہیں میں پاگل تھی جو اپنی جوانی تین بچوں کے باپ کے پیچھے خراب کر دی ، میں جا رہی ہوں ادھر سے اپنی یہ سوغات تمہیں ہی مبارک ہو طلاق کے کاغذ مجھے مل جانے چاہیے ورنہ مجھے مجبوراً کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا ،، اُس ظالم خاتون کے منہ سے نکلے الفاظ سے کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ اپنی اولاد کے لئے کہہ رہی ہے ، ان چاہی اولاد جس بیچارے کی پیدائش ہی اُسکے لیے آزمائش ٹھہری ،،

ابھی وہ لاؤنج سے نکل ہی رہی تھیں جب پیچھے سے نور کی چیخ کی آواز آئی صادان بےہوش ہو کر گر چُکا تھا اور وہ اس کے ساتھ لگی اُسے جگانے کی کوشش کر رہی تھی ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

پھوپھو کی ساتھ وہ گاؤں آیا تھا اُنکو چھوڑتا سیدھا بابا کی قبر پر آ گیا ، شام ہو رہی تھی اُسکا صبح واپس جانا تھا ، رات کو وہ اپنے پرانے گھر رکنے کا ارادہ رکھتا تھا ،

اپنے بابا اور دادا کی قبر پر پھول چڑھاتا آج اتنے برسوں بعد بھی وہ ہر بار کی طرح اُداس تھا ، اُسکے بابا اکلوتے بیٹے تھے ساری زندگی اُنہوں نے سب کو خوش کرنے میں لگا دی تھی اور پھر کچھ ماہ کے بیٹے سمیت چار اولادوں کو یتیم کرتے بھری جوانی میں اُنہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے ،،

کیسے کرتے تھے سب کچھ اکیلے بابا میں تو تھک گیا ہوں ، میرا دل کرتا ہے میں یہاں سے کہیں دور چلا جاؤں ، مجھ سے یہ سب برادشت نہیں ہوتا بابا ، اپنا آپ بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں ، ایشل اور عرشمان کو دیکھتا ہوں ، دادی کو دیکھتا ہوں تو دل پھٹتا ہے میرا بہت بڑی ذمہداری داری دے کر مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے گئے ہیں آپ ، میں سارا کام دیکھتے بھی تھک جاتا ہوں کہیں دور جانا چاہتا ہوں تھوڑا سکھ دیکھنا چاہتا ہوں ،، وہ پچیس سالہ نوجوان رو رہا تھا اپنے دل کا حال بیان کرتے ، ہر مظبوط کھڑے انسان کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے اُس کے بھی احساسات ہوتے ہیں جسے وہ بھول جاتے ہیں دوسروں کی خاطر ۔

کتنی ہی دیر قبروں کے پاس بیٹھا رہا پھر اٹھ کر اپنے پرانے گھر چلا گیا جہاں اس نے اپنا سارا بچپن گزرا تھا ، جب اُس پر کوئی ذمہداری نہیں تھی

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

عدیلہ اُمید سے تھی ، جب سے اُسے الٹرا ساؤنڈ سے معلوم ہوا کے بیٹا پیدا ہونے ولا ہے اُس کے قدم زمین پر نہیں ٹک رھے تھے ،،

بلآخر وہ دن آ گیا جب اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ، زین بھی ہاسٹل سے آ گیا تھا اور اپنے چھوٹے بھائی کو دیکھ کر بہت خوش تھا ۔ بلال نے بڑے پیمانے پر عقیقہ رکھا تھا سارے خاندان میں مٹھائیاں بانٹی گئی ، عدیلہ کو سونے کے کنگن تحفے میں دیے اور اپنی بہنوں کے لیے نیکلیس لیا تھا ،،

اِسکی کیا ضرورت تھی بھائی ،،اُسکی بہن حوریہ نے کہا

کیوں ضرورت نہیں تھی تُم لوگوں ہی کی دعاؤں کی وجہ سے ہی اللہ نے ہمیں چاند سے بیٹا دیا ہے ،،

اللہ اسکو لمبی زندگی عطا کریں اور اس کے لیے شکریہ ،، دل سے دعا دی اور نیکلیس کا شُکریہ ادا کیا

سب کچھ ماں اور بہنوں پر لٹا آئے ،، بلال جب کمرے میں داخل ہوا تو عدیلہ کی چبتی آواز سنائی دی

کیا مطلب ،،

مطلب خوب سمجھتے ہو تُم بلال کیا ضرورت تھی نیکلیس دینے کی ،، غصے سے کہا

بہنیں ہیں میری حق ہے اُنکا ،، حیران ہوتے کہا

ہاں سارے حقوق تو اُنہی کے ہیں ناں میں اور میری اولاد کی تو کوئ ذمہداری نہیں ہے ناں تُم پر ،، چلائی تھی

عدیلہ میں بہت تھکا ہوا ہوں تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا ہوں پلیز خاموش ہو جاؤ ،، ہار مانتے کہا

ہاں آپ تو یہی چاہتے ہیں میں چپ ہو جاؤں ،، پھر شروع ہوئی

ٹھیک ہے میں ہی چلا جاتا ہوں ، اٹھتے غصے سے کہتا باہر نکل گیا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

ہیلو لیڈیز السلام وعلیکم ،، حسنین نے شاہ نور اور بریحہ کو مصروف دیکھ کر اونچی آواز میں مخاطب کیا

ارے وعلیکم سلام ، حسنین ،، دونوں نے خوش دلی سے جواب دیا ، یہ ہیں میری بزنس پارٹنر شاہ نور ،، حسنین اور زایان سارے اسٹالز کا چکر لگانے آئے تھے جب بریحہ کے اسٹال پر رکے ، اُس نے تعارف کروايا ،،

شاہ نور ،، زایان جو شاہ نور کو دیکھتا کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا اس نام پر اُسکی حیرت میں ڈوبی آواز آئ ،،

زایان ، ایسی ہی حالت شاہ نور کی بھی تھی

وٹ اے سرپرایز ، اتنے سالوں بعد تمہیں دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے شاہ نور کے میرے پاس الفاظ نہیں ،،

مجھے بھی ، اُس نے بھی مسکرا کر کہا

کیا آپ لوگ ہمیں بتائیں گے کہ آپ لوگ ایک دوسرے کو کیسے جانتے ہیں ،، اُنکو ایسے ایک دوسرے کے ساتھ لگا دیکھ کر حسنین نے کہا

ارے یار یہ میری اسکول فرینڈ ہے ، ہم ساتھ پڑھتے تھے مگر پھر اس نے چھوڑ دیا تھا اسکول اُس کے بعد ہی تو تُم بنے تھے میرے دوست ،،

اوہ اچھا یہ وہ ہے ،، پُرجوش سا بولا

چلیں اب ہم پرانے دوست نکلے ہیں تو مل کر ڈنر کرتے ہیں ،،

نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے زایان ،، شاہ نور نے کہا

کیوں ضرورت نہیں ہے ، میرے ہوٹل میں میری دوست آئے اور کچھ کھائے بغیر چلی جائے ایسا ممکن نہیں ہے ،،

ما شاء اللہ ، زایان یہ ہوٹل تمہارا ہے مجھے تمہیں کامیاب دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے ،،۔

شکریہ شاہ نور ،، مُسکرا کر کہا وہ چاروں اب چلتے ہوٹل کے اندر داخل ہو رہے تھے

زایان یاد ہے تجھے میں نے پینٹنگز کا بتايا تھا وہ انہی کے اسٹال پر ہونگی ناں ،،

مطلب تُم ابھی بھی پینٹ کرتی ہو ، حیرت سے شاہ نور کو کہا اُس نے سر ہلا کر ہاں کی

پھر تو میں دیکھے بغیر بتا سکتا ہوں کتنی اچھی ہونگی وہ پینٹنگ آپ لوگوں کو پتا ہے یہ اسکول کے ٹائم سے کرتی تھی پینٹ ،، اتنے وقت بعد ملے تھے ایک دُوسرے سے پھر بھی وہی پذیرائی تھی دونوں کی باتوں میں ایک دوسرے کے لئے کیوں کہ وہ اُس وقت کے سچے دوست تھے جب دونوں بلکل اکیلے تھے ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

آنٹی آپ مت جائیں پلیز ، نرمین گھر سے نکل رہی تھی جب نور بھاگتی ہوئی آئی اور اُسے پُکارا

ہٹو نور میرے راستے سے میرے منہ سے کچھ سخت نکل جائے گا ،،

آنٹی دیکھیں ناں بابا آنکھیں نہیں کھول رہے آپ پلیز اُنہیں جگا دیں مجھے ڈر لگ رہا ہے ،، روتے ہوئے اُنہیں کہا جب سے ماں باپ کی علیحدگی ہوئی تھی ڈر کا لفظ اُس کی ذندگی سے نکل چکا تھا مگر اب یہ دس سالہ لڑکی اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر اتنی خوفزدہ ہو چکی تھی کے سوتیلی ماں سے ہی مدد طلب کر لی

نور اپنی مما کو فون کرو اور اُنہیں بتاؤ میرے راستے سے ہٹو ،، اُسے پیچھے دھکیلتے مین گیٹ سے باہر نکل گئی ،،

بوا ہمیں بابا کو ہسپتال لے کر جانا ہوگا آپ پلیز ساتھ والی آنٹی سے کہیں وہ اپنے ڈرائیور کو ہمارے ساتھ بھیج دیں،، ایک ادھیڑ عمر ملازمہ جو صادان کے منہ پر پانی گرا رہی تھی اُسے مخاطب کرتے نور نے کہا

اچھا بیٹا میں جاتی ہوں ،، کہتی وہ اُٹھیں اور نور ٹیلیفون کی طرف گئی اور اپنی مما کا نمبر ملایا ،سامنے بیٹھی آمنہ ہراساں سی اپنے بے سدھ پڑے باپ کے وجود کو دیکھ رہی تھی

میرب کو اُس نے صادان کی طبیعت کا بتایا اُس نے اُنہیں اپنے ہسپتال کا بتایا کہ یہاں صادان کو لایا جائے اور خود نور کو گھر اندر سے بند کر کے رہنے کو کہا جب تک وہ خود نہیں آ جاتی ، ڈرائیور کی مدد سے بوا صادان کو ہسپتال لے گئی تھیں جہاں سے معلوم ہوا کے اُسکا بلڈ پریشر شوٹ کر گیا ہے ، جس سے اُسکے جسم کا ایک حصہ آپائنج ہو گیا ہے اُس وقت تک صادان کے بہن بھائی بھی ہسپتال پہنچ گئے تھے ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

اتنے برس بعد پُرانی دوست کو ملنے کے بعد زایان بہت اچھا محسوس کر رہا تھا ، اپنے ہی خیالوں میں گھر کے اندر داخل ہوا جب اُسے لاؤنج میں سر نیچے کیے بیٹھی ایشل نظر آئی ،،

ایشل آپ یہاں کیا کر رہی ہو گڑیا ، باقی سب کہاں ہیں ،، اُس کی طرف آتا فکر مندی سے بولا ،،

بھائی مجھے مما نے ڈانٹا ہے اتنے زور کا ،، زایان کو بتاتے رونے لگی ،،

کیوں گڑیا مما نے آپکو کیوں ڈانٹا ہے ،، اُس کے پاس بیٹھتے بولا

بچپن میں ہی سر سے باپ کا سایہ چھن گیا تھا اُس کے بعد سے ہی اُس نے اپنی دونوں بہنوں اور بھائی کو کبھی باپ کی کمی نہیں محسوس ہونے دی تھی ، زایان سے تین سال چھوٹی یشفع تو شادی کر کے اپنے گھر میں خوش تھی ، ایشل یشفع سے دس سال چھوٹی تھی اور اس کے بعد عرشمان تھا ، والد کی وفات کے وقت ایشل دو سال کی جب کہ عرشمان محض کچھ ماہ کا تھا ، ان دونوں کا ہر لاڈ اٹھانا زایان نے اپنا فرض سمجھ رکھا تھا

مجھے آئی پیڈ چاہیے تھا میں نے مما کو کہا تو انہوں نے مجھے ڈانٹا ،،

تو آپ مجھے کہتی میں آپکو لا دیتا ناں آپ کو مما سے ڈانٹ نہ کھانی پڑتی ،، اسے بچکایہ

آپ مجھے لا دیں گے ،، تصدیق کی

جی گڑیا میں آپکو لا کر دونگا مگر آپ اُسے زیادہ وقت استعمال نہیں کرو گی اور آپ کے گریڈز اُس سے خراب نہیں ہونے چاہیے ،،

اوکے ڈن ،، وہ کھل گئی تھی اور زایان کے گال پر پیار کرتی اُس کے ساتھ لگ گئی ، وہ بھی آسودگی سے مسکرایا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *