Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 19)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 19)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
دادی کی وفات نے سب پر غم کے پہاڑ توڑے تھے اگر کسی پر اثر نہیں ہوا تھا تو وہ عدیلہ تھی ، جس کی رسی دراز تھی ،، یشفع بھی اگلے ہی دن کی فلائیٹ لے کر پاکستان آ گئی تھی ،،
اس وقت دونوں شگفتہ بیگم کے کمرے میں بیٹھے خالی کمرے کو دیکھ رھے تھے ، اُنکی ماں کے پاس اولاد کے لئے وقت نہیں تھا اور باپ زیادہ تر کام کے سلسلے میں گھر سے دور رہتے تھے جب ادھر ہوں بھی تب بھی دونوں میاں بیوی کی نوک جھونک میں اولاد کے لیے کم ہی وقت نکلتا جس شخصیت نے اُنہیں پال پوس کر بڑا کیا ، اُنکی پرورش کی ، اُنہیں صحیح اور غلط کا فرق بتایا تھا وہ اُنکی دادی تھی ،،
مجھے لگتا ہے میرا دل پھٹ جائے گا یشفع ،، بیڈ پر دادی کی جگہ بیٹھتا بولا
ہمت کریں بھائی وہ بہتر جگہ ہونگی ،، اُسکا کندھا تھپکتی کہہ رہی تھی
میری شادی دیکھنے کی کتنی خواہش تھی ناں اُنہیں ،،
ہمم ، مگر وہ اب آپ کے لیے مطمئن تھیں نور کو ملنے کے بعد سے میری بات ہوئی تھی اُن سے آپ کا رشتا طہ ہونے کے بعد اور اتنا خوش میں نے اُنہیں کبھی نہیں دیکھا تھا ،، وہ بتا رہی تھی
ہاں تبھی تو نکاح کے فوراً بعد ہی اپنے فرائض سے دست بردار ہو گئی ،، آنکھیں اشکبار تھیں
باجی آپکو عدیلہ باجی بولا رہی ہیں ، وہ باتیں ہی کر رھے تھے جب ملازمہ پیغام لے کر آئی تھی ، نندوں کو وہ پہلے ہی یہاں سے بھیج چُکی تھی مگر اپنی اولاد کو ایسے دادی کے لئے ہلکان ہونا انہیں بلکل پسند نہیں آ رہا تھا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
شگفتہ بیگم کی وفات کی وجہ سے کیس ملتوی ہوتا جا رہا تھا اب تک خاندان میں بہت سے گٹ جوڑ ہو چکے تھے ،
کمرہ عدالت میں جہاں زین اور حامد موجود تھے وہیں مخالفین سے معاملات طہ پانے والے خاندان کے بہت سے لوگ موجود تھے ،،
تُمام گواہان اور ثبوتوں کے مدعے نظر رکھتے ہوئے بلال ملک کے قتل کے جرم میں ملوث ملزمان کو عدالت سزائے موت سناتی ہے ،، فیصلے کی آواز گونجی
The Court is adjourned
جج کی بات پر سکتے میں گیا زین ، حامد کے کندھا ہلانے پر ہوش میں آیا مگر ایک باغی آنسو آنکھ سے نکل کر بہ چکا تھا ، جہاں بلال کا غم تازہ ہوا تھا وہاں ہی بیٹے کے قاتلوں کا انجام دیکھنے کی حسرت لیے رخصت ہوئی شگفتہ بیگم کے دُکھ کے لیے دل رو رہا تھا ۔
عدالت سے تھوڑا دور ایک گاڑی دیکھ کر اُس کے پیچھے ہی اپنی گاڑی لگا دی اور دروازہ کھولتا باہر آ گیا ، تب تک دوسری گاڑی سے آفیسر بھی باہر آ چکے تھے ،،
مبارک ہو میرے دوست ،، اُسکی طرف آتے مسکرا کر کہا
شکریہ شعیب جواد میں ساری زندگی تمہارا احسان مند رہوں گا ،، بغل گیر ہوتے بولا
نہیں زین تُم ایسے نہیں کہو یہ میرا فرض تھا مجھے بھی انکل بہت عزیز تھے ، اور اُنکی وفات پر میں نے اپنے بابا کو بہت ازیت میں دیکھا تھا اور تمہیں پل پل تڑپتے ہوئے دیکھا تھا اور آج میں نے اپنا اُس وقت کا خود سے کیا وعدہ پورا کر لیا میں بہت خوش ہوں ،،
اللہ دادی اور انکل کی اگلی منازل آسان فرمائیں ،، دل سے کہا
آمین ، کہتا دونوں ساتھ ساتھ چلتے آگے بڑھ گئے برسوں کا ساتھ تھا دونوں کا ہر خوشی اور غم کے سچے ساتھی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
دیکھو زین بلال کو مرے سالوں بھیت چُکے ہیں تُم کیوں اب خاندان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر تلے ہو ،،
خاندان کے کچھ لوگ اس وقت صلح نامہ لیے زین کے گھر سے منسلک بیٹھک میں بیٹھے تھے ،،
