Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeena Hi Tu Hai (Episode 01)

Jeena Hi Tu Hai by Zaroom

وہ کبھی اپنے ہاتھ میں اُٹھائے وجود کو دیکھتا کبھی لیبر رُوم کے بند دروازے کو جہاں سے نرس ابھی اُسے یہ خبر سنا کر گئی تھی ، اُس نے تو بیٹے کے لئے اپنی بیٹیوں سے اُنکی ماں الگ تھی اور دوسری شادی کی اب اُس کے ہاں اولاد تو پیدا ہوئی تھی مگر نہ وہ لڑکا تھا نہ لڑکی ، اُدھر ہی پڑی کُرسی پر بیٹھ گیا اور گھر خبر سنانے کے لیے موبائل نکالا ،،

ایک ہی دن میں خبر پورے خاندان میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی ،،

مجھے نہیں پتہ مگر مجھے یہ بچہ نہیں پالنا تُم اسے کہیں چھوڑ آؤ ،، درمیانی عمر کی وہ خاتون بار بار ایک ہی بات کہے جا رہی تھیں ، موبائل سے نظر اٹھاتے دوبارہ دہرائ

نرمین تُم سمجھ کیوں نہیں رہی ہو ، ایسے کیسے چھوڑ آؤں جیسی بھی ہے ہماری اولاد ہے میں اسے کہیں نہیں چھوڑ کر آؤں گا ،، بیڈ پر لیٹے وجود کو دیکھ کر صادان نے کہا

تمھارا یہی فیصلہ ہے تو خود پالو ویسے بھی یہ تمھارے نصیب سے پیدا ہوا ہے مگر مُجھ سے کوئی اُمید نہ رکھنا ، میں اپنی امی کی طرف جا رہی ہوں مجھے سکون چاہیے تھوڑی دیر ،، موبائل پٹکتی بولی

تُم اتنی پتھر دل تو نہیں تھی ، تمہیں کیا ہو گیا ہے اب ،، اُس کی طرف جاتے کہا

مُجھے کچھ نہیں سننا ، تمہاری ان باتوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے میں کبھی بھی اس بچے کے لیے اپنی جوانی نہیں خراب کروں گی ، سنا تُم نے اب ہٹو میرے راستے سے ،، بیگ اٹھاتی وہ کمرے سے نکل چُکی تھی ، صادان شاہ میر کے رونے کی آواز پر مڑا چلتا اس کے پاس آ گیا اور اُسے گود میں اٹھا لیا ،،

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

اپنی ماں کو سنبھال لو بلال میری برادشت اب ختم ہو گئی ہے میں اب مزید نہیں رہ سکتی ان کے ساتھ پاگل ہو گئی ہیں وہ ،، عدیلہ کی آواز اتنی اونچی تھی کہ کمرے کے باہر بھی صاف سنائی دے رہی تھی

پاگل وہ ہو گئی ہیں یہ تُم میں اُنکا واحد سہارا ہوں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ،، بلال کی آواز آئی

ٹھیک ہے ایسا ہے تو ایسے ہی سہی میں اپنے بچوں کو لے کر کہیں چلی جاتی ہوں جہاں کمز کم میں سکون سے تو رہوں گی ، میرا بھی بیٹا ہے مجھے بھی تمہاری ضرورت نہیں ہے مگر یاد رکھنا اپنی اس ہونےوالی اولاد کا منہ تک نہیں دیکھنے دوں گی تمہیں ،،

کیوں اپنا گھر برباد کرنے پر بضد ہو میں تھکا ہارا کام سے واپس آتا ہوں تمھاری یہ چک چک شروع ہو جاتی ہے ، کہاں سمبھالوں میں اپنی ماں کو کہیں اولڈ ہوم میں پھینک آؤں ایک جوان بیٹے کے ہوتے ہوئے بھی ، سر دباتے کہا

مجھے نہیں پتہ جو کرنا ہے کرو مگر مجھے نہیں رہنا اب سب کے ساتھ مجھے اپنی اولاد کی تربیت کرنی ہے وہ تو میرے ہاتھ میں ہی نہیں ہے ، تمھاری ماں نے سب کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر لگایا ہوا ہے ،،

تمہاری اولاد نہ میری اور نہ ہی میری ماں کے ہاتھ میں ہے بیٹا تُم نے ہوسٹل میں چھوڑا ہوا ہے ، بیٹیوں کا تمہیں کچھ پتا نہیں ہے زندگی تُم نے ساری اپنی مرضی اور عیاشیوں میں گزار لی ہے اب بھی تمہیں یہی گلے ہیں تو میں تمہارا کچھ نہیں کر سکتا ،، اُس کے بعد دروازہ بند ہونے کی آواز آئی وہ خود کو واشروم میں بند کر چُکے تھے ،،

ہاں ہاں میں ہی بری ہوں میں ہی سب کے ساتھ بُرا کر رہی ہوں نہیں ضرورت مجھے کسی کی نہ تمھاری نہ کسی اور کی میرا بیٹا ہے ، کافی ہے میرے لیے وہ ۔ معاف نہیں کروں گی میں تُم سب کو ،، عدیلہ چلائی جا رہی تھیں ،

باہر کھڑا پندرہ سالہ لڑکا اپنے والدین کی لڑائی پر سر نفی میں ہلاتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

ہاں بریحا ہو گئی تمھاری میٹنگ کیسی رہی ،، ایک ہاتھ سے فون کان سے لگائے دوسرے سے گاڑی کا لاک بند کرتی شاہ نور نے اپنی سہیلی اور بزنس پارٹنر سے پوچھا

ہاں یار اچھا ہو گیا ہے سب شُکر ہے حسنین کو ہمارا پلان پسند آیا ہے اور وہ ہمیں موقع دینے کے لیے تیار ہیں ،، پُرجوش آواز آئی

اوہ واؤ الحمدُ للّہ فائنلی ہمیں دو سال بعد ایک بڑا پراجیکٹ پر کام کرنے کو ملے گا ،، آفس میں داخل ہوتے بولی آفس میں موجود لوگ احتراماً کھڑے ہوئے اور سلام کیا وہ سر ہلا کر اُنہیں جواب دیتی اندر داخل ہو گئی

ہاں مجھے اتنی خوشی ہو رہی ہے کے بتا نہیں سکتی ،، گاڑی چلاتے وہ اُسے اب میٹنگ کا احوال بتا رہی تھی

اچھا تمھارے آنے تک میں ٹیم کو بُلا کر اناوس کر دیتی ہوں اور کاریگروں سے مل لیں گے جا کر شام میں ،،

ہاں ٹھیک ہے اللہ حافظ ،،

خیر سے آؤ ، کہہ کر کال ڈسکنیکٹ کر دی چہرے پے خوشی کے آثار نمایاں تھے ،،

شاہ نور اور بريحا نے دو سال پہلے اپنے بیچلر ڈگری کے تیسرے سال اپنی سیونگز ملا کر کاروبار شروع کیا تھا جس میں وہ ہاتھ سے بنے انٹیریئر اور انٹیک چیزیں کچھ ہنر مند لوگوں سے خرید کر اُسے مزید نکھار کر آنلائن سیل کرتی تھیں جس سے پہلے تو اتنی کمائی ہو جاتی تھی کہ اُنکی پاکٹ منی نکل آتی تھی ، آہستہ آہستہ سیمسٹر کی فیس دینے کے قابل ہو گئی تھی مگر اب ڈگری کے مکمل ہونے پر اُن کے پاس اتنی سیونگز ہو چُکی تھی کہ اُنہوں نے اپنے لیے ورکنگ پلیس كرائے پر لے لیا تھا ، ایک ٹیم بھی ہائر کی جو آرڈرز پر کام کر رہی تھی حسنین کا اُنہیں کسی دوست کے توسط سے معلوم ہوا تھا ، شاہ نور کو اپنے والد کو ڈاکٹر کے لے کر جانا تھا اس لیے میٹنگ بریحا نے اٹینڈ کی تھی حسنین ایک فیسٹیول کا چیف آرگنائزر تھا جو مختلف برانڈز اور سیلف میڈ کاروباری اداروں کو اپنا کام لوگوں تک پہنچانے کا موقع دیتا تھا ،جس کی وجہ سے اب انہیں بھی اس فیسٹیول میں حصہ لینے کا موقع مل گیا تھا وقت کم تھا اور کام زیادہ ، پہلی بار بڑی سطح پر کام پیش کرنا تھا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

