Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeena Hi Tu Hai (Episode 04)

Jeena Hi Tu Hai by Zaroom

صادان کو ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا تھا اُس کے جسم کا دایاں حصہ مُکمل طور پر فالج کے اثر میں تھا فیزیوتھیراپسٹ نے گھر ہی آنا تھا ، جب تک وہ ہسپتال میں تھا بچوں کو میرب اپنی طرف لے گئی تھی ، وہ اُنہیں اب مُکمل طور پر اپنے پاس رکھنا چاہتی تھی مگر نہ صادان نے بچوں کو وہاں رہنے دیا نہ ہی نور اپنے باپ کو اس حالت میں چھوڑنے کی روادار تھی ، ہسپتال سے گھر آتے ہی اُنہیں نرمین کی طرف سے خلع کا نوٹس مل چُکا تھا اس وقت صادان کے بہن بھائی اُس کے ساتھ کمرے میں موجود تھے اور ان میں سے کوئ بھی نہ بچوں کی اور نہ ہی صادان کو سنبھالنے کی زمہ داری لینے کو تیار نہ تھا ،،

بھائی میرا تو آپکو پتا ہی ہے ان کے بابا کا اتنا کام ہی نہیں ہے ، اور میرے بچے خود ہی اتنے شرارتی ہیں کہ میں تو قطعاً یہ زمہ داری نہیں لے سکتی ،، یہ کہنے والی اس کی بہن تھی

میری طرف سے بھی معذرت بھائی ، میری بیوی تو اُمید سے ہے اور اُسکی حالت پہلے ہی ٹھیک نہیں رہتی میں یہاں چکر لگتا رہوں گا مگر زمہ داری بڑی ہے میں نہیں لے سکتا ،، اُس کے چھوٹے بھائی نے کہا

ہاں تو تُم لوگوں کو اپنی بھابھی کا تو پتا ہی ہے اُسکے گھٹنوں کا مسئلہ ہے بچیاں نہ ہوں تو گھر بکھرا پڑا رہتا ہے ، میں اپنے کام پر جاتا ہوں بچیاں اسکول جاتی ہے پیچھے وہ تو اکیلی نہیں سمبھال سکتی ، یہاں ہی کوئ ملازمہ رکھ لیتے ہیں تمھارے لیے جو تمہاری اور بچوں کی دیکھ بھال کر لے ، ہم آتے جاتے رہیں گے ،، بڑے بھائی نے کہا

ہاں ٹھیک کہہ رہے ہیں بھائی ایسے ٹھیک رہے گا میں آج ہی کسی ماسی کا انتظام کرتی ہوں ویسے بھی اب تو آپکی پنشن آئے گی ناں تو کم پیسوں میں ہی کوئی کام والی ڈھونڈ دوں گی چار بچے ہیں آپ کے اخراجات بہت ہو جائیں گے ایسے ، بہن نے کہا

ہاں ٹھیک ہے میں تو کہتا ہوں بچیوں کو بھی قریب ہی کسی سستے اسکول میں ڈالیں ، اب اتنی فیسیں نہیں بھری جا سکتی مہنگے اسکولوں کی ،، چھوٹے بھائی نے کہا

بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو تم ، صبح ہی جا کر کسی دُوسرے اسکول میں بچیوں کا داخلہ کروا آؤ تم ہی ، نیا سیشن شروع ہو رہا ہے تو بس اِدھر گلی والے اسکول میں ہی جائیں ،، بڑا بھائی بولا

تُم کیا کہتے ہو صادان ،، خود سے سارے فیصلے سناتے اُنہیں اب خیال آ ہی گیا کمرے میں موجود ایک اور جاندار کا

ٹھ ی ک ہ ے ،، ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرتے صرف اتنا ہی کہا ساتھ ہی ایک آنسو آنکھ سے نکل کر سرہانے میں جذب ہو گیا تھا ، کچھ ہی دنوں میں اس نے ہر محبت کرنے والے رشتے کو بدلتا دیکھ لیا تھا جب بھی احساسِ ندامت ہوتا تو سب سے پہلے آنکھوں کے سامنے چہرہ میرب کا آتا جب اُس نے نرمین کے کہنے پر اُسے طلاق دے کر گھر سے نکالا تھا اگر اس آزمائش میں کسی نے اس کا ساتھ دیا تھا تو وہ میرب تھی ہاسپٹل میں دیکھ بھال ہو یہ بچوں کا خیال رکھنا ہو اُس بے ضرر نے تو شاہ میر کا بھی خیال رکھا اپنی بچیوں کے ساتھ ہی ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

