Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 07)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 07)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
سوئم کے بعد دعا کے لئے آنے والے لوگوں کا رش کم ہو گیا تھا ، بلال کی بہنیں اور عدیلہ کے بھائیوں کی فیملیز سب اپنے اپنے گھر واپس جانے کی تیاری میں تھے ،،
جو کچھ ہو چکا ہے میرا نہیں خیال کہ ہمیں اِدھر رہنا چاہیے ، میں كمز کم اپنی اولاد کو یہاں نہیں رہنے دے سکتی ،، سب لاؤنج میں بیٹھے تھے جب عدیلہ نے کہا
کیا مطلب تو کہاں جاؤ گی تُم ،، اُسکی بھابھی فوراً بولیں
اسلام آباد میں جو گھر ہے بلال کا وہاں ، کم ہی لوگ اُس جگہ کا پتہ جانتے ہیں ہمارے لیے وه ایک محفوظ ٹھکانہ ہے ،،
مگر عدیلہ یہاں سب ہیں ، قریب میں ہی خاندان بھر کے گھر ہیں تُم لوگ اتنا دور کیسے رھو گے ابھی تو زین بھی چھوٹا ہے ،، نند نے کہا
بیٹا چھوٹا ہو یہ بڑا اُسکے ہونے کا احساس ہی تحفظ فراہم کرتا ہے اور میرا زین تو ایک سال بعد اٹھارہ کا ہو جائے گا چھوٹا نہیں ہے وہ ،، فوراً بولی
یہ سب باتیں ٹھیک کہہ رہی ہو تُم میری بہن مگر ساری زندگی ادھر رھے ہیں بچے تُم امّاں ، الگ ماحول میں یوں اچانک کیسے ایڈجسٹ ہو گے ، بھائی نے کہا
ہو جائیں گے ہم بھائی اور ویسے بھی وہاں کاروبار ہے بلال کا کتنی محنت سے انکل اور بلال نے اُسے کھڑا کیا ہے وہ سب چھوڑ کر ہم نہیں رہ سکتے یہاں ، جواد بھائی سے بات کریں اور اُدھر ہمارے رہنے کا بندوبست کریں بس ،، کہتی وہ اٹھ کر چلی گئی
اور کچھ ہی دنوں میں وہ لوگ اپنا سب کچھ سمیٹ کر آبائی علاقے کو خیر آباد کہتے مارگلہ کی پہاڑیوں میں بسیرا کر چُکے تھے ،،
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
زین کے او لیولز کے امتحان ختم ہوئے ابھی دو دن ہی ہوئے تھے ، ابھی تک کاروباری معاملات جواد ہی دیکھ رہا تھا وہ ایک قابلِ اعتماد دوست تھا اُنکا اس لیے سب مطمئن تھے ،،
زین ،، دروازہ کھولتی عدیلہ اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں داخل ہوتے ہی آواز دی
جی مما کوئی کام تھا ، بلب لگاتے ہی کمرہ روشنی میں نہا گیا بیڈ پر بیٹھا دکھائی دیا
ایسے کیوں بیٹھے رہتے ہو میری جان ،، اُسکے پاس بیڈ پر بیٹھتے کہا بلال کی وفات کے بعد یشفع اور زین غیر معمولی طور پر خاموش ہو گئے تھے کام ہو تو کمرے سے باہر آتے تھے ورنہ گُم سم بیٹھے رہتے
کچھ نہیں ایسے ہی ،، مُسکرا کے کہا
بیٹا تمہارا باپ مرا ہے ابھی ہم تو زندہ ہیں ناں اپنی دادی کو دیکھو کیا حال ہو گیا ہے اُنکا پھوپھیاں تو تمہاری جو گئی ہیں واپس منہ نہیں دکھایا اب تُم ہی نے سنبھالنا ہے ناں اُنہیں ہم سب کو ،، اُسکو غور سے دیکھتی سمجھا رہی تھیں
پھوپھو کو بولا لیں ناں یہاں اگر دادی نہیں ٹھیک تو ،،۔
وہ اپنا گھر سنبھالیں گی ناں ہمیں اپنے گھر کے مسئلہ خود حل کرنے ہونگے جاؤ جا کر بیٹھو اپنی بہنوں کے پاس دادی سے کچھ گپ شپ لگاؤ میرے اُنکے ساتھ تعلقات جیسے ہوں مگر تمھارے وہ باپ کی ماں ہیں ،،
اچھا ٹھیک ،، آہستہ سے بولا
اچھا ایک اور بات بھی کرنی تھی ، میں چاہتی ھوں کہ تُم اپنے بابا کا آفس جوائن کرو کل بھی یہ سب تمہیں ہی دیکھنا ہے تو آج سے کیوں نہیں ،،
لیکن مما میں کیسے مجھے تو نہیں پتہ کسی چیز کا ،،
بیٹا سیکھا سکھایا تو کوئ نہیں آتا ناں سب سیکھتے ہیں وقت کے ساتھ ساتھ اور ویسے بھی جب سے بلال فوت ہوئیں ہیں سارے خاندان کی نظریں اُنکے کاروبار پر ہیں تُم اگر مگر چھوڑو اور آفس جوائن کرو جواد بھائی تمہیں سب سمجھا دیں گے تمھارے بابا کے اچھے دوست تھے وہ ،،
اوکے میں ابھی دادی کو دیکھ لوں ،، کہتا وہ اٹھ کر چلا گیا پیچھے عدیلہ دادی کے لئے اُسکی تڑپ پر منہ بنا کر رہ گئی مگر زبان سے کچھ کہہ نہ سکیں ،
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
میرب کی دوست کی ایکیڈمی میں اُسے اچھی سیلری کے ساتھ جوب مل گئ تھی ،،
اوکے بابا میں نے کھانا فریج میں رکھ دیا ہے آپ دونوں کھا لیجیئے گا میں کالج سے ہی جاؤں گی اکیڈمی ،، عجلت میں انکے کمرے میں داخل ہوتی نور نے کہا
بیٹا اسکی کیا ضرورت ہے پینشن ہے ناں میری تم کیوں خود پر اور بوجھ ڈال رہی ہو ،، صادان نے تڑپ کر کہا
بابا میرا ایسے پڑھانے سے مُجھ پر کوئی بوجھ نہیں پڑ رہا اور میں اپنی خوشی سے پڑھا رہی ہوں آپ پلیز ٹینشن نہ لیں دوائی وقت سے کھا لینا ،،
اوکے چیمپئن اللہ حافظ ،، جاتے ہوئے شاہ میر کو کہتی باہر نکل گئی پیچھے صادان صرف افسوس کرتا رہ گیا جس عمر میں لڑکیاں ماں باپ سے اپنے ناز اٹھواتی ہیں اُس عمر میں اس نے کتنی زمہ داریاں اپنے کندھوں پر اُٹھا رکھی تھیں
کالج سے فارغ ہوتے ہی وہ اکیڈمی آ گئی تھی ،،۔
مے آئی کم ان میم ، آفس کا دروازہ کھٹکھاتے اجازت طلب کی
آئیں پلیز ،، اجازت دی
میرب نے بتایا تھا مجھے آپ کے آنے کا کیسی ہو ،، اپنائیت سے پوچھا
اللہ کا شکر ہے میم ،،
آنٹی کہو میری دوست کی بیٹی ہو یار تُم ، ہنس کر کہا
اوکے آنٹی ، اُسنے بھی مسکرا کر کہا
اچھا مجھے میٹرک کے لیے ٹیچر کی ضرورت تھی تُم بتاؤ کون سے سبجیکٹ پڑھانے ہیں ؟
مجھے کسی بھی سبجیکٹ سے مسئلہ نہیں ہے پر میں پری انجینئرنگ کی سٹوڈنٹ ہوں تو میتھس اور فزکس ذیادہ ٹھیک رہیں گے ، پر اعتماد لہجے میں بولی
دیٹس گریٹ ، آؤ میں تمہیں کلاس سے ملواتی ہوں آج انٹروڈکشن ہو جائے کل سے پراپر کلاسز ، اٹھتے ہوئے کہا
اوکے ٹھیک ،، اُس نے بھی پیروی کی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
شام کو وہ تھکی ہاری جب گھر پہنچی تو لائنچ سے آتی آوازوں نے اُسے متوجہ کیا ، سیدھا اندر جانے کے بجائے کچن کے راستے آئی
کون آیا ہوا ہے آمنہ ،، کچن میں موجود آمنہ سے پوچھا
تایا ابو اور تائی امی آئیں ہیں اپنے مہمانوں کے ساتھ ،،۔
ہیں کیوں ؟ حیران ہوئی ایسا پہلے نہیں ہوا تھا کبھی
آپ کا رشتا لائیں ہیں کسی رشتے دار کے لئے مجھے اتنی ہی آواز آئی تھی پھر بابا نے مجھے بھیج دیا
کیا مطلب ، پاگل تو نہیں ہو گئی وہ ،، اُسے غصہ آ رہا تھا
اچھا مجھے دو چائے بن گئی ہے تو میں لے کر جاؤں ،،آمنہ کے ہاتھ سے چائے کی کیتلی لیتی ٹرالی میں لگائی اور گھسیٹتی لائنچ میں لے گئی
السلام وعلیکم ، اجتماعی سلام کیا
وعلیکم السلام آ گئی بیٹا ،، تائی امی نے خلافِ معمول پیار سے پوچھا ویسے تو وہ کترائی ہوئی ہی رہتی تھیں
جی ، مُسکرا کر کہا اور چائے سرو کرنے لگی
آؤ ہمارے ساتھ بیٹھو ، اجنبی خواتین میں سے ایک نے کہا اُس نے اُن کے ساتھ آئے پکی عمر کے نوجوان کو سر تا پیر گھور کر دیکھا اور اُنکے ساتھ جا کر بیٹھ گئی
کیا کرتی ہو آپ ،، سموسہ سے بھرے منہ کے ساتھ ایک خاتون نے پوچھا
سیکنڈ ائر کی سٹوڈنٹ ہوں اور ساتھ اکیڈمی میں پڑھاتی ہوں ،، بات کرتے ہوئے زبردستی کی مسکراہٹ صاف واضح تھی
تُم نے پڑھانا کب شروع کیا ، تایا فوراً بولے
آج پہلا دن تھا ،، مطلع کیا
اچھا تو پھر آخری دن بھی آج ہی تھا تمھارے پیپرز کے فوراً بعد ہی شادی کی تاریخ رکھیں گے تو تیاریاں کرنا کیا ضرورت ہے جا کر پڑھانے کی اور تھکنے کی ،،
میری شادی میرے علم میں لائے بغیر طہ بھی ہو گئی ،، مان سے اپنے باپ کو دیکھا
تو اتنا اچھا رشتا ہے نہ کرنے کا جواز ہی نہیں ہے ،، جواب صادان کے بجائے اُسکے بھائی نے دیا
بابا ،، اُنہیں دوبارہ پکارا
نہیں بیٹا میں نے ابھی ہاں نہیں کی یہ لڑکا ہے یہ اسکی امی اور یہ اُسکی بہن تُم خود دیکھ لو اگر تمہیں پسند آئے تو ٹھیک ہے ورنہ ۔۔ ، دانستہ بات ادھوری چھوڑی نور کے کندھوں سے جیسے بوجھ ہلکا ہوا ہو
کون لڑکا ،، حیرانی سے ادھر ادھر دیکھا
یہ سامنے ہی تو ہے اپنی دکان ہے اُسکی بیوی شادی کے کچھ مہینوں میں ہی فوت ہو گئی تھی میرے خاندان سے ہے بڑا بھلے مانس لڑکا ہے ،، تائی امی نے جواب دیا
تائی جان بہت ادب سے ایک بات پوچھنی تھی آپ سے ، لہجہ ایک حد تک پرسکون رکھتی اس سات سالہ لڑکی نے کہا
ہممم ،، کھانے میں مصروف تائی نے سر ہلایا
جب رشتا اتنا ہی اچھا تھا تو آپ نے اپنی بیٹی کو چھوڑ کر یہ احسان مُجھ پر کرنے کا کیوں سوچا ،، آواز دھیمی تھی مگر لہجہ بول رہا تھا
کس لہجے میں بات کر رہی ہو تم اپنی تائی سے ، تایا بھڑکے
آپکو یہ نظر آ رہا ہے کہ میں کیسے بات کر رہی ہوں یہ نہیں نظر آ رہا کے تائی جان نے مجھ سے دوگنی عمر کے نوجوان کا میرے لیے رشتا لایا ہے ، آواز دھیمی رکھنے کی کوشش نہیں کی گئی ساتھ بیٹھی مہمان خواتین اس لب و لہجہ پر تیوری چڑھاتے پیچھے کو کھسکی تھیں
کیا کمی ہے اس رشتے میں اچھا کھاؤ گی عیش کرو گی یوں محنت نہیں کرنی پڑے گی ،، تائ اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھیں
ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ تو بات یہ ہے کے میں ایسے کسی احسان لینے سے باز رہی یہ رشتا آپ اپنی جان سے پیاری بیٹی سے طہ کریں مجھے زیادہ خوشی ہوگی ، آپ لوگوں نے چائے پی لی ؟
پہلی بات تائی کو کہتی ان مہمان خواتین سے بولی اُنہوں نے سر ہلایا
اوکے تو آپ لوگ آئے خوشی تو نہیں ہوئی مگر مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں اِس لیے کچھ کہہ نہیں سکتی ہاں آئندہ اس ایڈریس پر بھولے سے بھی نہیں آنا آپ کے جانے سے خوشی ہوگی ،، مُسکرا کر کہتی اُنہیں پہلو بدلنے پر مجبور کر گئی
صادان تُم دیکھ رہے ہو اپنی اولاد کو جسے بات کرنے کی تمیز تک بھول گئی ہے ، اُسکے بھائی نے پُکارا
ٹھیک کہہ رہی ہے نور کوئی جوڑ نہیں بنتا میری بیٹی کا اس آپکے لائے نوجوان سے ،، پُرسکون مسکراہٹ سے کہا
دیکھ لینا یہ لڑکی کوئی گلُ کھلائے گی ،، غصے سے کہتے وہ باہر نکل گئے پیچھے سب باری باری خاموشی سے باہر تھے ،،
آمنہ میر آؤ چائے پیو باتوں میں مہمانوں کو زیادہ کھانے کا موقعہ نہیں ملا ایسے ہی چیزیں ضائع ہونگی ،، نور ایسے تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
بلال کے قتل کو ایک مہینے سے اوپر ہو چُکا تھا مگر اصل قاتل کا پتہ نہ چل سکا تھا ، سی سی ٹی وی کیمرے سے جو شخص گولی مارتے نظر آیا تھا وہ ایک پیشہ ور قاتل تھا مگر ابھی تک اُسکا بھی پتہ نہیں چلا تھا
انکل اتنے دن ہو گئے ہیں پولیس کو کیوں نہیں مل رہے قاتل ،، زین آفس میں بیٹھے جواد سے بولا
پولیس اپنی طرف سے کوشش تو کر رہی ہے ناں بیٹا ، اور ویسے بھی وہاں کیس کو فالو کرنے کے لئے کوئی نہیں ہے ، سمجھآنا چاہا
وہاں مامو ہیں پھوپھا ہیں میرے وہ دیکھ رہے ہیں ناں تفتیش ،،
ہمم ، جواد نے سمجھتے ہوئے کہا
دیکھو زین وہ سب لوگ تمھارے سامنے کہہ رہے ہیں کے ہم تھانے جا رہے ہیں پولیس سے تعاون کر رہے ہیں مگر ایسا نہیں ہے میں جب بھی پتہ کرتا ہوں معلوم ہوتا ہے کے ہفتوں سے کوئی نہیں آیا ، میرا مقصد تمہیں اُن سے بدگمان کرنا نہیں ہے سب کی اپنی زندگی ہے اپنی ترجیحات ہیں ، اُنہیں نہ بلیم کرو خود سے کام کرنا شروع کرو بلال کے قاتل کو پولیس آج نہیں تو کل پکڑ ہی لے گی اور ماسٹر مائنڈ کا بھی معلوم ہو جائے گا ، مگر یہ سوچا ہے تم نے جس انسان نے روشنی میں بلال جیسے جانے مانے انسان کو قتل کر دیا ہے وہ تُم لوگوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے ، اسلام آباد منتقل ہونے کا فیصلہ اچھا تھا بھابھی کا اب تُم نے آفس جوائن کر لیا ہے ہمت بھی کر لو اور اپنی بہن بھائی دادی اور اماں کو پروٹیکٹ کرو ، سمجھ رہے ہو ناں میری بات ؟
جی انکل آپ مجھے کام سمجھا دیں میں دیکھ لونگا ،، عزم سے کہا
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
وقت گزرتا گیا اور ان سب کی زندگیوں کی گاڑی بھی اپنی رفتار سے سفر کرتی رہی ، زین نے اپنے باپ دادا کا کاروبار سنبھال رکھا تھا ، بلال کو قتل کرنے والا شخص ایک دو اور قتل کے الزام سمیت اسکے قتل میں گرفتار ہو چُکا تھا مگر اصلی قاتل کا نام اپنی زبان پر نہیں لایا تھا ،،
نابی ساتویں جماعت میں پروموٹ ہوئی تھی جبکہ آمنہ نے میٹرک پاس کر کے کالج میں داخلہ لے لیا تھا اور نور نے سیکنڈ ایئر کے پیپرز کے بعد یورنیورسٹی میں داخلے کے لیے اپلائے کیا تھا ، شاہ میر دس سال کا ہو گیا تھا مگر اُسکی اسکولنگ تینوں بہنیں اور والد کر رہے تھے ، اُسے دُنیا سے بالکل ہی چھپا کر بھی نہیں رکھا گیا بلکہ باہر کھیلنے ، شوپنگ اور گھومنے لے جایا جاتا تھا اور نہ ہی اسے اُن لوگوں میں رہنے دیا گیا تھا جو اُسکی ذات کی نفی کریں بلکہ مُکمل اعتماد فراہم کیا گیا تھا ، اُنکے تایا چچا سے تعلقات رشتے سے انکار کے بعد سے ختم ہی تھے ،،
میرب کے والد کا انتقال ہوگیا تھا ، بھائیوں کے برے رویہ کا اثر نابي پر نہ پڑ جائے اس لیے اُسے نور کی طرف ہی چھوڑ دیا تھا ہاں فون پر بات روز ہی ہوتی تھی اور ملاقات بھی ہوتی رہتی تھی ، آج کل میرب کو کچھ کمزوری محسوس ہو رہی تھی اور طبیعت خراب رہتی ڈاکٹرز نے جس بات کا شک ظاہر کیا تھا اسکے سچ ہونے کا سوچ کر ہی اُسکا دل ڈر رہا تھا ۔