بس کر دیں ماما اب تو بھول جائیں پُرانی باتیں کیوں بغض رکھا ہوا ہے دل میں جو آپ کو سکون نہیں کرنے دیتا ،، یشفع اپنے دو سالہ بیٹے کو گود میں اٹھاتی ماں کی باتوں پر چڑتی بولی

شادی کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ امریکا سیٹل ہو گئی تھی پہلے ایک بار پاکستان آئی تھی مگر اب بچے کے بعد پہلی بار آئی تھی اُس سے ملنے اُسکی پھوپھیاں گھر آئی ہوئی تھیں اور ہمیشہ کی طرح اُسکی ماں تپ چُکی تھی

میں بغض پال کر بیٹھی ہوں اپنی پھوپھو کو نہیں دیکھتی کیسے تمھارے باپ کو مٹھی میں کیا ہوا تھا اور اب تمہارا بھائی بھی انہی کے نقشے قدم پر چل رہا ہے ایک تمھاری کمی تھی تُم بھی شروع ہو جاؤ مجھے غلط ثابت کرنے پر ،،

دیکھیں ماما بابا کو ہم سب کو چھوڑ کر گئے اب بارہ سال ہونے والے ہیں ، دی جان کی کیا حالت ہے آپ کے سامنے ہے اب تو باز آ جائیں ہم آپ کی اولاد ہیں مگر جو غلط ہے وہ غلط ہے پھوپھو لوگ مجھ سے ملنے آئے ہیں ایک دو روز میں چلے جائیں گے آپ پلیز مجھے ٹھوڑی دیر اُن کے پاس سکون سے بیٹھنے دیں ، میں تھک چکی ہوں اب آرام کروں گی تھوڑا ،، کہتی واک آؤٹ کر گئی پیچھے وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑانے لگی ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

بس ایک آخری نوالا اور ، یہ ایک نابی کے منہ میں اور ایک آمنہ کےمنہ میں،، وہ اُنہیں بہلا کے کھلا رہی تھیں

ہاں ہاں کھلاؤ کھلاؤ ، ہم گدھے ہیں ناں کما کر لائیں اور تُم اُس شخص کی اولاد پر نچھاور کرتی جاؤ جس نے تمہیں اپنے گھر سے باہر نکال دیا تھا

اولاد ہے میری بھائی آپ ایسے انہیں کچھ نہیں کہیں ، اور ویسے بھی کھانا میں نے باہر سے منگوایا ہے اپنے پیسوں کا آپ پر بوجھ نہیں ہے اپنی ماں کا کھا رہی ہے ،، اُنہیں کھلاتی اپنے بھائی کی آواز پر چونکی اور حیران ہوئے بغیر سکون سے جواب دیا وہ عادی تھی ان سب باتوں کی ،،

تُم ان لڑکیوں کے لیے مجھے باتیں سناؤ گی مجھے جس کے گھر میں تُم رہ رہی ہو ،، چلائے تھے

آپ بار بار ایک ہی بات پر کیوں بحث کرنا چاہتے ہیں ، یہ گھر میرے باپ کا ہے اور اُن کے جیتے جی آپ یہ کوئی اور مُجھے ادھر سے نہیں نکال سکتا ،، دھیمے اور ٹھہرے لہجے میں جواب دیا

تمہیں تو میں دیکھ لوں گا ابھی میں کام سے جا رہا ہوں ، غصے سے لال ہوتی آنکھوں سے ان چاروں کو گھورتے ہوئے کہا

اُن کے نکلتے ہی وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی تھیں ، آنکھوں میں اب آنسو تھے اپنی اولاد کے لیے وہ پل پل ترستی تھیں اور جب بھی اُنہیں اپنے پاس لاتی بھائیوں سے ایسی ہی باتیں سننے کو ملتی تھیں ،،

آپ رویں نہیں مما پلیز ویسے بھی ہم تھوڑی دیر میں چلے جائیں گے ناں ،، نور اُنکو روتا دیکھ کر اُن کے پاس آ کر بولی

نور میری جان اپنی بہنوں کا خیال رکھنا ماں آپ کو ملنے آئیں گی ،، تینوں کو خود میں بھینچتے آنسوں کے درمیان بولی

میرب اور صادان کی پسند کی شادی تھی جو دونوں خاندانوں کی رضامندی سے ہوئی تھی مگر بیٹیوں کی پیدائش کے بعد سے میرب کے لیے حالات خراب ہوتے گئے نور آٹھ سال کی اور آمنہ چار سال کی تھی جب اُس کے ہاں تیسری بیٹی نابی پیدا ہوئی ، ساس اور نندوں کے زور پر اور خود اپنی رضامندی سے صادان نے نرمین سے دوسری شادی کی تھی اور شادی کے ایک مہینے کے بعد ہی اُس نے میرب کو طلاق دے دی تھی ، مگر دونوں بڑی بیٹیاں اپنے ساتھ ہی رکھی تھیں ، نرمین اگر بچیوں کے ساتھ اچھی نہیں تھی تو بری بھی نہیں تھی نور اپنا اور آمنہ کے کام اور ضروریات کا خیال خود ہی رکھتی تھی ، آٹھ سال کی عمر میں ہی اُس نے بہت سی ذمہداریاں اٹھا لی تھیں ، میرب ایک ڈاکٹر تھی جس نے پہلے تو اولاد اور گھر کے لیے پریکٹس کرنا چھوڑ دیا تھا مگر طلاق کے بعد ہی اُس نے جوب دوبارہ شروع کر دی تھی اور اپنے باپ اور بھائیوں کے ساتھ رہ رہی تھی بچیوں کو وہ اکثر ملنے لے آیا کرتی تھی ۔ صادان کے ہاں شادی کے دو سال بعد اب اولاد کی خبر کا سن کر اُسے نہ افسوس ہوا تھا نہ ہی خوشی ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

اچھا دی جان میں نکل رہا ہوں ،، ڈائننگ ٹیبل کی سربراہی کُرسی پر بیٹھی معمر خاتون کے ماتھے پر بھوسہ دیتے کہا اپنا کوٹ اٹھاتا وہ آفس کے لئے نکل رہا تھا

خیر سے جاؤ ، اللہ کی امان ،، دی جان نے بھی دعا دی

پھوپھو آپ نے شام کو واپس جانا ہے ناں ،، کچھ یاد آتے مڑا

جی بیٹا تمھارے انکل کو کہا ہے وہ ڈرائیور بھیج دیں گے تو شام تک جاؤں گی ،،

میں بھی بابا کی قبر پر جاؤں گا آپ انکل کو منع کر دیں میں چھوڑ آؤں گا ،،

ہاں ایک ماں کم ہے جو اب تُم اُنکی بیٹیوں کو بھی لے لے کر گھومو گے ،، ڈائننگ ہال میں داخل ہوتی اُس کی ماں نے طنز کیا ،،

نہیں بیٹا انکل تمھارے خفا ہونگے میں چلی جاؤں گی اُس کے ساتھ تُم خیر سے جاؤ آفس ،، اس سے پہلے کے وہ کوئی جواب دیتا پھوپھو فوراً بولیں ،،

ہاں ہاں ٹھیک ہے بہی پہلے میرے بیٹے سے اپنی مرضی کی باتیں کرواؤ اور پھر میرے سامنے معصوم بن جاؤ خوب سمجھتی ہوں میں تُم ماں بیٹی کے ڈرامے ،، فوراً سے جواب آیا ،،

مام مجھے اپنے کام سے جانا ہے اور پھوپھو میرے ساتھ جائیں گی ابھی مجھے آفس کے لئے دیر ہو رہی ہے پلیز بحث مت کریں ، پھوپھو شام کو تیار رہنا میں ڈرائیور بھیجوں گا آفس سے آپ کو پک کرنے ، کہتا باہر نکل گیا

زایان علی خان اسلام آباد سے دو گھنٹے کے سفر پر ہزارہ ڈویژن کی ایک تحصیل سے تعلق رکھنے والے ایک اونچے خاندان کا چشم و چراغ تھا علاقے بھر میں اُسکے باپ دادا کی ایک عزت اور احترام تھا ، وہ بھی خاندان بھر کا لاڈلا مانا جاتا تھا ، اُس کے لڑھکپن میں ہی والد کا انتقال ہو گیا تھا جس کے بعد وہ پورا خاندان اسلام آباد شفٹ ہو گئے ، اُس چھوٹی عمر میں ہی باپ دادا کا کاروبار بہت اچھی طرح نہ صرف سمبھالا تھا بلکہ اُسے اور ترقی کرای دادا کے بنائے ایک ہوٹل سے شروع ہوئے ان ہوٹلز کی اب ایک چین مختلف شہروں میں موجود تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *