240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 3)

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

اماں۔۔۔بے یقینی سی بے یقینی تھی

آپ نے اس کے لئے مجھے تھپڑ مارا؟؟

عظمی چلی جا یہاں سے ابھی۔۔ وہ اس پر غصہ ہوتے وہیں صحن میں بیٹھیں

اس نے گھور کر اسے دیکھا تھا اور اس سے ٹکراتی کمرے میں گئی تھیں

پریشے کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ آہستہ سے ان کے قدموں میں آکر بیٹھی تھی

اماں میں سچ میں نہیں جانتی یہ کون لوگ ہیں قسم سے اماں۔۔

چپ کر پریشے کیا مجھے نہیں پتا تیرا۔۔

ابھی جا کمرے میں اور کوشش کرنا اپنے بابا کے سامنے اس بات کا ذکر نا ہو

جی اماں۔۔ ان کی باتوں سے اسکی جان میں جان آئی تھی

وہ کمرے میں آئی تو عظمی بیڈ پر اوندھے منہ گری رونے میں مصروف تھی اسکا دل اداس ہوگیا اسکی وجہ سے ہمیشہ ہی کچھ نا کچھ غلط ہوجاتا ہے

اب یہ نئی مصیبت وہ جانتی تک نہیں تھی یہ دلشیر کون ہے کیا کرتا ہے اور رشتی بھیج کر بیٹھا ہوا ہے

اللّٰہ پوچھے تمہیں دلشیر منحوس آدمی۔۔۔

بیڈ پر بیٹھتے اسنے غصے سے اسے سوچا تھا

دماغ کے تانے بانے الجھ سے گئے تھے جبھی اٹھ کر اپنا بیگ سنبھالتی بیٹھی تھی

اوئے پریشے باجی کون لوگ تھے یہ جو اتنا سامان لائے ہیں۔ سہیل اندر آکر اسکے پاس بیٹھا تھا

مجھے کیا پتا سہیل مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔

ارے تو نام تو تمہارا لیا تھا نا

مجھے نہیں پتا کون لوگ تھے وہ نا میں جانتی ہوں ابھی مجھے یاد کرنے دو کل میرا ٹیسٹ ہے

اسے جواب دیتی وہ واپس کتابوں میں گم ہوئی تھی

اگلی صبح اسکے لئے ٹینشن لائی تھی اسکے بابا طویل غیر حاضری کے بعد آج گھر میں تھے

وہ تیار ہوکر باہر آئی تو انہیں صحن میں بیٹھا پایا۔۔

جا تو کالج جا۔۔ نرگس بیگم کے اشارہ کرنے پر وہ سر ہلاتی جلدی سے گھر سے باہر نکلی تھی

راستے میں جاتے ایک دم اسکا پاؤں بہت بری طرح سے مڑا تھا

آوچ۔۔۔۔ درد سے اسکی چیخ نکل گئی تھی

اسنے جھک کر پاؤں دیکھا جہاں اسکا جوتا اس جہان فانی سے کوچ کر چکا تھا

میرے تو برے دن شروع ہوگئے ہیں لگتا ہے ایک مسئلہ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔۔

لنگڑاتے پیر کے ساتھ سہارا لے کر چلتی وہ کالج میں داخل ہوئی تھی اور کلاس میں آتے ہی اسکی جان میں جان آئی تھی

بینچ پر بیٹھ کر اسنے اپنے پاؤں کو دیکھا تھا

درد کی لہر سی پورے جسم میں دوڑ رہی تھی

بیٹھنا دوبھر ہورہا تھا مگر درد برداشت کرتے وہ بے جان ہوتے پاؤں کے ساتھ بیٹھی رہی تھی

تبھی واچ مین نے آکر اسے اطلاع دی تھی کہ میڈم اسے بلا رہی ہیں

اللّٰہ۔۔ چلنے کا سوچ کر ہی اسکا دل برا ہوا تھا

مگر میڈم کے حکم کی نافرمانی کرنا اسکے بس کی بات نہیں تھی جبھی اپنا سامان بیگ میں سمیٹ کر رکھتی وہ آہستہ قدموں سے میڈم کے آفس میں آئی تھی

ابھی کوئی اندر ہے باہر انتظار کرو۔۔

میڈم کی اسسٹنٹ کے کہنے پر وہ سر ہلاتی باہر لگی بینچ پر بیٹھی تھی

ہر تھوڑی دیر بعد پاؤں میں ہوتا درد اسکی رنگت متغیر کر رہا تھا

پریشے آپ کے پاؤں پر چوٹ آئی ہے؟؟ میڈم نے باہر آتے ہی اس سے سوال کیا تھا اسنے سٹپٹا کر انہیں دیکھا تھا

جج۔۔جی میڈم۔۔

مس نائمہ پریشے کو سہارا لے کر باہر آئیں۔

میڈم کے بولنے پر اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا

میڈم ہم کہیں جارہے ہیں؟

اسنے سوال کیا تھا مگر دوسری طرف سے مکمل اگنور کیا گیا تھا وہ شرمندہ سی ہوگئی تھی جبھی چپ چاپ سر جھکا کر ان کے پیچھے چلتی گئی

وہ اسے لئے میڈیکل روم میں آئی تھیں

ادھر بیٹھو۔۔ اسے حیرت کا جھٹکا تو تب لگا جب وہاں دو دو ڈاکٹرز کو دیکھا عموماً کالج میڈیکل روم میں فرسٹ دینے کے لئے کوئی ٹیچر ہی ہوتی تھیں مگر یہاں ڈاکٹر کو دیکھ اسے حیرت ہونی تھی

ڈاکٹر اسکے پیر کا معائنہ کیا تھا

موچ نہیں آئی بس پیر مڑنے کی وجہ سے سوجن ہے یہ ٹیوب ہے اس سے مساج کرنا ہے اور یہ پین کلر ابھی لے لینا آرام ہوگا۔۔

ڈاکٹر نے اسے ہدایت دیتے اسکے وہ ٹیوب اور ٹیبلیٹس تھمائی تھیں

ابھی آپ آرام کریں کوئی بھی ضرورت ہو تو ہم موجود ہیں۔۔

نہیں میں ٹھیک ہوں مجھے کلاس میں جانا ہے۔۔اتنا پروٹوکول اسے ہضم نہیں ہوا تھا یہاں ان لوگوں کے بیچ اسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی

اللّٰہ جانے اچانک کیا ہورہا تھا سب کو۔

وہ جلدی سے اٹھنے لگی تھی مگر وہاں کھڑی ڈاکٹر نے ایک دم اسکا راستہ روک کر اسے واپس بیٹھایا تھا

سوری میڈم سر کا حکم ہے جب تک آپکا درد ٹھیک نہیں ہوجاتا آپ کو آرام کرنے دیا جائے۔۔

سر۔۔۔۔ اسکے سر پر پہاڑ گرا تھا

کیا نام ہے تمہارے سر کا۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ اسنے پوچھا تھا دل میں ڈر بھی تھا کہ کہیں وہی نا ہو۔۔

دلشیر خان۔۔۔

اسکا نام سن کر اسکا دماغ گھوما تھا

کون ہے یہ دلشیر یوں بزدلوں کی طرح چھپ کر بیٹھا ہے اور میری زندگی عذاب میں جھونکی ہوئی ہے بات کرواؤ میری اس سے۔۔ وہ غصے سے پاگل ہوئی تھی

میڈم آپ۔۔۔

منہ بند کرو اور بات کرواؤ میری۔۔ اسکا غصہ کسی طور کم نہیں ہورہا تھا کیا سوچ رہی ہونگی میڈم یہ سوچ کر اسکا دل جل رہا تھا

میم آپ میری بات سنیں۔۔۔۔ اس ڈاکٹر نے اسے تحمل سے سمجھانا چاہا تھا مگر آج تو اس پر تیس مار خان بننے کا بھوت سوار تھا

مجھے نہیں سننا کچھ بھی۔۔ غصے سے کہتے اسنے بیڈ سے اٹھنا چاہا تھا تبھی اس ڈاکٹر کا موبائل رنگ ہوا تھا

اس نے نمبر دیکھ فون جلدی سے کان سے لگایا تھا اور دوسری طرف کی بات سن کر موبائل اسپیکر پر ڈال کمرے سے نکل کر دروازہ لاک ہوا تھا یہ سب اتنا جلدی ہوا کہ اسے کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع تک نہیں ملا۔۔

جی محترمہ اب بولیں کیا بات کرنی ہے مجھ سے۔۔ بھاری مردانی آواز پر اسکے اوسان خطا ہوئے تھے

اس نے جلدی سے موبائل اٹھا کر کال ڈسکنٹ کرنا چاہی تھی مگر اسکی انگلی بات پر اسکا ہاتھ تھما تھا

کال مت کٹ کرنا ورنہ ابھی کال کی ہے کچھ دیر بعد روبرو آؤ گا جو تمہاری ننھی سی جان کے لئے ٹھیک نہیں ہے اسکی معنی خیز انداز پر اسنے جلدی سے موبائل کو خود سے دور کیا تھا

اب بتاؤ کیوں تنگ کررہی ہوں ڈاکٹر کو۔۔۔

مم۔۔۔میں تنگ کر رہی ہوں یی۔۔۔ یا آپ مجھے تنگ کررہے میری زندگی جہنم کرنے کیوں آئے ہیں آپ جان بخشیں میری خدا کے واسطے سب کیا سوچ رہے ہونگے میرے بارے میں۔۔

وہ غصے سے پھٹ پڑی تھی

مقابل کے ماتھے پر پڑے بلو میں اضافہ ہوا تھا

آج تو اس لہجے میں بات کرلی ہے مجھ سے آئندہ مت کرنا اور میں کون ہوں کیا کرتا ہوں بہت جلد آکر بتاؤ گا ابھی خاموشی سے بیٹھو۔۔ جلد آؤ گا تمہیں اپنا بنانے۔۔۔۔

اسکے لہجے میں چھپی تنبیہہ محسوس کرتے اسنے پہلو بدلا تھا

کال ڈسکنٹ ہوگئی تھی مگر وہ جیسے ساکت بیٹھی تھی

کون تھا یہ جو یوں بلا فضول اسکے پیچھے ہی پڑ گیا تھا

اسنے دونوں ہاتھوں میں سر گرایا تھا ایک آنسو ٹوٹ کر گال پر لڑکھا تھا

اللّٰہ پاک میری حفاظت کریں پلیز۔۔ دیوار سے سر ٹکاتے وہ روہانسی ہوئی تھی تبھی دروازہ کھلا تھا اور وہ ڈاکٹر اندر آئی تھی

اس بار اسنے کچھ نہیں بولا تھا جانتی تھی اگر اب کچھ بولا تو وہ انسان واقعی اس نے سامنے اجائے گا اور وہ ابھی اتنی بہادر نہیں ہوئی تھی

مجھے اماں کو بتانا ہوگا اس سے پہلے مزید کچھ برا ہو میرے ساتھ۔۔ اسنے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔

وہ مرے قدموں سے گھر میں داخل ہوئی تھی وہ ڈاکٹر اسے زبردستی اپنی گاڑی میں چھوڑنے پر باضد تھی مگر وہ باتھروم کا بہانہ بناتی پچھلے دروازے سے نکل آئی تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا

وہ خوش تھی کہ اس نے ڈاکٹر کو چکما دے دیا مگر گھر ہے قریب رکھے سامان کو دیکھ وہ چونکی تھی جس پر اسکا نام لکھا تھا اور ساتھ ایک چٹ تھی اسنے ڈرتے ہوئے وہ چٹ اٹھائی تھی اور پڑھ کر اسکی رنگت زرد ہوئی تھی

دھوکہ دینے والے پسند نہیں مجھے سزا کے لئے تیار رہنا۔۔۔

اسنے جلدی سے باکس کھول کر دیکھا تھا جو خالی تھے یقیناً اسکی توجہ کے لئے یہ رکھے گئے تھے اسنے کن انکھیوں سے ادھر ادھر دیکھا تھا اور گھر میں داخل ہوئی تھی

علی بابا کہاں ہیں اور اماں؟؟

صحن میں کھیلتے اس نے اپنے بھائی سے پوچھا تھا

اماں اور بابا نانی کے گھر گئے ہیں

اچھا ٹھیک ہے تم نے کھانا کھا لیا؟؟

جی عظمی آپی نے کھلا دیا تھا

بیگ رکھ کر وہ صحن میں رکھی چارپائی پر آکر بیٹھی تھی دل انجانے خوف سے لرز رہا تھا زندگی میں کتنا کچھ دیکھا تھا اپنی ماں کی موت لوگوں نے برے رویے۔۔

اسنے تھک کر آنکھیں موندی تھیں

کیا ہوا ہے پری خیریت ہے سب ؟؟ وہ آنکھیں موندے پڑی تھیں جب اپنی اماں کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تھی اس نے جھٹ سے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا

آپ کب آئیں اماں۔۔ پیروں میں چپل اڑستے وہ جلدی سے کھڑی ہوئی تھی اسے یاد آیا تھا کہ وہ بنا کوئی کام کئے ہی سو گئی تھی

اس نے ڈر کر سامنے کھڑی نرگس بیگم کو دیکھا تھا

دیر ہوگئی ہے کافی طبعیت ٹھیک ہے تیری آج یوں بے وقت سو گئی

ججج۔۔جی وہ سر میں درد ہورہا تھا تو۔۔۔ وہ ٹھیک سے جملہ تک مکمل نہیں کر پارہی تھی اس لئے سر جھکا گئی

اور یہ پیر پر کیا ہوا ہے؟؟

ہاں۔۔ وہ مڑ گیا تھا میڈم نے دوا دی تھی اب تو درد بھی نہیں ہے۔۔ اس شخص کی آواز یاد کرکے اسکا دل دھڑکا تھا

اچھا جا منہ دھو پھر سب کے لئے چائے بنا روٹی تک نہیں ڈالی تھی آج تو نے۔۔ سخت لہجے میں کہتے وہ باہر کی جانب بڑھی تو اس نے بھی فوراً سے ان کی تقلید کی تھی

جلدی جلدی ہاتھ چلا کر اسنے سارے کام کئے تھے مزید کوئی موقع اب وہ کسی کو نہیں دینے والی تھی۔۔

وہ پیپر ویٹ کو ہاتھوں سے گھماتا کسی غیر موئی نقطے کو گھورنے میں مصروف تھا اسکے سامنے ٹیبل پر ایک فائل کھلی پڑی تھی جس کے اوپر جلی حروف میں ایک نام لکھا تھا

پریشے ظفر کا۔۔

اسے خود پر حیرت ہورہی تھی کیسے وہ یوں ایک لڑکی کے حصول کے لئے پاگل ہوا پڑا ہے جبکہ کئی لڑکیاں اسکی ایک نظر کی طلبگار تھیں مگر وہ کیا کرتا اپنے دل کا جو اس ماروی پر آگیا تھا

اس کی ڈیٹ آف برتھ دیکھ وہ مسکرایا تھا

وہاں تو قسمت بھی چاہتی ہے میں تم سے جلد از جلد ملوں۔۔۔

کل کے دن کی تاریخ دیکھ وہ خود سے بول کر ہنسا تھا

اور اٹھ کر کھڑکی تک آیا تھا تاحد نگاہ گاڑیوں کا شور بڑی بڑی عمارتیں۔۔

تم میری قسمت میں تھیں تبھی تو میں وہاں آیا اور تمہیں دیکھا اب تم چاہے مجھے قبول کرو یا نا کرو تم پر دلشیر کی مہر لگ کر رہے گی جلد یا بدیر۔۔ اسکی باتیں یاد کرتے وہ اسکے عکس سے مخاطب ہوا تھا

وہ سرپھرا انسان تھا ایک بار جس سے نفرت کرے تو ساری زندگی اسکی شکل نہیں دیکھتا تھا اور جس سے محبت کرے اسے مرتے دم تک چھوڑتا نہیں تھا

فون پر ضروری ہدایت دیتا وہ کورٹ کے بٹن بند کرتا باہر آیا تھا جہاں اسکا ڈرائیور الرٹ کھڑا تھا

سر آپ کے آغا آپ سے ملنا چاہتے ہیں وہ آرہے ہیں شام تک۔۔

کلیم نے بات مکمل کرتے اسے دیکھا تھا جو اب سیگریٹ ہونٹوں میں دبا رہا تھا کلیم نے جلدی سے لائٹر اسکے آگے کیا تھا

سر آغا جان۔۔ کلیم کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس نے ایک تیز نظر اس پر ڈالی تھی

جو کام بولا ہے اسے کل تک کرو اور آغا جان کو سنبھالنا تمہارا کام ہے میرا نہیں۔۔

اسے کہتا وہ گاڑی میں آکر بیٹھا تھا اسکے بیٹھتے ہی گاڑی اسٹارٹ ہوئی تھی اور کراچی کی مصروف سڑکوں میں رواں دواں ہوئی تھی

اسے لگا جیسے ان گاڑیوں کے دھوئیں میں کہیں اسکی ذات تحلیل ہوگئی ہے۔۔