Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah Readelle50312 Last updated: 10 November 2025

240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

"آئیں میڈم آپ کو روم دیکھا دوں۔۔ "نیلم نے اسکا بازو پکڑ کر اسے آگے بڑھایا تھا جو پیچھے مڑ کر اپنے باپ کو جاتے ہوئے دیکھ رہی تھی جن سے اسے کبھی محبت نہیں ملی تھی جن کا ہونا نا ہونا اس کے لئے برابر تھا مگر پھر بھی اسے ان کے لئے برا لگ رہا تھا۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اسکا بات اسکے ساتھ کیا کرنے والا تھا مگر پھر بھی وہ یہ سب نہیں چاہتی تھی۔
بنا کچھ کہے وہ نیلم کی ہمراہی میں چلتی اس کمرے تک آئی تھی جسے دیکھ کر ہی اسے وحشت نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔
وہ کمرہ دیکھ اسے لگا جیسے وہ کسی محل کے کمرے میں آگئی ہے۔
جہازی سائز بیڈ بے حد خوبصورت پردے جنہوں نے کھڑکیوں کو ڈھانپ رکھا تھا چھت پر لگے بڑے بڑے فانوس یہ کمرہ اس کمرے سے کئی گنا زیادہ خوبصورت تھا جہاں وہ اس سے پہلے موجود تھی۔۔
بیڈ کراؤن کو پھولوں سے سجایا ہوا تھا اسکا دل سکڑ کر رہ گیا تھا۔۔
آپ یہاں آرام کریں کوئی بھی کام ہو کچھ بھی چاہیے ہو آپ انٹر کام کردیجیے گا۔۔
بیڈ کی سائیڈ پر لگے انٹر کام کی طرف اشارہ کرتے نیلم باہر بڑھ گئی تھی
جبکہ اسکے جاتے ہی اسنے جلدی سے بھاگ کر دروازہ بند کیا تھا اور اندر سے چٹخنی چڑھائی تھی۔۔
اب میں بھی دیکھتی ہوں تم کیسے اندر آتے ہو اغوا کیا ہے نا مجھے۔۔
سب چیزوں کا جائزہ لیتے وہ بیڈ کر آکر لیٹی تھی اور خود کو کمفرٹر میں اچھے سے قید کیا تھا دل میں ڈر بھی تھا کہ وہ بدلہ ضرور لے گا مگر دل کڑا کئے وہ پڑی رہی۔۔
کیا کروں اگر سوگئی اور وہ آگیا تو؟ خود سے سوال کرتے اسنے پہلو بدلہ تھا۔
نہیں وہ کیسے آسکتا ہے میں نے دروازہ اچھے لاک کیا ہے۔۔
اگر وہ آگیا تو اس نے دروازہ توڑ دیا تو۔۔
یا اللّٰہ اگر اس نے پھر سے بابا کو لا کر مجھے بلیک میل کیا تو؟؟؟
خود سے سوال جواب کرتی وہ پاگل ہورہی تھی۔
نہیں اب نہیں آؤنگی میں بلیک میلنگ میں۔۔
لیکن فائدہ اب جب بلیک میلنگ میں نہیں آنا تھا تب تو آگئی نا۔۔ خود سے لڑتے وہ تھک گئی تھی تبھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
زندگی ہمیشہ سے ہی اسکے لئے مشکل رہی تھی اور اب جہاں سوال ساری زندگی کا تھا وہاں بھی اسکی مرضی کے بغیر فیصلے کئے گئے تھے۔۔
کیوں میرے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے مجھے پڑھنے کا شوق تھا مگر کوئی پڑھانے والا نہیں تھا اپنی محنت سے آگے بڑھی تو اپنا خواب پورا کرنے کے لئے پیسے نہیں تھے اور اب جب ہر لڑکی کا شادی کو لے کر کوئی نا کوئی خواب ہوتا ہے تو یوں زبردستی مجھ پر رشتے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی کیا ہے میری زندگی۔۔ تکیے میں منہ دے کر وہ سسکی تھی
یا اللّٰہ مجھے ہمت دیں حوصلہ دیں تاکہ میں مضبوط رہوں۔
ہاتھ کی پشت سے گال رگڑتی اس نے دعا کی تھی۔۔