Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeena Hi Tu Hai (Episode 14,15)

Jeena Hi Tu Hai by Zaroom

یار کیوں رکھا میں نے یہ سبجیکٹ ؟

ورلڈ وار ٹو کی ہسٹری پر سر کھپاتی زنابیہ نے منہ بنا کر میز کے دوسرے طرف بیٹھی ایشل سے کہا ،،

بُرا وقت بتا کر تو نہیں آتا میں نے بھی اپنی پسند سے رکھا تھا آئی آر سوچا تھا کول سبجیکٹ ہے مجھے کیا پتا تھا یہ سب ہوگا ،، اپنے سامنے پڑی ہسٹری کی کتابوں کی طرف اشارہ کرتی منہ بنا کر جواب دیا

ہیلو ،، ہانیہ نے انہیں بیٹھا دیکھ کر دور سے ہی آواز دی اور انکی طرف چل دی

اے لو اُنکی کمی تھی پہلے ہی دماغ میں بھوسا بھرا ہے یہ آ کر اپنا منجن بیچنے شروع ہو جائیں گی ،، اُسے اپنی طرف آتا دیکھ کر زنابیہ نے منہ بنا کر کہا

آہستہ بولو سن لے گی ،، ایشل نے بھی چبا کر کہا ان لوگوں کے مڈز شروع ہونے والے تھے پہلے تو نیا سبجیکٹ تھا ایڈجسٹ ہونے کے لیے وقت درکار تھا اوپر سے اسائمنٹس اور پریزنٹیشن اور اب میڈز نے انکی بینڈ بجا دی تھی سب ہی آج كل پڑھائی میں مصروف نظر آتے تھے سوائے ہانیہ کے جو اپنے فیشن شو کے ساتھ ہاتھ دھو کر زایان کے لئے ایشل کے پیچھے پڑی تھی ۔ اُنکا روز کا معمول بن چکا تھا کہیں سائڈ پر اُس سے بچ کر بیٹھنا اور پھر اُس کے آتے ہی وہاں سے بہانے کر کے غائب ہونا ابھی بھی اُنہیں یہی کرنا تھا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

کمرے میں آتے ہی وہ پریشانی سے ٹہلنے لگا ،، قتل کے پلان کا اگر اُسے پہلے پتا ہوتا تو وہ بلال کو مل کر بتا دیتا مگر اُسے ابھی معلوم ہوا تھا اور اگر ابھی وہ بلال کو فون کرتا یہ اُس کے گھر جاتا تو سب کو اس پر شک ہوتا ،،

وہی جانتا تھا اتنی دیر ان سفاک لوگوں میں بیٹھنا کتنا صبر آزما تھا سر چکرا رہا تھا دماغ ماؤف ہو چُکا تھا ،،

ہاں کسی ملازم کے فون سے اُنہیں خبردار کر دیتا ہوں ،، اچانک خیال آتے بھاگا اور باہر ایک گن مین کو دیکھ کر اُسکی طرف آیا ،،

اپنا فون دو مُجھے ضروری فون کرنی ہے ،، اُس کے پاس آتے بولا

مگر صاحب میرے پاس بیلنس ہی نہیں ہے ،، فون نکالتے کچھ یاد آتے بولا

ہمم اچھا ٹھیک ہے ،، لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کی اور اندر چل دیا اُسے آس پاس اور کوئی ملازم نہیں دکھائی دیا رات ہو گئی تھی سب سونے چلے گئے ہونگے

کمرے میں داخل ہوتے ہی سامنے پڑی ہر چیز غصے سے نیچے پٹکنے لگا کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ وقت بھی آئے گا اُس پر اپنے جان سے عزیز كزن کا قتل اپنے ہی بھائی کے ہاتھوں دیکھنا پڑے گا ،،

اوہ ہاں میری ایک سیم پڑی تھی الماری میں ،، کچھ خیال آتے الماری کی طرف لپکا اُن کے ایک کزن نے اپنے علاقے کی فرنچائز خریدی تھی اور خاندان بھر کو سیم دی تھی ،، ڈھونڈنے کے بعد اُسے بلاخر وہ سیم مل ہی گئی آن کرتے سوچنے لگا کیا بھیجوں ،،

And jackal

Saw back Here

been a rough

night Ahead

no kittens love

keep that rugs high

Here are insects

ہے ربط سا میسج ٹائپ کیا جن کے پہلے الفاظ جوڑ کر اصل بات نکلتی تھی ، دل سے دعا کرنے لگا کے بلال سمجھ جائے مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

حامد انکل ،، زین حیران ہوا تھا اُسکا نام دیکھ کر اُسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اگر حامد بلال کو بچانا چاہتے تھے تو کس سے اور ایسے کیوں میسج کیا ،،

تُم جانتے ہو انہیں ؟ آفیسر نے کہا

ہاں بابا کے کزن ہیں اور میری اُن سے بات ہوتی رہتی ہے بابا کی ڈیتھ کے بعد وہ اچانک ہی مُلک سے باہر چلے گئے تھے ایک بار کچھ دنوں کے لیے پاکستان واپس آئے تھے بس ،،

ہمم جو بھی ہے وہ بچانا چاہتے تھے اس کا مطلب ہے اُنہیں علم تھا مگر سوال یہ ہے کے اُنھوں نے یہ طریقہ کیوں اختیار کیا ،، سوچ سوچ کر بول رہا تھا

مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہی یہ بات ،، زین کی بھی متفکر آواز گونجی

اچھا اب میں حامد کے باقی نمبر کی ڈیٹیل نکلوا لیتا ہوں قتل کے آگے پیچھے کی ہمیں یقیناً سوراغ مل جائے گا ،، آفیسر کا جواب آیا

ہاں ان شاء اللہ ،، وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

ارے یہ دیکھو کون آیا ہے آج ؟؟ ایک لڑکے نے کہا

ارے جناب تھوڑا وقت ہمیں بھی دی جیے ،، دوسرا بولا

چلیں کہیں جا کر کافی پیتے ہیں جانو ،، تیسرے لڑکے نے کہا اب بس اُسکے صبر کی حد ختم ہوئی

اپنے اِرد نظر گمائی تین اونچے لمبے نوجوان اُس کے گرد چکر کاٹتے خباثت بھرے لہجے میں بول رہے تھے ، میر زنابیہ کی کچھ کتابیں لینے مارکیٹ آیا تھا اس کے ایگزامز ہونے والے تھے خود نہیں آ سکتی تھی ،،

یو ÷÷÷ ،، ہاتھ میں پکڑا کتابوں سے بھرا بیگ سامنے شخص کو ایسے مارا کے وہ سنبھل نہ سکا اور نیچے گر گیا وہی بیگ اُدھر سے ہی پیچھے لے جا کر پچھلے کو مارا تب تک تیسرا لڑکا وہاں سے بھاگ چُکا تھا ،،

زمین پر گرے شخص کے سر سے خون آ رہا تھا اس لیے پہلے دوسرے کی طرف مڑا اور مکے لاتیں گھونسوں کی بارش کر دی اور پہلے کے پاس ہی دھکیل دیا ،، اُنہوں نے اس صنف سے ایسی کوئی توقع نہیں کی تھی اب تک آس پاس لوگ اکٹھے ہو چُکے تھے ،،

مجھے اللہ نے بنایا ہے میرا جنس اُسکا انتخاب تھا ، تُم لوگ کون ہوتے ہو مجھ پر اللہ کے بنائے انسان پر ، اُسکے وجود پر اُنگلی اٹھانے والے ،، بہنوں اور باپ کی پرورش ہی تھی جو نہ وہ ڈر کر بھاگا نہ اپنی پہچان پر شرم کھائی بلکہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا آس پاس کھڑے لوگ سن تھے کچھ نہ بول سکے ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

واؤ نور میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے ،، بریحہ چیختے ہوئے بولی

زیادہ اچھلو نہیں آویں کوئی پرینک کر رہا ہوگا وہ ،، سر جھٹکا

نہیں ایسے اتنے کھلے لفظوں میں زین بھائی نے تمہیں شادی کے لیے کہا اور تُم کہہ رہی ہو کے پرینک ہوگا ،، منہ بنا کر کہہ رہی تھی

ہاں تو یہی ہو سکتا ہے میں اور وہ کیسے شادی کر سکتے ہیں ،، ہنسی تھی جیسے اپنی ہی بات سے محظوظ ہوئی ہو

کیا مطلب کیا کمی ہے تُم میں؟

کمی نہیں میں سوچ ، انڈرسٹینڈنگ کی بات کر رہی ہوں اور یہ تو واضح ہے ہم اچھے دوست ہو سکتے ہیں مگر شادی نہیں ،،

میرا ایسا بلکل بھی خیال نہیں ہے اگر دیکھو تو آپ دونوں کی کہانی ، سٹرگل کافی ملتی ہے دونوں نے اپنے بل پر نام بنایا ہے آگے ایک ساتھ گرو کرنا ،، سمجھا رہی تھی

اچھا اب چھوڑو اسے تمہارا ہونے والا دولہا انتظار کر رہا ہوگا جاؤ تُم ،، جان چھوڑاتے کہا

اوہ ہاں چلو بعد میں بات کرتے ہیں ہم ،، بیگ اٹھاتی نکلتے بولی

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

میں زیادہ لیٹ تو نہیں ہو گئی ،، گاڑی سے نکلتے ہی سامنے کھڑے حسنین کو دیکھتی مُسکرا کر بولی

نہیں بلکل نہیں میں بھی ابھی ہی پہنچا تھا ،، دونوں ساتھ اندر داخل ہونے لگے آج ان کی ویڈنگ ڈریس کے لئے ڈیزائنر سے اپائنٹمنٹ تھی اسی سلسلے میں وہ ایک پرتعیش عمارت میں داخل ہو رہے ،،

حسنین آئیے آپ کا ہی انتظار ہو رہا تھا ،، اندر موجود خاتون ڈیزائنر نے مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کیا

آپکی فیانسی کافی کیوٹ ہے ،، بریحہ کو دیکھتے تبصرہ کیا جسے اُس نے مُسکرا کر قبول کیا

یہ کچھ ڈیزائنز ہیں میں نے آپ لوگوں کے لئے نکلوائے ہیں ، سامنے دُمیز پے لگے ڈریسز دکھاتے وہ بتا رہی تھی ،، تھوڑی ہی دیر میں اُنہوں نے برائیڈل جیولری اور ڈریس پسند کر دیا تھا اب باہر نکلتے دکھائی دیے ،،

مجھے تو زین نے ایسا کچھ نہیں بتایا ،، بریحہ نے اُسے زایان اور شاہ نور کا بتایا تو وہ حیران ہوتا کہہ رہا تھا

ہاں تب ہی میں کہہ رہی ھوں آپ بات کریں اُن سے اور بتائیں وہ واقعی سیریس ہیں ؟ بریحہ بولی

ہاں تُم فکر نہ کرو ،، مُسکرا کر کہا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

وہ پاکستان آ رہے ہیں ،، میسج رنگ ٹون پر فون چیک کیا تو سامنے آفیسر کا میسج جگمگا رہا تھا

کون ؟ یک لفظی جواب بھیجا

حامد ملک کل صبح کی فلائیٹ سے اسلام آباد ایئرپورٹ لینڈ کریں گے گھر میں کسی کو مطلع نہیں کیا گیا ،، تفصیلاً جواب آیا

کیا مجھے اُن سے ملنا چاہیے کیا پتا ہمیں اور باتیں معلوم ہو جائیں ؟

ہمم میرا بھی یہی خیال ہے اگر تو وہ تمہارا خیر خواہ ہے تو اُسے اس کیس میں نہیں گسیٹنا چاہیے ہو سکتا ہے وہ تمہیں مل کر خود ہی سب بتا دے ،،

ٹھیک ہے میں کچھ دنوں میں اُن سے رابطہ کروں گا ،،

گڈ لک ،، اتنا کہا اور فون مقطع ہو گئی

میں تمہارے جواب کا منتظر ہوں نور ،، حسنین سے بات کر کے اس نے تفصیلاً بحث کر لی تھی اب نور کو فون کیا

کس بات کا جواب زین ،، مصروف سی آواز آئی

میں نے تمہیں شادی کے لیے پروپوز کیا تھا نور ظاہری سی بات ہے اُسی کا پوچھ رہا ہوں ،، چڑ کر بولا

تمہیں یاد ہے ابھی بھی مجھے لگا پرینک کر کے بھول بھی گئے ہوگے ،، ہنس کر بولی

تمہیں میری فیلنگ مزاق لگی ،،

کیا تم واقعی سیریس تھے ،، اُلٹا اُسی سوال کیا

جی ،، چبا کر بولا

زین تھوڑا وقت لو اور سوچو اس بات کو شادی کوئی کھیل نہیں ہوتا ، پوری زندگی ایک ساتھ گزارنے کا کنٹریکٹ ہوتا ہے ،، سمجھانے والے انداز میں بولی

مادام میں بہت دفعہ سوچ چُکا ہوں اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کے میں کوئی رومیو ، رانجھا جیسے عشق میں مبتلا نہیں ہوں ، اور نہ ہی کوئی ارینج میرج کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں انڈرسٹینڈنگ میریج کرنی ہے مجھے جس کے لیے بہتر آپشن تُم ہو پہلے تمہیں اسی لیے کہا تھا کہ پھر میں حسنین کی شادی سے فارغ ہو کر اپنی فیملی کو لے کر آؤں ،، تفصیلاً گویا ہوا

اوکے میں بابا سے بات کر کے بتاؤں گی ،،

بتانا نہیں ہے میں خود انکل سے بات کر لوں گا تُم اپنا جواب دو ،،

اچھا مجھے کچھ وقت چاہیے ابھی فون رکھتی ھوں ،

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

شادی کی تقریب ایک فارم ہاؤس میں تھی سفید رنگ کے پھولوں سے سجا لان ، قدرتی خوبصورت روشنی ، ایک ایک ڈیٹیل سے سجے سٹیج پر مشتمل جگہ بلاشبہ ایک حسین منظر پیش کر رہی تھی ،،

پھولوں کی چادر کے نیچے بریحہ کو اسٹیج تک لایا گیا کچھ لمحوں پہلے ہی نکاح ہوا تھا ،،

ما شاء اللہ بہت پیارے لگ رھے ھیں آپ دونوں ،، مُسکرا کر بریحه کے ساتھ بیٹھتی نور نے کہا

تُم اور زین بھائی بھی ایسے ہی اچھے لگو گے ،، جواباً وہ بولی

ہاں ان شاء اللہ ،، نور نے دل سے کہا تھا

کافی سوچنے آمنہ سے بات کرنے کے بعد اُس نے زین کو بابا سے بات کرنے کا کہہ دیا تھا صادان بھی بہت خوش تھا حسنین کی شادی کے بعد ہی رشتے کی بات آگے بڑھانی تھی۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

سر کوئ حامد صاحب آئے ہیں آپ سے ملنا چاہتے ہیں ،، ریسیپشن سے اطلاع ملی پہلے تو ایک لمہے کو لگا اُسکا وہم ہے اُنکے پاکستان آنے کو جیسے اُس نے اپنے حواسوں پے سوار کیا ہوا تھا اب اُسے آوازیں بھی آنے لگ گئی ہیں مگر تصدیق کرنے پر بھی جب وہی سنائی دیا تو آنے کی اجازت دی ،،

السلام وعلیکم انکل ،، اندر داخل ہوتے شخص کو دیکھ کر احتراماً کُرسی سے کھڑا ہوا اور بغل گیر ہوا ،،

کیسا ہے میرا شہزادہ بلال بھائی کے آفس میں تمہیں ایسے دیکھ کو مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے ،، اُن کے لہجے میں نمی واضح تھی ،،

شکریہ انکل آپ بتائیں کافی لیں گے ناں ؟ تصدیق چاہی

تمہیں ابھی یاد ہے میری کافی کا ،، مُسکرا کر بولے

سارا بچپن آپ کو وہی پیتے دیکھا ہے کیسے بھول سکتا ہوں ،،

ہاں آؤ میرے پاس بیٹھو صوفے پر بیٹھتے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا

بلال بھائی سے مجھے ہے حد لگاؤ تھا اُنکی موت نے مجھے اندر تک جنجوڑ دیا تھا جانتے ہو میں پاکستان اُنکی وجہ سے نہیں آ رہا تھا ،، بات کا آغاز کیا

بابا کا قتل کِس نے کیا ،، زین نے لب كشائی کی اُنھوں نے اُسے چونک کر دیکھا

میں نے بابا کے فون سے آپکا میسج دیکھ لیا تھا چاچو اور جانتا ہوں آپکو معلوم ہے ،، اُنکی سوالیہ نظروں کے جواب میں بولا اور پھر وہ اُسے بتانے لگے کیوں کے وہ اس بار پاکستان آئے ہی اسی مقصد کے تحت تھے ،

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

مگر بھائی وہ ایسا کیوں کریں گے میرا مطلب ہے کے اتنی سی بات کے لئے بابا کا قتل ہی کروا دیا ،، فون کی دوسری جانب سے صدمے میں آتی یشفع کی آواز سنائی دی

یار جائیداد کے لیے بھائیوں کو مار دیا جاتا ہے بابا تو پھر اُنکے کزن تھے ،،

مجھے تو ابھی بھی یقین نہیں آ رہا کوئی اتنا سفاک کیسے ہو سکتا ہے ، مُجھے یاد ہے کیسے وہ لوگ فوتگی پر آتے تھے ہماری طرف ہمیں شک ہی نہیں ہو سکا کہ وہ مروا سکتے ہیں بابا کو ،،

ہاں یہ تو ہے ،،

اچھا اب کب تک اریسٹ ہونگے وہ سب ؟

ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا مگر کوششں یہی ہے کے جتنی جلدی ہو سکے اُنہیں گرفتار کر لیا جائے بھاگ نہ سکیں ،،

ہاں یہ تو ہے پر یہ سب ہمارا کھویا ہوا بچپن تو نہیں کا سکتے ناں ،، آواز نم تھی

رو نہیں میری بہن بابا بہتر جگہ پر ہونگے ہم خود کو لے کر پریشان ہیں ناں مگر ہم جانتے ہیں مما اور بابا کا رشتا کس نوعیت کا تھا کب سے وہ ذہنی طور پر بے سکون تھے ،،

ہاں یہ تو ہے اور بھائی آپ بھی اب شادی کر لیں ،، ٹاپک بدلنا چاہا

ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ،،

کوئی لڑکی ہے آپ کے ذہن میں ؟

ہاں ،، پھر اُسے نور کے بارے میں بتانے لگا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

بس تھوڑا سا اور ،، چھٹی کا دن تھا زین دادی کے پاس بیٹھا اُنہیں دلیا کھلا رہا تھا جب سے اُس نے اُن کی صحت اور علاج کی خود دیکھ بھال کی ہے اب وہ کافی بہتر ہو گئی ٹھیں ،،

ویسے دادی اتنا بڑا ہو گیا ہوں اب میں آپ نے میری شادی کا نہیں سوچا ؟؟ نروٹھے پن سے بولا

میری تو بہت خواہش ہے تمہاری دلہن دیکھنے کی تم ہی ضد لگا کر بیٹھے ہو ،، ماضی کا حوالہ دیتے بولیں

وہ تو پُرانی بات ہے مگر اب میں سوچ رہا ہوں آپ کی بات مان لی جائے ،، کھانے ختم کرنے کے بعد اُنکی دوائی نکالتے بولا

میں خوش ہوں تُم اس بارے میں سوچ رہے ہو کیا تمھاری نظر میں کوئی لڑکی ھے ؟

ہاں ، رکیں میں دکھاتا ہوں آپکو فون نکال کر اسکی تصویر دکھانے لگا

نور میری وہی اسکول کے ٹائم کی دوست ، ہمارے درمیان پیار نہیں ہے مگر ہم ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں پیار کی شادی کا انجام میں مما بابا کا دیکھ چُکا ہوں میرے خیال میں نور میرے لیے بہترین انتخاب ہے ،، نرمی سے اُنکا ہاتھ تھامے بتا رہا تھا

خوش رہو ،، اُسکا ماتھا چومتے دعا دی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *