240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 6)

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

ابے یار تو اپنی بتا میرا تو سارا پیسہ ہی ڈوب گیا ہے۔۔

ٹرک کے اڈے پر بیٹھے وجدان صاحب نے اپنے دوست سے کہا تھا ان کے سامنے حقہ رکھا تھا جسے وہ دونوں باری باری پی رہے تھے

میرا کیا ہونا یارا جو تیرا ہوا وہی میرا ہوا۔۔

مگر ایک بات تو خوش قسمت ہے صاحب سے اپنی بیٹی کی شادی طے کر کے تو نے انہیں اپنی مٹھی میں کرلیا ہے۔۔

ابے جا شکور کاہے کا مٹھی میں ابھی تو وہ بھر آئے گا تاریخ رکھی جائے گی

جو بھی ہے مگر یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا داماد بن وہ تیری مٹھی میں آجائے گا دوسرا تیرے وارے نیارے۔۔ شکور کی بات پر وہ دل کھول کر ہنسا تھا

جو بات ہے مگر مجھے کہیں نا کہیں ڈر ہے کہ شادی کے بعد یہ اپنے وعدے سے پھر نا جائے

اسی لئے آج جب وہ آئے گا تو لکھت کام کرواؤں گا۔۔۔

ہاں ویسے یہ صحیح کیا تو نے مگر جب سب تیرے ہاتھ میں آجائے تو مجھ غریب کو بھول مت جانا۔۔

ہاہاہاہا ارے تو اپنا یار ہے یہ سب تیرا ہی تو آئیڈیا ہے تجھے تو ضرور فائدہ پہنچاؤ گا۔۔

وہ قہقہ لگا کر بولا تھا

ابے ہاں ہار بس حق مہر میں ایک گھر یا گاڑی تو نام کروا لینا۔۔۔

شکور نے ان کے دماغ میں ایک نئی بات ڈالی تھی

اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا سامنے سے آتی کالی گاڑی نے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی تھی

اوئے شکور یہ اتنی بڑی گاڑی میں کون آیا ہے۔۔؟؟

اس کے کہنے پر شکور نے مڑ کر گاڑی کا دیکھا تھا

ابے یہ کون آگیا اتنی بڑی گاڑی میں۔۔

وہ دونوں اٹھ کر آگے بڑھے تھے گاڑی ان کے آگے آکر رکی تھی

جس میں سے وہ دو لحیم شحیم آدمی نکلے تھے

اوئے یہ وجدان کون ہے؟؟ ان کے کڑک لہجے پر شکور نے جلدی سے وجدان کو دیکھا تھا

کیوں صاحب جی کیا ہوا ہے خیریت؟؟! تو وجدان ہے؟ اسکے لہجے پر شکور ایک دم گڑبڑایا تھا

میں ہو وجدان کیوں کیا کام ہے؟؟

وجدان صاحب کے آگے آنے پر دوسرے آدمی نے سختی سے انکا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا تھا

تو تو ہے وجدان چل بیٹھ گاڑی میں۔۔ ان دونوں آدمیوں میں تقریباً گھسیٹتے انہیں گاڑی میں پھینکا تھا

ابے کون ہو تم لوگ میں نے کیا کیا ہے۔۔۔۔؟؟ شکور بچا مجھے ارے مجھے قصور تو بتاؤ میرا۔۔

اسنے چلانے کی پرواہ کئے بغیر وہ دونوں انہیں گاڑی میں ڈالتے وہاں سے روانہ ہوئے تھے

چھوڑو مجھے کون لوگ ہو تم لوگ کہا لے کر جارہے ہو مجھے؟؟؟

مسلسل ہاتھ چلاتے وہ چلایا تھا

اگر اب تیری زبان بند نہیں ہوئی نا تو وہاں پہنچنے تک تیری زبان سلامت نہیں رہے گی۔۔

اس آدمی کی دھمکی پر وجدان صاحب کی زبان کو بریک لگی تھی

گاڑی مختلف راستوں سے ہوتی ایک بڑی تھی عمارت کے آگے رکی تھی

اسے دونوں ہاتھوں سے زبردستی تھام کر وہ لوگ نیچے کی طرف کمرے میں لائے تھے اور اسے کرسی پر بیٹھایا تھا

اگر جان اور عزت پیاری ہے تو بنا چوں چراں یہاں بیٹھ۔۔۔ وہ دونوں آدمی اسے وہ بیٹھا کر خود کمرے سے غائب ہوئے تھے۔۔

اے اللہ کہاں پھنس گیا میں ۔۔۔ کچھ غلط بھی نہیں کیا میں نے۔۔۔

جان کے ڈر سے ان کی ہمت نہیں ہوئی تھی کہ اٹھ کر باہر دیکھ سکیں تبھی دروازہ کھلا تھا اور بلیک ڈریس میں وہ اندر داخل ہوا تھا

چہرے کو ماسکو اور کیپ سے کور کیا ہوا تھا

کک۔۔کون ہو تم مجھے کیوں لائے ہو یہاں؟؟ وہ چلائے تھے

دلشیر نے ناگواری سے ان کی طرف دیکھا تھا

یہ دونوں باپ بیٹی کو چیخنے کا کتنا شوق ہے۔۔۔

کان پر ہاتھ پھیرتے وہ بڑبڑایا تھا

زرا تحمل کے ساتھ جم جاؤ سیٹ پر صاحب۔۔۔

وجدان صاحب کی سیٹ کے گرد ہاتھ رکھتے اسنے سرسراتے لہجے میں کہا تھا

اس کے لہجے میں عجیب سی سرد مہری تھی اور یک لمحے کو چپ ہوئے تھے

کیوں لائے ہو مجھے یہاں میرا کہا قصور ہے؟؟!

ابے دو منٹ چپ ہونگے تم۔۔۔ کیا کیوں کیسے عجیب۔۔ بیزار سا ہوکر وہ سامنے والی چئیر پر بیٹھے تھا اور پاؤں سامنے پڑی پر ٹیبل پر رکھے تھے

سنا ہے اپنی بیٹی کی شادی سیٹھ سے کر رہے ہو؟؟

اسکے سوال پر وہ چونکے تھے

تمہیں کیسے پتا؟؟؟

مجھے کیسے پتا ارے میں سب کا باپ ہوں مجھے نہیں پتا ہوگا تو کسے پتا ہوگا؟؟

تم جو کوئی بھی ہو مجھ سے کیا چاہتے ہو وہ بولو۔۔ وہ سیدھے مدعے پر آئے تھے

دلشیر کافی متاثر ہوا تھا

واہ بھئی سوداگر آدمی ہو ماننا پڑے گا سیدھا مطلب کی بات نا ادھر کی نا ادھر کی۔۔ گڈ گڈ۔۔

دیکھو میں تمہیں نہیں جانتا۔۔

اچھی بات ہے کوشش بھی مت کرنا جاننے کی یہی بہتر ہوگا۔۔

جو تم کر رہے ہو اس سے باز ہوجاؤ یار کیسے باپ ہو اپنی ہی بیٹی کو اپنی عمر کے آدمی کے ساتھ جوڑ رہے شرم ورم ہے کہ نہیں تم میں۔۔۔ غصے سے اسنے ان کی کرسی پر لات ماری تھی

وجدان صاحب کی چیخ نکل گئی تھی

ڈوب مرو تم۔۔۔ ایک اور لات کرسی پر مارتا اسنے نے گہرا سانس لیا تھا۔۔

اب میری بات غور سے سنو ابھی اپنے اس سیٹھ کو فون ملاؤ اور اس رشتے سے انکار کرو آئی سمجھ۔۔۔؟؟؟

تتم۔۔وجدان صاحب کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ شخص آخر چاہتا کیا ہے عجیب سرپھیرا آدمی لگا تھا وہ انہیں

دلشیر نے انکا فون جیب سے زبردستی نکال کر ان کے ہاتھ میں تھمایا تھا

کال کرو اور رشتے سے منع کرو۔۔

میں ایسا نہیں کرونگا اور کیوں کرو تم ہوتے کون ہو وہ بیٹی ہے میری میں کچھ بھی کرو اس کے ساتھ۔۔

ابے۔۔۔۔ دلشیر نے بہت مشکل سے خود کو کچھ سخت سست کہنے سے روکا تھا

پیسا ہی چاہیے نا منہ مانگا دونگا ابھی اس رشتے سے انکار کرو۔۔

کتنے پیسے دوگے؟؟ ان کے سوال پر وہ کھل کر مسکرایا تھا

منہ مانگے۔۔ دلشیر کی بات پر ان کی آنکھیں چمکی تھیں

ایک کروڑ۔۔ ان کی فرمائش پر اسنے طنزیہ انداز میں مسکرا کر اس لالچی انسان کو دیکھا تھا

ڈن اب منع کرو اسے فون کر کے۔۔ چاہتا تو یہ کام میں خود بھی کرسکتا تھا مگر میرے کچھ اصول ہیں یہ لو آدھی رقم۔۔

ان کے آگے پیسے پھینکتے اس نے موبائل ایک بار پھر ان کے آگے کیا تھا

وجدان صاحب نے نمبر ملا کر فون کان سے لگایا تھا

کیا ہوا؟ انہیں چپ دیکھ اس نے سوال کیا تھا

بند ہے فون مگر تم بے فکر رہو میں گھر جاتے ہی ان سے رابطہ کرتا ہوں اور منع کرتا ہوں مگر یاد رکھنا منع کرنے کے بعد پوری رقم مجھے بھیج دینا۔۔

مل جائے گی تمہیں رقم اب نکلو اور اگر کچھ گڑبڑ کی تو اچھا نہیں ہوگا۔۔

ان کو اچھے سے سمجھا کر وہ باہر آیا تھا

چھوڑ کر آؤ اسے اور اس پر نظر رکھنا سستا آدمی میں جلد بک جاتا ہے ایک ہی کام اچھا کیا ہے اس نے وہ ہے پریشے کو اس دنیا میں لاکر۔۔ آخری بات منہ ہی منہ میں کہتا وہ آگےبڑھ گیا تھا۔۔

آگے پیچھے نظر رکھتے وہ گھر میں داخل ہوئے تھے

نرگس بیگم انہیں یوں بے وقت گھر میں دیکھ پریشان ہوئی تھیں کیونکہ ضرور کوئی نا کوئی چیز ایسی تھی جو ان کے دماغ میں چل رہی تھی

چائے ہلا نرگس سر درد سے پھٹ رہا ہے۔۔ تخت پر لیٹتے آنکھوں نے وہیں سے آواز لگائی تھی۔۔

جا عظمی اپنے ابا کے لئے چائے بنا۔۔

بھئی کیا ہے اماں پریشے کو بولو نا۔۔

وہ چھت پر ہے کپڑے ڈال رہی ہے کر بات میں بحث نا کیا کر مجھ سے جا اب۔۔

غصے سے اسے جھڑکتے انہوں نے اسے باہر بھیجا تھا۔۔

اور پھر خود بھی اٹھ کر باہر آئی تھیں

سہیل کے ابا مہمانوں کے لئے سامان لادو۔۔ ان کے پاس بیٹھ کر کہنے کر ان کے ماتھے پر بل پڑے تھے

کوئی مہمان نہیں آرہا جا ابھی دماغ خراب مت کر میرا۔۔

انکا دل تو کر رہا تھا ہنگامہ کریں پریشے کو بلا کر اس سے پوچھیں مگر دلشیر کی وجہ سے اپنا منہ بند کر رکھا تھا

مجھے بلا کر دھمکا رہا ہے میں بھی دیکھتا ہوں کیسے نہیں ہوتا یہ نکاح چند لاکھ دے کر ساری زندگی کا فائدہ گنوا دو ناممکن۔۔ خود سے بولتے انہوں نے چائے کا کپ لبوں سے لگایا تھا اور سیڑھیاں اترتی پریشے جو غصے سے دیکھا تھا

کون ہے وہ اور اس کا پریشے کے رشتے سے کیا تعلق۔۔ کچھ کچھ وہ سمجھ رہے تھے مگر ابھی تازہ تازہ واقعہ ہوا تھا تو اتنی جلدی کوئی بھی کام کرکے اپنے لئے مصیبت نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔

اے پریشے ادھر آ زرا۔۔۔ ان کے پکارنے پر اسکے آگے بڑھتے قدم رکے تھے

ججی۔۔۔جی ابا۔۔۔ اس نے تھوگ نگل کر انکی طرف قدم بڑھائے تھے

تیزی سے چل کر آ کیا جان نہیں ہے تجھ میں۔۔

ان کا بس چلتا تو ابھی سارے سوال کر لیتے۔۔

کیا کرتی ہے تو آج کل کون کون دوست ہیں تیری۔۔؟؟

ابا کالج میں پڑھتی ہوں دوست نہیں ہے کوئی۔۔

اگر میں تیری شادی کروں اپنی مرضی سے تو تجھے اعتراض ہے ؟؟ ان کے اتنے ڈائریکٹ انداز پر اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ بولے ۔۔۔

جی۔۔۔

کیا جی جواب دے اعتراض تو نہیں ہے نا تجھے؟؟

اس نے بے چینی سے کچن میں کھڑی نرگس بیگم کو دیکھا

بول نا کیا منہ میں دہی جما لیا ہے؟؟

جیسی آپ کی مرضی ابا۔۔ انہیں بول کر فوراً ان کی نظروں سے غائب ہوئی تھی

نرگس اسے تیار کر نکاح کی تیاری کر وہ لوگ ابھی آرہے ہیں۔۔

ان کے سر پر بم پھوڑ کر وہ جلدی سے باہر نہیں تھے

شکور نکاح خواں لے کر پہنچ جلدی سیٹھ سے بات ہوگئی ہے وہ راستے میں ہی ہیں۔۔جلدی جلدی سب کام کرتے وہ سامان لینے گئے تھے

دوسری طرف وہ نرگس نے سر پکڑا تھا

اور جیسے اسے لگا اسے کسی نے گہری کھائی میں پھینک دیا ہو۔۔

سیٹ کی پشت سے سر ٹکائے وہ باہر نظر آتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا گاڑی اپنے سفر پر رواں دواں تھی ارجنٹ کال کی وجہ سے اسے اسلام آباد جانا پڑ رہا تھا مگر اسکا دل بے چین سا ہورہا تھا

وہ کراچی کی حدود سے نکلا ہی تھا کہ اسکا موبائل رنگ ہوا تھا

کلیم کا نمبر دیکھ اس نے کال یس کی تھی

بوس وجدان نے دھوکہ دیا ہے وہ میڈم کا نکاح کر رہا ہے بندے ریڈی ہیں آگے کا حکم کریں۔۔۔

کلیم کی بات پر اس نے اپنے لب بھینچے تھے دماغ کی رگیں ابھری ہوئی تھی

اسے پہلی فرصت میں وہاں سے نکالو اور اس سسر صاحب کو تو میں اب بتاؤ گا کہ ہوں کیا میں۔۔ ایک ایک لفظ چبا کر کہتا اسنے ڈرائیور کو واپسی کا حکم دیا تھا

غلط کیا ہے بہت غلط۔۔۔ اس پر مکا مارتا وہ بڑبڑایا تھا

دوسری طرف وہ ہچکیوں سے روتی کمرے میں بند تھی

یا اللہ میری مدد کردیں مجھے نہیں کرنی یہ شادی مجھ پر رحم کھائیں میں نے کبھی کچھ نہیں مانگا نا آج مجھے اس عذاب سے جان چھڑوا دیں۔۔

دروازہ کھول پریشے تیرے ابا آنے والے ہیں۔۔

ان کے کہنے پر اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا تھا

اماں مجھے بچا لیں۔۔ ان کے گلے لگ کر وہ سسکی تھی

اماں میں مر جاؤں گی خدا کے لئے مجھ پر رحم کریں۔۔

ان کے آگے ہاتھ جوڑتی وہ ان نے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی

پریشے بس چپ ہو جاؤ۔۔ اگر تمہارے ابا کو پتا چلا تو وبال کھڑا دینگے۔۔

میں جانتی ہوں وہ زیادتی کررہے ہیں مگر میں کچھ نہیں کرسکتا یہ مت سمجھنا کہ میں فرق کر رہی ہوں مگر میں واقعی کچھ نہیں کر سکتی وہ مجھے طلاق دے دینگے میں کہاں جاؤ گی اس عمر میں۔۔

جاؤ تیار ہوجاؤ۔۔ اسے کہہ کر وہ خود اسکے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھتی بولیں تھی

جاؤ تیار ہوجاؤ۔۔

اس نے ایک نظر اس گھر اور اس گھر میں رہنے والوں پر ڈالی تھی

اور اپنا مردہ جسم گھسیٹتے واشروم میں بند ہوئی تھی

باہر سے شور کی آواز آرہی تھی جس کا مطلب تھا مہمان آچکے ہیں

باہر آکر اسنے دوپٹہ سر پر لیا تھا کون سی تیاری کون سی دولہن اسے لگ رہا تھا وہ مر گئی ہے اور اب اسکے رخصت کی تیاری چل رہی ہے۔۔

نرگس بیگم اسے لینے آئی تو اسے یوں بیٹھے دیکھ وہ کچھ بول بھی نہیں سکیں تھیں چپ چاپ اسے اٹھا کر باہر لائی تھیں جہاں مہمانوں کے نام پر چند لوگ موجود تھے

اسے صحن میں رکھی کرسی پر بیٹھایا تھا گیا

اس سے پہلے کے نکاح شروع ہوتا میں گیٹ دھاڑ کے ساتھ کھلا تھا

ککو۔۔۔کون ہو تم لوگ۔۔۔؟؟ کئی آدمیوں کو اندر آتا دیکھ وجدان صاحب کے طوطے اڑے تھے

دو عورتوں نے اندر آکر پریشے کو تھاما تھا

اس نے گھبرا کر ان دونوں کو دیکھا تھا

تبھی اسکے ہاتھ پر چبھن سی ہوئی تھی اور وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی تھی

اے میری بیٹی کو چھوڑو۔۔ وجدان صاحب نے چلا کر انہیں روکنا چاہا تھا مگر کلیم نے بندوق ان کے سر پر رکھی تھی

لے کر جاؤ میڈم کو۔۔

اور سسر صاحب آپ کو تو آپ کا دماغ بتائے گا۔۔

ان عورتوں کو اشارہ کرتے کلیم نے وجدان صاحب کی حالت بری تھی۔۔۔۔