240.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Qalbi Maan (Episode 2)

Ishq Qalbi Maan By Fari Shah

کالے بالوں کو جلدی جلدی سے دو چوٹیاں میں قید کرتے اسنے دوپٹہ پہنا تھا اور تیار ہوکر جلدی سے باہر آئی تھی

سب کے ناشتے کے چکر میں وہ ہمیشہ ہی کالج سے لیٹ ہوجاتی تھی اور نئی پرنسپل کے آنے سے کالج میں بہت سختی ہوگئی تھی

کچن میں کھڑے کھڑے اس نے دو بریڈ کے سلائس کھائے تھے چائے وہ پیتی ہی نہیں تھی سوکھے سلائس کھا کر وہ جوتے پہنتی جلدی سے باہر آئی تھی سب کا ناشتہ بنا کر اسنے پہلے ہی ٹیبل پر سجا دیا تھا اب ٹھنڈا ہوا یا کیا اس کی بلا سے کل بھی انہیں کاموں کی وجہ سے اسے سزا میں کھڑا رہنا پڑا تھا اب وہ قطعی اپنا امیج خراب نہیں کرنا چاہتی تھی ایک کالج ہی تو تھا جہاں اس کی تعریف ہوتی تھی

ان گھر والوں کے چکر میں وہ یہ چیز نہیں کھو سکتی تھی۔۔

روڈ پر تیزی سے بڑھتے قدم ایک دم رکے تھے کچھ عجیب سا محسوس کر اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا مگر سوائے چند ایک اسٹوڈنٹ کے کوئی بھی نہیں تھا

اسکا دل تیزی سے دھڑکا تھا ایسا لگ رہا تھا کوئی ہے جو اسکا پیچھا کر رہا ہے اسکی جان لبوں پر آئی تھی تبھی بیگ پر اپنی گرفت مضبوط کرتی وہ فل اسپیڈ میں بھاگی تھی بنا آس پاس کی پرواہ کئے بغیر۔۔

اور یہ منظر کسی کے کمرے میں قید ہوا تھا

وہ پھولی سانسوں کے ساتھ کالج میں داخل ہوئی تھی

فائنلی آج وہ اپنے ٹائم پر پہنچی تھی جلدی سے بیگ سیٹ پر رکھتے وہ پرے میں شامل ہوئی تھی مگر دل اور دماغ دونوں صبح والے خوف کے زیر اثر تھے

کیا ہوا پری چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑ رہی ہیں؟؟؟ روبی نے اس کے چہرے کو دیکھ پوچھا مگر وہ نفی میں سر ہلا گئی اب اسے کیا بتاتی کہ اسے وہم ہورہا ہے کہ کوئی اسکا ہیچھا کر رہا ہے

پھر کوئی مسئلہ ہے؟؟

نہیں روبی مجھے کیا مسئلہ ہوگا بس تیز تیز آئی ہوں نا تو سانس پھول رہا ہے بیگ سے کتابیں نکالتے وہ ایک کتاب پر جھکی تھی۔۔

اسکے یوں کرنے پر روبی نے بھی کندھے اچکائے تھے

ویسے فنکشن کی پکس اور وڈیوز آگئی ہیں بہت پیاری لگ رہی تم۔۔

ہمم میں دیکھوں گی بعد میں۔۔ ٹیچر کے آنے پر وہ سب جلدی سے کھڑی ہوئی تھیں

پورا دن مصروفیات میں گزرا تھا اور اب اسکی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ پیدل گھر جاسکے تبھی کالج کے پاس بنی بینچ پر زرا دیر کو بیٹھی تھی

پیپر ہونے والے تھے تو پریکٹیکل اور ورکنگ ہارڈ ہوگئی تھی وہ اپنے کالج کے لائک اسٹوڈنٹ میں شمار ہوتی تھی اسی لئے وہ یہاں اسکالر شپ پر پڑھ رہی تھی

پانی کی بوتل منہ سے لگاتے اس نے گھونٹ گھونٹ پانی پیا تھا اور پھر بوتل بیگ میں رکھتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی

وہ تیز قدموں سے چلتی ایک گلی میں داخل ہوئی تھی تبھی کسی کے قدموں کی آواز پر اسکا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا

میڈم بات سنیں۔۔۔ اسکی اسپیڈ دیکھتا پیچھے آنے والا شخص بھاگ کر اسکے راستے میں آیا تھا

کیک۔کیا مسئلہ ہے آپ کا راستہ چھوڑو میرا۔۔ پھولی سانسوں کے ساتھ غصے میں کہتے وہ چیخ کر بولی تھی اور اسکی سائیڈ سے نکلی تھی

میڈم یہ آپ کے لئے ہیں پلیز اسے لے لیں۔۔ وہ شخص یقیناً بہت ڈھیٹ تھا جبھی ایک بار پھر اسکے سامنے آکر ایک بیگ اسکی طرف بڑھایا تھا اور اسنے بیگ دیکھ کر اندازہ لگایا تھا کہ اندر موبائل ہے کیونکہ وہ بیگ مشہور موبائل کمپنی کا تھا اس نے ٹی وی میں کئی بار دیکھا تھا

میرے راستے سے ہٹیں ورنہ میں شور مچا دونگی آئی سمجھ بہت ہوگیا ہے اب۔۔ اپنا ڈر سائیڈ پر رکھتی وہ فل اسپیڈ سے وہاں سے نکلی تھی

دل جیسے باہر آنے کو تیار تھا جان لبوں پر آئی تھی

گھر کا دروازہ کھولتے وہ تیزی سے اندر آئی تھی اور درازہ بند کرتی اندر کمرے میں بند ہوئی تھی

یا اللہ یہ کیا مصیبت میرے پیچھے لگ گئی ہے پلیز مجھے بچائیں۔۔ بیڈ پر لیٹے وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی

وہ بہت چھوٹی تھی جب اسکی ماں اس دنیا سے گئی اپنے بابا کی دوسری شادی پر وہ بہت خوش تھی اسکی سوتیلی ماں دوسری سوتیلی ماؤں جیسی تھی ہی نہیں وہ شروع سے بہت کئیرنگ تھیں پیار بھی کرتی تھیں عظمی اور عاقب کے بعد بھی ان کی محبت میں کبھی نہیں آئی تھی یہ جو دنیا ہے نا یہ کسی کو خوش کب دیکھ سکتی ہے

عظمی اسکے مقابلے میں کم صورت تھی جو بھی آتا اس بات کا احساس دلانا اپنا فرض سمجھتا تھا

پہلے جب بابا غصے میں مارتے تھے تو اتنا یقین ہوتا تھا کہ ماں بچا لے گی مگر آہستہ آہستہ یہ بچانا کم ہوتا جارہا تھا بابا کو رویہ صرف اس کے ساتھ ہی نہیں سب کے ساتھ ہی ایسا تھا وہ موڈی انسان تھے

وہ شروع سے ہی ڈرپوک تھی اماں کا بدلتا رویہ دیکھ اسے ڈر لگنے لگا تھا

محلے والے آکر ناجانے کیا بولتے تھے کہ ان کے جانے کے بعد وہ اس سے بات ہی نہیں کرتی تھیں اس پر غصہ کرنا شروع کر دیتی اور پھر آہستہ آہستہ وہ اس سے دور ہوتی چلے گئیں وہ سوتیلی ماؤں جیسی نہیں تھیں مگر اب وہ بننے لگی تھیں

مگر اسنے دیکھا تھا اسے مار کر وہ خوش نہیں رہتی تھیں اسکا دل کہتا تھا وہ آج بھی اس سے پیار کرتی ہیں ضرور کچھ ایسا ہوا ہے جس نے انہیں بد گمان کیا ہے مگر کیا یہ بات اسے آج تک پتا نہیں چل سکی تھی۔۔

اسے آج بھی یاد تھا کچھ ٹائم پہلے اسے تیز بخار ہوا تھا اسے محسوس ہوا تھا اسکی ماں اسکے پاس ہے مگر ہوش آنے پر انکا رویہ پھیکا ہی رہا تھا

آنسو پونچھ کر اسنے اٹھ کر اپنا کام مکمل کیا تھا وہ کام سے فارغ ہی ہوئی تھی جب وہ نوکری سے واپس آئی تھیں

اماں چائے۔۔ ان کے آگے چائے کا کپ رکھتی تو مڑی تھی

پریشے تو روئی ہے؟؟ ان کے۔ لہجے میں اس نے واضح فکر محسوس کی تھی

ادھر آ بتا کچھ ہوا ہے تجھے؟؟

نہیں اماں بس سر میں درد ہے۔ اسنے نظریں جھکائے جواب دیا تھا

جا سو جاکر۔۔ اور یہ مت سمجھنا میں ہمدردی کر رہی ہوں تو بیمار ہوگی تو میرا کام کون کرے گا۔۔ ان نے صفائی دینے پر اسنے مسکراہٹ چھپائی تھی

اور سر ہلا کر کمرے میں آکر لیٹی تھی اور لیٹتے ہی گہری نیند میں گم ہوئی تھی۔۔

سر وہ بات کرنے تک کو تیار نہیں ہیں میں نے انہیں بہت روکنا چاہا مگر وہ مجھے باتیں سنا کر چلی گئیں۔۔

فون کان سے لگائے وہ دوسری طرف موجود اپنے بندے کی بات سن رہا تھا مگر نظریں لیپ ٹاپ پر موجود اسکی وڈیو پر تھیں یہ آج صبح کی وڈیو تھی جب وہ کالج جارہی تھی اسکی گھبراہٹ دیکھ وہ گہرا مسکرایا تھا

اب اسکے راستے میں مت آنا بلکہ جو میں کہوں وہ کرنا میں یہاں سے کل ہی نکلتا ہوں۔

فون رکھ کر اس نے واپس سے وڈیو ریوائنڈ کی تھی اور اسکے چہرے پر فوکس کرتے تصویر کو پاز کرکے زوم کیا تھا

جان کر ایسے کر رہی ہو نا تاکہ میں اپنا کام چھوڑ کر آجاؤ تمہارے پاس۔۔ اسکی تصوریر سے بول پر وہ ہنسا تھا

اسے وہ دن یاد آیا جب اس نے پہلی بار اسے دیکھا تھا

وہ ایک بزنس مین تھا وہ اپنا گھر چھوڑ کر یہاں شہر میں اپنا سکہ جما چکا تھا اور اب سیاست کا میدان بھی اسنے مار لیا تھا

وہ ایز آ چیف گیسٹ کالج فنکشن میں انوائٹڈ تھا جب اسنے اس ہری پیکر کو دیکھا تھا جو اسٹیج پر ماروی کا کردار ادا کر رہی تھی

وہ اسے دیکھ کیسے مہبوت رہ گیا تھا سادگی نفاست حسن۔۔۔ وہ اپنا دل اسے دے بیٹھا تھا

وہ اس ماروی کا عمر بن گیا تھا

مگر وہ عمر کی طرح اسے آزادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا

گاؤں میں ہونے والے الیکشن کی وجہ سے اسے یہاں آنا پڑا تھا مگر وہ اپنے بندوں کو کام پر لگا کر آیا تھا

اور اب اسے انتظار تھا اس دن کا جب وہ اسکے روبرو ہوگا۔۔

دلشیر۔۔۔ ثوبیہ بیگم کی آواز پر اسنے دروازے کی طرف دیکھا تھا

آجائیں۔۔۔

اسکے کہنے وہ کمرے میں آکر اسکے ساتھ والے صوفے پر بیٹھی تھیں

یہاں آکر بھی اتنے مصروف ہوگئے ہو تم کہ بات کرنے کا بھی وقت نہیں مل رہا۔۔

ہمم میری زندگی آسان نہیں ہے خیر کوئی بات کرنی تھی آپ کو مجھ سے

ضروری ہے میں کسی کام سے ہی تمہارے پاس آؤ ایسے ہی نہیں آسکتی کیا؟؟

نہیں۔۔۔ اسکے یاک لفظی جواب پر ثوبیہ بیگم کے چہرے پر موجود مسکراہٹ لمحوں میں سمٹی تھیں

کل واپس جارہا ہوں میں رات دوستوں کی طرف ہونگا تو کسی قسم کا تکلف مت کیجئے گا۔۔

انہیں بولتا وہ اپنا موبائل اور چابیاں اٹھاتا باہر نکل گیا

اس نے جاتے ہی انہوں نے اپنے چہرے پر سے آنسو صاف کئے تھے

اللّٰہ مجھے میرا بچہ واپس لوٹا دیں۔۔انہوں نے صدق دل سے دعا کی تھی

آج اتوار تھا تو وہ بنا کسی ٹینشن کے اپنے نام نبٹانے میں مصروف تھی

نرگس بیگم بھی آج گھر میں تھیں اور سلائی مشین سنبھالے بیٹھیں

تبھی دروازے پر دستک ہوئی تھی سہیل اسکا چھوٹا بھائی جلدی سے دروازہ کھولا تھا مگر سامنے بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھی عورتوں اور دروازے پر کھڑے اس تھری پیس سوٹ پہنے آدمی کو دیکھ وہ جلدی سے بھاگ کر اندر آیا تھا

اماں اماں اتنی بڑی بڑی گاڑیاں آئی ہیں اماں۔۔

اسکی بات پر جہاں نرگس بیگم کے ہاتھ رکے تھے وہیں اسکا دل تیزی سے دھڑکا تھا

اس کی ماں اب دروازے پر جارہی تھی مگر تبھی وہ دو عورتیں بہت سارے سامان کے ساتھ اندر داخل ہوئی تھیں

ارے ارے کون ہو تم لوگ یوں کیسے منہ اٹھائے گھر میں داخل ہورہی ہو۔۔۔

میڈم آرام سے۔۔ نرگس بیگم کے چیخنے پر وہ آرام سے بولی تھیں

یہ پریشے میڈم کا شگن کا سامان ہے دلشیر صاحب نے بھجوایا ہے۔

شگن دلشیر دماغ خراب ہوگیا ہے تم لوگوں کا کیا۔۔

انہیں سمجھ نہیں آیا یہ ہو کیا رہا ہے انہوں نے ایک نظر ساکت کھڑی پریشے کو دیکھا تھا

ہمارا کام آپ تک یہ سب پہنچانا تھا دلشیر صاحب آکر خود آپ سے بات کریں گے۔۔ اپنا کام کرتی وہ جیسے آئی تھیں ویسے ہی واپس لوٹی تھیں

جبکہ کمرے کے دروازے پر کھڑی عظمی جلدی سے سامان کے پاس آئی تھی

اماں اسکے عاشق نے سامان بھجوایا ہے میں بولتی بھی تھی کہ یہ آوارہ۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ جملہ مکمل کرتی نرگس بیگم نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ مارا تھا

اسنے بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھا تھا

خبردار جو ایک لفظ منہ سے نکالا میری پرورش ہے وہ میں نے پالا ہے اسے تجھ میں کوئی کمی رہ گئی ہوگی مگر وہ ایسا کچھ نہیں کرسکتی۔۔

ان کے غصے سے کہنے پر عظمی نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنی ماں کو دیکھا تھا..