Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 10)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 10)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
میم آپ بہُت اچھا پڑھاتی ہیں آپ نہ جائیں ناں چھوڑ کر ،، میم ہماری کلاسز نہ چھوڑیں پلیز مینیج کر لیں ، کلاس روم میں ہر تھوڑی دیر بعد ایسی آوازیں گردش کر رہی تھیں ،، آج نور کا ایکیڈمی میں آخری دن تھا ،،
بچے میں نے آپ لوگوں کے ساتھ مل کر بہت کچھ سیکھا ہے ،بہت مزہ آیا ہے پر کیا کروں مجبوری ہے مجھے اپنے کام کے لئے وقت نکالنا ہے آپ لوگ دعا کرنا میں کامیاب ہو جاؤں ،، بار بار اُنہیں سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی چار سال اس ادارے کے ساتھ جڑے رہنے کے بعد ایسے چھوڑنا اُسے بھی مُشکل لگ رہا تھا مگر کوئی اور چارہ بھی تو نہیں تھا ،
اچھا میری بات سنئیں ،، سب کو متوجہ کیا
آج سے پہلے میں آپ کو میتھس اور فزکس سولو کرنے کی ٹپس اور ٹرکس بتاتی رہی ہوں مگر آج جو باتیں میں آپ کو بتا رہی ہوں وہ ساری زندگی آپ کے کام آئیں گی ،، سب غور سے اُسے سن رہے تھے
کوئی بھی انسان ہو نیک ، بد ، امیر ، غریب کسی خوش نصیب کے علاوہ سب کو زندگیِ میں کوئی نہ کوئی آزمائش ضرور ملتی ہے جو اگر دیکھیں تو ہمارے اپنے ہی کسی عمل کا نتیجہ ہوتی ہے یہ کبھی والدین کی وجہ سے کبھی نصیب سے ،،
پتا ہے سمجھدار کون ہوتا ہے ؟ جو مشکل حل کرنا جانتا ہو ، جو خود کو اپنی ذات کو اور اپنی دماغی صحت کا خیال رکھنا جانتا ہو ، آپ کو پتا ہے میں جب چھوٹی تھی مجھے صحیح سے اپنی اسکول میٹس بھی نہیں یاد مگر ایک ٹیچر کا دل کو چھو لینے والا سبق نہیں بھولا ،
اُنہوں نے کہا تھا کہ ہم جو بھی کوئی عمل کرتے ہیں اچھا یہ بُرا وہ ملٹیپلاے ہو کر ہماری طرف ہی آتا ہے اس لیے کوئی بھی عمل ایسا نہ کریں جو واپس خود برداشت نہ کر سکیں ،،
کبھی کسی کو اُس کے ظاہر سے جج نہ کریں میک اپ اسٹائلنگ غرض ہزاروں چیزیں ہیں جو آپ کے ظاہر کو بدل دیتی ہیں اس لیے ہمیشہ اُسے چننا جو آپ کے دل کو مطمئن کرے ،
اور ہمیشہ اپنی ذہنی صحت کو برقرار رکھنا وقت اچھا ہو یہ بُرا گزر جاتا ہے اُس کی یہی خاصیت ہے اس لیے کبھی بھی اپنی آنکھوں پر محبت کی یہ نفرت کی پٹی باندھ کر کوئی بھی فیصلے نہ لینا دماغ حاضر رکھنا اور اُس عزت کا پاس ہمیشہ رکھنا جو روز صبح گھر سے نکلتے ہی آپ کے ہاتھ میں خاندان بھر کی ہوتی ہے ، اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے غلط طریقہ کبھی نہ استعمال کرنا محنت کرنا اور صدق و دل سے کرنا ایک دن خود پر فخر کرو گے ،، دھیمی آواز میں کہ رہی تھی
تُم لوگوں کے لئے بہت سا پیار اللہ حافظ ، کہتی اُن سب کو ٹرانس کی کیفیت میں چھوڑتی باہر نکل گئی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
گھر میں داخل ہوتے ہی اُسے میر اور زنابیہ کی آواز سنائی دی ،،
آپی مجھے پہلے نوڈلز بنا کر دیں ، بعد میں شو دیکھ لینا ناں ،، میر بولا
میر آپ تھوڑا صبر کریں پلیز اس شو میں بہت سی امپورٹنٹ انفارمیشن میں ختم کر لوں بنا دوں گی ناں ،، ساتھ بی زنابیہ کی آواز بھی گونجی
السلام وعلیکم ،، لائنچ میں داخل ہوتے اونچی آواز میں سلام کیا وہ دونوں بھی متوجہ ہوئے
آپی مجھے بھوک لگی ہے ، فوراً ہی میر اُسکی طرف لپٹا
کیا کھانا ہے آپ نے ؟ اسے پیار سے پوچھا
نوڈلز ،، معصوم شکل بنا کر بولا
آپی میں زنابیہ کو اتنا کہہ رہا تھا وہ میری بات ہی نہیں سن رہی ، نروٹھے پن سے اطلاع دی
کیوں نابی ،، صوفے پر گرتے انداز میں بیٹھتی اُسے پوچھا لہجہ نہ سخت تھا نہ نرم
مجھے یہ شو دیکھنا تھا ناں آپی ،،
آپ کسی اور وقت بھی تو دیکھ سکتی تھی ناں ؟ نجانے کیا سننا چاہ رہی تھی اُس سے وہ
سوری میر میں آپ کو بنا دیتی ھوں ، فوراً ہی کہا
نہیں چھوڑو تُم میں بنا دیتی ہوں ابھی مگر سنو
ہمیں بہت بار اپنوں کے لیے بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں میری جان ، اگر وہ ہماری زات کی نفی نہ کرتی ہوں تو ان چھوٹے چھوٹے جیسچر سے ہم اپنی دوسروں کی نظروں میں قدر بنوا سکتے ہیں ،، نرمی سے اُس کے بالوں کو کان کے پیچھے کرتی اُسے بہت کچھ سیکھا گئی تھی
آئیں میر آپ میرے ساتھ حجاب پنز اُتارتی میر کو مخاطب کیا
اوکے آپی ، اُس نے بھی اسکی پیروی کی اور اب دونوں کچن میں کھڑے تھے
یہ پین لیں اس میں پانی ڈالیں اور فلیم آن کریں ،، پین کی طرف اشارہ کرتی کُرسی کھینچ کر بیٹھ گئی
آپی میں ، نازوں سے پلے بچے نے حیران ہوتے کہا
جی میر اگر کبھی میں اور نابی گھر میں نہ ہوئیں اور آپ کو بھوک لگی تو کیا کریں گے اس لیے آج میں آپ کو بتاتی ھوں ساتھ ساتھ بنائیں اور سیکھیں کسی پر بھی ڈپینڈ کرنا ہم نے آپ کو نہیں سکھایا ،،
مگر آپی ، منمنایا
میر بات سنئیں گھر کی زمہ داری بیشک ایک عورت کی ہوتی ہیں اور گھر کے باہر جا کر کمانا مرد کا کام مگر ، اب جب آج کے دور میں ہر جنس مل کر کام کر رہا ہے تو قباحت کیوں ، دیکھیں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اپنے کام خود کیا کرتے تھے صحابہ کرام بھی کسی سے سوال نہیں کرتے تھے تو ہم کیوں انا کا مسئلہ بنائیں ، ٹھیک ہے میں آپ سے سارے کام نہ کرواوں گی نہ زمہ داری ڈال رہی ہوں بس آپ صرف اتنا سیکھ لو کے کبھی بھی کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ سمجھ آئی ؟؟
جی ٹھیک ہے آپی ،، سمجھ کر سر ہلاتا پین اٹھانے چل دیا
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ویسے نور مجھے ڈر لگ رہا ہے پتا نہیں کیا ہوگا ہمارے کام کا ،، بریحہ راستے میں کوئ دسویں بار یہ بات کہہ رہی تھی
ارے میری دوست سمجھو اس بات کو کے اگر کام نہ بھی چلا تو کون سا ہمارے گھر کا خرچہ رُک جائے گا یہ ہم سڑک پر آ جائیں گے ، ما شاء اللہ سے اتنے ذرائع ہیں کے ہمارے گھر ہمارے احسان کے بغیئر بھی چل جائیں تو کیا مسئلہ ہے تمہیں ،،۔
نہیں دیکھو میں کہہ رہی تھی کہ یار ہمیں کوئی تجربہ بھی تو نہیں ہے ناں ،،
تو کیا عقل اور دماغ بھی نہیں ہے ؟؟
ہاں وہ تو ہے !
تو بدھو وہ اگر انسان استعمال کرے اور محنت کرے نیت صاف رکھے والدین کی دعا لے تو ہو ہی نہیں سکتا وہ کامیاب نہ ہو ،،
ویسے آپس کی بات ہے ہمارے پاس یہ سب کچھ ہے !.. خوش ہوئی
جی میری عقل سے نابلد دوست ہم اب رسک لے سکتے ہیں آگے جو اللہ کی مرضی ،، ہنستے کہا
دونوں اُن ہنر مند خواتین سے معاوضہ کی منصوبہ بندی کے لیے جا رہی تھیں جن کے ساتھ مل کر کام کرنا تھا ، خود سے اُٹھایے اس قدم پے بہت سے خدشات تھے دل میں مگر قسمت آزمانے نکل گئی تھیں ،،
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
کیا ہو رہا ہے بہی ،، آفس سے آیا تو سیدھا کھیلتی ایشل اور عرشمان کی طرف آ گیا
بھائی میں مان کو یہ کارز دیکھا رہی تھی اور اُنکی انفارمیشن انٹرنیٹ سے بتا رہی تھی ،، کسی بڑی باجی کی طرح ایشل نے ہاتھ ہلا ہلا کر میر کو بتایا
ارے واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے آپ بتاؤ دادو اور مما کہاں ہیں ؟ ادھر ادھر نظریں دوراتے پوچھا
مما شاپنگ پر اور دادی اپنے روم میں سو رہی ہیں میڈیسن لے کر ،، اُسکی بات پر سر ہلاتے اپنے کمرے کی جانب آ گیا ،، شاور لے کر باہر نکلا اور تازہ ہوا کھانے کی غرض سے لان میں چلا گیا مگر دماغ اس وقت کچھ باتوں میں اُلجھا تھا ،،
دیکھو میر جب والدین میں سے کوئی فوت ہوتا ہے تو اُنکا قرض اولاد ادا کرتی ہے مطلب اولاد کو اُنکے والدین کی زمہ داریاں آلاٹ کر دی جاتی ہیں گو کے تمھارے کیس میں تُم پر ذیادہ ضرور ہیں مگر یاد رکھنا کسی بھی انسان پر اتنا ہی بوجھ ڈالا جاتا ہے جو وہ اٹھا سکے اس لیے ٹھنڈے دل سے اپنے لیے مدد کی دعا مانگو تُم ضرور اچھا محسوس کرو گے ،،
آگلی آواز آئی
والدین کے تو دوستوں سے بھی اچھا برتاؤ کا حکم ہے تو تُم اپنے والد کی بہنیں اور ماں کا پوچھ رہے ہو جنہوں نے تمہیں پالا ہے ، اس معاملے میں تو ایک حق رشتے دار کا ایک پالنے والے کا ہے تُم سب کر سکتے ہو بس صرف انصاف کرنا جان لو ،،
مسجد میں ہوئی کل ایک انجان کو اپنی کہانی بتا کر گفتگو اُن کی کہی باتیں اُس کے دماغ میں کسی فلم کی طرح چل رہی تھیں ، اب بہتر محسوس کر رہا تھا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
میر اور نابی کے امتحان قریب تھے اس لیے گھر میں خاص انتظامات کیے گئے تھے دونوں کے سالانہ بورڈ کے امتحانات کو مدعے نظر رکھتے ہوئے ٹیوٹر رکھا گیا تھا کیوں کے شاہ ویر کو ایک اچھی مستقل نوکری مل چکی تھی اس لیے ان کے راستے جدا ہو گئے تھے ،،
کیا آپ نے سولو کر لیا ہے ٹیسٹ میر ،، استاد صاحب نے کہا
یس ہو گیا ،، کاپی اُن کے سامنے کی
اور نابی آپ نے ؟؟ وہ جس کا دماغ کرکٹ اسٹیڈیم میں تماشائیوں کے درمیان تھا چونک کر حیرانی سے دیکھا
آپ نے ٹیسٹ لکھ لیا ہے ؟ دوبارہ کہا۔
کون سا ٹیسٹ میرا تو کوئی ٹیسٹ نہیں ہے ،، الرٹ ہوتی خود کو حاضر ظاہر کیا
جی تو وہ جو آدھا گھنٹا آپ کو سمجھا کر میں نے کہا کہ ایکوئشن اب مجھے خود ڈرائیو کر کے بتائیں وہ میں نے آپ سے مزاق کیا تھا ،، بدمزہ ہوئے کہا جانتے تھے یہ لڑکی پڑھائی میں ہے تیز مگر جب کوئی کام اُس کی شان کے خلاف ہو جائے تو اس سے کوئی بھی اپنی بات نہیں منوا سکتا تھا ابھی تو اسے کرکٹ میچ دیکھنے سے منع کیا گیا تھا
تو کیا آپ سیریس تھے ،، یہ بھولا لہجہ دیکھ کر کوئی بھی اسے معصوم سمجھ سکتا تھا
آپ کا تو میں میم نور کو بتاؤں گی ،، دھمکی دی
کیا ہے سر چھوٹی چھوٹی باتوں پر آپ ایسے ہی سیریس ہو جاتے ہیں ، بپھری تھی
اچھا اب گھوریں نہیں میں کرتی ہوں یاد ،، منہ بناتی کتاب میں سر دے کر بیٹھ گئی
شُکر ہے آخری بورڈ کے ایگزیمز ہیں اب آگے یونیورسیٹی میں سکون تو ہوگا کمزکم منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہی تھی
