Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Jeena Hi Tu Hai (Episode 18)

Jeena Hi Tu Hai by Zaroom

کیسی ٹینشن پھوپھو ؟؟ اُنکے ساتھ بیٹھتے بولا

تمھاری آگے کی زندگی کو لے کر امّاں بہت سوچتی ہیں ؟

آپ پلیز کھل کر بتائیں ،،

امّاں نے بھابھی کو بات کرتے سنا تھا کہ وہ تمھاری شادی نور سے نہیں ہونے دینگی ،،

کیا ؟ کب اور آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا ،،

دعوت والے دن ، وہ تمھاری ممامی کو کہہ رہی تھیں ،،

پھوپھو آپ پریشان نہ ہوں میں کوئی چھوٹا بچہ نہیں ہوں جس کو مما منا لیں گی نور میری پسند ہے اور میں اُسے کسی صورت نہیں چھوڑوں گا اور دادی بھی ان شاء اللہ جلدی ٹھیک ہو جائیں گی ،، اُنہیں دلاسہ دیتا بولا

ان شاء اللہ ، میری ماں نے بہت دُکھ جھیلے ہیں پہلے ابا کی وفات کے بعد اکیلے ہمیں پالنا پھر تمھاری ماں کے ساتھ رہنا اور پھر بلال کی اچانک موت نے جنجوڑھ کے رکھ دیا ہے اُنہیں اب تو بس صرف تمھاری فکر میں رہتی ہیں اُنہیں اللہ تمہیں برے لوگوں سے بچائے ،،

آمین شُکریہ پھوپھو جب تک آپ لوگوں کی دعائیں میرے ساتھ ہیں کوئی میرا بال بھی بھیگا نہیں کو سکتا ،، اُنکو ساتھ لگاتے بولا

آپ کے پیشنٹ کی حالت اب بہتر ہے آپ اُن سے مل لیں ،، نرس کی آواز آئی تو دونوں اٹھے اور اُس کے پیچھے چل دیئے ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

زین ،،

شگفتہ بیگم کو روم میں شفٹ کر دیا تھا اُنکو ازتھما اٹیک آیا تھا اور ساتھ بلڈ پریشر بھی خطرناک حد تک زیادہ تھا اس لیے اُنہیں کچھ دیر ہسپتال میں رُکنا تھا دوائیوں کے زیر اثر اُنکی آواز آئ

جی ،، فوراً سے اٹھ کر اُنکے پاس آیا

نور کو نہ چھوڑنا کبھی وہ بہت اچھی لڑکی ہے اور مجھے تمھاری پسند تمھارے لیے بہت اچھی لگی ہے ،، آواز سے ہی کمزوری واضح تھی

میں نہیں چھوڑوں گا دادی اُسے آپ پلیز ٹینشن نہ لیں ،، اُنکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بول رہا تھا

میں تمھاری شادی دیکھنا چاہتی ہوں زین ،، دھیمی آواز میں گویا ہوئی

ظاہری سی بات ہے پوتے کی شادی پر آپ گھر میں رکتی اچھی تھوڑی نہ لگیں گی بس صحت بنائیں اپنی تاکے شادی خود انجوئے کر سکیں ،، ہنس کر بولا

کیا تم اسی ہفتے نور سے نکاح کر سکتے ہو ، لہجے میں مان تھا

آپ حکم کریں دادی میں نور سے بات کر لونگا سب کو منا لونگا بس آپ جلدی سے گھر آئیں پھر بات کرتے ہیں ،،

اپنی بات پر قائم رہنا ، نجانے کس خدشے کی وجہ سے کہا مگر اب آنکھیں بند کر لی تھیں بات کرتے تھک چکی تھیں ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

دادی کی صحت کا سن کر صادان اور یشفع اُنکا پوچھنے آئے تھے جب دادی نے اُن سے نکاح اسی ہفتے رکھنے کی خواہش ظاہر کی ، جس پر انہوں نے یہ کہہ کر مان لیا تھا کہ جو نور اور زین کا فیصلہ ہو شادی تو اپنے وقت پر ہوگی صرف نکاح کروا دیا جائے ،،

زین اور نور نکاح کی شاپنگ کے لئے آئے تھے جب زین نے کہیں بیٹھ کر بات کرنے کا کہا،،

نور کیا تُم ابھی نکاح کے لئے تیار ہو ؟ بات کا آغاز کیا

ہمم بابا نے بتایا تھا مجھے دادی کے اسرار کا مجھے اعتراض تو نہیں ہے مگر زین کیا وجہ ہے جو ایسے اچانک یہ سب؟

نور ،، دادی ہماری شادی کے لیے بہت ٹینشن میں ہیں ،،

کس بات کی ٹینشن ،، پھر زین اُسے ساری بات بتانے لگا

ان بلیوایبل ،، صرف اتنا ہی بول سکی

پتا نہیں مما اس نکاح اور شادی پر کیسا ریکٹ کریں گی ،، پرسوچ انداز میں بولا

زین مجھے لگتا ہے کہ مجھے اُن کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے ، میرا مطلب ہے کے ہمیں الگ گھر میں رہنا چاہئے جو میرا اور تمہارا ہو ہم دونوں مل کر اُسے بنوائے گے اور وہاں رہیں گے جہاں تک بات ہے آنٹی کی تو ہم اُنہیں روز ملنے چلے جائیں گے اُنکا خیال رکھیں گے مگر جیسی اُنکی ذہنی حالت ہو چکی ہے میرا نہیں خیال کے تمہیں مجھے وہاں رکھنا چاہیے ،، ٹھہر ٹھہر کر بولی

ہمم ، تُم ٹھیک کہہ رہی ہو یہ ایک اچھا آپشن ہے ،، مُسکرا کر کہا

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

یشفع تُم پاکستان نہیں آ سکتی؟ کال کنیکٹ ہوتے ہی عدیلہ بولی

کیوں خیریت ،، دوسری طرف سے مصروف سی آواز آئی

تمہارا بھائی دادی کے کہنے پر نکاح کر رہا ہے ،، لہجہ ایسے تھا جیسے خود کو کچھ سخت کہنے سے روک رہی ہوں

تو ؟ اس میں کیا مسئلے والی بات ہے ؟؟ سکون سے کہتی اُنہیں مزید سلگا گئی

مسئلے کی بات ؟ تُم کہہ رہی ہو جو جانتی تھی کے میں اُسکی شادی اپنی بتیجی سے کرنا چاہتی تھی اور وہ دو ٹکے کی لڑکی سے شادی کرنے جا رہا ہے ،، چیخی

مما آپ تھوڑا سکون کریں ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے ،،

تُم سب ملے ہوئے ہو ، میری اولاد مُجھ سے چھین لی اُنہوں نے سب کو اپنی انگلیوں اور نچا رہی ہیں ،،

ہر وقت ایسے الزام کیوں لگاتی ہیں آپ کوئی ہمیں کچھ نہیں پڑھاتا ہمیں خود سمجھ ہے ، آپ پلیز نکل آئیں اپنی اس حکمران طبیعت سے ہر فیصلہ تو ہماری زندگی کا آپ نے لیا ہے اب تو جی لینے دیں ہمیں ،،

میری بات ہوئی ہے نور سے کتنی اچھی لڑکی ہے وہ خدا را بھائی کو جینے دیں جیسے وہ چاہتے ہیں ،،

ہاں ہاں میں ہی بری ہوں باقی سب تو تمہاری سگیاں ہیں ناں میں نے اپنی جوانی روندھ دی تُم لوگوں کے پیچھے اب ایسے کہہ رہے ہو تُم لوگ ،،

گستاخی معاف مما مگر ہمیں ملازمین ، دادو اور پھوپھو نے پالا ہے آپ کا ایسا حق جتانا بنتا نہیں ہے ، میں بہت مصروف ہوں بعد میں بات کروں گی ،، کہتی فون کاٹ دی ،

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

زین یہ تُم اچھا نہیں کر رہے وہ نکاح کے لئے تیار ہو رہا تھا جب عدیلہ کمرے میں داخل ہوتے بولیں ،،

اچھا آپ نے بھی کبھی نہیں کیا ہمارے ساتھ مما ایسی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتی ،، ایسے بولتا اُنکے اندر ابلتے لاوے کو ہوا دی

تُم سب مل کر مجھے مار ہی کیوں نہیں دیتے ،، چیخی

بیٹے کے نکاح کے دن تو ایسی باتیں نہ کریں مما جائیں اور تیار ہوں نکاح کے لئے آپ کو نہ دیکھ کر خاندان والوں نے باتیں بنانی ہیں جو آپکو گوارہ نہیں ہونگی ،، اُنہیں کندھوں سے تھام کر آہستہ آہستہ کہتا کمرے سے باہر نکل گیا ۔

———– Jeena he tou hai by Zarom ———-

شاہ نور صادان آپکا نکاح زایان بلال سے گواہان کی موجودگی میں طہ شدہ حق مہر جس میں ماہانہ خرچ اور اُنکی جائیداد کا آٹھواں حصہ ہے آپ کو قبول ہے۔ ،، مولوی صاحب کی آواز مائک میں گونجی پورے حال میں خاموشی چھا گئی اگلے ہی لمحے قبول کرتی نور کی آواز آئ ،،

ایجاب وقبول کے بعد مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوا ، جلدی میں نکاح اور تیاریوں کی وجہ سے کم ہی لوگ شریک ہوئے تھے ، آمنہ اور بریحہ مہمانوں کا استقبال کرتی آج نور کی جگہ سنبھالے ہوئی تھیں ، یشفع نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جہاں اُنکی آنکھیں باپ کی کمی کی وجہ سے نم تھی وہاں ہی نور کی آنکھیں ماں کو یاد کرتے بھیگی تھیں ،،

ایک تھکا دینے والا سفر تمام ہوا تھا ، تقریب اپنے جوبن پر تھی دولہا اور دلہن اسٹیج سے اُتر کے شگفتہ بیگم کے پاس دعائیں لینے آئے وہ تو جیسے اسی موقع کا انتظار کر رہی تھیں ،،

میرا زین تمہارے حوالے اُسکا بہت خیال رکھنا اللہ تُم لوگوں کو دنیا کی ہر خوشی دیکھنا نصیب کرے ،دونوں کے ماتھے چومتے بولیں

میرے جانے کا وقت ہو گیا ہے ،، اُنکی اس بات کر پاس موجود سب چونکے

اور کچھ ہی لمحوں میں حال کی خاموشی میں اُنکے لب سے کلمے کی آواز آئی اور وہ ابدی نیند سو چُکی تھیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *