240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 9)

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

اسکی آنکھ عجیب سے احساس کی وجہ سے کھلی تھی لمحے کو تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ ہے کہاں۔۔۔

ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کو مسلتے اسنے اردگرد دیکھنا چاہا تھا اس نے جیسے ہی کروٹ لے دلشیر کو اپنے بےحد قریب سوئے پایا تھا۔۔

ااااااااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ پوری قوت سے چیختی فوراً سے اٹھ کر بیڈ سے دور ہوئی تھی جیسے ناجانے کون سی بلا دیکھ لی ہو۔

“کیا مسئلہ ہے کیوں چیخ رہی ہو صبح صبح دماغ خراب ہے؟”نیند سے بوجھل آواز اور آنکھیں اسنے شدید قسم کی ناگواری کے ساتھ اسے دیکھا تھا۔

“دماغ میرا نہیں آپ کا خراب ہے ہمت کیسے ہوئی میرے قریب آنے کی جان لے لونگی میں آپ کی۔۔”پھولی سانسوں کے ساتھ اسنے دو قدم مزید پیچھے لئے تھے۔۔

دلشیر نے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا آنکھوں میں چمک سی آئی تھی۔

“آؤ آؤ جان سے مارو آجاؤ نا جان سے مارنے کے لئے تو قریب آنا پڑے گا آجاؤ شاباش یا میں آؤ۔۔”وہ کہتے ہوئے کمفرٹر سے نکلا تھا اسے یوں کھڑے ہوتے دیکھ وہ مزید پیچھے ہوئی تھی اور سائیڈ ٹیبل پر رکھا واس اٹھایا تھا۔۔

اسکے ہاتھ میں واس دیکھ دلشیر نے گہرا سانس بھرا تھا اور افسوس سے نفی میں سر ہلایا تھا۔۔

“اب اگر ایک قدم بھی آگے بڑھایا نا دلشیر صاحب یہ واس ہوگا اور آپ کا سر۔۔”اسکے قدم رہتے دیکھ وہ شیر ہوئی تھی۔۔

اسکے اس انداز پر وہ دل و جان سے قربان ہوا تھا تبھی ناچاہتے ہوئے بھی وہ قہقہ لگا گیا تھا۔

“یہاں کامیڈی نہیں چل رہی ہے جو دانت نکل رہے شرافت سے یہاں سے جائیں ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”وہ اسے ہنستے ہوئے سخت زہر لگا تھا۔

“میں اس لئے ہنس رہا ہوں کہ کل تک بابا آپ جو بولیں کروگی اماں سے ڈرونگی اب میرے آگے شیرنی بنی ہوئی جانی کون سا ڈرامہ دیکھا تھا ہاں پوری رات؟”آنکھ دبا کر وہ اسے مزید سلگھا گیا تھا۔۔

“میں ہر ایک سے نہیں ڈرتی آئی سمجھ وہ میرے ماں باپ ہیں اور اپنے جس طرح سے مجھ سے شادی کی ہے اسکے بعد لگتا ہے کہ میں آپ سے ڈروں گی؟؟”

“کون کہہ رہا تمہیں کہ مجھ سے ڈرو؟ بس۔۔” اسکو انجان دیکھ وہ مزید اسکے قریب ہوا تھا اور ایک جھٹکے میں اسکی کمر میں ہاتھ ڈال اسے اپنی طرف کھینچا تھا۔

یہ سب اتنا اچانک ہوا تھا کہ اسے لمحے کو کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ ہوا کیا ہے ہوش تو تب آیا جب خود کو اسکے حصار میں قید پایا۔۔

“اااہہہ۔۔۔۔ چھوڑیں مجھے۔۔” اسکے کندھے کر مکے برساتی وہ چلائی تھی۔۔

“چھوڑ دوں تاکہ مجھے جان سے مار دو ہاں؟”اسکو اپنے حصار میں قید کرتے وہ مسکرایا تھا اور اسے لئے بیڈ پر گیا تھا۔۔

اسنے سختی سے اپنی آنکھیں میچی تھیں۔۔

“کھول لو آنکھیں کچھ نہیں ہونے دے سکتا تمہیں میں۔۔”اسکے چہرے پر موجود بالوں کو پھونک سے اڑاتا وہ اسکے پودے جسم میں سنسنی دوڑا گیا تھا۔

مندی مندی آنکھیں کھول کر اسنے سامنے دیکھنا چاہا تھا مگر آنکھیں کھولتے ہی اسے خود پر جھکا پایا تھا اسکا دل ایک دم تیزی سے دھڑکا تھا۔

“دد۔۔۔دور ہٹی۔۔دور ہٹیں۔۔۔”اسکے سینے کر ہاتھ رکھ اسنے دلشیر کو خود سے دور کرنا چاہا تھا مگر دلشیر نے اسکی دونوں کلائیاں تھام اسکی جان مزید مشکل میں ڈالی تھی۔۔

“جو بولو گی وہ کرونگا سوائے دور ہونے کے۔۔”اسکی آواز کی گھبیرتا اسنے واضح محسوس کی تھی۔۔

دلشیر نے غور سے اسکی پلکوں کی لرزش کو دیکھا تھا آنکھوں سے ہوتی نظریں اسکے گلابی پنکھڑیوں سے ہونٹوں پر ٹکی تھیں بہت بے اختیار ہوکر وہ جھکا تھا اور ان لبوں کی نرماہٹ محسوس کی تھی۔۔

دوسری طرف دلشیر کی اس حرکت سے پریشے کی جان لبوں پر آئی تھی اس نے پوری طاقت سے اس سے دور ہونا چاہا تھا شرم جھجھک۔۔ وہ شدید بےبس ہوئی تھی۔۔

اسکی مظاہمت محسوس کر اسنے نرمی سے اسکے لبوں کو آزادی بخشی تھی اور بہت غور سے اسکے شرم سے لال سرخ چہرے کو دیکھا تھا اس نے آہستہ سے جھک کر اسکی بند آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔

“مانتا ہوں جو کیا آج تک سب غلط کیا تمہیں تکلیف دی جس کے لئے میں تم سے سوری کرتا ہوں تمہیں حق ہے مجھ سے ناراض کو غصہ کرو چاہے تو یہ واس واقعی میں میرے سر پر مار دو مگر آج کے بعد دور ہونے کی بات مت کرنا۔۔”اسکے کان کے پاس چہرہ لئے وہ آہستہ آواز میں سرگوشی کررہا تھا اسکے لب پریشے کے کان سے مس ہورہے تھے اسنے سختی سے اسکی شرٹ کو مٹھی میں لیا ہوا تھا۔۔

“ابھی بہت کچھ کہنا ہے سمجھانا ہے مگر فلحال کے لئے اتنا ہی کافی ہے امید ہے تم مجھے موقع دو گی خود کو ثابت کرنے کا” اسکی پیشانی پر لب رکھتا وہ آہستہ سے بیڈ سے اٹھا تھا اور اپنے کپڑے لئے وہ کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔

اسکی غیر موجودگی محسوس کر اسنے ہلکے سے آنکھیں کھولی تھیں اور خالی کمرہ دیکھ اسکا کب کا رکا سانس بحال ہوا تھا۔

گہرے گہرے سانس بھرتے اسنے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا۔۔

وہ تیار ہوکر باہر اپنے آفس آیا تھا نیلم اور ریشم گھر میں موجود تھیں۔۔

اسے دیکھ کلیم نے جلدی سے اسکے لئے کافی آرڑر کی تھی۔۔

“کچھ گڑبڑ تو نہیں کی نا سسر نے”؟ اسکے پوچھنے پر کلیم نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“نہیں باس ابھی تک تو سب انڈر کنٹرول ہے مگر حویلی کی طرف سے کوئی اچھی خبر نہیں ہے”کلیم کی بات پر اسکے چہرے پر ناگواری چھائی تھی۔

“آپ کے یوں آجانے سے وہاں سب کو بہت برا لگا ہے اسپیشلی آپ کے آغا جان اور بابا جان کو.”کلیم کے کہنے پر وہ طنزیہ مسکرایا تھا

“لگتا ہے اس بار گہری چوٹ لگ گئی ہے ان کی انا پر۔۔”

“آپ کی والدہ کی بھی کئی بار کال آئی تھی مگر میں نے ریسو نہیں کی۔”

“اچھا کیا خیر فضول باتوں کو چھوڑ کر کچھ کام کا بتاؤ گاؤں میں جو کام کہا تھا اسکا کیا ہوا؟”

“وہاں کا کام علی دیکھ رہا ہے کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی ہے بلکہ کام کافی تیزی سے چل رہا ہے ہاں البتہ آپ کو آج اجلاس میں شرکت کرنی ہوگی۔”اسکے آگے فائل رکھتے وہ پیچھے ہوا تھا۔

“کلیم ایک کام کرو اپنی میڈم کی ضرورت کا سارا سامان گھر پہنچا دو اور کوشش کرنا اسے کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نا آئے اور اگر سسر صاحب کوئی حرکت کریں تو مجھے فوراً اطلاع دینا اب تم جاؤ کام کرو۔”کلیم اسکے کہنے کر جلدی سے باہر بڑھا تھا۔۔

فائلز پر نظر دوڑاتے اسے اچانک صبح کا منظر یاد آیا تو ہونٹوں پر الوہی مسکان نے ڈیرہ جمایا تھا۔۔

گہرا سانس بھر کر وہ اپنی ہی حالت پر ہنسا تھا۔

“بہت مشکل ہونے والا ہے بیٹا دلشیر اب بس دعا کرو کہ وہ تمہیں معاف کردے اور تم سے محبت کرنے لگے۔۔” اپنے موبائل میں اسکی تصویر دیکھتا وہ خود سے مخاطب ہوا تھا۔

جس طرح کا وہ بندہ تھا وہ کبھی کوئی رشتی زبردستی بنانے کا قائل نہیں تھا اس نے جب اسے پہلی بار دیکھا تھا وہ اپنا دل ہار بیٹھا تھا اسے کوئی تجربہ نہیں تھا کہ یہ سب کیسے کرتے ہیں اس لئے جو سمجھ میں آیا وہ کیا پہلے تو اس نے رشتہ ہی بھیجا تھا اسکا کوئی نہیں تھا اور جو تھا انہیں وہ اپنا سمجھتا ہی نہیں تھا۔۔

اسکے نکاح کا سن کر وہ پاگل ہوا تھا اسے غصہ آیا تھا جبھی اسنے انتہائی قدم اٹھایا تھا ورنہ دلشیر خان کبھی کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا تھا مگر یہاں وہ ناجانے کیوں بے بس ہوگیا تھا۔

“اب ہوگیا تو ہوگیا یار بس اب اپنی غلطی سدھاروں گا تاکہ تمہیں مجھ سے پیار ہو جائے”اس سے مخاطب ہوتے وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

وہ فریش ہوکر باہر آئی تو بیڈ پر اتنا سامان بکھرا دیکھ اسنے ناسمجھی سے سامنے کھڑی نیلم کو دیکھا تھا۔

دلشیر کے جانے کے بعد وہ واپس سے کمفرٹر میں گھسی تھی اور ایک بار پھر روتے روتے وہ دوبارہ سوگئی تھی اسے خود پر حیرت تھی کہ یہاں آکر وہ کتنا سو رہی تھی۔۔

اور اب اٹھ کر وہ فریش ہوکر باہر آئی تو اپنے کمرے اور بیڈ پر پڑے سامان اور ان کے پاس کھڑی نیلم کو دیکھ اسے حیرت ہوئی تھی۔۔

“میڈم سر نے یہ سامان آپ کے لئے بھجوایا ہے آپ کی اجازت ہو تو میں سیٹ کردوں”؟نیلم نے مؤدب انداز میں اس سے اجازت طلب کی تھی۔

اسے ان دونوں چڑیلوں کا پچھلا رویہ یاد آیا تو اسنے ایک خونخوار نظر اس پر ڈالی تھی۔

“اب اتنا اچھا کیوں بن رہی ہو ہاں کل تک تو مجھے سوئیاں چبھو چبھو کر مار ڈالنے کی کوشش کررہی تھیں۔”کل کا دن یاد کر ایک بار پھر اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔

“سوری میڈم مگر وہ ہماری مجبوری تھی یہ ہمارا کام تھا آج کے بعد سے آپ کو ہم سے کوئی شکایت نہیں ملے۔”اسکے سر جھکا کر کہنے پر اسے واقعی اس پر ترس آیا تھا۔۔

“میڈم آپ نیچے جاکر ناشتہ کرلیں تب تک میں یہ روم سیٹ کرتی ہوں۔”نیلم کے کہنے پر وہ سر ہلاتی نیچے آئی تھی اس نے ابھی تک رات والا ڈریس پہنا ہوا تھا اتنی بڑی حویلی دیکھ اسکی آنکھیں پھٹی تھیں وہ دوسری بار اس جگہ آئی تھی مگر پہلی بار وہ فرصت سے آس پاس کا جائزہ لے رہی تھی۔