ایگزیبیشن تین دن كا تھا مگر ان کے اسٹال پر اتنا رش تھا کہ دوسرے دن ہی اسٹاک ختم ہونے لگا ایمرجنسی میں اور آرڈر کیا گیا ،،

زایان اپنے آفس سے باہر نکلا تو اُسے سامنے ہی شاہ نور نظر آئی ،،

کیا حال ہے دوست کیسا جا رہا ہے ایگزیبیشن ،، اُس کے پاس آتے کہا

زبردست ، اتنا اچھا رسپانس ہے کے یقین نہیں آ رہا ،،

پھر تو تمہیں لاہور والے ایگزیبیشن میں بھی ضرور آنا چاہئے ،، مشورہ دیا

ہاں ان شاء اللہ ، تُم بتاؤ کیسا جا رہا ہے کام

الحمدللہ بہت اچھا ،، مسکراتے کہا دونوں ساتھ ساتھ چلتے آگے اسٹالز کی طرف بڑھ رھے تھے

آگے کیا ارادہ ہے تمہارا ،، شاہ نور کو دیکھتے پوچھا

ایکسٹینڈ کرنے کا ارادہ ہے کام کو اب آگے اللہ کی مرضی ،،

بہت اچھا خیال ہے ،، اور آمنہ کہاں ہوتی ہے ، کچھ یاد آتے بولا

وہ لندن میں ہوتی ہے اپنے میاں کے ساتھ ،،

اوہ اُسکی شادی ہو گئی ،، حیران ہوا

ہاں چار سال پہلے جب وہ انٹر کے امتحان دے رہی تھی باقی پڑھائی لندن سے ہی کر رہی ہے ،،

یہ تو اچھا ہے ، اور بابا کیسے ہیں؟

اب بہتر ہیں واک کر لیتے ہیں ، اُنکا وجود ہی ہمارے لیے بہت بڑا سہارا ہے زین ورنہ یہ دنیا ہمیں نوچ کھاتی

ٹھیک کہہ رہی ہو ، باپ جیسا بھی ہو بچوں کے لئے سہارا ہوتا ہے ،، آنکھوں میں آئی نمی چھپاتا بولا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

اسلام علیکم مما ،، لاؤنج میں لگے ٹیلیفون پر میرب کے فون اٹھاتے ہی نور نے کہا

وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہے میری جان ،،

میں ٹھیک ہوں مما آپ کیسی ہیں ،،

میں ٹھیک ہوں آپ بتاؤ آمنہ کیسی ہے ؟

وہ ٹھیک ہے مما ، آپ کو پتا ہے آج پھوپھو اور چاچو آئے تھے ،،

خیریت تھی ؟

وہ ہمارا ایڈمشن گلی والے اسکول میں کروانے والے ہیں اور بابا نے بھی کچھ نہیں کہا ،،

بیٹا اب آپ کے بابا بیمار ہیں ، اُنکی جوب بھی نہیں ہے صرف پنشن ہے اور اس میں آپکے اسکول کی فیس نہیں پے ہو سکتی ،، تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد سمجھانے والے انداز میں بولی

مگر مما وہاں میرے دوست ہیں زین کو تو میں نے بتایا ہی نہیں ہوا ،، عذر پیش کیا

میری جان نئے دوست آپ کے یہاں بھی بن جائیں گے میں آپ لوگوں کے اُس اسکول کی فیس پے کر دوں مگر آپ کے بابا کو بُرا لگے گا اور بیمار انسان کو دُکھ نہیں دیتے ، آپ میری سمجھدار بیٹی ہو ناں بہن اور بھائی کا خیال رکھنا ہے آپنے اور آپکو جو بھی چاہیے ہو آپ نے مجھے بتانا ہے بابا سے ضد نہیں کرنی ،،

اوکے مما میں سمجھ گئی میں آمنہ اور شاہ میر کا بھی بہت خیال رکھوں گی اب تو اُسکی نینی بھی نہیں آئیں گی ،، اُنہوں نے مجھے بتایا ہے کے اب وہ نہیں آئیں گی کوئ اور ملازمہ آئیں گی وہ ہم سب کا خیال رکھے گی ،،

آپ نے خود بابا اور بہن بھائی کا خیال رکھنا ہے نور جو آنٹی آئیں گی کام کے لیے وہ تو صرف کام کریں گی ناں آپ بڑی بچی ہو آپ نے خود خیال رکھنا ہے گھر کا ،، وہ اُسے سمجھانے لگیں

———- Jeena he tou hai by Zarom ———-

یشفع کیا ضرورت ہے اتنے مہنگے تحائف لینے کی ،، یشفع اپنی ماں کے ساتھ شاپنگ مال آئی تھی اُسے اپنے ساتھ لے جانے کے لئے تحائف لینے تھے مگر ہر چیز پر اپنی ماں سے یہ جملہ سننے کو ملتا تھا ،

کیا مطلب مما میں اپنی ساس کے لئے لے رہی ہوں اچھی چیز ہی لونگی ناں ؟

یہی تو میں کہہ رہی ھوں اگر تمہیں لینی ہی ہے تو کوئی سیل سے دیکھو کیا ضرورت ہے برانڈڈ چیزوں پر پیسے ضائع کرنے کی ،،

مما آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا پلیز تیز چلیں مجھ ابھی اپنی نندوں کے لئے بھی تحائف لینے ہیں ،،

اب اِسکی کیا ضرورت ہے ،، دوبارہ بولیں

ضرورت ہے مما میرے شوہر کی بہنیں ہیں وہ ، وہاں امریکہ میں میری فیملی یہی لوگ ہیں اور سچ پوچھیں تو خاندان کے ہونے کا احساس تو مجھے ہوا ہی اُس گھر جا کر ہے ، یہاں تو میں نے آپکو صرف نندوں اور ساس کو باتیں سناتے اور لڑتے دیکھا ہے مگر مجھے اُنہیں لوگوں کے ساتھ رہنا ہے جب وہ سب مجھے اتنا پیار اور مان دے رہے ہیں تو میں کیوں نہیں ،،

مگر بیٹا اپنی بہنوں اور شوہر کی بہنوں میں فرق ہوتا ہے ،،

۔پلیز مما میں ابھی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں آپ نے اگر میرے ساتھ نہیں آنا آپ ڈرائیور کے ساتھ واپس چلی جائیں میں کیب بک کر کے آ جاؤں گی ،، کہتی وہ آگے بڑھ گئ پیچھے عدیلہ بیگم اپنی اولاد کی پیٹھ گھورتی رہ گئی ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

دادی آپ ابھی تک سوئی نہیں ،، زایان جو لان میں تازہ ہوا کھانے جا رہا تھا ادھ کھلے دروازے سے دادی کو بیٹھا دیکھ کر اُنکی جانب آیا ،،

بیٹا نیند نہیں آ رہی تھی تُم کیوں جاگ رہے ہو ابھی تک صبح کام پر بھی جانا ہے ،،

مجھے بھی نیند نہیں آ رہی تھی ،، آ کر اُنکے پاس بیڈ پر لیٹ گیا

تھکے ہوئے لگ رھے ہو ، اُسے دیکھتے بولی

نہیں بس ایسے ہی ، آپ بتائیں آپ اپنی میڈیسن وقت پر لے رہی ہیں ناں ،،

ہاں لے رہی ہوں ، دس سالوں سے ان دوائیوں کے آسرے ہی تو زندہ ہوں ، آنکھیں بھیگی تھیں

بابا کو گئے دس سال ہو گئے ہیں دادی مجھے تو ابھی تک لگتا ہے کے وہ کوئی خواب تھا ، ڈراونا خواب

ہاں میرا بیٹا بھری جوانی میں ہی ہمیں روگ دے کر چلا گیا تھا ،، آنکھیں بند کرتی ہوں تو اُسکا مسکراتا چہرہ نظر آتا ہے

آپ رویں نہیں دادی وہ یقینا بہتر جگہ پر ہونگے اور بہت خوش ہونگے ،، اُنکی نم آواز سنتے کہا

ان شاء اللہ ،، شگفتہ بیگم نے کہا

آپکو یاد ہے میری اسکول میں ایک دوست ہوتی تھی شاہ نور ،،

ہاں وہ جس کے بابا بیمار ہو گئے تھے اور اُس نے اسکول چھوڑ دیا تھا ،، یاد کرتے بولیں

ہاں وہی ،، آپکو پتا ہے اُس نے اپنا بزنس شروع کیا ہے اور جو حسنین نے ایگزیبیشن کروایا تھا ناں اُس میں اُنہوں نے حصہ لیا تھا میں آپکو بتا نہیں سکتا جب میں نے اُسے دیکھا تو مجھے کتنی خوشی ہوئی تھی ، اور آپ کو پتا ہے ، دونوں کی باتوں کا ایک سلسلہ شروع ہو چکا تھا جن کی عادت زایان کو اپنے باپ سے آئی تھی رات کو دیر سے ماں سے دل کی باتیں کرنا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

میر کی تعلیم و تربیت کا خیال شاہ نور نے ہمیشہ سے خود رکھا تھا ، اُسکی محبت اور محنت ہی تھی جس کے بل بوتے پر دس سالہ میر ایک خود مختار اور اپنے ہم عمر لڑکوں سے تیز تھا ، اُسکی پڑھائی ہو یہ ایکسٹرا ایکٹیویٹیز شاہ نور نے کبھی سمجھوتا نہیں کیا تھا ،،

میر آپکے ٹیوٹر آئیں گے ، اُن سے مل لینا میں ذرا مصروف ہوں آپ اُنکو اپنا فیلڈ اف انٹرسٹ اور باقی سب ڈیٹیلز سے بتا دینا ،،

اوکے آپی ،، کہتا فون بند کر دیا تبھی دروازے پر بیل ہوئی اور ایک نوجوان داخل ہوا

السلام وعلیکم میرا نام شاہ ویر ہے آپکو مس شاہ نور نے بتایا ہوگا میرا ،، اُس نوجوان نے اپنا تعارف کروایا

جی آپی نے بتا دیا تھا آپ تشریف رکھیے ،، پر اعتماد لہجے میں کہتا اُسے سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا ،،

ہم کون سے سبجیکٹ سے شروع کریں ،، بات کا آغاز کیا

مجھے میتھس اور کمپیوٹر کی کلاسز چاہیے ، باقی سبجیکٹ میں خود کر لونگا ،،

مگر مجھے تو میم نے سارے سبجیکٹس کا بتایا تھا ،،

ہاں مگر باقی سب تو میں خود بھی پڑھ سکتا ہوں ناں اور ویسے بھی میرا انٹرسٹ ذیادہ انہی سبجیکٹس میں ہے ،،

چلیں جیسا آپ کہیں ہم شروع کرتے ہیں ،،

اوکے آپ میرے سٹڈی روم میں میں آ جائیں ،، اُسے لیتا ایک کمرے میں داخل ہوا جو اتنا بڑا نہ تھا مگر چاروں طرف بنی الماریاں گویہ کمرے کے نقش نکھار رہی تھیں ،، مختلف قسم کی کتابیں شیلفوں پر پڑی تھی ایک طرف اسٹڈی ٹیبل بنی تھی جس کے پاس جا کر وہ رکا اور لیپ ٹاپ آن کیا ، شاہ ویر کا چونکے پہلا دن تھا اس لیے وہ تیار نہیں تھا صرف چیزوں کا تعارف ہی کروایا گیا جس میں سے زیادہ کے بارے میں اس چھوٹے بچے کو سب پتا تھا وہ تو سمجھ کر آیا تھا کوئی خاموش طبیعت ، سیدھا سا بچہ ہوگا مگر یہ بالکل مختلف تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *