Jeena Hi Tu Hai by Zaroom NovelR50550 Jeena Hi Tu Hai (Episode 05)
Rate this Novel
Jeena Hi Tu Hai (Episode 05)
Jeena Hi Tu Hai by Zaroom
چاچو فون کیوں نہیں اٹھا رھے ؟ بابا کو آج نہلانا ہے کیا کروں ؟؟ موبائل پر نمبر ملاتی بڑی لڑکی نے کہا
آپی مجھے لگتا ہے چاچو لاہور چلے گئے ہے وہ بابا کو بتا رہے تھے ،، چھوٹی لڑکی نے کہا
ہاں شائد ، اب کیا کریں آمنہ ، پریشانی سے دوسری لڑکی کو دیکھا
پتا نہیں ،،
صادان کو بستر سے لگے پانچ سال ہونے والے تھے گزر بسر پنشن سے ہو رہا تھا گھر کا خرچہ ، بچوں کی پڑھائی ، اور اُسکے علاج کے ساتھ ملازمہ رکھنا اب انکے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا ، نور اب گیارویں جماعت میں تھی اور آمنہ نویں دونوں نے ہی گھر اور بابا کی دیکھ بھال اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی تھی ،، صادان کا چھوٹا بھائی آ کر اُسے باتھ لینے میں مدد کرتا تھا باقی دونوں بہن بھائی کبھی کبھار ہی آیا کرتے تھے ،،
اچھا تُم پانی نکالو میں بابا کو لے کر آتی ھوں ،،
مگر آپی آپ کیسے ،، پریشانی سے بولی
کوئی دوسرا آپشن ہے ؟؟ آنکھوں میں نمی تھی
اچھا میں نکالتی ہوں پانی ،، اُس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا چل دی
صادان کو ویل چیئر پر بیٹھا کر لائٹ بند کر کے اُن دونوں لڑکیوں نے اپنے باپ کو باتھ دلایا ، اتنی سی عمر میں بہت سی ایسی چیزیں قدرت اُن سے کروا چُکی تھی کہ اب تو انہوں نے افسردہ ہونا اور رونا چھوڑ دیا تھا ، آزمائش تھی گزر جائے گی ، ان پانچ سالوں میں صادان کی حالت کافی حد تک سنبھل گئی تھی اب وہ بیڈ پر بیٹھ سکتا تھا اور ویل چیئر خود چلا بھی سکتا تھا بات بھی کافی حد تک ٹھیک کر لیتا تھا ، ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ایکسرسائز اور علاج سے اگر ایسے ہی بہتری آتی رہی تو وہ بہت جلد اپنے پیروں پر کھڑا ہو سکے گا ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
عرشمان کہاں ہے ؟ عدیلہ ابھی سو کر اٹھی تھی عرشمان کا اُسکی نینی سے پوچھا ،،
وہ بڑی بیگم صاحبہ کے پاس ہے ،،
اچھا اُسے لے کر آؤ میری طرف ،، کہتی کچن میں کھڑی ملازمہ کو اپنے لیے ناشتہ بنانے کا کہنے جانے لگی جب نینی کی بات پر مڑی ،،
بیگم صاحبہ عرشمان بابو کو تیار کر رہی ھیں ،،
وہ کیوں تیار کر رہی ھیں اُسکی ماں میں ہوں یہ وہ ،، غصے سے کہتی اُنکے کمرے کی طرف چل دی
آپ کیا کر رہی ہیں یہ ،، عرشمان کو اُن کے ہاتھ سے چھینتے بولی
بیٹا رو رہا تھا بچہ اسکو تیار کر رہی تھی ،، دھیمے لہجے میں بولی
کیوں میں مر گئی تھی جو آپ کو ضرورت پڑی ، میرے بچے سے دور رہیں سمجھی بیٹا آپ کے آگے پیچھے گھومتا ہے یہ کم ہے ؟ چلائی تھی شور سنتے بلال کمرے میں آ چکا تھا
عدیلہ یہ تُم میری ماں سے کس لہجے میں بات کر رہی ہو ،، ہوش دلانا چاہا
کیا غلط کہا ہے میں نے تمھاری نظر میں میری میرے بچوں کی کوئی قدر ہے ؟ جب بھی شہر سے آتے ہو ماں کے ساتھ چپکے بیٹھے رہتے ہو ،، چلائی تھی
ایک لفظ نہ نکالنا اور میری ماں کے لیے معافی مانگو اُن سے ،، ضبط سے کہا
میں کیوں مانگو معافی ، انہوں نے تمہیں میرے خلاف کیا ہوگا تبھی تُم اپنے بچوں کی ماں سے ایسے بات کر رہے ہو ،، آواز ہنوز اونچی تھی
اِنوف عدیلہ تُم میری ماں پر مزید الزام نہیں لگاؤ گی ورنہ مجھ سے بُرا کوئی نہیں ہوگا ،، اُنکی آواز پر زین اور یشفع بھی ادھر آ گئے تھے
کیوں سچ بُرا لگ رہا ہے ، ارے اُنہیں تو آگ لگی ہوئی ہے جب سے میرا بیٹا پیدا ہوا ہے جلتے ہیں مجھ سے سب ،،
بس ایک لفظ اور نہیں میرے ضبط کا امتحان نہ لو عدیلہ یہ نہ ہو میں کچھ ایسا کر جاؤں کے بعد میں پچهتانا پڑے ،، ابھی بات آدھے میں ہی تھی جب بلال چلایا
ہنہه آئے بڑے ،، کہتی کمرے سے نکل گئی پیچھے وہ ماں کے پاس آ کر بیٹھ گیا جو ہر چیز کی مالکن ہوتے ہوے بھی اس مغرور عورت کے سامنے چپ رہتی تھیں ۔
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
ابّا آپ نے دوائی لے لی ؟ میرب اپنے والدِ کے کمرے میں آتی اُن سے بولی جنکا کمزور جِسم بیڈ پر لیٹا تھا
ہاں لے لی تھی بریحہ نے دے دی تھی ،، کھانستے ہوئے بولے
تُم پریشان ہو ، اُسے خاموش بیٹھا دیکھ کر بولے
نہیں بچیوں کے بارے میں سوچ رہی تھی ، مُشکل پڑھائ ہے اور گھر کی ذمہداری ان چھوٹی چھوٹی لڑکیوں پر ہے میرا بس نہیں چلتا میں اپنی اولاد کے نصیب سے کانٹے چن لوں ،، اُداسی سے بولی
تُم بات کرو نہ نُور سے ادھر آ جائیں ہمارے پاس ،
بھائی کبھی نہیں رہنے دیں گے اُنہیں یہاں ،،۔
یہ میرا گھر ہے میرب ، تمھارے بھائیوں کی ملکیت نہیں ہے ابھی یہ ،،
آپکی بات ٹھیک ہے ابّا پر اس گھر پر بھائی اور اُنکے بچوں کا حق ہے میں کبھی اُسے نہیں کھاؤں گی ، میں سوچ رہی ھوں الگ اپارٹمنٹ لے لوں ، مگر صادان کبھی نہیں بھیجے گا بچیوں کو ، سمجھ نہیں آ رہی مجھے کیسا امتحان لیا ہے قدرت نے ہمارا ،،
تُم پریشان نہ ہو میری بچی اللہ ضرور کوئی حل نکال دیں گے ،، سمجھآتے ہوئے بولے
ان شاء اللہ اچھا آپ آرام کریں میں نور کو فون کر لوں ،،
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
کیسی ہو میری جان آمنہ ، نابی کیسی ہیں ،،
ہم ٹھیک ہیں مما آپ کی طبیعت اب کیسی ہے ؟
میں تو بالکل ٹھیک ہوں اب بریحہ بتا رہی تھی آپ کالج نہیں گئی آج ؟
اچھا وہ آپ کو میری رپورٹنگ کرتی ہے ، ہنستے ہوئے کہا
بابا کا ڈاکٹر کے ساتھ اپائنٹمنٹ تھا اُن کے ساتھ جانا تھا ،،
تو چاچو نہیں تھے آپ کے ؟..
نہیں وہ کسی کام سے لاہور گئے تھے اس لئے میں چلی گئی تھی اتنا مسئلہ تو نہیں تھا ، اچھا مما آپ کو کسی اکیڈمی کا پتا ہے جہاں سیکنڈ ٹائم ٹیوشن کلاس ہوتی ہو ،،۔
ہاں ایک ہے تو میری دوست کا تُم کیوں پوچھ رہی ،،
میں سوچ رہی تھی کہ سیکنڈ ٹائم جا کر ٹیوشن پڑھا لوں کالج کا خرچہ نکل آئے گا ،،
مگر بیٹا کالج اور گھر کے ساتھ کیسے پڑھاو گی ؟
اُسکی آپ ٹینشن نہ لیں میں نابی اور شاہ میر کو بھی تو پڑھاتی ہوں ناں اُنہیں آمنہ پڑھا لے گی اور اُس وقت میں ایکیڈمی چلی جایا کروں گی ،،۔
مگر بیٹا پڑھائی کا خرچہ میں دے سکتی ہوں ناں کیوں ایک اور زمہ داری لینا چاہتی ہو ،،
مما آپ پہلے ہی بہت کچھ کر رہی ہیں ہمارے لیے میں نے کہا ناں مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہے میں مینج کر لوں گی ،،
اچھا میں بات کرتی ہوں پھر ،، ہار مانتے کہا
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
بریحہ میں تو کہتی ھوں ہم جتنا افورڈ کر سکتے ہیں اُس لیمٹ تک کا اسٹاک بنوا لیتے ہوئے ہیں ناں کم نہ پڑ جائے ،،
ہاں میرا بھی یہی خیال ہے پر اگر اچھا رسپونس نہ آیا تو ضائع ہو جائے گا ناں سب ،، خدشہ ظاہر کیا
ارے نہیں ہم بعد میں سیل کر لیں گے ناں اور ان شاء اللہ سب اچھا ہو جائے گا ،،
تبھی اُسکے فون پر میسج کا نوٹیفکیشن آیا
کہاں چلی اُسے چیزیں سمیٹتے دیکھتی بریحہ بولی
زایان آیا ہے باہر اُس کے ساتھ جا رہی ہوں گھر
تُم لوگوں کے بیچ کچھ چل رہا ہے ،، اُسے مشکوک نظروں سے دیکھتی بولی
نہیں او وہ بابا سے ملنے جا رہا تھا تو راستے میں ہمارا آفس آتا ہے اس لیے مجھے بھی پک کر رہا ہے ،، عام سے لہجے میں بولی
نہیں میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی لڑکا اچھا ہے ایک دوسرے کو پرانا جانتے ہو اگر کوئی سین آن ہوتا بھی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے ،، سرسری سے انداز میں بولی
تُم اپنے تجزیے اپنے پاس رکھو ،، اُسے گھورتی آفس سے باہر نکل گئی مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ رہی تھی
———– Jeena he tou hai by Zarom ———-
کیسے ہو پارٹنر ،، گاڑی میں بیٹھتے ہی مسکراہٹ سے خیر مقدم کیا
فٹ فاٹ ، تُم بتاؤ تیاری کیسی جا رہی ہے ایگزیبیشن کی ،، گاڑی سٹارٹ کرتے بولا
اچھی ہی بریحہ سپروائزر کر رہی ہے سب ،،۔۔
دیٹس گریٹ ، آیس کریم کھاؤ گی ؟.
نہیں موڈ نہیں ہو رہا گھر ہی چلتے ہیں سیدھا بابا انتظار کر رہے ہوں گے ،، نفی میں سر ہلاتے فون پر مصروف بولی ہلکی پھلکی باتیں کرتے گھر آ چکے تھے ، صادان اکثر پرنٹس ٹیچر میٹنگ پر یہ فنکشن پر جاتا رہتا تھا اس لیے زایان سے اُسکی ملاقات ہوتی رہتی تھی
اور کیا مصروفیات ہیں ،، صادان زایان سے بڑی دلچسپی سے باتیں کر رہا تھا دونوں لاؤنچ میں بیٹھے تھے شاہ نور کچن میں چائے کا انتظام کر رہی تھی
کُچھ خاص نہیں بس آفس اور گھر ، آپ بتائیں کیا کرتے ہیں سارا دن گھر میں؟
ارے یار تُم ہمارے میر کو جانتے نہیں ہو ابھی اسکی تخریب کاری کے آگے پورا دن گزر جاتا جب اسکا ٹیوٹر آتا ہے تب میں ذرا سکون کرتا ھوں ،،
واہ یہ تو اچھا ہے آپ مصروف رہتے ہوں گے آپ بتائیں ہے کہاں وہ ؟
آمنہ کے ساتھ گیا ہوا ہے مارکیٹ آتا ہی ہوگا ،، دونوں باتیں ہی کر رہے تھے جب وہ لوگ مارکیٹ سے واپس آ گئے تھے نے بیٹھ کر چائے پی اب زندگی اتنی مُشکل نہیں تھی ۔