محترم ، باپ دس دن پہلے مرے یہ دس سال پہلے زخم کبھی نہیں بھرتا اور نہ ہی کم ہوتا ہے میرا فیصلہ وہی ہے جو پہلے دن تھا میں اُن ملزمان کو کبھی معاف نہیں کروں گا ، جب میرا باپ مرا تھا تب تو آپ لوگ نہیں آئے تھے ہمیں سہارا دینے ، میرا میرے بہن بھائیوں کا بچپن نہیں لوٹا سکے آپ لوگ ، تو آج کیوں آئے ہیں ،،وہ پھٹ پڑا تھا
دیکھو زین یہ وقت ایسے جوش میں آنے کا نہیں ہے ایسے صرف دشمنی بڑھے گی خاندان میں بس ،،ایک اور بزرگ بولے
مُجھے اس سب سے کوئی سروکار نہیں ہے ،، کمال بےنیازی تھی لہجے میں
خاندان کے بزرگ تمہارے دروازے پر آئیں ہیں اور تُم اپنی نہ سہی اپنے باپ دادا کی عزت کا ہی خیال رکھ لو ،، ایک اور آواز آئ
جی اُنہیں کی عزت کا ہی تو خیال کر رہا ہوں میں اب تک آپ لوگ آئے کوئی اور موقع ہوتا تو مجھے خوشی پہنچتی مگر معذرت میں اس معاملے میں آپکی مدد نہیں کر سکتا چائے پی کر جائیے گا ،، کہتا اُٹھ کر باہر نکل گیا۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
شادی کچھ ماہ بعد ہونی تھی اس لیے گھر بنوانے کا کام شروع کیا جانا تھا دونوں اسی سلسلے میں آرکٹیکٹ کے آفس میں بیٹھے تھے ، دونوں نے پچاس پرسنٹ شیئر کے ساتھ ہی عدیلہ کے گھر کے قریب ایک پلاٹ خرید لیا تھا تاکہ اُس گھر کے مکینوں سے رابطہ برقرار رہے مگر دونوں خواتین کی الگ آزاد اور خودمختار ریاست ہو ،،
آرکٹیکٹ سامنے ایک چارٹ پر اُنہیں گھر کا نقشہ سمجھا رہا تھا ،،
گراؤنڈ فلور پر ڈرائنگ روم ، گیسٹ روم ، ڈائننگ ہال ، کچن ، ڈرٹی کچن ہوگا ادھر سیڑھیاں ہونگی جہاں سے اوپر آ کر پہلے سیٹنگ ایریا ہوگا اور سامنے ہی ماسٹر بیڈ روم ، اور رائٹ پر دوسرا روم ہوگا ،، واڈروب روم ، اور آفس لفٹ سائڈ پر ہونگے ،،
اگر کوئی تبدیلی کروانی ہو تو ؟
نہیں اچھا ہے تُم بتاؤ نور ،،زین بولا
مجھے بھی ٹھیک لگ رہا ہے اسے ڈن کر دیں ،،سر ہلاتے کہہ رہی تھی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
زین تُم مجھے ایسے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ،، وہ لوگ گھر کے لئے جگہ دیکھ کر آئے تھے جس کی خبر عدیلہ کو پہُںچ چکی تھی اسی لیے اُسکے گھر میں داخل ہوتے ہی اُسکی جانب لپکی ،،
جی ؟ صرف اتنا ہی کہا اور آگے چل دیا
زین میں بات کر رہی ہوں ،، چلائی تھی
مما میں بہت تھکا ہوا ہوں ،،
مجھے بتاؤ کیا کمی ہے اس گھر میں جو تُم اپنے لیے الگ بنا رہے ہو ؟
وہی کمی جو میرے باپ دادا کے گھر میں تھی جدھر آپ نے مجھے میرا بچپن تک گزارنے دیا ،، دوبدو جواب آیا
تُم اپنی ماں سے بدلے لوگے ،، آواز دھیمی ہو گئی تھی
نہیں مما میں ایسا بلکل اُس وجہ سے نہیں کر رہا مگر یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے ، آپ نے اپنی ساس اور نندوں کے ساتھ جو کیا ہے اس گھر میں حکمرانی قائم کرنے کے لیے میں بلکل بھی نہیں چاہتا کے اتنے کانٹے ہٹانے کے بعد بھی آپکی زندگی میں اس گھر کی ایک اور حکمرانی کی اُمید وار آئے ، آپ اور نور دونوں میری زمہ داری ہیں اور مطلب اُسی سے ہونا چاہئے اس سے فرق نہیں پڑے گا کے میں کہاں رہوں گا آپ ہے فکر رہیں ،، کہتا سائڈ سے ہو کر نکل گیا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
یشفع کی نور سے کافی اچھی دوستی ہو گئی تھی اُسکی واپسی شادی کے بعد ہونی تھی ابھی اس کے بہن بھائیوں کو اس کی ذیادہ ضرورتِ تھی ،،نور اور بریحہ کا کاروبار بہت آگے جا چکا تھا ایک دنیا اب اُنکا کام پہچانتی تھی ،،زایان باپ کے قاتلوں کو انجام تک پہنچا کر اب بہت پرسكون تھا ،حامد سزا سے پہلے ہی واپس اپنی فیملی کے پاس چلا گیا تھا ،،
