Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeena Hi Tu Hai (Episode 16,17)

Jeena Hi Tu Hai by Zaroom

زایان مجھے تُم سے بات کرنی ہے ، عدیلہ لان میں بیٹھے زایان کی طرف آتے بولی ،،

جی مما کہیں ،، متوجہ ہوا

میں سوچ رہی ھوں کہ اب تمھاری شادی کر دوں ،، بات کا آغاز کیا اور وہ جانتا تھا کہ آگے وہ کیا کہیں گی اُسے یشفع پہلے ہی بتا چُکی تھی

جی میرا بھی یہی خیال ہے اور لڑکی بھی پسند کر لی ہے ،، مسکراتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کر بولا

کیا مطلب لڑکی پسند کر لی ہے میں تو تمہاری شادی کی بات اپنے بھائی کی بیٹی کے لئے کر چکی ہوں ،، آواز اونچی تھی

کیا آپ نے مجھ سے پوچھا تھا ؟ آئ برو اچکا کر عام سے لہجے میں بولا

ماں ہوں میں تمھاری فیصلے کر سکتی ہوں میں تمہاری زندگی کے اس کے لیے مجھے تُم سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،، آواز ہنوز اونچی تھی

نہیں مما آپ میری ماں ضرور ہیں مگر زندگی کا یہ فیصلہ تو میں اپنی ہی مرضی سے لونگا ،،

آج تک آپ نے جو کہا میں نے کیا ، آپ نے کہا زین شہر جا کر پڑھے گا اور ایک حکم کے بعد زین شہر میں تھا ،،

آپ نے کہا زین اپنے باپ کی موت کے بعد یہاں نہیں رھے گا زین سب کو چھوڑ کر اپنا گھر یہاں اتنے دور لے آیا ،،

آپ نے کہا پڑھائی چھوڑو زین اب کاروبار دیکھو اور اُس عمر میں زین نے وہ سب بھی مان لیا مگر مما اب نہیں ،،

میں شادی اپنی پسند کی لڑکی سے کروں گا کیوں کے مجھے دوسرا بلال نہیں بننا جس کا گھر میں رُکنا محال ہوتا تھا ، لہجہ دھیما مگر تلخ تھا

یہ سب باتیں تمہیں کون سکھا رہا ہے ،، اندر کھائی سے آواز آئی

مما میں کوئی بچہ نہیں ہوں جسے کوئی سمجھاے یہ سکھائے ایک دنیا دیکھ چُکا ہوں اچھا اور بُرا جانتا بوں ، ابھی مجھے تھوڑا سکون کرنا ہے پلیز ،، کہتا اُنہیں حق دق چھوڑ کر اندر چلا گیا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

ڈرائیور کو آنے میں دیر لگے گی تُم جاؤ تمھاری مما انتظار کر رہی ہونگی میں کیفے میں انتظار کر لیتی صادان کا فون بند کرتے پاس بیٹھی ایشل سے بولی ،،

نابی میں تمہیں گھر ڈراپ کر سکتی ہوں ،، آفر کی

ارے نہیں ڈرائیور آتے ہونگے میر کو اکیڈمی چھوڑ کر تھوڑی دیر میں ،،

کوئی بہانہ نہیں تُم بابا کو بتا دو کے میرے ساتھ آ رہی ہو ،، دو ٹوک لہجے میں کہا

اوکے میم ،، فون اٹھاتی ہنس کر بولی اور دونوں گاڑی کی طرف چل دی

اللہ حافظ ،، گھر کے باہر گاڑی رکواتی ایشل بولی

کوئی نہیں اترو تُم بھی گاڑی سے اور میرے ہاتھ کی بنی کافی پی کر ہی جاؤ گی شاباش اترو ،، اپنی سائڈ کا دروازہ کھولتی وہ بولی

اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے نابی پھر کبھی سہی ،،

کوئی پھر ور نہیں اُترو ،، ساتھ گاڑی کا دروازہ کھولا اور دونوں گھر کے اندر داخل ہوئی

واہ کافی تو بہت اچھی بنائی ہے تم نے ، میں بلکل بھی ایکسپکٹ نہیں کر رہی تھی مجھے لگا پھوہڑ ہوگی تُم بھی میری طرح ،، ہنس کر بولی دونوں صادان اور میر کے ساتھ ہی لاؤنچ میں بیٹھی تھیں

ایسی بات نہیں ہے ہماری بیٹی بہت اچھا کھانا بھی بناتی ہیں ،، جواب صادان نے دیا

کافی پی کر زنابیہ اُسے گھر دیکھانے لے گئی ایشل نے اپنی مما کو بتا دیا تھا اس لیے آرام سے پیپرز ختم ہونے کی خوشی منائی جا رہی تھی ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

میں جب پاکستان آیا تھا پڑھائی ختم کرنے کے بعد تب تک بات بہُت بڑھ چکی تھی ،، حامد نے بات کا آغاز کیا زایان بہت غور سے اُسے دیکھ رہا تھا جسم کا ہر عضو کان کا کام کر رہا تھا

بلال بھائی نے ہمیشہ ہم سب کو اپنا سگا بھائی سمجھا تھا ، جب بھی گھر آتے تھے سب کی دعوتیں کیا کرتے تھے ایسے شخص سے شادی کی خواہش ہر گھر میں موجود شاپنگ اور لگژری کی خواہش مند لڑکی کی ہوتی ہے ، اور ایسی ہی خواہش ہماری بہن کی بھی تھی ، عدیلہ بھابھی سے بھائی کا رشتا کیسا ہے یہ تو سارا خاندان ہی جانتا تھا اور اسی سے فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ فائزہ نے کیا ،،

بھائی کے سامنے سج دھج کر آنا ، کھانے بنا کر بھیجنا اور اُنہیں فون اور میسج کرنا معمول تھا مگر اُنھوں نے کبھی نگاہ غلط بھی اُس پر نہ ڈالی تھی ، سب کزنوں کی اکلوتی بہن تھی وہ بجائے اُسے روکا جاتا سب بلال کے گرد گھیرا بنانے لگے مگر یہ بھی کام نہ آیا اور فائزہ کی شادی کروا دی گئی ، دل میں بلال بھائی کی محبت لیے وہ رخصت تو ہو گئی مگر جلد ہی شادی ختم کر کے واپس آ گئی خاندان بھر میں اُس کے سسرال والوں نے اُسے بدچلن مشہور کر دیا جس سے اُس نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی ، اور سب جو اُسکے احساسات سے واقف تھے اُن کے دل میں بلال بھائی کے خلاف لاوا بڑھتا گیا ،،

جب عرشمان پیدا ہوا تو سب حسد میں پاگل ہو گئے اور ان کے قتل کا منصوبہ بنایا گیا ، جس میں بلال بھائی سے کسی کام سے ملنے کے بہانے اُنکا راستہ اور گھر سے نکلنے کا وقت معلوم کیا گیا اور پیشہ ور قاتل ہائر کیا گیا ، میں اُسی ہفتے پاکستان آیا تھا اور اس رات اُنکی محفل میں اتفاقی طور پر موجود تھا ، اُس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی تبھی میں نے میسج بھیجا تھا مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا ،،

بات ختم کر کے اُسے دیکھا دونوں کی ہی آنکھیں نم تھی ، کچھ کمیاں وقت بھی پوری نہیں کر سکتا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

انکل میں نے مما سے بات کر لی ہے رشتے کی مگر میں چاہتا تھا کے آپ سے خود پہلے مل لوں ، اس لیے ایسے بتائے بغیر چلا آیا

بہت اچھا کیا ،، مُسکرا کر بولے

میرے والدین کی زندگی ہمارے سامنے کبھی بھی مثالی نہیں رہی تھی بچپن سارا اُن دونوں کی نوک جھونک میں گزرا تھا ، تب مجھے زبردستی ہاسٹل بھیج دیا گیا وہاں میری مُلاقات نور سے ہوئی تھی ، اُنہی دنوں آپ کی اور میرب آنٹی کی علیحدگی ہوئی تھی ، وہ وقت جیسے نور کے لئے مُشکل تھا ویسے ہی میرے لیے بھی صبر آزما تھا ، ہم کتنی ہی دیر بغیر کسی جذبے کے اور غرض کے ایک دوسرے سے بات کرتے تھے اُس عمر میں پیار اور دوستی کا اصل مطلب بھی نہیں معلوم تھا ، مگر مجھے اُسے اپنے دُکھ بتانا اچھا لگتا تھا کیوں کے وہ مجھے ہمیشہ بهتر مشورہ دیتی تھی اور ہمت ملتی تھی ،

پھر ایک دن اچانک اُسکا اسکول آنا بند ہو گیا میں اُسکا انتظار کرتا رہا اور کچھ ہی وقت بعد بابا کی ڈیتھ ہو گئی میں بلکل اکیلا تو ہو گیا مگر اُس کے ساتھ بہت سی زمہ داریاں بھی میرے کندھوں پر آ گئی ، اپنی الجنوں میں میں نور کو بھلا چکا تھا مگر ایک دن جب مما نے مجھے کہا کہ آفس جوائن کرو میرے زہن میں نور کا خیال آیا اور پھر اُسکی ساری باتیں جو وہ اپنے بارے میں بتاتی تھی کہ وہ مما کے بعد کیسے سب کرتی ہے اور انکل مجھے بھی راستے نظر آنے لگے ،،

زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی تھی جب مجھے نور ایک کامیاب کاروباری خاتون کے طور پر ملی اُس دن میں کتنا خوش ہوا تھا کہ بتا نہیں سکتا ، میں ابھی بھی اُسکی صرف عزت کرتا ہوں پیار اور محبت کا رشتا نہیں ہے ہمارے درمیان مگر اعتبار ، انڈرسٹینڈنگ ، اور عزت کا رشتا ہے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اُس کو بہت خوش رکھوں گا ،، دھیمی آواز میں بات ختم کی اور صادان کے سارے خدشات غلط ثابت کر دیے

تمھاری ان باتوں کو سن کر آج مجھے اپنی بیٹی پر نئے سرے سے فخر محسوس ہوا ہے ، نہ جانے میرے کن اعمال کا بدلہ ہے میری اولاد ،، آواز نم تھی

اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے اور مزید تکالیف اور مصیبتیں ختم کر دے تم دونوں کے نصیب سے ،، دل سے بولے

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

زایان نے اپنی دونوں پھوپھیوں کو بولا لیا تھا ، وہ اپنی زندگی کے اس اہم فیصلے میں اپنے باپ کی بہنوں کو شریک رکھنا چاہتا تھا ،، سب ہی اس وقت نور لوگوں کے گھر میں بیٹھے مسکرا رہے تھے ، مگر عدیلہ بیگم نے عادت سے مجبور ایسی زحمت نہیں کی تھی ،

ما شاء اللہ بہت پیاری بچی ہے ،، دادی اپنے ساتھ بیٹھی نور کو دیکھتے بولیں

ہاں اللہ نظر بد سے بچائے اور دونوں کو ہمیشہ ایک ساتھ خوش رکھے ،، پھوپھو بولیں

یہ میرے کنگن ہیں جو میری ساس نے مجھے پہنائے تھے میری منگنی پر میں نے اپنے زین کی بیوی کے لئے رکھے تھے یہ اب تمھارے ہوئے ،، اپنے ہاتھ سے بیش قیمت کنگن اُتار کر اُسے پہناتی بولیں

میرا زین بہت ہمت والا ہے کم تُم بھی کسی سے نہیں ہو میرے کنبے کو جوڑ کر رکھنا اور زین کا بہت خیال رکھنا ، میں حکم نہیں کر رہی صرف سمجھا رہی ہوں میاں بیوی کی عزت الگ نہیں ہوتی ، میرا کچھ نہیں پتہ میں دوبارہ کبھی اپنے زین کی دلہن کو دیکھ بھی سکوں یہ نہ اس لیے بول رہی ہوں پریشان نہ ہونا اُسکے ماتھے پر بوسہ دیتی بولیں

ایسے نہ کہیں اللہ آپکو ہمارے سر پر سلامت رکھے ،، نور نے مسکرا کر کہا ، اپنی دادی کا پیار تو اُسے نصیب نہ ہوا تھا جو اُنہوں نے پوتے کے لیے رکھا تھا ، ماں کے ساتھ بھی نہ رہ سکی مگر شگفتہ بیگم کا اُسے یوں مان بخشنا اُنکو اسکے دل کے بہت قریب لے آیا تھا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

میر نور کے کہنے پر عرشمان کو گھر دکھا رہا تھا ، ایشل اور نابی تو اس اتفاق پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں یہی وجہ تھی کہ ایشل نور اور نابی کے ساتھ کھڑی چائے کی چیزیں لگا رہی تھی ساتھ ہی دونوں مل کر نور کے کان کھا رہی تھیں ،،

یہ میرا روم ہے ، ایک کمرے کا دروازہ کھولتے میر نے کہا

یہ بہت اچھا ہے ، تُم جب میرے گھر آنا میں بھی تمہیں اپنا روم دکھاؤں گا اُسکا کلر کنٹراسٹ بھی تمہارے روم جیسا ہے ،، مسکرا کر عرشمان بولا۔

ہاں دیکھو ہماری چوائس کتنا ملتی ہے ،، ہنس کر بولا

بلکل اچھا یہ کیا ہے ،، کمرے سے ملحقہ سٹڈی روم کی طرف اشارہ کرتے بولا

یہ میرا سٹڈی روم ہے ، آپی نے اسپیشل سیٹ کروا کر دیا ہے ورنہ زنابیہ کے ساتھ شیئر کرنا پڑتا تھا اور مجھے بلکل مزا نہیں آتا تھا ،، اس کی بات پر عرشمان ہنس پڑا

ہنس کیوں رھے ھو ،،

کیوں کے میرے ساتھ بھی سیم یہی سین تھا تو میں نے اپنا روم سیکنڈ فلور پر شفٹ کروایا تھا ،،

سب سیم ،، ہنس کر کہا

اوکے پھر فرینڈ شپ ؟ ہاتھ بڑھا کر بولا

آف کورس ،، اُس نے بھی ہنس کر ہاتھ ملا لیا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———

خاندان بھر کو منگنی کی خوشی میں دعوت پر مدعو کیا گیا تھا ، زایان کی پھوپھیاں ، ماموں ، بلال کے چاچو اور ماموں کے خاندان سے لوگ آج ان کے گھر جمع تھے ،،

حامد خود کو اب بہت ہلکا محسوس کر رہا تھا مُسکرا کر سب سے ملتا زین کے پاس آ کر کھڑا ہوا ہاتھ میں جوس کا گلاس تھا ،،

کیا سب پلان کے مطابق ہو جائے گا ،، بظاھر مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتا اُس کے پاس ہوتے بولا

جی بس تھوڑی دیر انتظار ،، ہنس کر اُسکے پاس ہوتے کہا دور سے دیکھنے والے کسی بھی انسان کو ان پر شك نہیں ہو سکتا تھا ،،

دعوت اپنے عروج پر تھی سب ہی خوشیاں منا رہے تھے فرق صرف اتنا تھا کہ کچھ دل سے خوش تھے اور کچھ حسد اور جلن کی آگ میں ڈوبے مصنوئی مسکراہٹیں لیے موجود تھے ،،

عدیلہ یہ تُم نے ٹھیک نہیں کیا میری بیٹی کو آس لگا کر کہیں اور رشتا طہ کر دیا ،، اُسکی بھابھی لال چہرے کے ساتھ کھڑی بول رہی تھیں

بھابھی آپ فکر کیوں کرتی ہیں میں یہ شادی نہیں ہونے دونگی میرا بیٹا ایسا قابو کیا ہوا ہے اُنہوں نے کے کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ہے ، تھوڑے عرصے میں یہ بھوت اُتار دوں گی میں ،، لہجہ میں کڑواہٹ گھلی تھی

ہاں جو بھی کرنا ہے جلدی کرو میں اپنی بیٹی کو بٹھا کر نہیں رکھ سکتی اُس کے لیے ،، بھابھی بولیں

آپ فکر ہی نہ کریں کہہ رہی ہوں ناں ، یہ شادی نہیں ہوگی تو نہیں ہوگی ،، دونوں آپس میں لگی تھیں یہ جانے بغیر کے اُنکی یہ راز و نیاز کی باتیں کوئی اور بھی سن رہا ہے

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

سب باتوں اور کھانے میں مصروف تھے جب دروازے پر پولیس موبائل کا سائرن سنائی دیا سب ہی کی آنکھیں بند دروازے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے آگے پیچھے پولیس وردی میں ملبوس نوجوان داخل ہو رہے تھے ۔

یس سر ،، گھر کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے زین چہرے پر مصنوئی تاثرات لیے اُنکی جانب گیا ،،

یہ دعوت اُنکے پلان کا حصہ تھی ، اُسے خاندان کے حسد میں پاگل لوگوں کو اپنی خوشی میں شریک کرنے کا کوئ ارادہ نہیں تھا مگر کہیں حامد اور اُسکی مُلاقات پر اُنکو شک نہ ہو جائے اور فرار نہ ہو سکیں اس لیے یوں پورے خاندان کو مدعو کیا گیا تھا ، اور آفیسر آریسٹ وارنٹ لیے اُنہیں گرفتار کرنے آ گیا ۔

You are under arrest Mr Malik

اُسے نظر انداز کرتے جا کر حامد کے بھائی اور ماسٹر مائنڈ کے پاس جا کر رکا ،،

کیا مطلب مُجھے کیوں گرفتار کر رہے ہیں ،،

صرف آپ نہیں آپکے اُن تینوں ساتھیوں کو بھی جن کے ساتھ مل کرنے آپ نے آج سے دس سال پہلے بلال ملک کا قتل کروایا تھا ،، گرفتار کرو ان سب کو ،، چاروں کی طرف اِشارہ کرتے بولا

کیا مطلب ہے آپکا ،، آواز حامد کی تھی بولنے کو وجہ سارا سچ خاندان والوں کے سامنے لانا تھا

آفیسر نے فون کھولا اور اُس دن کی کال ریکارڈنگ کھول دی جیسے جیسے آوازیں آتی رہی شگفتہ بیگم کرسی پر ڈھتی گئی ، بیٹے کے قاتل اتنا عرصہ اُنکی آنکھوں کے سامنے اور اتنا قریب رھے ، آج زخم پھر سے ہرے ہو گئے تھے

کچھ ہی لمحوں میں اُن چاروں کو ہتھکڑیاں لگا کر پولیس موبایل پر بٹھایا جائے رہا تھا ۔ جسے دیکھ کر زین کا دل مطمئن ہوا ، زخم بھرا تو نہیں جا سکتا تھا مگر محنت رنگ لے آئی تھی ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

اگلے ہی دن ملزمان کو کورٹ میں پیش کر دیا گیا تھا ، پولیس نے ثبوت دکھا کر ریمانڈ کا مطالبہ کیا تھا جو کے مان لیا گیا ،

کیا خیال ہے تمہارا اُنکی جانب سے کوئی کیس لڑے گا ؟ آفیسر زین کو دیکھتے بولا

ٹوٹل چھ کزن تھے بابا لوگ ، حامد انکل اور بابا کے بعد یہ چاروں ہی ہیں جو اس وقت حراست میں ہیں کوئی ہے تو نہیں انکا کیس لڑنے والا اب اگر کوئی نکل آیا تو کچھ نہیں کہہ سکتے ،،

تُم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، دفعتاً ہتھکڑیاں لگے وہ چاروں سامنے سے آتے نظر آئے جو چیخ چیخ کر اُسے دھمکا رھے تھے ،،

اچھا میں جا رہا ہوں اب بہت تھک گیا ہوں اور دادی کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے ،، اُنہیں نظر انداز کرتا بولا

کیا ہوا دادی کو ؟ آفیسر فوراً بولا

کل ان سب کو دیکھ کر بہت دلبرداشتہ ہو گئی تھیں بس اسی وجہ سے ،،

اچھا چلو تُم جاؤ پھر ،، بغل گیر ہوتے نکل گیا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

چھٹی کا دن تھا اس لیے سست دن شروع ہوا تھا نُور کچن میں کھڑی ملازمہ کو کھانے کا بتا رہی تھی ، نابی فون پر مصروف تھی اور صادان میاں اخبار کے ورک اُلٹا رہے تھے جب دروازے پر گھنٹی کی آواز پر گھر کا سب سے چھوٹا بھائی اور دروازے کے قریب موجود میر دروازہ کھولنے گیا ،،

سرپرایز ،، دروازے پر کھڑی آمنہ نے چہکتے کہا سب ہی اس آواز پر دروازے کی جانب مڑے اور اس سے ملنے لگے ،،

تُم نے بتایا کیوں نہیں ہم تمہیں ائیر پورٹ سے پک کرنے آ جاتے ،، نور بولی

اگر بتا دیتی تو آپ لوگوں کے چہروں کے یہ تاثرات کیسے دیکھتی ،، مُسکرا کر کہا

ہاں یہ تو ہے ، بتاؤ آنٹی انکل کیسے ہیں ،،

سب ٹھیک اور تمھاری شادی کے لیے بہت سے گفٹ بھی بھیجے ہیں اُنہوں نے ،،

اور میرے لیے ،، نابی فوراً بولی

ہاں تمہارے لیے بھی میری گڑیا تمہیں کیسے بھول سکتے ،، اُسے ساتھ لگاتے بولی

تُم خوش ہو ناں بیٹا ،، صادان نے کہا

جی بابا بہت خوش ہوں انکل انٹی نے کبھی آپ لوگوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ،، مُسکرا کر کہتی اُنہیں پر سکون کیا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

صاحب دادی کی سانس بہت ذیادہ پھول رہی ہے جلدی آئیں ،، زایان لان میں کھڑا ایکسرسائز کر رہا تھا جب ملازمہ بھاگتی ہوئی آئی ،،

کیا ہوا اُنہیں ،، بھاگتے کمرے میں داخل ہوتے کہا جہاں پھوپھو بیٹھی دادی کی پیٹھ مل رہی تھیں

ڈرائیور سے کہیں گاڑی نکالے ، ملازمہ سے کہتا اُنکی طرف لپکا

تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر انتظار کر رہے تھے

ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا پھر اچانک کیوں ،، پھوپھو کے ساتھ بیٹھتے بولا

امّاں تمھاری بہت ٹینشن لیتی ہیں زین ،، وہ بولی

کیسی ٹینشن ،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *