Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 06)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 06)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
عدیلہ سے اُس بحث کے بعد بلال نے اُسے مخاطب نہیں کیا تھا ، صبح جلدی ہی اُنہیں حویلی سے نکلنا تھا اسلام آباد میں کوئی میٹنگ تھی ،،
امّاں ،، شگفتہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوتے آہستگی سے پُکارا
ہممم ،، وہ بولی شائد کچی نیند میں تھیں
میں نکل رہا ہوں اللہ حافظ ،، اُنہیں بتایا
ناشتہ کر لیا ،، اٹھتے بولی
نہیں ہوٹل میں ہی کر لوں گا ابھی دل نہیں ہے ،،
چلو اللہ کے حوالے پہنچتے ہی مجھے فون کرنا ،،
ٹھیک ہے ،، اُنہیں ملتے کمرے سے نکل گیا پیچھے بیٹھی اُسکی ماں کا دل کسی انجانے خوف کی وجہ سے گھبرا رہا تھا ، وہ اُسے روکنا چاہتی تھیں مگر کچھ نہ کہہ سکیں
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
پکی خبر ہے کے وہ آج جلدی نکلے گا ،، گلی کے کونے میں کھڑے شخص نے فون پر کسی سے پوچھا
ہاں پکی خبر ہے تُم نظر رکھنا آج وہ نکل نہ پائے ،، دوسرے شخص نے کہا دفعتاً ایک گاڑی گیٹ سے باہر نکلتی دکھائی دی ،، گاڑی کے اُس کے پاس سے گزرنے کے کچھ سیکنڈز بعد وہ باہر نکلا اور گاڑی کو دیکھنے لگا ساتھ ہی فون پر چلتی کال کو دیکھا ،،
گلی نمبر ایک میں ملے گا وہ تمہیں ،، گاڑی کے موڑ مڑتے ہی دوسرے شخص کو اطلاع دی
تمہارے پاس صرف پچاس سیکنڈ ہیں گولی ایسی جگہ لگنی چاہیے کے وہ بچ نہ سکے ،، اس شخص نے نہایت کمینگی سے کہا
فکر نہ کریں بوس ،،
ٹھیک فائر کے پندرہ سیکنڈ بعد میں تمہیں گاڑی میں ملوں گا ،،
راجر بوس ،، دوسرے شخص نے کہا اور کال ڈسکنیکٹ ہو گئی ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ہاں یار نکل آیا ہوں گھر سے تُم فکر نہ کرو میٹنگ سے پہلے ہی پہنچ جاؤں گا ،، جواد جو اُسکے والد کے وقت سے ان کے ساتھ کام کر رہا تھا اب انکا مینیجر تھا فون پر بلال کے آنے کا پوچھ رہا تھا
ہاں ٹھیک ہے میں بھی گھر سے نکلتا ہوں ، تمھارے آنے سے پہلے ساری تیاری مکمل ہوگی ،،
شکریہ جوا ،، ابھی بات آدھے میں ہی تھی جب موڑ کٹتے ہی سامنے ایک شخص چادر سے منہ لپیٹے کھڑا نظر آیا تھا اس سے پہلے کے بلال غور کرتا گولی شیشہ چیرتی اس کے سینے کے پار ہو گئی ،،
بلال یہ کیسی آواز ہے ؟ تُم ٹھیک ہو ؟ بلال ؟ بولو کچھ ،، فون اُس کے ہاتھ سے گر چُکا تھا مگر کال جاری تھی جواد مُسلسل اُسے بولا رہا تھا
لا الٰہ اللہ محمد الرسول اللہ ،، اٹکٹے ہوئے کلمہ ادا کیا ساتھ ہی اٹکی سانس نکل گئی ، جواد وہاں بیٹھے بس چلاتا رہا ، پکارتا رہا ، ہوش میں آتے ہی حویلی کے ملازم کو فون ملایا
کہاں ہیں بابا آپ ،، چھوٹتے ہی کہا ،،
حویلی میں ، آپ گھبرائے ہوئے کیوں ہیں ؟ سب ٹھیک ہے ؟
نہیں بابا بلال کو گولی لگ گئی ہے آپ پلیز ملازمین کو لے کر جائیں وہ گھر کے قریب ہی ہوگا ،،
یہ کیسے ہو سکتا ہے صاحب تو ابھی نکلے ہیں میرے سامنے ،،
مجھے نہیں پتا میں فون پر بات کر رہا تھا مجھے گولی کی آواز آئی وہ قریب ہی ہوگا آپ نکلیں جلدی ،، وہ رو دینے کو تھا ،
بلال کی گاڑی اُنہیں گھر سے آگے مین روڈ کی سڑک پر ہی دکھائی دی جس میں وہ مردہ حالت میں پایا گیا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
اس جوان موت نے نہ صرف گھر اور خاندان کے ہر فرد کو جھنجوڑا تھا بلکہ جنازے اور میت پر ہزاروں لوگوں نے شرکت کی زیادہ تعداد اُن لوگوں کی تھی جن کا گھر اس بھلے مانس کی وجہ سے چلتا تھا ،
شگفتہ بیگم بلکل ہی نڈھال بیٹھی بیٹے کو مردہ حالت میں دیکھ رہی تھیں ، زین اور یشفع کو تو سمجھ تھی مگر ایشل اور عرشمان تو بس باپ کو سویا سمجھ کر جگانے کی کوشش کر رہے تھے ،،
بابا کیوں نہیں اُٹھ رہے دادو ، ایشل نے شگفتہ بیگم کو ہلاتے کہا ،
وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں گڑیا ،، زین نے اُسے خود سے لگائے کہا
کیوں بھائی اُنہوں نے تو کہا تھا وہ میرے لیے ڈول لائیں گے تو خود کیوں چلے گئے ،، معصوم بچی نے حیرانی سے پوچھا اُس کے لیے نیا تھا سب اتنے لوگوں کا جمع ہونا ، رونا ، اُس کے باپ کا ایسے چپ ہو کر آنکھیں بند کر کے لیٹے رہنا
وہ اب نہیں لا سکتے ڈول ، اب وہ کبھی نہیں آئیں گے واپس وہ اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں ،، اُسے سمجھاتے آنسو رواں تھے ،
جنازہ لے جایا گیا ہر آنکھ اشک بار تھی ، دادی کو تو جیسے چپ ہی لگ گئی تھی اُنکے بوڑھاپے کا سہارا اب نہیں رہا تھا ، صبر کسی صورت نہیں آ رہا تھا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
شاہ میر پانچ سال کا ہو گیا تھا ، اُسے کسی اسکول میں داخلہ نہیں مل رہا تھا اس لیے نور خود اُسے پڑھاتی تھی ، وہ ایک زہین بچہ تھا جب بہنیں کالج اور سکول چلی جاتی تو وہ صادان کے ساتھ بیٹھا روز نئی چیز دریافت کرتا تھا ، اُسکے ساتھ صادان کا دن بھی اچھا گزر جاتا تھا ، ابھی بھی دونوں لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے ،،
بابا یہ بچہ کیا کر رہا ہے ،، چینل سرفنگ میں کسی مووی کا ایک منظر چل رہا تھا جہاں ایک بچہ خاتون سے بیگ لے کر بھاگا تھا ،،
اُس نے چوری کی ہے بیٹا ،،
وہ کیا ہوتا ہے بابا ،،
جب آپ کسی دُوسرے کی چیز اُس کی بغیر اجازت چھپا کر یہ ایسے چھین کر لیتے ہو ،،
میں بھی تو آپی کا فون یوز کرتا ہوں ناں ،،
وہ تو آپکو آپی خود دے کر جاتی ہیں ناں ،،
ہاں میں پوچھے بغیر نہیں لیتا آپی نے مجھے بتایا تھا کہ ایسے آگ میں ڈالتے ہیں اللہ ،،۔
جی بیٹا ایسے کرو تو گناہ ملتا ہے اور پھر آگ میں ڈالتے ہیں اللہ ،،
میں نے نابی کے چپس کھائے تھے تو اللہ جی مجھے بھی آگ میں ڈالیں گے ،،
نہیں آپ اگر نابی سے سوری کر لو تو اللہ جی نہیں ڈالیں گے ،، اچھا بس اب اُٹھو اور اپنی بکس لے کر آؤ ،،
اوکے ، کہتا کمرے کی طرف جانے لگا
اللہ جی مجھے معاف کر دیں ،، اپنی طرف سے منہ پر ہاتھ رکھ دھیمے لہجے میں کہا مگر آواز صادان کو آ گئی تھی وہ دل ہی دل میں نور کا شکر گزار تھا جس نے اس بچے کی پرورش ایسے کی تھی کہ وہ ایک اچھا انسان اور بہت سوں سے بہتر تھا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
کہاں ہے ہمارا پرنس ،، زایان اپنے کمرے سے نکلا جب اُسے یشفع لان میں بیٹھی نظر آئی تھی
ابھی سویا ہے بھائی ،،
تُم بھی سو جاتی کل کا دن تھکا دینے والا ہوگا لمبی فلائیٹ ہے ،،
ہاں تھوڑی دیر سوتی ہوں ابھی اپنے ملک اور گھر میں آخری رات اِس ہوا کو محسوس کر لوں ،، نم آواز میں کہا
تُم خوش ہو ناں یشفع ،،
جی بھائی میں بہت خوش ہوں سب میرا بہت خیال رکھتے ہیں
مجھے بابا کی بہت یاد آتی ہے ،، تھوڑی دیر بعد آہستہ آواز میں بولی
اُنکی یاد تو ہمارے دلوں میں ہمیشہ رھے گی یشفع ، ہم تو بڑے ہیں اُن کے ساتھ کچھ یادیں تو ہیں ناں ، دھندلی ہی سہی مگر انکا مسکراتا چہرہ نظر تو آتا ہے ، ایشل اور مان کو دیکھو جنہوں نے ہوش سنبھالا تھا تو باپ کو نہیں پایا ،،
جی بھائی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، اور آپ پلیز مما کو سمجھائیں دادی پہلے ہی بیمار رہتی ہیں اُن سے بحث نہ کیا کریں ،،
اُنہیں بابا نہیں سمجھا سکے میری کہاں سنیں گی وہ ، مگر میں دادی کا خیال رکھ سکتا ہوں ،،
دادو کے ساتھ بیٹھا کریں روز وہ آپ کی راہ تکتی رہتی ہیں جب آپ دیر سے آتے ہیں ،
ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ،، اُسے خود کو غور سے دیکھتا پا کر پوچھا
دیکھ رہا ہوں میری چھوٹی بہن کتنی بڑی ہو گئی ہے ،،
وقت کر دیتا ہے ، نم آنکھوں سے مسکرائی تھی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
یشفع کو ایئر پورٹ چھوڑنے کے بعد وہ اب آفس میں بیٹھا فائلز دیکھ رہا تھا ساتھ ہی حسنین سے ہلکی پھلکی باتیں چل رہی تھی ،،
یہ جو بریحہ ہے شاہ نور کی پارٹنر یہ بھی تمھارے ساتھ پڑھتی تھی ؟ سرسری انداز تھا
نہیں یار وہ اُسکی کزن ہے ، ماموں کی بیٹی کیوں پوچھ رہے ہو تُم ؟
بس ایسے ہی ، وہ انگیجڈ تو نہیں ہے ناں ؟
اُسکے سوال پر زایان نے آنکھیں اٹھا کر اُسے دیکھا
ایسے ہی پوچھ رہا تھا ،، اُسکی گھوری پر نروس ہوتے صفائی پیش کی ،
اچھی لڑکی ہے ,زایان نے صرف اتنا کہا
کون ؟ انجان بنا
تُم جانتے ہو میں کس کا کہہ رہا ہوں ، اگر سیریس ہو تو میں تمھاری مدد کر سکتا ہوں ، آفر دی
میں تو سیریس ہوں وہ مانے تب ناں ،،
تُم نے ٹراے کیا ؟؟
نہیں ہو پاگل ہوں ، کچھ منہ پر نہ دے مارے
اتنی جلاد ہے نہیں، چلو میں شاہ نور سے بولوں گا وہ بات کرے اُس سے ،،
جی نوازش ہوگی آپکی ، سر کو خم دیتے حسنین نے کہا