“گڈ مارننگ میم۔۔ آجائیں ناشتہ ریڈی ہے اس کے بعد سر نے کہا ہے آپ کو حویلی دیکھانے کے لئے۔۔”ریشم نے آگے بڑھ کر مودب انداز میں کہا تو سر کے نام پر اسکا حلق تک کڑوا ہوا تھا صبح کا منظر یاد کر اسکی ہتھیلیاں بھیگی تھیں۔۔

“میں تمہارے سر کے حکم کی پابند نہیں ہوں۔۔”روٹھے روٹھے انداز میں کہتے وہ ریشم کی تقلید کرتی ڈائننگ ایریا میں آئی تھی سامنے اتنی بڑی ٹیبل اور اس پر سجے لوازمات دیکھ اسکی آنکھیں پھٹی تھیں۔

اتنا کھانا تو وہ لوگ ایک وقت میں سوچ تک نہیں سکتے تھے۔۔

ہاف فرائی انڈہ،املیٹ،بریڈ،بٹر،کیک رس،جام جوس،حلوہ پوری۔۔

“اور کون کون رہتا ہے یہاں اور وہ لوگ ناشتے پر کیوں نہیں آئے؟”اتنا ناشتہ دیکھ وہ پوچھ بیٹھی تو اسکی بات پر ریشم ہولے سے مسکرائی تھی

“میم یہاں صرف سر رہتے ہیں اور میں اور ریشم سرونٹ کوارٹر میں۔۔”

ریشم کی بات پر اسے حیرت ہوئی تھی۔

“تو مطلب اتنے بڑے گھر میں وہ اکیلے یہاں رہتے ہیں؟”

“جی میم”

ہونہہ جبھی تو دماغ کا پیچ ڈھیلا ہے اکیلے رہ رہ کر سنکی ہوگئے ہیں.ریشم کی بات کر اس نے دل میں سوچا تھا۔

“میں اکیلے اتنا نہیں کھاتی تو آپ نے اتنا کیوں بنایا”؟

میم سر کو آپ کی پسند کا نہیں پتا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ سب کچھ بنایا جائے۔۔”ریشم کی اگلی بات پر اسے چپ لگی تھی اسے حیرت ہوئی کہ وہ شخص اسکی پسند نا پسند کا اتنا خیال رکھ رہا ہے شادی میں اسکی پسند تو پوچھی ہی نہیں تھی۔۔

“آپ ناشتہ کرلیں کوئی بھی کام ہو آپ مجھے بلا لیجئے گا۔”اسے بول کر ریشم خود غائب ہوئی تھی۔۔

“ہونہہ میسنی”اسکے جانے پر اسنے جل کر غصے میں بولا تھا اور پھر خود ہی بوکھلائی تھی

“یا اللّٰہ میں کیوں اتنا برا برا سوچ رہی ہوں میں ایسی تو نہیں تھی یہ دلشیر کی وجہ سے سب ہورہا ہے کہ میں سب کو برا سوچ بھی رہی اور ان کو برا بول بھی رہی سوری سوری اللّٰہ۔۔ “اسنے اپنی سوچ پر جلدی سے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کی تھی۔

دوسری طرف اسکی حرکت پر وہ دل کھول کر ہنسا تھا۔

“یہ بھی صحیح ہے خود کچھ بھی کرو اور الزام مجھ غریب پر لگا دو۔”اسکی حرکت پر وہ خود سے بولا تھا اب کہاں کام میں دل لگنا تھا۔۔

دوسری طرف وہ بیچاری یہ طے کرنے کی کوشش میں ہلکان تھی کہ کھائے تو کھائے کیا۔

“یا اللّٰہ کسی ایک چیز کو بھی نہیں کھایا تو یہ تو پھر کھانے کا ضیاع ہوگا نا اور اگر کھالیا تو پیٹ کا۔”اس نے ایک بار پھر نظر ٹیبل ڈالی تھی پھر کچھ سوچ کر حلوہ پوری سے اسٹارٹ کیا تھا۔۔

اسکی فضول سی حرکتوں کو وہ منہ پر مٹھی جمائے دیکھنے میں مصروف تھا اب یہ تو طے تھا آج ایک بار پھر بچاری پریشے کا ریکارڈ لگنا لازمی ہے۔۔